No any one at home salam is important
MUFTI BILAL
And in the Qur'an: "Muhammad is not the father of any of your men, but he is the Messenger of Allah
01/12/2022
پیدل چلنے کے لیے دنیا کی سب سے لمبی سڑک، کیپ ٹاؤن (جنوبی افریقہ) سے مگدان (روس) تک ہے۔ ہوائی جہازوں یا کشتیوں کی ضرورت نہیں، اس پر پل ہیں۔ یہ 22,387 کلومیٹر (13911 میل) ہے اور اسے سفر کرنے میں 4,492 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس پر 187 دن نان اسٹاپ پیدل چل کر عبور کیا جا سکتا ہے، یا دن میں 8 گھنٹے پیدل چلیں تو561 دن کا سفر ہوگا۔ راستے میں، آپ 17 ممالک، چھ ٹائم زونز اور سال کے تمام موسموں سے گزرتے ہیں۔
ایک اسکول نے اپنے نوجوان طلباء کے لیے تفریحی سفر کا انعقاد کیا
راستے میں ان کا گزر ایک سرنگ سے ہوا جس کے نیچے سے بس ڈرائیور پہلے بھی گزرتا تھا
سرنگ کے دہانے پر پانچ میٹر اونچائی لکھی تھی
ڈرائیور نے نہیں روکا کیونکہ بس کی اونچائی بھی پانچ میٹر تھی
لیکن اس بار بس سرنگ کی چھت سے رگڑ کر درمیان میں پھنس گئی
جس سے بچے خوف و ہراس میں مبتلا ہوگئے
بس ڈرائیور کہنے لگا
ہر سال میں بغیر کسی پریشانی کے سرنگ عبور کرتا ہوں، مگر اب کیا ہوا؟
ایک آدمی نے جواب دیا:
سڑک پکی ہو گئی ہے اس لیے سڑک کی سطح تھوڑی بلند ہو گئی ہے
وہاں رش لگ گیا
ایک شخص نے بس کو باہر نکالنے کے لیے اپنی کار سے باندھنے کی کوشش کی لیکن ہر بار رگڑ کی وجہ سے رسی ٹوٹ جاتی
کچھ نے بس کو کھینچنے کے لیے ایک مضبوط کرین لانے کا مشورہ دیا
اور کچھ نے کھود کر توڑنے کا مشورہ دیا
ان مختلف تجاویز کے درمیان
ایک بچہ بس سے اترا اور کہا:
میرے پاس حل ہے!
اس نے کہا:
پروفیسر صاحب نے ہمیں پچھلے سال ایک سبق دیا تھا اور کہا تھا
ہمیں اپنے اندر سے غرور و تکبر نفرت، خود غرضی اور لالچ کو نکال دینا چاہیے جن کی وجہ سے ھم لوگوں کے سامنے پھولے ہوئے ہوتے ہیں
اگر ہم ان الفاظ کو بس پر لگا دیں اور اس کے ٹائروں سے تھوڑی سی ہوا نکال دیں تو وہ سرنگ کی چھت سے نیچے اترنا شروع کر دے گی اور ہم باحفاظت گزر جائیں گے
بچے کے شاندار مشورے سے ہر کوئی حیران رہ گیا اور واقعی بس کے ٹائروں سے ہوا کا دباؤ کم کیا گیا تو بس سرنگ (ٹنل) کی چھت کی سطح سے نیچے گزر گئی اور سب بحفاظت باہر نکل آئے
ہمارے مسائل ہم میں ہیں
ہمارے دشمنوں کی طاقت میں نہیں
اس لیے اگر ہم اپنے اندر سے غرور اور باطل کی ہوا نکال دیں گے تو دنیا کی اس سرنگ میں سے ہمارا گزر بآسانی ہوجائے گا
بس اپنے اندر کی غرور وتکبر و انا اور خود غرضی کی ہوا نکال دیں معاشرہ اچھا ہو جائے گا.
قرآن کی بہترین دعائیں
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر صالح اولاد چاہتے ہو تو*
رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ
رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ تمہارا دل گمراہ ہو جائے گا*
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّاب
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر چاہتے ہو کہ تمہیں شہادت جیسی سعادت میسر ہو*
رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر کسی بڑی مشکل اور پریشانی میں گرفتار ہو تو*
حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگرچاہتے ہو آپ اور آپ کی اولاد نماز کی پابند رہے تو*
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر چاہتے ہو کہ آپ کی بیوی اور اولاد آپ سے ہمیشہ وفادار رہیں تو*
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر اچھے گھر کی تلاش میں ہو تو*
رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِين
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر چاہتے ہو کہ شیطان تم سے ہمیشہ دور رہے تو*
رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَات«الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہو تو*
رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر اس بات کا خوف ہو کہ اللہ تعالی تمہارے اعمال قبول نہیں کرے گا تو*
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
*اگر پریشان حال ہو تو*:
إنما أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّه
▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓▓
اپنے دوستوں اور احباب کو ان قرآن دعاؤں سے مطلع فرمائیں، شاید کسی کی مشکل کا حل انہی دعاؤں میں سے کسی ایک دعا میں ہو---🌾🌾
🍂سبق آموز تحریر🍂
🌾زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ایک خوبصورت مثال:🌱
✍️ایک دفعہ ایک گھوڑا ایک گہرے کنویں میں جا گرا اور زور زور سے آوازیں نکالنےلگا. گھوڑے کا مالک کسان تھا جو کنویں کے کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا. جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گھوڑا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور کنویں کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں.
یہ سوچ کر اس نے اپنے اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور کنواں بند کرنا شروع کر دیا. سب کے ہاتھ میں ایک ایک بیلچہ تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ کنویں میں ڈال رہے تھےگھوڑا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا. اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی. کچھ ہی لمحے بعد گھوڑا بالکل خاموش سا ہو گیا.
جب کسان نے کنویں میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گھوڑے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے. یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا. کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گھوڑا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے کنویں کے اوپر تک پہنچ گیا اور باہر نکل آیا.
یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں پڑ گئے. ان کی حیرانی قابل دید تھی. اس غیر متوقع نتیجے پر وہ گھوڑے سے بھی بڑھ کر مجسمہ حیرت بنے ہوئے تھے زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر
کچرا اچھالا جائے، ہماری کردار کشی کی جائے، ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے، ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے، لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں، بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے.
زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں یا ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں...خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا.. 💙🤎🤍🖤🥀🤲🥀
غسل کے فرائض اور اس کے احکامات ۔ مفتی محمد بلال خان
ایک صحتمند مرد کے عورت سے ج**ع کرنے کے بعد جو منی خارج ہوتی ہے اس میں 400 ملین سپرمز موجود ہوتے ہیں۔ لہذا ، منطق کے مطابق، اگر اس مقدار میں نطفہ کو رحم میں جگہ مل جاتی ہے تو 400 ملین بچے پیدا ہوجاتے!
جبکہ یہ 400 ملین اسپرم ، ماں کی بچہ دانی کی طرف پاگلوں کی طرح بھاگتے ہیں، اور اس دوڑ میں صرف 300 یا 500 سپرمیے ہی بچ پاتے ہیں۔
اور باقی؟ وہ راستے میں ہی تھکن یا شکست سے مر جاتے ہیں۔ یہ 300-500 سپرمیے ہیں، جو بیضہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک، جی ہاں صرف ایک بہت ہی مضبوط سپرمیہ ہوتا ہے، جو بیضہ میں داخل ہوکر فرٹیلائز ہوتا ہے ، یا بیضہ میں پہنچ کر اپنی نشست بنالیتا ہے۔
کیاآپ جانتے ہیں وہ خوش نصیب، فاتح اور مضبوط ترین سپرمیہ کون ہے؟
وہ خوش نصیب سپرمیہ آپ، میں، یا ہم سب ہیں۔
کیا آپ نے کبھی اس عظیم جنگ کے بارے میں سوچا ہے؟
جب آپ بھاگے "تو آنکھیں، ہاتھ، پاؤں، سر نہیں تھے، پھر بھی آپ جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ کے پاس سرٹیفکیٹس نہیں تھے، آپ کے پاس دماغ نہیں تھا، لیکن آپ پھر بھی جیت گئے!
جب آپ بھاگے تو آپ تعلیم یافتہ نہیں تھے، کسی نے آپ کی مدد نہیں کی تھی لیکن آپ جیتے۔
آپ کے وجدان کی نظر میں صرف منزل تھی جب آپ بھاگے اور آپ ایک ہی ذہن کے ساتھ بھاگے تھے، آپ کا عزم صرف وہ منزل تھی اور آپ آخر میں جیت گئے۔
اس کے بعد ، بہت سے بچے ماں کے پیٹ میں کھو گئے۔ لیکن آپ موجود رہے ، آپ نے اپنے 9 مہینے پورے کیے۔
اور آج ......
آپ گھبراتے ہیں جب کچھ ہوتا ہے تو آپ مایوس ہوجاتے ہیں، لیکن کیوں؟ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ آپ ہار گئے؟ آپ نے اعتماد کیوں کھو دیا ہے؟ اب آپ کے پاس دوست، بہن بھائی ، سرٹیفکیٹس، سب کچھ ہے۔ یہاں ہاتھ پاؤں ہیں، تعلیم ہے، منصوبہ بندی کرنے کے لیے بہترین دماغ ہے، مدد کرنے کے لئے لوگ موجود ہیں، پھر بھی آپ نے امید ختم کردی ہے۔
جب کچھ ہوتا ہے تو آپ کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟
آپ کیوں کہتے ہیں کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا؟
آپ نے کیوں کہا کہ میں ہار گیا؟
ایسی ہزاروں چیزوں کو اجاگر کرنا ممکن ہے ، لیکن آپ مایوس کیوں ہوگئے؟
آپ فرسٹریٹ کیوں ہوئے؟ آپ شروع میں جیتے، آپ آخر میں جیتے، آپ بیچ میں جیت جاتے ہیں۔
ایک بڑے بزرگ سے سوال کیا گیا کہ بتائیں حضرت عائشہ صدیقہؓ افضل ہیں یا حضرت فاطمہؓ؟
کہنے لگے: بیٹا اگر بیٹی کی حیثیت سے پوچھتے ہو تو..
حضرت عائشہؓ ابوبکرؓ کی بیٹی ہے اور حضرت فاطمہؓ محمدﷺ کی بیٹی،
اور بیشک نبیؐ کی بیٹی ابوبکرؓ کی بیٹی سے افضل ہوگی۔
لیکن اگر تم بیوی کی حیثیت سے پوچھتے ہو تو فاطمہؓ علیؓ کی بیوی ہے اور عائشہؓ نبیؐ کی بیوی
اور بیشک نبیؐ کی بیوی علیؓ کی بیوی سے افضل ہوگی ۔۔۔
خلاصہ یہ کہ حضرت عائشہؓ کا اپنا مقام اور حضرت فاطمہؓ کا اپنا مقام ہے۔
اسی طرح ابوبکرؓ کا اپنا اور علیؓ کا اپنا۔
ہمیں بس ان کی اتباع کا حکم ہے، باقی بحث اور مباحثے میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
صحابہؓ نبی ﷺ کے در والے ہیں،
اہلبیت نبی ﷺ کے گھر والے۔
جس نے صحابہؓ سے بغض رکھا اس نے نبیؐ کے"در" سے بغض رکھا۔
اور جس نے اہلبیت سے بغض رکھا اس نے نبیؐ کے "گھر" سے بغض رکھا۔
اور نبیؐ کے "در" اور نبیؐ کے "گھر" سے بغض رکھنے والے مسلمان نہیں ہوسکتے۔۔۔!
#ھارون رشید
سکندر اعظم...... .جس نے آدھی سے زیادہ دنیا فتح کی تھی.......؟
لیکن جب پختونوں کے ساتھ جنگ کرنے میں مصروف تھا تو 4 سال لگ گئے جب وہ پختونخوا کے پہاڑوں میں لڑ رہا تھا۔ ........
سکندر اعظم کی ماں نے اپنے بیٹے کو خط بھیجا کہ بیٹے تم نے صرف 6 سال میں پوری دنیا فتح کر لی اور 4 سال ہو گئے ایک ملک فتح نہ ہوا.........؟
سکندر اعظم نے اپنی ماں کو خط کا جواب لکھ دیا کہ ماں آپ نے یونان میں صرف ایک سکندر اعظم کو جنم دیا یہاں ہر ماں نے ایک ایک سکندر اعظم کو پیدا کیا ہے..................
. 💝
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Kot Addu
Kot Addu
34060