02/03/2026
ہم بھی اس قائل نہیں کہ روڈوں پر چندہ مانگا جائے
لیکن صرف چند لوگوں کی وجہ سے مکمل دین اسلام کو بد نام کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟
کس تعلیم کی بات ہو رہی ہے؟
کیا وہ تعلیم
جس کے دروازوں پر معصوم بچیاں علم لینے جائیں
مگر اندر بیٹھے کچھ بھیڑیا صفت لوگ
ان کی عصمت اور اعتماد کو نوچ ڈالیں؟
جہاں قلم امانت نہ رہے
اور استاد مربی نہیں بلکہ خوف کی علامت بن جائے؟
کون سی تعلیم؟
کیا وہ تعلیم
جس کے بعد کوئی جج یا وکیل بن کر
عدل کی کرسی پر بیٹھے
مگر انصاف کا ترازو چند سکوں کے بوجھ تلے جھک جائے؟
جہاں قانون کتابوں میں سنہری حروف سے لکھا ہو
مگر عدالتوں میں اس کی قیمت لگتی ہو؟
کون سی تعلیم؟
کیا وہ تعلیم
جس کے بعد انسان پٹواری، افسر یا کسی عہدے کا مالک بن جائے
اور خدمت کے بجائے “چائے پانی” کے نام پر
غریب کی ہڈیوں تک نچوڑ لے؟
جہاں دستخط ایک امانت نہ ہوں
بلکہ رشوت کے بغیر حرکت نہ کریں؟
کون سی تعلیم؟
کیا وہ تعلیم
جو انسان کو ڈگری تو دے دے
مگر دل سے رحم، آنکھوں سے حیا
اور کردار سے دیانت چھین لے؟
جو بڑے کے آگے جھکنا چاپلوسی بنا دے
اور چھوٹے کو دیکھنا تک گوارا نہ کرے؟
جو سلام اور مسکراہٹ جیسی سنتوں کو
کمزوری سمجھنے لگے؟
آخر کس تعلیم کی بات ہو رہی ہے؟
اگر تعلیم انسان کو انسان نہ بنا سکے
تو وہ محض معلومات کا بوجھ ہے۔
اگر تعلیم کردار نہ سنوارے
تو وہ صرف الفاظ کا انبار ہے۔
اگر تعلیم میں خوفِ خدا، حیا، امانت اور خدمت نہ ہو
تو وہ معاشرے کی تعمیر نہیں، تخریب ہے۔
اصل تعلیم وہ ہے
جو علم کے ساتھ اخلاق دے،
عہدے کے ساتھ جواب دہی دے،
طاقت کے ساتھ رحم دے،
اور کامیابی کے ساتھ عاجزی دے۔
وہ تعلیم
جو بیٹی کو تحفظ دے،
بیٹے کو غیرت دے،
استاد کو تقویٰ دے،
اور حاکم کو انصاف دے۔
اور یہ تعلیم مدارس میں سے ہی ملا کرتی ہے
اور یہ تعلیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے ہی ملا کرتی ہے
اور یہ تعلیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے ہی ملا کرتی ہے
اور یہ تعلیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی سے ہی ملا کرتی ہے
اگر اس تعلیم کو چھوڑ دیا
تو
ڈگریاں بڑھتی رہیں گی
اور انسانیت گھٹتی رہے گی۔
نسفی
06/11/2025
05/07/2023
05/07/2023
05/05/2023
04/05/2023