*فلسطین کے مظلوم مسلمانوں پر مظالم رکوانے کی کنجی پاکستان کے علماء اور عوام کے ہاتھوں میں ہے*
پاکستان کے علماء کو اپنی طاقت کا اندازہ نہیں
پاکستان کے علماء اور دینی رہنماء جن کے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں میں عقیدت مند ، پیروکار ، مریدین و معتقدین موجود ہیں
جو اپنے دینی رہنماؤں کے ایک اشارے پر جان لٹانے کو تیار ہیں!
اگر یہی دینی رہنماء مسئلہ فلسطین پر اپنے عقیدت مندوں کو تیار کر کے اللہ رب العزت کی ذات پر توکل رکھ کر افواج پاکستان سے جہاد کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل پڑیں
تو واللہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لیے ایک امید کا چراغ روشن ہوگا
یہ بات ذہن نشین کر لیں!
کہ کوئی بھی فتح اور کامیابی قربانیوں کے بغیر پلیٹ میں رکھی ہوئی نہیں ملتی
اگر فلسطین کے مسلمان قبلہ اول کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں
تو
ہم اپنے قبلہ اول اور اپنے ان مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیوں نہیں کر سکتے
کیا ہمارے جسم قبلہ اول سے زیادہ قیمتی ہیں
اگر ہم فلسطین نہیں پہنچ سکتے تو کیا ہوا
جس طرح فلسطین کے مسلمان غزہ کی سرزمین پر اپنے قبلہ اول کے لیے جانیں لٹا رہے ہیں
تو
ہم بھی اپنے قبلہ اول کے لیے اور اپنے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے لیے پاکستان کی سرزمین پر اپنی جانیں لٹانے کو شرف سمجھتے ہیں
Holy Quran Legacy
Holy Quran Legacy
*❣️🌹_تلاوت قرآن مجید_🌹❣️*
*اللہ پاک ہمیں قرآن پڑھنے سمجھنے اور اس پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین_*
روح اور جان ایک ہی چیز ہے روح عربی لفظ ہے اور جان اس کی اردو ہے جانوروں میں بھی روح ہوتی ہے
جانوروں کی روح کون قبض کرتا ہے اس حوالے سے علامہ شیح احمد شہاب الدین بن حجر الھیتمی المکی رحمہ اللہ تعالیٰ (المتوفي ٩٧٤ ھ) نے اپنی تصنیف فتاویٰ حدیثیہ میں ایک باب باندھا ہے جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ ہر ذی روح (خواہ وہ انسان ہو یا جانور) کی روح قبض کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ملک الموت حضرت عزرائیل علیہ السلام کو عطا فرمائی ہے اور وہی ہر ذی روح کی روح قبض کرتے ہیں
الذي دلت عليه الأحاديث أن ملك الموت يقبض جميع أنواع الحيوانات من بني آدم وغيرهم من ذلك قوله مخاطباً لنبينا صلى الله عليه وسلم: والله يا محمد! لو أني أردت أقبض روح بعوضة ما قدرت على ذلك حتى يكون الله هو الآمر بقبضها. قال القرطبي : وفي هذا الخبر ما يدل على أن ملك الموت هو الموكل بقبض كل ذي روح، وأن تصرفه كله بأمر الله عزوجل وبخلقه واختراعه
اور حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا مچھروں کی روح بھی ملک الموت نکالتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا :ان میں جان ہوتی ہے؟ کہا گیا ہاں :فرمایا ہاں ان کی روح بھی ملک الموت ہی قبض کرتے ہیں
قال القرطبي أيضا : وهذا عام في كل ذي روح ومن ثم لما سئل مالك رضي الله عنه عن البراغيث أن ملك الموت هل يقبض أرواحها؟ أطرق ملياً، ثم قال: ألها نفس؟ قيل: نعم! قال: ملك الموت يقبض أرواحها
فتاویٰ حدیثیہ: مطلب ھل ملک الموت یقبض أرواح الحیوانات کلھا ص ٥ مطبع:ہاتف بیروت لبنان
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب
شوہر اپنی بیوی کو قبر میں اتار سکتا ہے البتہ میت کا والد، بھائی، بیٹے یا دیگر محارم شوہر پر مقدم ہیں۔ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ منہ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔
بہارِ شریعت، 1: 813، مکتبۃ المدینہ، کراچی
اس لیے کسی عورت کے انتقال کے بعد شوہر کے لیے اس کے چہرے کو دیکھنا، جنازہ کو کندھا دینا اور قبر میں اُتارنا جائز ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے شوہر کے لیے ان امور کی ممانعت نہیں کی ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
حقیقت 💖
بیویاں اپنے زوج سے اکثر یہ تو کہتی ھیں کہ محترم اپنی زندگی میں کچھ بنائیں۔ اپنا گھر خرید لیں ۔
کچھ بینک بیلنس بنائیں اپنے حالات بہتر کرلیں کہ خدانخواستہ آپ کو کچھ ھوگیا تو ھمارا کیا بنے گا ؟ 🤔
*لیکن آج تک کسی بیوی نے یہ نہیں کہا کہ۔محترم
آپ دوسری شادی بھی کرلیں کہ خدانخواستہ مجھے کچھ ہوگیا تو آپ کا کیا بنے گا ۔۔*🤷🏻♂️ 🥰
صدرالشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرّحمہ بہار شریعت میں فرماتے ہیں : ’’شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میّت کے مونھ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں ، بلکہ درمختار میں کفن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی امید ہے اور میّت کے سینہ اور پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھنا جائز ہے۔ ایک شخص نے اس کی وصیّت کی تھی ، انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہشریف لکھ دی گئی پھر کسی نے انھيں خواب میں دیکھا ، حال پوچھا؟ کہا : جب میں قبر میں رکھا گیا ، عذاب کے فرشتے آئے ، فرشتوں نے جب پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہ شریف دیکھی کہا تو عذاب سے بچ گیا۔ (درمختار ، غنیہ ، عن التاتار خانیہ) یوں بھی ہو سکتا ہے کہ پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہ شریف لکھیں اور سینہ پر کلمہ طیبہ لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پیشتر کلمہ کی انگلی سے لکھیں روشنائی سے نہ لکھیں۔ ‘‘ (بہار شریعت ، 1 / 848)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
تَعَالٰی عَنْہُسے مروی کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: ’’شیطان جب اذان سنتا ہے اتنی دور بھاگتا ہے جیسے روحا۔‘‘اور روحا مدینہ سے ۳۶ میل کے فاصلہ پر ہے۔[2]
سوال:کیا اذان نماز کے ساتھ خاص ہے؟
جواب: نہیں، ایسا نہیں کہ اذان نماز کے ساتھ خاص ہے ۔ بعض لوگوں کواذانِ قبر کے ناجائز ہونے کا شیطانی وَسْوَسَہ شاید اس بنا پر آتا ہے کہ لوگ اذان کو نماز کے ساتھ خاص سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ شریعتِ مطہرہ نے نماز کے علاوہ کثیرمقامات پر اذان کو مستحسن جانا ہے جیسے نو مولود کے کان اور دفعِ وبا و بلا وغیرہ مواقع میں۔(بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم،صفحہ۱۱۵، ۱۱۶)
[1] ۔۔۔۔ نوادر الاصول، الاصل الحادی والخمسون والمائتان،۲ / ۱۰۲۰، بتغیرٍ، فتاوی رضویہ،۵ / ۶۵۵۔
[2] ۔۔۔۔ صحیح مسلم،کتاب الصلاة،باب فضل الاذان وھرب۔۔۔الخ،ص۲۰۴،حدیث:۳۸۸۔
سوال
چور بازار سے چوری شدہ سامان خریدنے کا شرعی لحاظ سے کیا حکم ہے؟
جواب
چوری کامال جتنے ہاتھوں میں چلاجائے وہ حرام ہی رہتا ہے، اوراصل مالک کے علاوہ کوئی دوسرا اس کامالک نہیں بنتا، اس لیے اگر خریدنے والے کو کسی چیز کے بارے میں یقینی معلوم ہو یا غالب گمان ہو کہ وہ چوری کی ہے تو اس کے لیے اس کو خرید نا اور استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔السنن الکبری میں ہے:
" عن شرحبيل مولى الأنصار عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: "من اشترى سرقةً وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها". (السنن الكبرى للبيهقي (5/ 548) کتاب البیوع، باب كراهية مبايعة من أكثر ماله من الربا أو ثمن المحرم، ط: دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه". (5/99، مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا، ط: سعید)
وفیہ أیضاً:
"وفيه: الحرام ينتقل، فلو دخل بأمان وأخذ مال حربي بلا رضاه وأخرجه إلينا ملكه وصح بيعه، لكن لايطيب له ولا للمشتري منه.
(قوله: الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الأيدي وتبدلت الأملاك، ويأتي تمامه قريباً (قوله: ولا للمشتري منه) فيكون بشرائه منه مسيئاً؛ لأنه ملكه بكسب خبيث، وفي شرائه تقرير للخبث، ويؤمر بما كان يؤمر به البائع من رده على الحربي؛ لأن وجوب الرد على البائع إنما كان لمراعاة ملك الحربي ولأجل غدر الأمان، وهذا المعنى قائم في ملك المشتري كما في ملك البائع الذي أخرجه". (5/ 98، کتاب البیوع،باب البیع الفاسد ، مطلب الحرمة تتعدد، ط: سعید) فقط واللہ اعلم
بیٹوں کی اقسام۔
بیٹے پانچ قسموں کے ہوتے ہیں:
۱: پہلے وہ جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا حُکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں۔
۲: دوسرے وہ ہیں جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں۔
۳: تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنہیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جتلا کر، بکواس بازی کر کر کے۔ یہ کام کر کے بھی گھاٹے میں ہیں اور گناہ کما رہے ہیں۔
۴: چوتھی قسم کے وہ بیٹے ہیں جنہیں والدین کوئی کام بتا دیں تو خوش دلی سے کرتے ہیں، یہ اجر کماتے ہیں اور ایسے بیٹے بہت کم ہوتے ہیں۔
۵: پانچویں قسم کے وہ بیٹے ہیں جو والدین کی ضرورتوں کے کام اُن کے کہنے سے پہلے کر دیتے ہیں، یہ خوش بخت بیٹوں کی نادر قسم ہیں۔
آخری دو قسم کے بیٹے؛ ان کی عمر میں برکت، رزق میں وسعت، ان کے معاملات کی آسانی اور ان کے سینوں میں پڑی راحت اور وسعت کے بارے میں کچھ نا پوچھیئے، یہ تو بس اللہ “اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے”۔
ایک چھوٹا سا سوال ہے ہر اُس کرم فرما کیلئے جو اس وقت یہ پڑھ رہا ہے: آپ اوپر بیان کیئے گئے بیٹوں کی قسموں میں سے کون سی قسم کے بیٹے ہیں؟
(بھاگ کر اپنی ماں کے سر پر بوسہ دینے سے پہلے) اپنے آپ سے یہ پوچھ کر دیکھیئے کہ والدین کے ساتھ “بِر” یا حُسن سلوک یا راستبازی ہوتی کیا ہے؟
یہ حُسن سلوک؛ ماں یا باپ کے سر پر ایک بوسہ لے لینے کا نام نہیں ہے، ناں ہی ان کے ہاتھوں پر یا حتی کہ اُن کے پاؤں پر بوسہ لینے کا نام ہے۔ کہیں یہ کر کے تو اس گمان میں میں ناں پڑ جائے کہ تو نے ان کی رضا کو پا لیا ہے۔
حُسن سلوک یہ ہے کہ تو اُن کے دل میں آئی ہوئی خواہش کو محسوس کرے اور پھر اُن کے حُکم کا انتظار کیئے بغیر اس خواہش کو پورا کر دے۔
حُسن سلوک یہ ہے کہ تو یہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے کہ انہیں کونسی بات خوشی دیتی ہے اور پھر اُس کام کو جلدی سے کر ڈالے۔ اور تو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ انہیں کس بات سے دُکھ پہنچتا ہے اور پھر اس کوشش میں رہے کہ وہ تجھ سے ایسی کوئی چیز کبھی بھی نا دیکھ پائیں۔
اُن سے حسن سلوک یہ ہے کہ تجھے ان کا احساس ہو، تو ان کیلیئے بات چیت کا وقت نکالتا ہو، انہیں کسی چیز کے کھانے پینے کی طلب ہو تو حاضر کر دیتا ہو بھلے یہ ایک چائے کا کپ ہی کیوں ناں ہو۔
حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھے بھلے اس کیلیئے اپنی راحت کو ہی کیوں نا تیاگنا پڑے۔ اگر تیری دوستوں میں شب بیداری انہیں شاق گزرتی ہے تو تیرا جلدی سو جانا بھی ان کے ساتھ ایک حسن سلوک کی ہی ایک مثال ہے۔
حسن سلوک یہ بھی ہے کہ ان کی خاطر اپنی دعوتیں ضیافتیں چھوڑ دے اگر اس سے تیرا اُن کے ساتھ میل جول متاثر ہوتا ہے تو۔
ایک مناسب ریسٹورنٹ پر ان کے ساتھ کھانا، حج و عمرہ میں ان کی راحت کے پیش نظر اچھے ہوٹل میں ان کے قیام کا بندوبست، حتی کہ کہیں چھوٹی موٹی تفریح اور پکنک جو تیرے والدین کے دل کو سرور دے اور وہ اپنی اس عمر میں بھی خوشی کا احساس پائیں۔
حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تیرے والدین تیرے مال سے مستفیض ہو رہے ہوں بھلے وہ خود کیوں ناں مالدار ہوں۔ اور تیرا یہ جانے بغیر کہ ان کے پاس اب کتنے پیسے ہیں اور انہیں ضرورت ہے بھی یا کہ نہیں تو ان پر خرچ کرتا رہے۔
حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کی حتی المقدور راحت تلاش کرتا رہے اور انہوں نے تیری ولادت سے اب تک جو کچھ خدمت کر دی ہے کو کافی سمجھے اور اب ان کے احسانات کے بدلے میں کچھ نا کچھ کرتا رہے۔
حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کے لبوں پر کسی طرح ہنسی لاتا رہے بھلے تو اپنے نظروں میں کیوں ناں مسخرہ ہی لگ رہا ہو،
*آخری بات: والدین سے حسن سلوک تیرے اور تیرے بھائیوں بہنوں کے درمیان "باری بندی" کا نام نہیں۔ یہ تو ایک دوڑ کا نام ہے جو جنت کے دروازوں کی طرف جاری ہے اور پتہ نہیں کون پہلے پہنچ جائے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جنت کو بہت سے راستے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی راستے تیرے والدین سے ہو کر جاتے ہیں۔*
🥀
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ سیاہ رنگ کالباس پہننا شرعا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
سیاہ کپڑے بطورِ سوگ پہنناناجائزوگناہ ہے سوائے عورت کے کہ وہ اپنے شوہرکی وفات کے غم میں صرف تین دن تک پہن سکتی ہے اورتین دن کے بعداس کے لئے بھی جائزنہیں ۔اوراگرسیاہ کپڑے بطورِسوگ یااظہارغم کے لئے نہ پہنے جائیں توجائزہے ،اس میں کوئی حرج نہیں ۔
چنانچہ بطورِ سوگ سیاہ کپڑے پہننے کے ناجائزہونے کے بارے میں فتاوی عالمگیری میں ہے:’’ لایجوز صبغ الثیاب اسودتأسفاعلی المیت ‘‘ترجمہ:میت کے سوگ کے طورپرسیاہ رنگ کے کپڑے پہننا جائزنہیں ۔ (فتاوی عالمگیری،کتاب الکراھیۃ،الباب التاسع،ج5،ص333،مطبوعہ کوئٹہ)
عورت کااپنے شوہرکی وفات کے غم میں تین دن تک سیاہ کپڑے پہننے کے جوازکے بارے میں علامہ عالم بن علاء الانصاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :’’وفی الیتیمۃ سئل ابو الفضل عن المرأۃ یموت زوجھا او ابوھا اوغیرھا من الاقرباء فتصبغ ثوبھا اسود فی المتن فتلبسھا شھرین او ثلاثۃ او اربعۃ تأسفا علی المیت ھل تعذر فی ذلک ؟فقال: لا،وسئل عنھا علی بن احمد فقال : لاتعذر وھی آثمۃ فی ذلک الا الزوجۃ فی حق زوجھا فانھا تعذر الی ثلاثۃ ایام‘‘ترجمہ:اور ’’یتیمہ‘‘میں ہے کہ علامہ ابوالفضل سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا شوہر یا والد یا کوئی اور رشتے دار فوت ہوگیا ،تو اس نے اپنے کپڑوں کوسیاہ رنگ سے رنگا اور متن میں ہے کہ دویا تین یا چار ماہ میت کے غم کی وجہ سے سیاہ کپڑے پہنے رہی ،تو کیا اس عورت کے لئے یہ جائز ہے؟ توانہوں نے فرمایا:نہیں اور علامہ علی بن احمد علیہ الرحمۃ سے یہی سوال پوچھاگیا(یعنی عورت کا میت کے غم میں سیاہ کپڑے پہننا)،تو انہوں نے فرمایاکہ اس عورت کے لئے (سیاہ کپڑے پہننا)جائز نہیں اور اگر پہنے گی توگنہگار ہوگی،مگر یہ کہ بیوی کہ جب اس کا شوہر فوت ہوجائے تو صرف تین دن تک پہن سکتی ہے۔(فتاوی تاتارخانیہ،کتاب الطلاق،ج4،ص55، مطبوعہ کراچی)
اوراگرسیاہ لباس پہنناسوگ یاغم کے اظہارکے لئے نہ ہوتواس کے پہننے کے جوازکے بارے میں صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :’’اورسیاہ کپڑے غم ظاہر کرنے کیلئے نہ ہوں تو مطلقا جائز ہیں ۔‘‘(بھارِ شریعت،ج2،ص244،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کااپنے دندان شہیدکرنے والاواقعہ کسی معتمدذریعے سے ثابت نہیں ہے، لہذااس کوبیان نہیں کرنا چاہیے اوررہاکیلے کاپھل ان کے لیے اترنا،تواس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ہے،امام ابن ابی الدنیانے تو یہ روایت ذکرفرمائی ہے کہ حضرت آدم علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام جب زمین پرتشریف لائے ،توان کے ساتھ کیلے کاپھل بھی اتارا گیا تھا اور قرآن پاک میں ہے کہ جب حضرت یونس علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام مچھلی کے پیٹ سے باہرتشریف لائے، تواللہ تعالی نے ان کے لیےایک درخت اگایاتھا،اس درخت کے متعلق بعض نے یہ بھی قول کیاہے کہ وہ کیلے کادرخت تھا ۔
اس قول سے بھی پتاچلتاہے کہ اس وقت کیلے کادرخت موجودتھا،تبھی تویہ قول کیاگیاہے ، اگرکیلااس وقت موجودہی نہیں تھا،تواس قول کاکوئی محل ہی نہیں بنتا ، لہٰذااس سے بھی واضح ہوتاہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے کیلے کاپھل جنت سے آنے والے واقعے کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔
قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے : ﴿ وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ﴾ ترجمہ:اورہم نے یونس پریقطین کادرخت اگایا۔
عمدۃ القاری،فتح الباری،تفسیرابی السعود،تفسیرقرطبی،تفسیرکشاف،تفسیرآلوسی وغیرہ میں ہے،(واللفظ للآخر):’’وقيل شجرة اليقطين هي شجرة الموز تغطي بورقها واستظل بأغصانها وأفطر على ثمارها ‘‘ترجمہ : اورکہاگیاہے کہ یقطین کادرخت(جوحضرت یونس علی نبیناوعلیہ الصلوۃ والسلام کے لیے اُگایاگیا) کیلے کادرخت ہے ،جس کے پتوں کوآپ علیہ الصلوۃ والسلام اپنے اوپرڈھانپتے اوراس کی ٹہنیوں سے سایہ لیتے اوراس کے پھلوں کوتناول فرماتے ۔(تفسیرآلوسی،ج12،ص140،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
امام ابن ابی الدنیا علیہ الرحمۃ روایت نقل فرماتے ہیں :’’عن جابر بن عبد اللہ قال:إن آدم لما أهبط إلى الأرض هبط بالهند۔ ۔۔ ۔ و هبط معه بالعجوة والأترنج، والموز‘‘ ترجمہ: حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ،فرمایا:بے شک حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام جب زمین پرتشریف لائے ،تو ہند میں اترے اورآپ کے ساتھ کھجور،لیموں اورکیلااتاراگیا۔ (مکائدالشیطان،ص95)
علامہ نورالدین محمدبن سلطان المعروف ملاعلی قاری علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں :’’اعلم أن ما اشتهر على ألسنة العامة من أن أويساً قلع جميع أسنانه لشدة أحزانه حين سمع أن سنّ النبي صلى اللہ عليه وسلم أصيب يوم أحد ولم يعرف خصوص أي سن كان بوجه معتمد، فلا أصلَ له عند العلماء مع أنه مخالف للشريعة الغراء، ولذا لم يفعله أحد من الصحابة الكبراء على أن فعله هذا عبث لايصدر إلا عن السفهاء‘‘ ترجمہ: جان لو کہ لوگوں کی جانب سے جو مشہور کیا جاتا ہے کہ حضرت اویسِ قرنی نے اپنے تمام دانت توڑ دیے تھے، جب انہوں نے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دانت مبارک کواُحدکے دن زخم پہنچاہےاور انہیں متعین طور پر معلوم نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کون سے دانت مبارک کوزخم پہنچا ہے (اس لیے سارےدانت شہیدکر دئیے) علماء کے نزدیک اس بات کی کوئی اصل نہیں، باوجودیکہ یہ روشن شریعت کے خلاف ہے۔ اسی وجہ سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سےکسی نے بھی ایسا نہ کیا، مزیدیہ کہ یہ ایک عبث فعل ہے، جو نادان لوگوں سے ہی صادر ہوسکتا ہے۔ (المعدن العدنی فی فضل أويس القرنی، ص30،دارالکتب ،پشاور)
فتاوی شارح بخاری میں ہے:’’ یہ روایت بالکل جھوٹ اورافتراہے کہ جب حضرت اویس قرنی نے یہ سناکہ غزوہ اُحدمیں حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے دندان مبارک شہیدہوئے تھے، توانہوں نے اپناسب دانت توڑڈالا،اورانہیں کھانے کے لیے کسی نے حلوہ پیش کیا۔‘‘ (فتاوی شارح بخاری،ج02،ص115،مکتبہ برکات المدینہ،کراچی)
فتاوی بریلی میں ہے:’’ اوراس کی خبرحضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کوہوئی اورانہوں نے اپنے دانت شہیدکرلیے ،یہ روایت نظرسے نہ گزری اورغالباایسی روایت ہی نہیں ہے ،اگرچہ مشہوریہی ہے ۔‘‘ (فتاوی بریلی،ص301،شبیربرادرز،لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Chowk Sarwar Shaheed
Kot Addu
34030