A speech written by me on the topic:
" سحر ملے نہ ملے رات سے نہ ہاریں گے"
تم میں شامل ہے سُرخی جواں خُون کی
آسمانوں سے رنگِ شَفَق چھین لو
دیکھتے کیا ہو دستِ سِتَم کی طرف
اپنا حق چاہتے ہو تو حق چھین لو
ذی وقار!
"سَحَر ملے نہ مِلے رات سے نہ ہاریں گے"
یہ محض ایک مِصرع نہیں بلکہ یہ روحِ حیات کا منشور ہے۔یہ اُس یقین کا استعارہ ہے جو شکستہ حالات میں بھی عَزمِ فولاد بن کر سینہ سَپَر رہتا ہے۔
جنابِ والا!
رات فقط ظُلمت نہیں، یہ وہ ساعت ہے جب خواب اپنی تعبیر سے جُدا ہو جاتے ہیں،جب اُمیدیں ریگزارِ مایوسی میں بکھرنے لگتی ہیں، جب دل کی منڈیروں پر یقین کا دیا لَرزنے لگتا ہے،جب انسانوں کے قُلوب و اَذہان پر گہری مایوسی چھا جاتی ہے۔
یہی وہ رات ہے جو سُقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کر دیتی ہے،جو منصور حَلّاج کو سُولی پہ چڑھا دیتی ہے،جو گلیلیو کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتی ہے،جو اقبال کو طَعن و طنز کا نشانہ بنا دیتی ہے،جو حسین کو نیزے پہ چڑھا دیتی ہے،جو کبھی اے پی ایس کو لہو لہو کر دیتی ہےتو کبھی تھر کے ریگستانوں میں موت کا رقص کرتی ہے،جو غزہ کے معصوم بچوں، جوانوں اور بُوڑھوں کو ابدی نیند سُلا دیتی ہے۔کرۂ ارض پر وہ قیامت بپا کرتی ہے کہ انسانیت پُکار اُٹھتی ہے:
کہاں ہے ارض و سَماء کا مالک
کہ چاہتوں کی رگیں کُریدے
ہوس کی سُرخی رُخِ بشر کا
حسین غازہ بنی ہوئی ہے
کوئی مسیحا اُدھر تو دیکھے
کوئی تو چارہ گری کو اُترے
اُفق کا چہرہ لہو سے تر ہے
زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے
مگر اے اہلِ فکر و یقین!
زندگی کی راہوں پر کبھی تھکن آ
جائے، حوصلہ کمزور پڑ جائے،تو یاد رکھنا!
ہر رات کا انجام سَحَر ہے۔اگر تمہیں دنیا کہے کہ تمہارے خوابوں کی تعبیر ممکن نہیں،تو مُسکرا کر کہنا: "سَحَر مِلے نہ مِلے رات سے نہ ہاریں گے"۔
کیوں؟ کیونکہ!
ابھی ہم نے ظلم کے ایوانوں میں عدل و امن و انصاف کے غُنچوں کوخونِ جگر دے کر رونقِ عارضِ بہاراں کرنا ہے۔
کیونکہ ابھی جمود اور قدامت پسندی کی سیاہ رات میں ہٹ دھرمی، اَنا اور خود پسندی کے اندھیروں کو کافور ہونے میں کچھ دیر باقی ہے۔
کیونکہ ابھی شمعِ عِلم کی آبرو کا بھرم رکھنے کے لیےچاکِ گریباں پروانوں کو اناالحق کی تھاپ پر رقصِ بسمل کرنے میں زنجیروں کی چند کڑیوں کا ٹوٹنا باقی ہے۔
کیونکہ ابھی آرائشِ صحنِ چمن کے لیے گُل و لالہ کی فصل پکنے میں کچھ وقت باقی ہے۔
کیونکہ ابھی کسی مردِ مومن کے نالۂ نیم شب کو کچھ وقت باقی ہے۔
کیونکہ ابھی صُوبائیت، لِسانیت اور علاقائیت پرستی کے حبس زدہ ماحول میں چشمِ خلوص سے گِرے کسی آنسو کو بارش کا پہلا قطرہ بننے میں کچھ وقت باقی ہے۔
کب کٹی ہے رونے سے شبِ ہِجراں
یا کوئی بلا فقط دُعاؤں سے ٹَلی ہے؟
تو حق و صداقت کی شہادت سَرِ مقتل
کہ یہی حق کا فرمانِ جَلی ہے۔
ہم اہلِ جُنون سُوئے کربلا روانہ ہیں
اور قافلہ سالار اپنا حسین ابنِ علی ہے۔
English Urdu Speech Writer
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے �
" ہم زندہ قوم ہیں" کے موضوع پر ایک تقریر
سامعینِ مجلس !
قوموں پر بلا شبہ عروج و زوال آتے ہیں کہ یہ قانونِ قدرت ہے۔۔
" وتلک الایام نداولہا بین الناس ۔"
" یہ دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔ "
قوموں پر بلاشبہ عروج و زوال آتے ہیں ۔ قومیں ابھرتی ہیں اور ڈوبتی ہیں۔ اقوام کو کٹھن آزمائشوں کی بھٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اقوام پر آلام و مصائب کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں ۔ ان تمام مراحل میں صرف وہی قومیں سرخرو ہو کر آگے بڑھتی ہیں جو اپنے ماضی کے روشن باب کو تاج بنا کر سر پر رکھ لیتی ہیں۔۔
سامعینِ مجلس!
میں ماضی بعید میں جا کے عہدِ نبوی سے اپنی قوم کی مثالیں پیش کرنا نہیں چاہتا حالانکہ بقولِ اقبال میں اِس کا حق رکھتا ہوں کیونکہ وہ میری قوم ہے:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ذی وقار!
وادی بطحیٰ سے جنم لینے والی قوم 1947 میں آ پہنچی ہے۔ لٹے پٹے قافلوں نے وطنِ عزیز کو سنبھالا دیا اور 1965 آگیا۔ رات کے اندھیرے میں بزدل دشمن نے شب خون مارا، پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ لڑی۔ اللہ کی ذات پر یقینِ کامل اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا۔
لگانے آگ جو آئے تھے آشیانے کو مرے
وہ شعلے اپنے لہو سے بجھا دیے میں نے
ہمارا سلام ہو جرات و بہادری و سرفروشی کے روشن استعاروں نشانانِ حیدر شہداء پر کہ جن کے لہو کی بوندوں نے اس دھرتی کو سیراب کر کے ہمیں زندہ قوم ہونے کا سبق سکھا دیا
عزیزانِ وطن !
ذرا چند لمحات کے لیے اپنے دل و دماغ کو میرے حوالے کرنا تاکہ میں آپ کے قلوب و اذہان پر وہ الفاظ منقش کر سکوں کہ گردشِ لیل و نہار پھر ان الفاظ کو آپ کے قلوب و اذہان سے مٹا نہ سکے۔ ذرا سوچیے گا کہ جہاں سائنسی تکنیکی لیبارٹریوں اور سر و سامان کی عدم دستیابی کے باوجود عبدالقدیر خان ایٹم بم کا خالق بن جائے ۔ جہاں جوتے خریدنے کے بھی پیسے نہ ہوں اور کوئی ہاشم خان سکواش کے میدان میں اپنا جھنڈا گاڑ دے اور پھر اگلے 52 برس تک اس کا خاندان یہ جھنڈا گرنے نہ دے ۔ جہاں کروڑوں خواتین ابھی صرف خواب میں ہی محوِ پرواز ہونے کی مہم جوئی کر رہی ہوں اور کوئی شکریہ خانم جہاز اڑانے لگے وہ بھی آج سے 58 برس پہلے۔ جہاں بس کا پورا کرایا بھی نہ ہو اور کوئی نسیم حمید جنوبی ایشیا کی تیز رفتار ترین لڑکی قرار پائے۔ جہاں اپنے ساتھیوں کو بچاتے ہوئے بھاری بھرکم وجود رکھنے والا نہتا اعتزاز حسن دہشت گردوں سے ٹکرا کر جامِ شہادت نوش کر لے ۔
ذی وقار!
جہاں ملک کے 38 فیصد بچے پہلی جماعت بھی مکمل کیے بغیر سکول سے ڈراپ آؤٹ ہو جائیں اور کوئی علی معین نوازش 21 مضامین میں اے لیول لینے کا عالمی ریکارڈ قائم کردے۔ جہاں نو سالہ ارفع کریم دنیا کی کم عمر ترین مائیکروسافٹ کمپیوٹر انجینیئر کے طور پر ابھر آئے۔ جہاں ولید امجد ملک اقوامِ متحدہ کے مضمون نگاری کے مقابلے میں اول آجائے۔ جہاں نابیناؤں کی کرکٹ ٹیم ایک نہیں دو ورلڈ کپ جیت لے۔ جہاں ایم ایم عالم نامی ایک پائلٹ ایک پرانے فائٹر جہاز سے صرف چند سیکنڈز میں دشمن کے پانچ طیارے گرا کر دنیا کی ہوائی جنگ میں نہ ٹوٹنے والا ریکارڈ قائم کر دے ۔ جس قوم کے افراد ان حالات میں بھی ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیں وہ ہے میری قوم اور یہ ہے میرا پیارا پاکستان ۔
سامعین مجلس !
ہم زندہ قوم ہیں۔
زندہ ہیں اگر زندہ دنیا کو ہلا دیں گے
مشرق کا سرا اٹھ کر مغرب سے ملا دیں گے
دھارے میں زمانے کے بجلی کا خزانہ ہیں
بہتے ہوئے پانی میں ہم آگ لگا دیں گے
دنیا کے سمندر میں ہم جذر بھی ہیں مد بھی
دیکھو جو ہمیں روکا طوفان اٹھا دیں گے
سینہ ہستی میں انگارہ ہیں انگارہ
شعلے بھڑک اٹھیں گے جھونکے جو ہوا دیں گے
گونجیں گی پہاڑوں میں تکبیر کی آوازیں
یہ صور جہاں پھونکا مردوں کو جِلا دیں گے
اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اُتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے۔
شکریہ !
" فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا " کے موضوع پر ایک انعام یافتہ تقریر
سامعینِ مجلس !
خالقِ ارض و سماء نے تخلیقِ آدم کے واقعے کو قرآنِ کریم میں کچھ یوں بیان کیا ہے:
{وَإِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلَـٰۤىِٕكَةِ إِنِّی جَاعِلࣱ فِی ٱلۡأَرۡضِ خَلِیفَةࣰۖ قَالُوۤا۟ أَتَجۡعَلُ فِیهَا مَن یُفۡسِدُ فِیهَا وَیَسۡفِكُ ٱلدِّمَاۤءَ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَۖ قَالَ إِنِّیۤ أَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُونَ}
"اور جب اللّٰہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں ۔ وہ بولے کیا تو ایسے شخص کو نائب بنائے گا جو زمین میں فساد کرے اور خون بہائے اور ہم تو تعریف کے ساتھ تیری خوبی اور پاکیزگی بیان کرتے رہتے ہیں تو اللّٰہ رب العزت نے فرمایا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے"
سامعینِ کرام !
ایک نیک اور منصف مزاج بادشاہ اپنی رعایا میں سے اُسی فرد کو اپنا مقرب اور خاص الخاص مشیر بناتا ہے جو خاص کمالات اور مہارتیں رکھتا ہے ۔ وزیر با تدبیر اور سمجھدار ہو تو اسے اِس امر کا بہ خوبی ادراک ہوتا ہے کہ میرا یہ مقام و منصب میری صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہے ۔ لہٰذا وہ اِن مہارتوں میں مزید نکھار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ہر وقت بادشاہ کی خدمت اور اطاعت شعاری کو اپنی سعادت سمجھتا ہے ۔ بصورتِ دیگر بادشاہ کی نظروں میں وہ اپنا مقام کھو دیتا ہے ۔ وہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم سے ثم رددنٰه اسفل سافلین کا سفر ایک لمحے میں طے کر لیتا ہے ۔ کسی شاعر کے الفاظ میں:
اک لمحہ درکار ہے اُس کے خدو خال مٹانے کو
صدیاں بوڑھی ہو جاتی ہیں جو تصویر بنانے میں
سامعینِ محترم!
خالقِ کائنات نے انسان کو اپنی مخلوقات پر فضیلت بخشی ہے ۔ ولقد کرمنا بنی آدم " اور یقیناً ہم نے اولادِ آدم کو بڑی عزت دی ۔"
فرشتوں میں گناہ کرنے کا جذبہ و تقاضا نہیں ، غصہ و شہوت نہیں ، ہوس وخواہشِ نفس نہیں اور بھوک و پیاس نہیں ، ہاں اطاعت و فرماں برداری ہی ہے ، امنا وصدقنا ہے اور سماع و اطاعت ہے اور انسان ۔۔۔۔۔
انسان کی وجہِ فضیلت یہ ہے کہ انسان میں اچھائی کے ساتھ برائی کا مادہ رکھا گیا ہے ، نیکی کے ساتھ ساتھ گناہ کا جذبہ رکھا گیا ہے اورحسنِ خلق کے ساتھ ساتھ غصہ و غضب تفویض کیا گیا ہے ۔ بھوک و پیاس ہے ۔ ہوس و شہوت ہے ۔ انا و خود پسندی ہے ۔ لیکن سعی و کوشش سے ، محنت و مشقت سے ، مجاہدہ و جہاد سے ، اِن سب پر قابو پاکر انسان خالقِ ارض و سماء کی اطاعت و فرمانبرداری کا دم بھرے ، اوامرِ الٰہی بجا لانے کی سعی کرے اور نواہی خداوندی سے کنارہ کشی کی جہدِ مسلسل کرے :
*معصوم تھا، نہ وقفِ سجود و دعا تھا میں
خوبی میری یہی تھی کہ اہلِ خطا تھا میں*
صدرِ ذی وقار !
تصویر کا دوسرا رخ بھی مجھے تسلیم ہے کہ جب انسان انسانیت کے اعلیٰ ترین درجے سے گرتا ہے تو دنیا سے سکون و اطمینان غائب ہو جاتا ہے ۔ رواداری ، رفاقت ، بھائی چارے اور تعاون کی جگہ نفاق ، انتشار ، نفسا نفسی ، خودغرضی ، اور بدامنی لے لیتی ہے اور ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے اور بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہو جاتا ہے تو ایسے پلید اور غلیظ معاشرے میں انسانیت اور آدمیت دم توڑ دیتی ہے ۔ مگر فرشتوں سے بہتر انسان اس کائنات کا گلِ سرسبد ہے ۔ سب سے اچھا انسان وہ ہے جو انسانیت کو عزت دیتا ہے ۔ اپنے تو اپنے غیروں کے لیے بھی رحیم ہوتا ہے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے کنبے کا حیا کرتا ہے ۔ یہ متقی و پرہیز گار انسان فرشتوں سے بہتر ہوتا ہے اور یہی میری آج کی گفتگو کا محور و مرکز ہے:
فرشتہ مجھ کو کہنے سے میری توہین ہوتی ہے
میں مسجودِ ملائک ہوں مجھے انساں ہی رہنے دو
اے میری جادہ حیات کے ہم نشینو !
گناہ کی قدرت و اختیار رکھنے کے باوجود گناہ سے بچنے والا انسان گناہ کی لذت سے نا آشنا فرشتے سے بہتر ہوتا ہے ۔ اسی لیے تو مولانا الطاف حسین حالی نے کہا تھا:
بڑھاؤ نہ آپس میں ملت زیادہ
مبادا کہ ہوجائے نفرت زیادہ
تکلف علامت ہے بیگانگی کی
نہ ڈالو تکلف کی عادت زیادہ
کرو علم سے اکتسابِ شرافت
نجابت سے ہے یہ شرافت زیادہ
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
وما علینا الاالبلاغ المبین ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Kot Radha Kishan