03/12/2025
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے وہ اشعار جن میں انھوں نے اپنا تخلص ٫٫ اقبال ،، استعمال کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقبالؔ بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا
بانگ درا
مجھ کو بھی تمنّا ہے کہ ’اقبال‘ کو دیکھوں
کی اس کی جُدائی میں بہت اشک فشانی
اقبالؔ بھی ’اقبال‘ سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں، و اللہ نہیں ہے
بانگ درا
جس کے دم سے دلّی و لاہور ہم پہلو ہوئے
آہ، اے اقبالؔ! وہ بُلبل بھی اب خاموش ہے
بانگ درا
اقبالؔ کا ترانہ بانگِ درا ہے گویا
ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا
بانگ درا
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پُوچھا
اقبالؔ، کہ ہے قُمریِ شمشادِ معانی
پابندیِ احکامِ شریعت میں ہے کیسا؟
گو شعر میں ہے رشکِ کلیمِؔ ہمَدانی
بانگ درا
اک پیشوائے قوم نے اقبالؔ سے کہا
کھُلنے کو جدّہ میں ہے شفاخانۂ حجاز
ہوتا ہے تیری خاک کا ہر ذرّہ بے قرار
سُنتا ہے تُو کسی سے جو افسانۂ حجاز
بانگ درا
ایک دن اقبالؔ نے پُوچھا کلیمِ طُور سے
اے کہ تیرے نقشِ پا سے وادیِ سِینا چمن
بانگ درا
واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں
اقبالؔ کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے
بانگ درا
اقبالؔ! کس کے عشق کا یہ فیضِ عام ہے
رومی فنا ہُوا، حبَشی کو دوام ہے
بانگ درا
اقبالؔ! کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو دردِ نہاں ہمارا
بانگ درا
جو بے نماز کبھی پڑھتے ہیں نماز اقبالؔ
بُلا کے دَیر سے مجھ کو امام کرتے ہیں
بانگ درا
جو گھر سے اقبالؔ دور ہُوں میں، تو ہوں نہ مُحزوں عزیز میرے
مثالِ گوہر وطن کی فرقت کمال ہے میری آبرو کا
بانگ درا
خبر اقبالؔ کی لائی ہے گلستاں سے نسیم
نَو گرفتار پھڑکتا ہے تہِ دام ابھی
بانگ درا
زائرانِ کعبہ سے اقبالؔ یہ پُوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں
بانگ درا
سُنے گا اقبالؔ کون ان کو، یہ انجمن ہی بدل گئی ہے
نئے زمانے میں آپ ہم کو پُرانی باتیں سنا رہے ہیں!
بانگ درا
صدائے لن ترانی سُن کے اے اقبالؔ میں چُپ ہوں
تقاضوں کی کہاں طاقت ہے مجھ فُرقت کے مارے میں
بانگ درا
غم نصیب اقبالؔ کو بخشا گیا ماتم ترا
چُن لیا تقدیر نے وہ دل کہ تھا محرم ترا
بانگ درا
مرے اشعار اے اقبالؔ! کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو
مرے ٹُوٹے ہُوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں
بانگ درا
مسلم سے ایک روز یہ اقبالؔ نے کہا
دیوانِ جُزو و کُل میں ہے تیرا وجود فرد
تیرے سرودِ رفتہ کے نغمے علومِ نَو
تہذیب تیرے قافلہ ہائے کُہن کی گرد
بانگ درا
مُدیرِ ’مخزن‘ سے کوئی اقبالؔ جا کے میرا پیام کہہ دے
جو کام کچھ کر رہی ہیں قومیں، اُنھیں مذاقِ سخن نہیں ہے
بانگ درا
مِل ہی جائے گی کبھی منزلِ لیلیٰ اقبالؔ!
کوئی دن اور ابھی بادیہ پیمائی کر
بانگ درا
میں نے اے اقبالؔ یورپ میں اُسے ڈھونڈا عبث
بات جو ہندوستاں کے ماہ سیماؤں میں تھی
بانگ درا
نکلی تو لبِ اقبالؔ سے ہے، کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی، دل محفل کا تڑپا بھی گئی
بانگ درا
نہ پُوچھ اقبالؔ کا ٹھکانا، ابھی وہی کیفیت ہے اُس کی
کہیں سرِ رہ گزار بیٹھا ستم کشِ انتظار ہو گا
بانگ درا
پھر بادِ بہار آئی، اقبالؔ غزل خواں ہو
غنچہ ہے اگر گُل ہو، گُل ہے تو گُلستاں ہو
بانگ درا
ڈھُونڈتا پھرتا ہوں اے اقبالؔ اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر، آپ ہی منزل ہوں میں
بانگ درا
بُرا سمجھوں انھیں، مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبالؔ اپنے نُکتہ چینوں میں
بانگ درا
کہاں اقبالؔ تُو نے آ بنایا آشیاں اپنا
نوا اس باغ میں بُلبل کو ہے سامانِ رُسوائی
بانگ درا
ہر نفَس اقبالؔ تیرا آہ میں مستور ہے
سینۂ سوزاں ترا فریاد سے معمور ہے
بانگ درا
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبالؔ
اُڑا کے مجھ کو غبارِ رہِ حجاز کرے
بانگ درا
یہ ہند کے فرقہ ساز اقبالؔ آزری کر رہے ہیں گویا
بچا کے دامن بُتوں سے اپنا غُبارِ راہِ حجاز ہو جا
بانگ درا
دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اک مردِ تنآساں تھا، تنآسانوں کے کام آیا
بال جبریل
کہاں سے تُونے اے اقبالؔ سِیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا
بال جبریل
کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازی
گُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندی
بال جبریل
چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا مُنہ بند!
بال جبریل
نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی
بال جبریل
ٹھہَر سکا نہ کسی خانقاہ میں اقبالؔ
کہ ہے ظریف و خوش اندیشہ و شگُفتہ دماغ
بال جبریل
مقامِ عقل سے آساں گزر گیا اقبالؔ
مقامِ شوق میں کھویا گیا وہ فرزانہ
بال جبریل
فقیرانِ حرم کے ہاتھ اقبالؔ آگیا کیونکر
میّسر میر و سُلطاں کو نہیں شاہینِ کافوری
بال جبریل
سُنا ہے میں نے سخن رس ہے تُرکِ عثمانی
سُنائے کون اسے اقبالؔ کا یہ شعرِ غریب
بال جبریل
دیا اقبالؔ نے ہندی مسلمانوں کو سوز اپنا
یہ اک مردِ تنآساں تھا، تنآسانوں کے کام آیا
اسی اقبالؔ کی مَیں جُستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مُدّت کے بعد آخر وہ شاہیں زیرِ دام آیا
بال جبریل
رازِ حرم سے شاید اقبالؔ باخبر ہے
ہیں اس کی گفتگو کے انداز محرمانہ
بال جبریل
بڑا کریم ہے اقبالِؔ بے نوا لیکن
عطائے شُعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں
بال جبریل
اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میں
تو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے
بال جبریل
تُو بھی ہے اسی قافلۂ شوق میں اقبالؔ
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومیؔ
بال جبریل
ہے فلسفہ میرے آب و گِل میں
پوشیدہ ہے ریشہ ہائے دل میں
اقبالؔ اگرچہ بے ہُنر ہے
اس کی رگ رگ سے باخبر ہے
ضرب کلیم
اقبالؔ کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
ہر ملّتِ مظلوم کا یورپ ہے خریدار
یہ پِیرِ کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منوّر کیے افکار
ضرب کلیم