Islamic research corner

Islamic research corner

Share

To help out the researches and Students of Allama Iqbal Open University, Islamabad۔

08/01/2026

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندانی و گھریلو تعلقات

1- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حسنِ معاشرت کی کامل مثال

دنیا میں کسی بھی انسان نے عورت کے ساتھ حسنِ معاشرت کو اس کمال کے ساتھ عملی صورت میں پیش نہیں کیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے عملی مفسر تھے، اپنے قول، فعل اور حال کے ذریعے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی ازواج کے ساتھ طرزِ عمل یہ تھا کہ آپ خوش اخلاق، خوش مزاج، ہمیشہ مسکراتے رہنے والے، اہلِ خانہ سے دل لگی کرنے والے، ان کے ساتھ نرمی و شفقت سے پیش آنے والے تھے۔ آپ ان پر کشادگی سے خرچ کرتے، ان سے ہنسی مذاق فرماتے، یہاں تک کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بعض اسفار میں دوڑ کا مقابلہ بھی فرمایا تاکہ ان کی دلجوئی ہو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوڑ لگائی، اس وقت میں دبلی پتلی تھی تو میں جیت گئی، پھر جب میں فربہ ہو گئی تو دوبارہ دوڑ لگائی، اس بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیت گئے، اور فرمایا: یہ اُس کے بدلے میں ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ ہر رات اپنی ازواج کو اس گھر میں جمع کرتے جہاں آپ کی باری ہوتی، بعض اوقات سب کے ساتھ کھانا تناول فرماتے، پھر ہر ایک اپنے گھر چلی جاتی۔ آپ ایک ہی بستر میں اپنی زوجہ کے ساتھ آرام فرماتے، عشاء کے بعد کچھ دیر اہلِ خانہ کے ساتھ گفتگو کرتے تاکہ ان کا دل بہلایا جا سکے۔

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کی بھلائی کا معیار یہ قرار دیا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں، اور فرمایا:
تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو، اور میں تم سب سے زیادہ اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہوں۔ (ترمذی)

یہ اس لیے کہ انسان عام طور پر وہاں اپنی اخلاقی حقیقت ظاہر کرتا ہے جہاں اسے اختیار حاصل ہو، اور اگر کوئی شخص اپنے ماتحتوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ بھی اعلیٰ اخلاق پر قائم رہے تو وہ واقعی اعلیٰ درجے کا انسان ہے۔

چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہلِ خانہ کے لیے سب سے بہتر تھے، اس لیے آپ کی گھریلو زندگی محبت، شفقت، عدل، رحم، وفا اور اخلاقی کمال کا عملی نمونہ تھی، جیسا کہ کتبِ حدیث، شمائل اور سیرت میں تفصیل سے بیان ہوا ہے۔

---

(الف) ازواج سے محبت

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے دنیا میں تین چیزیں محبوب بنائی گئیں: عورتیں، خوشبو، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی۔ (مسند احمد)

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے پوچھا:
یا رسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟
فرمایا: عائشہ۔
انہوں نے پوچھا: مردوں میں؟
فرمایا: ان کے والد۔ (ترمذی)

---

(ب) ازواج کے ساتھ ملاطفت اور دل لگی

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں گڑیوں سے کھیلتی تھی، میری سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ چھپ جاتیں، آپ انہیں واپس بلا لیتے تاکہ وہ میرے ساتھ کھیلیں۔ (بخاری)

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ مجھے اپنی چادر میں چھپا کر مسجد میں حبشیوں کا کھیل دکھا رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں منع کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کھیلنے دو۔ (بخاری)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کرتے، ان کی دلجوئی فرماتے، اور انتہائی محبت کے ساتھ پیش آتے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میں حالتِ حیض میں پانی پیتی اور وہی برتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ اسی جگہ منہ رکھ کر پانی پیتے جہاں میں نے رکھا ہوتا۔ (مسلم)

---

(ج) ازواج کی لغزشوں پر حلم و بردباری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کی طرف سے پیش آنے والی ناگواریوں پر انتہائی صبر اور بردباری کا مظاہرہ فرماتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کی ناراضی اور گفتگو کو بھی برداشت فرماتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ تم کب مجھ سے راضی ہوتی ہو اور کب ناراض۔
میں نے پوچھا: کیسے؟
فرمایا: جب تم راضی ہوتی ہو تو کہتی ہو: ربِ محمد کی قسم، اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: ربِ ابراہیم کی قسم۔ (بخاری)

اسی طرح حسد کے مواقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی حکمت اور حلم سے معاملہ فرمایا، جیسا کہ برتن ٹوٹنے کے واقعے میں ظاہر ہے۔

---

(ح) ازواج کے ساتھ وفاداری

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفاداری کا سب سے روشن نمونہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
میں نے کسی عورت پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا خدیجہ پر، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بہت ذکر کرتے تھے۔ (بخاری)

آیتِ تخییر کے موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواج کو پورا اختیار دیا، اور سب نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو اختیار کیا۔

---

(د) ازواج کے درمیان عدل

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام ازواج کے درمیان قیام، خرچ اور وقت میں مکمل عدل فرماتے۔ سفر میں بھی قرعہ اندازی فرماتے، اور مرض الوفات میں بھی عدل کی پوری کوشش کی۔

اس کے باوجود آپ دعا کرتے:
اے اللہ! یہ وہ تقسیم ہے جس پر میں قادر ہوں، جو میرے اختیار میں نہیں اس پر مجھے ملامت نہ فرما۔ (ابو داود)

---

ازواج کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بار بار عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تاکید فرمائی، اور فرمایا کہ عورت کی فطرت کو سمجھتے ہوئے صبر اور حسنِ معاشرت اختیار کرو۔

حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا:
عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، وہ تمہارے پاس امانت ہیں۔ (مسلم)

اور فرمایا:
کوئی مومن کسی مومنہ سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی ایک بات ناپسند ہو تو دوسری پسندیدہ ہوگی۔ (مسلم)

---

تربیت و اصلاح میں توازن

نرمی کے ساتھ ساتھ، جہاں اصلاح ضروری ہوتی وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تنبیہ، وعظ اور وقتی علیحدگی بھی اختیار فرماتے، جیسا کہ واقعۂ ایلاء اور آیاتِ تخییر سے ثابت ہے۔

یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق کامل، متوازن اور ہر حال میں حکمت پر مبنی تھا۔

سیرت النبی
اخلاق نبوی
حسنِ معاشرت
خاندانی زندگی
ازدواجی حقوق
عدلِ نبوی
رحمت للعالمین
اسوۂ حسنہ
اسلامی خاندانی نظام
سنت رسول ﷺ

08/01/2026

سیرتِ نبوی ﷺ سے تربیتی نکات

سیرتِ نبوی ﷺ کے مطالعے کے فوائد

نبی کریم ﷺ کی سیرت ماضی میں بھی اور آج بھی فرد، معاشرے اور امت کی تعمیر کا ایک عظیم سفر ہے۔ یہ عطا، قربانی، ذمہ داری کے احساس اور مسلسل کامیابیوں کا ایسا سفر ہے جو کبھی رکا نہیں۔ سیرت ہمیں بے شمار رکاوٹوں اور چیلنجز کے باوجود امید پیدا کرنا سکھاتی ہے۔ یہی وہ کام تھا جو ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے ساتھ کیا۔
سیرت ایک مکمل منہج ہے مسلمان معاشرہ قائم کرنے کا، کیونکہ اس کے ذریعے ہم جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے افرادِ معاشرہ کو حسنِ اخلاق، حسنِ جوار، مظلوم کی مدد اور غموں کے ازالے پر کس طرح تربیت دی۔

نبی کریم ﷺ کی سیرت فرد، معاشرے اور امت کی تعمیر کا سفر ہے؛ قربانی، ایثار، ذمہ داری اور مسلسل کامیابیوں کا سفر، تاریخ کی عظیم ترین دعوت کے حامل لوگوں کے عزم و ارادے کی فتح کا سفر۔ یہ دعوت بندگی کی جامع حقیقت کی تھی، جس کا مقصد انسانیت کو شرک کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان، توحید اور رسالت کے نور میں لانا تھا۔ آج امت کے اس نازک دور میں ہمیں پہلے سے بڑھ کر سیرتِ نبوی ﷺ کے ساتھ رک کر اس سے اسباق و عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ سیرت کو کتابوں کے صفحات سے نکال کر دلوں میں اور نظری باتوں سے عملی زندگی میں منتقل کیا جا سکے۔

جب ہم سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں مشکلات کے باوجود امید پیدا کرنے کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ ذرا ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دیکھئے کہ کس طرح وہ نبی ﷺ کو درپیش مشکلات کے باوجود امید دلاتی رہیں۔ انہوں نے فرمایا:
“اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محروموں کو عطا کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔”
آج ہمیں بھی اپنے آپ سے اور اپنے اردگرد کے لوگوں سے یہی کہنا چاہیے کہ اللہ ہمیں رسوا نہیں کرے گا، بشرطیکہ ہم تنگی اور آسانی ہر حال میں اللہ کے منہج پر قائم رہیں، ہماری ہر حالت میں کتاب و سنت ہی ہماری اصل رہنمائی ہو، ہم شریعت کے اصولوں کے مطابق معاملات کریں، اور مشکل حالات میں بھی جذبات کے بجائے شرعی بصیرت کے ساتھ فیصلے کریں۔

دین کے لیے جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی

سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دین کے لیے کام کرنے کی جدوجہد کسی ایک ناکامی یا کمزوری سے ختم نہیں ہوتی۔ ناکامی یا کمزوری کا مطلب یہ نہیں کہ راستہ ختم ہو گیا، بلکہ اصل انجام تو ناامیدی، مایوسی اور ہمت ہارنے میں ہے۔ جب انسان سیرت کے صفحات پر نظر ڈالتا ہے تو جان لیتا ہے کہ آج کے دور کی عظیم عبادات میں سے ایک عبادت اپنے اندر اور دوسروں کے دلوں میں امید پیدا کرنا ہے، بشرطیکہ یہ امید علم، عمل اور وحی کے نور کے ساتھ جڑی ہو۔

صاحبِ دعوت کا عزم

سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کسی کے پاس مضبوط ارادہ ہو تو وہ کم وسائل اور زیادہ مشکلات کے باوجود اپنے مقصد تک پہنچ سکتا ہے۔ نبی ﷺ نے مضبوط ارادے اور حوصلے کے ساتھ بہت مختصر عرصے میں اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھی، جس کی جڑیں تاریخ میں بہت گہرائی تک پیوست ہو گئیں، اور آج چودہ سو سال بعد بھی ہم ان کے کارناموں کو یاد کرتے ہیں۔

جاہلیت کی پہچان

سیرت کے ذریعے ہم اس جاہلیت کو پہچانتے ہیں جس میں قریش سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر مبتلا تھے، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کس طرح عقیدے کی خرابیوں اور اخلاقی زوال کا مقابلہ کیا۔ یہ گمان کرنا غلط ہے کہ نبی ﷺ کی پیدائش کے ساتھ ہی جاہلیت ختم ہو گئی اور سب کچھ آسان ہو گیا۔ صحابہ ایک فرشتوں جیسے معاشرے میں نہیں رہتے تھے بلکہ انہیں بھی تبرج، بے پردگی، میڈیا کے حملے، منافقت، ظلم، خواہشات اور شبہات جیسے مسائل کا سامنا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے آج ہمیں ہے۔

نظری باتوں سے عملی مرحلے تک

سیرت ہمیں اسلام کی نصرت کے محض دعوے سے نکال کر عملی میدان میں لاتی ہے اور یہ سکھاتی ہے کہ اسلام کی مدد کیسے کی جائے۔ صرف باتیں کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ ہم اسلام کو اپنی سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی میں عملاً نافذ کریں۔

عطا میں ہی حقیقی خوشی

سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی خوشی لینے میں نہیں بلکہ دینے میں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا: “اٹھو اور خبردار کرو” تو آپ ﷺ نے زندگی بھر تھکن کے بغیر دعوت، جدوجہد اور قربانی کا سلسلہ جاری رکھا، حتیٰ کہ آخری عمر میں جسمانی کمزوری کے باعث بیٹھ کر نماز پڑھنی پڑی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ کیا نبی ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، لوگوں کی تکلیفوں نے آپ کو نڈھال کر دیا تھا۔

فتح کا راز وحی سے وابستگی

سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ قوموں کی کامیابی وحی سے وابستگی میں ہے، چاہے حالات خوشگوار ہوں یا سخت۔ صحابہ نے اسی پر نبی ﷺ سے بیعت کی تھی۔ امتوں کی شکست عمارتوں یا معیشت کی کمی سے نہیں بلکہ اللہ کے منہج سے ہٹنے سے ہوتی ہے، جیسا کہ غزوۂ اُحد میں صحابہ کو آزمائش پیش آئی۔

اسلام اور مسلمانوں کی عزت کا راستہ

ہم سیرت اس لیے پڑھتے ہیں کہ ہمیں اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کا راستہ معلوم ہو۔ نبی ﷺ کو ایسے دور میں مبعوث کیا گیا جو بدترین ادوار میں سے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی حالت پر ناراضی کا اظہار فرمایا، سوائے اہلِ کتاب کے چند افراد کے۔ اللہ نے محمد ﷺ کے دل کو سب سے بہترین پایا اور پھر صحابہ کے دلوں کو، اسی لیے انہیں دین کی نصرت کا شرف ملا۔

فتح و شکست کے اسباب

سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ فتح اور شکست اچانک نہیں آتیں بلکہ ان کے پیچھے اسباب ہوتے ہیں۔ ظاہری اور باطنی اسباب اختیار کرنا، اللہ پر توکل اور دعا فتح کا ذریعہ ہیں، جبکہ کوتاہی اور نفس پر بھروسا شکست کا سبب بنتا ہے۔

قیادت کی تربیت

سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ صحابہ قیادت کے اہل کیسے بنے۔ نبی ﷺ کی حوصلہ افزائی کا ایک حسین منظر یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت سن کر فرمایا کہ تمہیں آلِ داؤد کے مزامیر میں سے ایک مزمار عطا کیا گیا ہے۔

سیرت: فرد کے لیے مکمل منہج

سیرت ہر فرد کے لیے مکمل رہنمائی ہے۔ نبی ﷺ یتیم بھی تھے، نوجوان بھی، تاجر بھی، قائد بھی، شوہر بھی، باپ بھی، بیمار بھی ہوئے اور خوشی و غم کے تمام مراحل سے گزرے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے سامنے ہے، حتیٰ کہ آپ کے اذکار، معاملات، عبادات اور طرزِ زندگی تک۔ سیرت ہمیں اس کامل نمونے کی پیروی کا راستہ دکھاتی ہے۔



















07/01/2026

غزوۂ خندق اور عبقریّتِ فکر

“حم، لا يُنصرون” یہ مسلمانوں کا وہ نعرہ تھا جو ایک ایسی منفرد غزوہ میں بلند ہوا جس کی مثال واقعات، حالات، شریک فریقوں اور نتائج کے اعتبار سے تاریخ میں کم ملتی ہے۔ یہی وہ غزوہ ہے جس میں مسلمانوں نے مدینہ کے دفاع کے لیے خندق کھودی، جس میں یہودی مکر اور قریشی سرکشی کا مضبوط اتحاد سامنے آیا، اور جس میں مسلمانوں کو مکہ اور اس کے گرد و نواح کے قبائل کے سب سے بڑے لشکر کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ غزوہ ہجرت کے پانچویں سال ذی القعدہ کے مہینے میں پیش آیا۔ اس کا اصل محرک یہودِ بنی نضیر تھے، جنہیں مسلمانوں نے ان کی غداری اور عہد شکنی کے باعث مدینہ سے نکال کر خیبر میں آباد ہونے پر مجبور کیا تھا۔ اس جلاوطنی نے ان کے دلوں میں انتقام اور شدید عداوت کی آگ بھڑکا دی، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کے خاتمے اور مدینہ پر ان کے اقتدار کے خاتمے کے لیے سازشیں شروع کر دیں۔

سب سے پہلے ان کے ذہن میں اہلِ مکہ سے مدد لینے کا خیال آیا، کیونکہ وہ ان کی عسکری طاقت اور قبائلی روابط سے بخوبی واقف تھے۔ چنانچہ سلام بن ابی الحقیق، حیی بن اخطب، ابو عمار وائلی اور دیگر یہودی سرداروں کی قیادت میں ایک وفد مکہ پہنچا اور قریش کو رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر اکسایا۔ انہوں نے مدد اور تعاون کا وعدہ کیا اور خوشامد میں اس حد تک آگے بڑھے کہ ایمان والوں کے مقابلے میں مشرکین کے دین کو بہتر قرار دیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا، وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں سے کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (النساء: 51)

یہودیوں کی یہ ترغیب اہلِ مکہ کے دل کی آواز بن گئی، کیونکہ وہ مدینہ میں اسلامی وجود کو ختم کرنا چاہتے تھے، اپنے معاشی بحران سے نکلنا چاہتے تھے جو صحابہ کی طرف سے تجارتی قافلوں پر حملوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، اور اُحد کے دن کیے گئے وعدے کو بھی پورا کرنا چاہتے تھے کہ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ سے جنگ کریں گے۔

یوں دونوں فریقوں کے مفادات یکجا ہو گئے۔ قریش نے اپنے حلیف قبائل بنو اسد، بنو سلیم، کنانہ، غطفان اور دیگر قبائل کو خطوط لکھے، یہاں تک کہ دس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک عظیم لشکر تیار ہو گیا۔ یہودی وفد اس عظیم اجتماع کو دیکھ کر خوشی خوشی واپس لوٹا۔

جب رسول اللہ ﷺ کو احزاب کے قریب آنے کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے اکابرین کے ساتھ مشورہ کیا۔ عام رائے یہ تھی کہ دشمن سے باہر جا کر مقابلہ کیا جائے، مگر سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ایک نیا اور غیر معمولی مشورہ دیا کہ مدینہ کے گرد خندق کھودی جائے، جیسا کہ فارس میں کیا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ تجویز پسند آئی اور آپ ﷺ نے مدینہ کے شمالی حصے میں خندق کھودنے کا حکم دیا، کیونکہ باقی اطراف گھروں، باغات اور چٹانی زمین کی وجہ سے قدرتی طور پر محفوظ تھیں۔

صحابہ میں کام تقسیم کر دیا گیا، ہر دس افراد کو چالیس ہاتھ خندق کھودنے کی ذمہ داری دی گئی۔ شدید سردی اور قلتِ خوراک کے باوجود کام پوری محنت اور جوش سے شروع ہوا۔ رسول اللہ ﷺ خود بھی مٹی اٹھاتے اور صحابہ کے ساتھ شریک رہتے، جس سے ان کے حوصلے مزید بلند ہو جاتے۔

صحابہ اشعار پڑھتے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے ساتھ ہم آواز ہوتے۔ یہ ایام معجزات سے بھرپور تھے۔ خندق کھودتے ہوئے ایک بڑی چٹان سامنے آئی جو ٹوٹ نہیں رہی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے کدال ماری تو بجلی سی چمکی اور چٹان ٹوٹ گئی۔ آپ ﷺ نے شام، فارس اور یمن کی فتوحات کی بشارت دی، جو بعد میں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔

اسی طرح حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی پیش گوئی بھی انہی ایام میں فرمائی گئی، جو بعد میں خلافتِ علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں پوری ہوئی۔

بھوک کی شدت کے عالم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے گھر تھوڑا سا کھانا تھا، مگر رسول اللہ ﷺ کی برکت سے پورا لشکر سیر ہو گیا اور کھانا پھر بھی بچ گیا۔

خندق بیس دن میں مکمل ہوئی۔ عورتوں اور بچوں کو محفوظ قلعوں میں منتقل کیا گیا، پہرے مقرر کیے گئے، اور شہر کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا گیا۔

اسی دوران حیی بن اخطب نے بنو قریظہ کو عہد شکنی پر آمادہ کر لیا۔ جب یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو حالات انتہائی سنگین ہو گئے۔ قرآن نے ان لمحات کو یوں بیان کیا کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلق تک آ گئے۔

منافقوں نے بھی اس موقع پر مسلمانوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ نبی ﷺ نے بعض حالات میں غطفان سے صلح پر غور کیا، مگر سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے غیرت مندانہ جواب پر آپ ﷺ نے اس سے رجوع کر لیا۔

دشمن خندق پار نہ کر سکا، محاصرہ طویل ہو گیا، نمازیں قضا ہونے لگیں، اور رسول اللہ ﷺ نے بددعا کی۔ پھر نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذریعے دشمن کے اتحاد میں دراڑ پڑی، شکوک و شبہات پھیل گئے۔

آخرکار اللہ تعالیٰ نے شدید آندھی بھیجی، خیمے اکھڑ گئے، آگ بجھ گئی، دلوں میں رعب پڑ گیا، اور کفار راتوں رات بھاگ کھڑے ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے اکیلے ہی احزاب کو شکست دی۔

یہ غزوہ مسلمانوں کی عظیم فتح پر ختم ہوا۔ اس نے یہود کی سازشوں اور منافقین کی حقیقت کھول دی، اور مسلمانوں کو دفاع سے نکل کر فتح و غلبے کے مرحلے میں داخل کر دیا، جس کا نقطۂ عروج فتحِ مکہ تھا۔

06/01/2026

یہ رہا آپ کے فراہم کردہ عربی متن کا مکمل اور بامحاورہ اردو ترجمہ:

---

زید بن حارثہؓ: حِبِّ رسول اللہ ﷺ

زید بن حارثہؓ ان عظیم صحابہ کرامؓ میں سے ایک ہیں جنہوں نے اسلامی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآنِ کریم میں صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے، جو رسول اللہ ﷺ کے دل میں ان کے بلند مقام اور اسلام کی تاریخ میں ان کی اہمیت کی واضح دلیل ہے۔
زیدؓ اعلیٰ اخلاق، غیر معمولی شجاعت اور اخلاص کے حامل تھے اور سیرتِ نبوی ﷺ کے کئی اہم مواقع میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس مضمون میں ہم زید بن حارثہؓ کی زندگی کا جائزہ لیں گے، ان کے اسلام سے پہلے کے حالات سے لے کر رسول ﷺ کے انہیں منہ بولا بیٹا بنانے، اور بالآخر غزوۂ مؤتہ میں ان کی شہادت تک۔
زید بن حارثہؓ کون تھے؟

وہ زید بن حارثہ بن شراحیل (یا شرحبيل) بن کعب بن عبد العزیٰ بن یزید بن امرؤ القیس بن عامر بن نعمان تھے۔
وہ ایک جلیل القدر صحابی تھے، جو ہجرتِ نبوی ﷺ سے تقریباً سینتالیس سال پہلے قبیلہ بنی کلب کے علاقے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حارثہ بن شراحیل اپنے قبیلے کے سردار تھے۔
بچپن میں ایک حملے کے دوران زیدؓ قید کر لیے گئے اور مکہ کے غلاموں کے بازار میں فروخت کر دیے گئے۔ اگرچہ ان کی پرورش غلامی میں ہوئی، مگر بعد میں وہ رسول اللہ ﷺ کے سب سے محبوب افراد میں شامل ہو گئے اور صحابہؓ میں نہایت قربت کا مقام حاصل کیا۔

---

زید بن حارثہؓ کی صفات

زید بن حارثہؓ کی شخصیت میں کئی ایسی صفات تھیں جنہوں نے انہیں رسول اللہ ﷺ کے سب سے قریبی صحابہ میں شامل کر دیا۔ وہ وفادار، بہادر اور دعوت و عمل میں نہایت مخلص تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:

> “وہ میرے آزاد کردہ غلام ہیں، اور لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔”

یہ جملہ زیدؓ کے بارے میں نبی ﷺ کی محبت اور قدر دانی کو ظاہر کرتا ہے۔
زیدؓ کو عسکری قیادت کی بھی غیر معمولی صلاحیت حاصل تھی۔ وہ کئی غزوات اور لشکروں کے قائد مقرر کیے گئے اور ہر موقع پر ذمہ داری کو شجاعت اور دیانت داری سے نبھایا۔

---

زید بن حارثہؓ کی فروخت اور رسول ﷺ کا انہیں منہ بولا بیٹا بنانا

جب زیدؓ بچپن میں قید ہوئے تو انہیں مکہ کے غلاموں کے بازار میں فروخت کیا گیا۔ انہیں حکیم بن حزامؓ نے خریدا اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کو ہدیہ کر دیا۔ بعد ازاں حضرت خدیجہؓ نے انہیں رسول اللہ ﷺ کو عطا کر دیا۔
نبی ﷺ نے زیدؓ کو محض غلام نہیں سمجھا بلکہ انہیں اپنے گھر کا فرد بنا لیا۔ کچھ عرصے بعد زیدؓ کے والد اور چچا انہیں تلاش کرتے ہوئے مکہ پہنچے اور رسول ﷺ سے ان کی رہائی کی درخواست کی۔
نبی ﷺ نے زیدؓ کو اختیار دیا کہ چاہیں تو اپنے گھر والوں کے ساتھ جا سکتے ہیں، مگر زیدؓ نے تمام تر مواقع کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی، کیونکہ انہوں نے نبی ﷺ سے حسنِ سلوک اور محبت دیکھی تھی۔
اس وفاداری کے بدلے رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ زید اب آزاد ہیں اور ان کے منہ بولے بیٹے ہیں، اور انہیں “زید بن محمد” کہا جانے لگا۔ بعد میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں جن میں منہ بولی نسبت کو ختم کر دیا گیا، اور زیدؓ کو دوبارہ ان کے اصل نام “زید بن حارثہ” سے پکارا گیا۔

---

زید بن حارثہؓ کا اسلام

جب رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو زید بن حارثہؓ اولین ایمان لانے والوں میں شامل تھے۔ وہ مکہ میں ابتدائی دعوتِ اسلام کے تمام مراحل کے عینی شاہد رہے اور اسلام کے پھیلاؤ میں سرگرم کردار ادا کیا۔
نبی ﷺ کے قرب اور دین کی گہری سمجھ بوجھ کی وجہ سے زیدؓ اسلامی لشکر کے نمایاں قائدین میں شمار ہونے لگے۔

---

زیدؓ کی حضرت زینب بنت جحشؓ سے شادی

ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے معاشرتی تفریق اور طبقاتی امتیاز کے خاتمے پر خصوصی توجہ دی۔ اسی مقصد کے تحت آپ ﷺ نے زید بن حارثہؓ کا نکاح حضرت زینب بنت جحشؓ سے کرایا، جو قریش کے معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور رسول ﷺ کی قریبی رشتہ دار تھیں۔
تاہم یہ نکاح کامیاب ثابت نہ ہو سکا۔ دونوں کے مزاج میں اختلافات پیدا ہو گئے، اور نبی ﷺ کی بار بار کوشش کے باوجود نباہ ممکن نہ رہا۔ بالآخر زیدؓ نے حضرت زینبؓ کو طلاق دے دی۔
طلاق کے بعد قرآنِ کریم کی آیات نازل ہوئیں جن میں رسول ﷺ کو حضرت زینبؓ سے نکاح کا حکم دیا گیا، تاکہ جاہلی رسم و رواج کو توڑا جا سکے اور اللہ کے حکم کی اطاعت کو واضح کیا جائے۔

---

زید بن حارثہؓ: وہ صحابی جن کا ذکر قرآن میں آیا

زید بن حارثہؓ کی ایک عظیم فضیلت یہ ہے کہ ان کا نام قرآنِ کریم میں صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔ سورۃ الاحزاب میں ان کا ذکر اس موقع پر آیا جب حضرت زینبؓ کے ساتھ رسول ﷺ کے نکاح کا بیان کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

> ﴿فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٞ مِّنْهَا وَطَرٗا زَوَّجۡنَٰكَهَا…﴾
(سورۃ الاحزاب: 37)

یہ ذکر زیدؓ کے بلند مقام اور رسول ﷺ سے ان کی قربت کی دلیل ہے۔

---

زید بن حارثہؓ کا حضرت زینبؓ کو طلاق دینا

اگرچہ رسول اللہ ﷺ نے زیدؓ اور زینبؓ کے درمیان صلح کی بھرپور کوشش کی، لیکن اختلافات بڑھتے گئے اور طلاق ہو گئی۔ یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ نبی ﷺ نے ذاتی اور معاشرتی معاملات میں کس قدر حکمت اور تدبر سے فیصلے کیے، اور کس طرح اس نکاح کو جاہلی رسموں کے خاتمے کا ذریعہ بنایا۔

---

رسول ﷺ کے حضرت زینبؓ سے نکاح کی حکمت

رسول اللہ ﷺ کا حضرت زینب بنت جحشؓ سے نکاح کئی پہلوؤں سے اہم تھا۔
سماجی طور پر اس نکاح نے جاہلیت کے اس تصور کو توڑا جس میں آزاد کردہ غلاموں کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔
شرعی طور پر اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ منہ بولا بیٹا حقیقی نسب کے برابر نہیں ہوتا، اور اسلام نے نسب کی بنیاد پر شناخت کو بحال کیا۔

---

زید بن حارثہؓ کی شہادت

زید بن حارثہؓ غزوۂ مؤتہ میں اسلامی لشکر کے پہلے سپہ سالار تھے۔ یہ معرکہ آٹھ ہجری میں رومی افواج کے خلاف پیش آیا۔ دشمن تعداد اور اسلحے میں کہیں زیادہ تھا، مگر زیدؓ نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔
ان کی شہادت پر رسول اللہ ﷺ کو گہرا رنج ہوا۔ غزوۂ مؤتہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم معرکہ تھا، اور زیدؓ کی قربانی ان کے اخلاص اور دین کے لیے جان نچھاور کرنے کا عظیم ثبوت ہے۔

---

خلاصہ

زید بن حارثہؓ وفا، شجاعت اور اخلاص کی روشن مثال ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام میں عزت کا معیار نسب یا سماجی حیثیت نہیں بلکہ تقویٰ اور اطاعتِ الٰہی ہے۔
غزوۂ مؤتہ میں ان کی شہادت ان کی پُرعزم اور قربانی سے بھرپور زندگی کا حسین اختتام ہے، اور ان کا نام ہمیشہ تاریخِ اسلام میں زندہ رہے گا۔

---

06/01/2026

سورۂ شرح میں سعادت کے دس اصول

1- پہلا اصول:
سعادت (خوشی) صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿أَلَمْ نَشْرَحْ﴾ [الشرح: 1]
یعنی شرح (دل کا کھل جانا) صرف وہی کرتا ہے، اس کے سوا کوئی نہیں۔ سعادت بھی اللہ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے۔ اللہ جل جلالہ نے اجسام کو بھی پیدا کیا اور معانی کو بھی، جیسے موت اور زندگی:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ﴾ [الملک: 2]
اور انہی معانی میں سے سعادت بھی ہے، جسے اللہ اپنے فضل سے جس کے دل میں چاہتا ہے رکھ دیتا ہے تو وہ خوش ہو جاتا ہے اور ہنسنے لگتا ہے، اور جس کے دل سے چاہتا ہے نکال لیتا ہے تو وہ بدبخت ہو جاتا ہے اور رونے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ﴾ [النجم: 43]

2- دوسرا اصول:
سعادت عقل میں نہیں بلکہ دل میں ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَكَ صَدْرَكَ﴾ [الشرح: 1]
اور “صدر” سے مراد دل ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ﴾ [الحج: 46]
دل صرف اللہ کے اختیار میں ہے، وہی دلوں کو پھیرنے والا اور ان کو سنوارنے والا ہے۔ دلوں کی اصلاح اطاعت کے ذریعے ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے:
“جب بندہ گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کرے، گناہ چھوڑ دے اور استغفار کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے۔”

3- تیسرا اصول:
گناہوں کی مغفرت، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ﴾ [الشرح: 2]
انسان جتنا گناہوں سے ہلکا ہوگا اتنا ہی سعادت کے قریب ہوگا۔ قرآن نے گناہوں کو اس بوجھ سے تشبیہ دی ہے جو پیٹھ توڑ دے:
﴿الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ﴾ [الشرح: 3]
گناہوں کی معافی توبہ، استغفار، نیکیوں اور خیر کے مواقع سے ہوتی ہے۔

4- چوتھا اصول:
اچھا ذکر بلند کیا جانا، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ﴾ [الشرح: 4]
اچھا ذکر لوگوں کی دعاؤں کو کھینچ لاتا ہے، زبانوں کو تعریف پر آمادہ کرتا ہے اور دل تعریف سے خوش ہوتے ہیں۔ آیت کے لفظ ﴿وَرَفَعْنَا﴾ سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھا ذکر عطا کیا جاتا ہے، مانگا نہیں جاتا، اس لیے بناوٹ نہیں بلکہ خالص اخلاص مطلوب ہے۔

5- پانچواں اصول:
اللہ تعالیٰ نے کوئی تنگی آسانی کے بغیر پیدا نہیں کی، جیسا کہ فرمایا:
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [الشرح: 5]
جب انسان کو یقین ہو جائے کہ کوئی مشکل حل کے بغیر نہیں، کوئی غم راستے کے بغیر نہیں اور کوئی تنگی کشادگی کے بغیر نہیں، تو اس کا بڑا غم دور ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ حل موجود ہے، بس اسے تلاش کرنا ہے۔

6- چھٹا اصول:
آسانی، تنگی کے ساتھ ہی نازل ہو جاتی ہے، بعد میں نہیں، جیسا کہ فرمایا:
﴿مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾
یعنی جب مشکل آتی ہے تو اسی لمحے اللہ کی مدد، نرمی اور کشادگی بھی شروع ہو جاتی ہے۔ مثلاً مصیبت گناہوں کا کفارہ بنتی ہے، اور یہی گناہ اکثر غموں کی اصل وجہ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ اللہ کا لطف جاری رہتا ہے اور تنگی ختم ہو جاتی ہے۔

7- ساتواں اصول:
ہر ایک تنگی کے ساتھ دو آسانیاں ہوتی ہیں، کیونکہ ﴿يُسْرًا﴾ نکرہ آیا ہے جو تعدد پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے بہت سے سلف کہا کرتے تھے:
“اللہ کی قسم! ایک تنگی دو آسانیوں پر غالب نہیں آ سکتی۔”

8- آٹھواں اصول:
فارغ وقت کا درست استعمال سعادت کے اصولوں میں سے ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿فَإِذَا فَرَغْتَ﴾ [الشرح: 7]
اس میں اشارہ ہے کہ مسلمان کو بے مقصد فارغ نہیں ہونا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ گھاٹے میں ہیں: صحت اور فراغت۔”
(صحیح بخاری)

9- نواں اصول:
عبادت، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَانصَبْ﴾ [الشرح: 7]
یعنی اطاعت اور عبادت میں مشغول ہو جاؤ۔ عبادت ہی حقیقی سعادت کا دروازہ ہے۔ جو جتنا زیادہ عبادت کرے گا اتنا ہی زیادہ خوش نصیب ہوگا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
“جو ہمیشہ کی سعادت چاہتا ہے، وہ بندگی کی دہلیز کو لازم پکڑ لے۔”

10- دسواں اصول:
تمام خواہشات کو خالص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے کرنا، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب﴾ [الشرح: 8]
یعنی رغبت، امید اور طلب صرف اپنے رب سے رکھو۔ اسی عظیم معنی کی تکمیل پر کلام کا اختتام ہوتا ہے۔

05/01/2026

امیر موسیٰ بن نصیر (دولتِ امویہ کے عظیم مجاہد)
جب بھی اسلامی ریاست دین کے معاملے میں سنجیدہ رہی، اس کی حفاظت اور دنیا کے گوشے گوشے میں اس کے پھیلاؤ کی فکر اس کے پیشِ نظر رہی، تو وہ ریاست اوّل درجے کی جہادی ریاست بنی، جہاد کا پرچم سربلند رہا، اور اللہ عزوجل کے اذن سے ریاست کا ہاتھ کھلا رہا کہ جہاں چاہے فتوحات کرے۔ ایسے ہی حالات میں غیر معمولی صلاحیتوں، عظیم قائدین اور بے مثال ہیروز کا ظہور ہوتا ہے، جن کی قابلیتوں کے نکھرنے کا راستہ اللہ کی راہ میں جہاد کے سوا کوئی نہیں ہوتا۔
یہی حقیقت ہمیں اس بات کی وضاحت دیتی ہے کہ اموی دور میں اتنی کثرت سے عظیم مجاہدین اور قائدین کیوں پیدا ہوئے۔ یہ داستان انہی عظیم انسانوں میں سے ایک کی ہے، جو بجا طور پر “دولتِ امویہ کے سب سے بڑے مجاہد” کہلانے کے مستحق ہیں، جنہیں پہلی صدی ہجری کے اختتام پر اسلامی ریاست کو حاصل ہونے والی عظیم غنائم میں سب سے بڑا حصہ ملا، اور جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اندلس کی عظیم فتح نصیب فرمائی۔

---

جہادی تربیت اور ابتدائی زندگی

یہ عظیم فاتح موسیٰ بن نصیر لخمی ہیں، جو 19 ہجری میں عہدِ فاروقی میں شام کے ایک گاؤں “کفر متری” میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نصیر، عین التمر کے ان قیدیوں میں شامل تھے جنہیں حضرت خالد بن ولیدؓ نے عراق کی فتح کے دوران گرفتار کیا تھا۔ یہ چالیس لڑکوں کا ایک گروہ تھا جو ایک کلیسا میں رہبانیت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ خالدؓ کے ہاتھوں یہ سب مسلمان ہوئے، اور بعد ازاں نصیر شام منتقل ہو کر حضرت معاویہؓ کی خدمت میں داخل ہوئے، جہاں وہ محافظوں کے سردار اور پھر فوجی قائد بنے اور ان کا مرتبہ بلند ہوا۔

موسیٰ بن نصیر کی پرورش ایک مجاہد گھرانے میں ہوئی، اس لیے یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ بھی اپنے والد کی مانند سپاہی اور مجاہد بنے۔ حضرت معاویہؓ نے ان میں ذہانت، صلاحیت اور قیادت کی خوبیاں دیکھیں، چنانچہ انہیں اہم ذمہ داریاں سونپیں۔ موسیٰ نے قبرص پر بحری حملے کیے، وہاں قلعے تعمیر کروائے، اور کچھ عرصہ قبرص کے نائب گورنر بھی رہے۔

بعد میں ان کے تعلقات مصر کے گورنر عبدالعزیز بن مروان (خلیفہ عبدالملک بن مروان کے بھائی) سے نہایت مضبوط ہو گئے۔ وہ ان کے مشیر اور وزیر کی حیثیت رکھتے تھے۔ 85 ہجری میں، جب حسن بن نعمان کو معزول کیا گیا، تو عبدالعزیز بن مروان نے موسیٰ بن نصیر کو افریقہ اور مغرب کا گورنر مقرر کیا، اس وقت ان کی عمر 65 برس تھی۔

---

کامیاب آغاز

85 ہجری میں موسیٰ بن نصیر مغرب پہنچے۔ اس سے قبل وہ وہاں کبھی نہیں گئے تھے، اس لیے فوج، مسلمان اور بربر سب کے لیے وہ ایک غیر معروف شخصیت تھے۔ لیکن ان کے پہنچتے ہی لوگ جوق در جوق ان کے استقبال کے لیے جمع ہو گئے۔
انہوں نے ایک مختصر مگر بلیغ خطبہ دیا:

> “میں تم میں سے ایک عام آدمی ہوں۔ اگر تم مجھ میں کوئی خوبی دیکھو تو اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کی پیروی کرو، اور اگر کوئی خامی دیکھو تو اس پر تنبیہ کرو، کیونکہ میں بھی خطا کرتا ہوں جیسے تم کرتے ہو، اور درست فیصلہ بھی کرتا ہوں جیسے تم کرتے ہو۔ امیر نے تمہارے عطیات تین گنا بڑھا دیے ہیں، انہیں خوش دلی سے قبول کرو۔ جسے کوئی ضرورت ہو، وہ ہمارے سامنے پیش کرے، ان شاء اللہ پوری کی جائے گی۔”

اس خطبے سے انہوں نے مساوات، عدل، جہاد پر توجہ، دنیاوی مقابلہ آرائی سے اجتناب اور فوجیوں کی ضروریات کو سننے کا واضح پیغام دیا، اور یوں خود کو ایک عظیم اور ذمہ دار قائد ثابت کیا۔

---

دانشمندانہ عسکری حکمتِ عملی

موسیٰ بن نصیر نے افریقہ کی گورنری سنبھالتے ہی کام شروع کر دیا۔ انہوں نے قریبی دشمن کو پہلے ختم کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی، تاکہ پیچھے سے خطرہ باقی نہ رہے۔ یہ سبق انہوں نے عقبة بن نافعؓ کی بعض عسکری غلطیوں سے سیکھا۔

انہوں نے بربر قبائل کی بغاوت کچلی، جبلِ زغوان، درعہ، سوس اقصیٰ اور مصامدہ کے علاقے فتح کیے، اور مغرب کے اہم شہروں طنجہ اور سبتہ کی راہ ہموار کی۔

---

فتحِ طنجہ

طنجہ مغرب کا دل اور اس کا دروازہ تھا۔ موسیٰ بن نصیر خود لشکر لے کر وہاں پہنچے، سخت محاصرہ کیا، اور بربر قبائل جلد ہی مسلمان لشکر کے سامنے جھک گئے۔
انہوں نے وہاں مساجد اور مسلمان آبادی قائم کی، اور طارق بن زیادؒ کو طنجہ اور اس کے نواح کا گورنر مقرر کیا۔ یہی طارق بن زیاد کی عظیم فتوحات کا آغاز تھا۔

سبتہ شہر کو فتح کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اندلس سے مسلسل امداد آنے کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔

---

بحری مہمات

موسیٰ بن نصیر نے بحری جہاد کو بھی نظر انداز نہ کیا۔ انہوں نے خود سمندر میں اتر کر لوگوں کو ترغیب دی۔ اس مہم کو “غزوۂ اشراف” کہا گیا۔
اس دوران صقلیہ، سرقوسہ، سردانیہ، میورقہ اور منورقہ پر حملے کیے گئے، جو زیادہ تر استطلاعی اور رومی اڈوں کے خاتمے کے لیے تھے۔

---

فتحِ اندلس — عظیم ترین کارنامہ

اندلس کی فتح مدتوں سے اسلامی قائدین کا خواب تھی۔ مغرب مکمل طور پر فتح کرنے کے بعد موسیٰ بن نصیر نے اس منصوبے پر غور شروع کیا۔
اس وقت اندلس سیاسی انتشار کا شکار تھا۔ بادشاہ وامبا معزول ہوا، رودریگو برسرِ اقتدار آیا، جس نے سبتہ کے گورنر جولیان کی بیٹی کی بے حرمتی کی۔ جولیان نے انتقام کے لیے موسیٰ بن نصیر سے رابطہ کیا۔

موسیٰ نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے اجازت لی۔ خلیفہ نے پہلے چھوٹی مہم بھیجنے کا حکم دیا۔
چنانچہ 500 افراد پر مشتمل دستہ طریف بن مالک کی قیادت میں بھیجا گیا۔ کامیابی کے بعد 92 ہجری میں طارق بن زیادؒ سات ہزار مجاہدین کے ساتھ اندلس پہنچے۔ بعد میں مزید پانچ ہزار کی کمک بھیجی گئی۔

28 رمضان 92 ہجری کو وادی لکہ میں فیصلہ کن جنگ ہوئی، جو آٹھ دن جاری رہی اور مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی، جس کے نتیجے میں اندلس آٹھ صدیوں تک اسلامی ریاست رہا۔

---

بعد کے واقعات اور وفات

بعد میں بعض بدخواہوں نے موسیٰ بن نصیر پر خلافت سے بغاوت کے الزامات لگائے، جو تاریخی طور پر ثابت نہیں۔
ان کے بیٹے عبدالعزیز کی شہادت نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے حج کا ارادہ کیا، اور واپسی میں 97 ہجری میں وادی القریٰ میں وفات پائی۔

اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔

---

اہم اسباق

1. صالح ماحول انسان کی سمت متعین کرتا ہے۔

2. عمر کبھی عظمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی۔

3. عدل، مساوات اور ایمان پر مبنی قیادت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

4. ترجیحات کی درست ترتیب فتح کی بنیاد ہے۔

5. حالات سے فائدہ اٹھانا اور غیر مسلموں سے وقتی تعاون جائز ہے۔

6. نظم و ضبط اور اطاعت عظیم فتوحات کا راز ہے۔

7. حسد اور بہتان قوموں کے ہیروز کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

05/01/2026

سعید بن مسیبؒ کے ساتھ
سعید بن مسیبؒ اپنے زمانے میں تابعین کے سردار اور ان کے پیشوا تھے۔ صحابۂ کرامؓ سے سنت کی امانت داری کے ساتھ روایت کرنے میں ممتاز، دینِ الٰہی کی فقہ میں گہرے، دنیا سے بے رغبت، حق کے اعلان میں بے باک، اور ایمان و علم کے بل پر دنیا کی ناپائیدار چمک دمک اور حکمرانوں کے رعب و دبدبے سے بلند تھے۔

امام زہریؒ کہتے ہیں:
“میں سات سال تک ان کی صحبت میں رہا، اور مجھے یہ گمان نہ تھا کہ ان کے علاوہ بھی کسی کے پاس علم ہو سکتا ہے۔”

محمد بن اسحاق، مکحول کے واسطے سے روایت کرتے ہیں:
“میں نے علم کی تلاش میں پوری زمین کی سیاحت کی، مگر سعید بن مسیب سے زیادہ عالم کسی کو نہ پایا۔”

امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں:
“سعید بن مسیب تابعین میں سب سے افضل ہیں۔”

اور علی بن مدینیؒ کہتے ہیں:
“جب سعید بن مسیب یہ کہہ دیں کہ ‘سنت جاری ہو چکی ہے’ تو یہی بات تمہارے لیے کافی ہے۔ میرے نزدیک وہ تابعین میں سب سے جلیل القدر ہیں۔”

یہاں اس بات کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ ان بزرگوں کے ہاں علم اور عمل کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک علم، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تھا—اپنی ذات میں بھی، اپنے اہل و عیال میں بھی، اور پوری امت کے افراد کے لیے بھی۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ گہرے علم کے ساتھ ساتھ اسی علم پر عمل، خالص عبادت، اور اس بات کی بھرپور کوشش کہ زندگی کے تمام معاملات شریعت کے میزان پر تولے جائیں، اور رب العالمین کا سچا خوف دل میں راسخ ہو۔

اسی لیے سعید بن مسیبؒ اور ان جیسے اکابر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان پورا اترتا ہے:
“اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف اہلِ علم ہی ڈرتے ہیں۔”

امام اوزاعیؒ فرماتے ہیں:
“سعید بن مسیب کو ایسی فضیلت حاصل تھی جو ہم کسی اور تابعی میں نہیں جانتے: چالیس سال تک ان کی کوئی نماز جماعت سے فوت نہیں ہوئی۔”

اور خود سعید بن مسیبؒ کہتے ہیں:
“تیس سال سے مؤذن نے اذان نہیں دی مگر میں مسجد میں موجود تھا۔”

ایک مرتبہ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ کسی نے کہا:
“اے ابو محمد! اگر آپ وادیِ عقیق تشریف لے جائیں، سبزہ دیکھیں اور کھلی ہوا میں سانس لیں تو شاید آنکھوں کے لیے فائدہ ہو۔”
انہوں نے فرمایا:
“پھر میں عشاء اور فجر کی جماعت کا کیا کروں گا؟”

حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
“سعید بن مسیب اس معاملے میں نہایت زیادہ پرہیزگار تھے کہ ان کے گھر اور پیٹ میں کیا داخل ہوتا ہے، اور وہ دنیا کی زائد چیزوں اور فضول باتوں سے سب سے زیادہ بے رغبت لوگوں میں سے تھے۔”

اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ ان کے پاس مال تھا جس سے وہ تجارت کرتے تھے، اور کہتے تھے:
“اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے یہ مال نہ بخل کی وجہ سے جمع کیا ہے، نہ اس کی حرص میں، نہ دنیا اور اس کی خواہشات کی محبت میں، بلکہ میں اس کے ذریعے بنی مروان کے سامنے اپنی عزت محفوظ رکھنا چاہتا ہوں، یہاں تک کہ میں تجھ سے ملوں اور تو میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور اسی مال سے صلہ رحمی کروں، حقوق ادا کروں، بیوہ، فقیر، مسکین اور پڑوسی کی خبر گیری کروں۔”

حق پر ڈٹ جانا اور ہر حال میں اس پر ثابت قدم رہنا ان کا نمایاں وصف تھا۔ بنی مروان کی بیعت سے انکار، اپنی بیٹی کا نکاح ہشام بن عبدالملک سے نہ کرنا، اس پر آنے والی آزمائشیں، اور بعد میں اپنی بیٹی کا نکاح صرف دو درہم مہر پر کثیر بن ابی وداعہ سے کرنا—یہ سب واقعات ان علماءِ عاملین کی تاریخ کو زینت دیتے ہیں جو اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پروا نہیں کرتے، اور اپنے علم و امانت کے مطابق اللہ اور امت کا حق ادا کرتے ہیں۔

عبداللہ بن طلحہ بیان کرتے ہیں:
سعید بن مسیبؒ کو تیس ہزار سے کچھ اوپر رقم لینے کے لیے بلایا گیا، تو انہوں نے فرمایا:
“مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں، نہ بنی مروان کی، یہاں تک کہ میں اللہ سے ملوں اور وہ میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کرے۔”

ان کے حسنِ سیرت، حدیث بیان کرنے کے ادب، اور ایمان کی حلاوت کے ذوق کا تو کیا کہنا۔ ایک شخص ان کے پاس آیا جبکہ وہ بیمار تھے۔ انہوں نے فرمایا:
“مجھے بٹھاؤ۔”
پھر بیٹھ کر اس سے حدیث بیان کی اور دوبارہ لیٹ گئے۔
اس شخص نے کہا:
“کاش آپ نے یہ تکلف نہ کیا ہوتا۔”
انہوں نے فرمایا:
“مجھے یہ پسند نہ آیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث تم سے لیٹے لیٹے بیان کروں۔”

ان کی نصیحتوں میں سے ایک نہایت مؤثر نصیحت یہ ہے:
“ظالموں کے کارندوں کو اپنی آنکھیں بھر کر نہ دیکھو، سوائے اس کے کہ دل میں انکار ہو، ورنہ تمہارے نیک اعمال ضائع ہو جائیں گے۔”

یہ گہری بصیرت ان کے پختہ ایمان، عملی تجربات اور اہلِ ایمان کے اخلاق کی سچی ترجمان ہے—ایسے اخلاق جنہیں وہ ہمیشہ یاد دلاتے رہتے اور چاہتے تھے کہ مسلمان کی زندگی کا شعار بنیں۔

اللہ نے جب انہیں علم اور عمل دونوں کی دولت سے نوازا، تو حکمت کے چشمے ان کی زبان سے جاری ہونا کوئی تعجب کی بات نہ تھی۔ وہ فرماتے ہیں:
“بندوں نے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت سے بڑھ کر کسی چیز کے ذریعے عزت نہیں دی، اور نہ نافرمانی سے بڑھ کر کسی چیز نے انہیں ذلیل کیا۔”

اور فرماتے ہیں:
“آدمی کے لیے اللہ کی طرف سے اتنی ہی مدد کافی ہے کہ وہ اپنے دشمن کو اللہ کی نافرمانی میں مبتلا دیکھ لے۔”

ایک لطیف اور گہری بات، جو ان کی شدید مراقبتِ الٰہی اور خالص عبودیت پر دلالت کرتی ہے، یہ ہے:
“اللہ کا ہاتھ اس کے بندوں کے اوپر ہے۔ جو اپنے آپ کو بلند کرتا ہے، اللہ اسے گرا دیتا ہے، اور جو اپنے آپ کو پست رکھتا ہے، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔ لوگ اس کے سایۂ رحمت میں اپنے اعمال کرتے رہتے ہیں، لیکن جب اللہ کسی بندے کو رسوا کرنا چاہتا ہے تو اسے اس سایے سے نکال دیتا ہے، اور اس کی پردہ پوشی ختم ہو جاتی ہے۔”

اور تیرا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں۔

اللہ رحم فرمائے مدینہ کے اس عظیم عالم پر، جس میں—اللہ کے فضل سے—علم بھی جمع تھا، عمل بھی، علم کا حق ادا کرنا بھی، حق کا اعلان بھی، رب العالمین کا سچا خوف بھی، اور وہ بیداری بھی جو ایمان اور عقل سے پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ علم و عبادت میں مشغول رہتے ہوئے بھی کسی فریب یا چال میں مبتلا نہ ہوئے، اور اپنی تقویٰ و ورع کے ساتھ ہر چھوٹی بڑی بات پر گہری نظر رکھتے تھے۔

(*)
وہ سعید بن مسیب ابو محمد القرشی المخزومی تھے، مدینہ کے عظیم عالم اور اپنے زمانے کے سردارِ تابعین۔ حضرت عمرؓ کی خلافت کے دو یا چار سال بعد مدینہ میں پیدا ہوئے۔ کئی صحابہؓ کو دیکھا، بہت سے صحابہ سے روایت کی، اور بے شمار لوگوں نے ان سے روایت کی۔ سفیان ثوری، عثمان بن حکیم سے روایت کرتے ہیں کہ سعید بن مسیبؒ نے فرمایا:
“تیس سال سے مؤذن نے اذان نہیں دی مگر میں مسجد میں موجود تھا۔”
اسے صاحبِ حلیہ نے روایت کیا، اور امام زہری نے فرمایا: اس کی سند ثابت ہے۔
آپؒ کا انتقال 94 ہجری میں ہوا۔

Want your school to be the top-listed School/college in Kot Radha Kishan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Street No. 1
Kot Radha Kishan