11/11/2025
A speech written by me on the topic:
" سحر ملے نہ ملے رات سے نہ ہاریں گے"
تم میں شامل ہے سُرخی جواں خُون کی
آسمانوں سے رنگِ شَفَق چھین لو
دیکھتے کیا ہو دستِ سِتَم کی طرف
اپنا حق چاہتے ہو تو حق چھین لو
ذی وقار!
"سَحَر ملے نہ مِلے رات سے نہ ہاریں گے"
یہ محض ایک مِصرع نہیں بلکہ یہ روحِ حیات کا منشور ہے۔یہ اُس یقین کا استعارہ ہے جو شکستہ حالات میں بھی عَزمِ فولاد بن کر سینہ سَپَر رہتا ہے۔
جنابِ والا!
رات فقط ظُلمت نہیں، یہ وہ ساعت ہے جب خواب اپنی تعبیر سے جُدا ہو جاتے ہیں،جب اُمیدیں ریگزارِ مایوسی میں بکھرنے لگتی ہیں، جب دل کی منڈیروں پر یقین کا دیا لَرزنے لگتا ہے،جب انسانوں کے قُلوب و اَذہان پر گہری مایوسی چھا جاتی ہے۔
یہی وہ رات ہے جو سُقراط کو زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کر دیتی ہے،جو منصور حَلّاج کو سُولی پہ چڑھا دیتی ہے،جو گلیلیو کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتی ہے،جو اقبال کو طَعن و طنز کا نشانہ بنا دیتی ہے،جو حسین کو نیزے پہ چڑھا دیتی ہے،جو کبھی اے پی ایس کو لہو لہو کر دیتی ہےتو کبھی تھر کے ریگستانوں میں موت کا رقص کرتی ہے،جو غزہ کے معصوم بچوں، جوانوں اور بُوڑھوں کو ابدی نیند سُلا دیتی ہے۔کرۂ ارض پر وہ قیامت بپا کرتی ہے کہ انسانیت پُکار اُٹھتی ہے:
کہاں ہے ارض و سَماء کا مالک
کہ چاہتوں کی رگیں کُریدے
ہوس کی سُرخی رُخِ بشر کا
حسین غازہ بنی ہوئی ہے
کوئی مسیحا اُدھر تو دیکھے
کوئی تو چارہ گری کو اُترے
اُفق کا چہرہ لہو سے تر ہے
زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے
مگر اے اہلِ فکر و یقین!
زندگی کی راہوں پر کبھی تھکن آ
جائے، حوصلہ کمزور پڑ جائے،تو یاد رکھنا!
ہر رات کا انجام سَحَر ہے۔اگر تمہیں دنیا کہے کہ تمہارے خوابوں کی تعبیر ممکن نہیں،تو مُسکرا کر کہنا: "سَحَر مِلے نہ مِلے رات سے نہ ہاریں گے"۔
کیوں؟ کیونکہ!
ابھی ہم نے ظلم کے ایوانوں میں عدل و امن و انصاف کے غُنچوں کوخونِ جگر دے کر رونقِ عارضِ بہاراں کرنا ہے۔
کیونکہ ابھی جمود اور قدامت پسندی کی سیاہ رات میں ہٹ دھرمی، اَنا اور خود پسندی کے اندھیروں کو کافور ہونے میں کچھ دیر باقی ہے۔
کیونکہ ابھی شمعِ عِلم کی آبرو کا بھرم رکھنے کے لیےچاکِ گریباں پروانوں کو اناالحق کی تھاپ پر رقصِ بسمل کرنے میں زنجیروں کی چند کڑیوں کا ٹوٹنا باقی ہے۔
کیونکہ ابھی آرائشِ صحنِ چمن کے لیے گُل و لالہ کی فصل پکنے میں کچھ وقت باقی ہے۔
کیونکہ ابھی کسی مردِ مومن کے نالۂ نیم شب کو کچھ وقت باقی ہے۔
کیونکہ ابھی صُوبائیت، لِسانیت اور علاقائیت پرستی کے حبس زدہ ماحول میں چشمِ خلوص سے گِرے کسی آنسو کو بارش کا پہلا قطرہ بننے میں کچھ وقت باقی ہے۔
کب کٹی ہے رونے سے شبِ ہِجراں
یا کوئی بلا فقط دُعاؤں سے ٹَلی ہے؟
تو حق و صداقت کی شہادت سَرِ مقتل
کہ یہی حق کا فرمانِ جَلی ہے۔
ہم اہلِ جُنون سُوئے کربلا روانہ ہیں
اور قافلہ سالار اپنا حسین ابنِ علی ہے۔