Persona Model High School Shakardara Kohat

Persona Model High School Shakardara Kohat معیاری تعلیم آپ کی دہلیز پر

18/08/2026

عظیم الشان کامیابی | میٹرک نتائج 2026 🎉📚الحمدللہ! کامرانیاں قدم چومتی ہیں ان کی، جو محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔پرسونہ م...
11/08/2026

عظیم الشان کامیابی | میٹرک نتائج 2026 🎉📚
الحمدللہ! کامرانیاں قدم چومتی ہیں ان کی، جو محنت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔
پرسونہ ماڈل سکول اینڈ کالج شکردرہ نے سالانہ میٹرک امتحانات 2026 میں ایک بار پھر اپنی شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بہترین اور نمایاں کامیابی حاصل کی ہے!
🌟 نمایاں خصوصیات:
* ہمارے تمام طلباء نے اعلیٰ ترین نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔
* تمام طلباء کا اوور آل گریڈ انتہائی شاندار رہا۔
یہ شاندار نتائج اساتذہ کرام کی انتھک محنت، طلباء کی لگن اور والدین کی دعاؤں کا ثمر ہیں۔ پرسونہ ماڈل سکول اینڈ کالج شکردرہ ہمیشہ سے معیارِ تعلیم اور طلباء کی اخلاقی و علمی تربیت کے لیے کوشاں رہا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی رہے گا۔
ہم تمام کامیاب طلباء اور ان کے والدین کو اس شاندار کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور تمام بچوں کے روشن اور تابناک مستقبل کے لیے دعا گو ہیں۔
پرسونہ ماڈل سکول اینڈ کالج شکردرہ
معیاری تعلیم — روشن مستقبل کا ضامن 🎓✨

25/07/2026

کامیابی کا ایک سیدھا اور قدرتی اصول ہے۔ فرض کریں آپ ابھی نقطہ A پر ہیں اور آپ کو اپنی من پسند منزل نقطہ C تک پہنچنا ہے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان ایک راستہ نقطہ B بھی آتا ہے، جو دراصل محنت اور تکلیف کا راستہ ہے۔ ہم سب C پر تو پہنچنا چاہتے ہیں مگر B کی کٹھن راہ سے گزرنا ہمیں بالکل پسند نہیں۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان اس درمیانی راستے کو عبور کیے بغیر سیدھا اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔
ہم کامیابیاں تو چاہتے ہیں لیکن ان کی قیمت چکانے کو تیار نہیں ہوتے۔ مشہور مصنف مارک مینسن اپنی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بچپن میں ان کا خواب ایک پاپ اسٹار بننا تھا۔ وہ اکثر خوابوں میں خود کو ہزاروں لوگوں کے سامنے گاتے ہوئے دیکھتے۔ مگر جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں احساس ہوا کہ اسٹار بننے کے لیے گٹار کی ایسی طویل مشق کرنی پڑتی ہے جس سے انگلیاں تک زخمی ہو جائیں، برسوں تربیت لینی پڑتی ہے اور ابتدا میں ان جگہوں پر گانا پڑتا ہے جہاں لوگ آپ پر خاص توجہ بھی نہیں دیتے۔ مینسن سمجھ گئے کہ وہ یہ سب تکلیفیں برداشت نہیں کرنا چاہتے؛ وہ بس راتوں رات اسٹار بننا چاہتے تھے۔
ہم سب بھی اکثر ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم خوبصورت اور مضبوط جسم تو چاہتے ہیں، مگر صبح سویرے اٹھ کر جم جانے اور پسینہ بہانے کی تکلیف نہیں اٹھاتے۔ ہم امتحانات میں ٹاپ تو کرنا چاہتے ہیں، مگر روزانہ نوٹس بنانے اور پڑھائی میں مغز کھپانے کے عمل سے گھبراتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی بڑی کامیابی قربانی اور مشکل سہے بغیر نہیں ملتی۔ ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ کامیابی کے سفر میں نقطہ B (تکلیف اور مشقت) ایک ایسا لازمی مرحلہ ہے، جسے عبور کیے بغیر ہم کبھی اپنے خوابوں کی منزل پر نہیں پہنچ سکتے۔

21/07/2026

موجودہ حالات میں بچے صرف کتابوں، اساتذہ یا والدین سے ہی نہیں سیکھ رہے بلکہ اسمارٹ فون کی اسکرین سے جھانکتے ہوئے ان چمکتے دمکتے چہروں کو بھی اپنا آئیڈیل بنا رہے ہیں جنہیں ہم انفلوئنسرز اور سیلیبریٹیز(Celebrities ) کہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو فالوورز کی دنیا میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں، مگر ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔ مسئلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب بچے حقیقت اور دکھاوے کے فرق کو سمجھنے کی عمر سے پہلے ہی ان شخصیات کو اپنی زندگی کا معیار بنا لیتے ہیں۔

بچے جب کسی انفلوئنسر کو دیکھتے ہیں جو مہنگی گاڑیاں، لگژری لائف اسٹائل اور ہر وقت پرفیکٹ نظر آنے والی زندگی دکھا رہا ہوتا ہے تو ان کے ذہن میں یہ خیال مضبوط ہونے لگتا ہے کہ کامیابی صرف اسی انداز کی زندگی کا نام ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھ پاتے کہ اس کے پیچھے حقیقت کیا ہے، کتنی اسپانسرڈ پوسٹس ہیں، کتنی ایڈیٹنگ ہے اور کتنی مصنوعی دنیا تخلیق کی گئی ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ان کی سوچ حقیقت سے دور اور دکھاوے کے قریب ہوتی چلی جاتی ہے۔

اسی طرح کچھ مشہور شخصیات اور انفلوئنسرز کا رویہ، زبان اور طرزِ زندگی بھی بچوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جب بچے بار بار ایسے رویئے دیکھتے ہیں جن میں بدتمیزی، تیز مزاجی یا غیر اخلاقی انداز کو “اسٹائل” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تو وہ اسے نارمل سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر یہی انداز ان کی روزمرہ زندگی میں بھی جھلکنے لگتا ہے، چاہے وہ بات چیت ہو یا سوشل رویہ۔

ایک اور پہلو یہ ہے کہ بچے اپنے اندر احساسِ کمتری کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ جب وہ اپنی سادہ زندگی کا موازنہ سوشل میڈیا کی مصنوعی چمک دمک سے کرتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ وہ پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ احساس آہستہ آہستہ ان کی خود اعتمادی کو کمزور کرتا ہے اور وہ اپنی اصل شخصیت سے مطمئن نہیں رہتے۔

اصل مسئلہ انفلوئنسرز کا ہونا نہیں بلکہ ان کا غیر متوازن اثر ہے۔ بچے جس عمر میں ہوتے ہیں وہاں رہنمائی کا خلا اگر موجود ہو تو وہ اسکرین سے آنے والی ہر چیز کو سچ مان لیتے ہیں۔ اس لئے والدین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ وہ بچوں کو یہ سکھائیں کہ ہر وہ چیز جو نظر آتی ہے، حقیقت نہیں ہوتی۔

اگر بچوں کو سوچنے، سوال کرنے اور فرق سمجھنے کی تربیت دی جائے تو وہ انفلوئنسرز کو آئیڈیل بنانے کی بجائے انہیں صرف ایک تفریح یا میڈیا شخصیت کے طور پر دیکھیں گے۔ یوں وہ اپنی زندگی کے فیصلے حقیقت، محنت اور اپنے خوابوں کی بنیاد پر کریں گے نہ کہ کسی فالوور کلچر کے دباؤ میں آ کر۔

معزز قارئین۔۔
اگر میری تحریری و دیگر کاوشیں آپ کو مفید لگیں،
اور آپ انہیں کاپی پیسٹ کریں تو میری گذارش ہے "Parenting with DrZ" کا حوالہ ضرور دیں، کیونکہ علم کو اس کے اصل ماخذ کے ساتھ پھیلانا ایک اچھی روایت ہے۔

آپ کی محبت اور حوصلہ افزائی میرے لئے قیمتی ہے!

15/07/2026

Helping

14/07/2026

کامیابی کا پہلا زینہ اکثر چھوٹا ہوتا ہے

ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے یونیورسٹی سے نکلتے ہیں۔ ان کے ذہن میں ایک خوبصورت خواب ہوتا ہے کہ اب ایک اچھی سرکاری نوکری، بہترین تنخواہ، معاشی استحکام اور باوقار زندگی ان کی منتظر ہے۔ لیکن جب عملی دنیا کا سامنا ہوتا ہے تو انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ ڈگری اور ملازمت کے درمیان ایک لمبا سفر موجود ہے، جسے صرف سند نہیں بلکہ مہارت، تجربہ، صبر اور مسلسل سیکھنے کی عادت ہی طے کر سکتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک سوچ بہت مضبوط ہو چکی ہے کہ اگر تعلیم مکمل کر لی ہے تو پہلی ملازمت بھی اعلیٰ عہدے اور بڑی تنخواہ والی ہونی چاہیے۔ جب ایسا نہیں ہوتا تو بہت سے نوجوان چھوٹی ملازمتوں کو اپنی عزتِ نفس کے خلاف سمجھتے ہیں۔ وہ مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں تک ایک "مناسب" موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جبکہ اسی دوران ان کا قیمتی وقت، اعتماد اور سیکھنے کے مواقع ضائع ہوتے رہتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پہلی ملازمت کا سب سے بڑا فائدہ تنخواہ نہیں بلکہ تجربہ ہوتا ہے۔ دفتر کا ماحول، وقت کی پابندی، پیشہ ورانہ رویہ، ٹیم کے ساتھ کام کرنا، مؤثر گفتگو، مسائل کا حل، رپورٹ لکھنا، ذمہ داری نبھانا اور دباؤ میں فیصلے کرنا، یہ سب چیزیں کسی کتاب سے نہیں بلکہ عملی زندگی سے سیکھی جاتی ہیں۔ یہی تجربات بعد میں انسان کی اصل طاقت بنتے ہیں۔
آج دنیا صرف ڈگری نہیں دیکھتی، بلکہ یہ بھی دیکھتی ہے کہ آپ کیا کر سکتے ہیں۔ آپ کی مہارتیں کیا ہیں؟ کیا آپ مؤثر انداز میں بات کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹولز، سوشل میڈیا، مارکیٹنگ، ڈیٹا، تحقیق یا کسی مخصوص پیشہ ورانہ شعبے میں مہارت رکھتے ہیں؟ یہی وہ صلاحیتیں ہیں جو آج کے دور میں ملازمتوں اور ترقی کے دروازے کھولتی ہیں۔
یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کی پہلی ملازمت ہمیشہ آپ کی آخری منزل ہو۔ بہت سے کامیاب افراد نے معمولی تنخواہ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، لیکن ہر سال کچھ نیا سیکھتے گئے، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے گئے اور آہستہ آہستہ بہتر مواقع حاصل کرتے گئے۔ ترقی اکثر ایک لمبی سیڑھی ہوتی ہے، لفٹ نہیں۔
اگر آپ کو اپنی دلچسپی کے شعبے میں فوری بڑی ملازمت نہیں ملتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ناکام ہو گئے ہیں۔ اس دوران کوئی ایسی ملازمت اختیار کریں جہاں آپ نئی مہارتیں سیکھ سکیں، لوگوں سے مل سکیں، اپنی شخصیت کو بہتر بنا سکیں اور اپنے تجربے میں اضافہ کر سکیں۔ ایک سال کا عملی تجربہ بعض اوقات کئی اضافی ڈگریوں سے زیادہ قیمتی ثابت ہوتا ہے۔
والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر صرف بڑی نوکری کا دباؤ نہ ڈالیں بلکہ انہیں مسلسل سیکھنے، نئی مہارتیں حاصل کرنے اور عملی میدان میں قدم رکھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ اسی طرح جامعات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کو صرف نصابی علم ہی نہ دیں بلکہ انہیں روزگار کے تقاضوں کے مطابق عملی مہارتیں، کیریئر رہنمائی، انٹرن شپ اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی روشناس کرائیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے مت کیجیے۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی کامیابیاں اکثر صرف چند لمحوں کی تصویر ہوتی ہیں، پوری جدوجہد نہیں۔ ہر انسان کا سفر مختلف ہوتا ہے۔ کسی کو منزل جلد مل جاتی ہے، کسی کو دیر سے، مگر مستقل مزاجی، محنت اور اللہ پر بھروسہ رکھنے والا شخص کبھی خالی ہاتھ نہیں رہتا۔
اگر آج آپ کو ایک چھوٹا موقع ملا ہے تو اسے حقیر نہ سمجھیں۔ پوری دیانت، لگن اور سیکھنے کے جذبے کے ساتھ اس سے فائدہ اٹھائیں۔ ممکن ہے یہی چھوٹا دروازہ کل آپ کو ایسی منزل تک پہنچا دے جس کا آج آپ صرف خواب دیکھ رہے ہیں۔ یاد رکھیے، کامیابی ہمیشہ بڑے قدم سے نہیں بلکہ پہلے درست قدم سے شروع ہوتی ہے۔
(تعلیم پاکستان)

14/07/2026

کچھ لوگوں کہ پاس روٹیوں سے بھری ٹوکری ہوتی ہے
لیکن وہ پھر بھی آپ کے ایک نوالے سے جلتے ہیں!
خدا ہمیں ایسے لوگوں سے بچائے

14/07/2026

تعلیم کا مطلب کیا ہے

دعا مکمل پڑھنے سے پہلے پریشانی ختم ہو جائے گی۔ ان شاءاللہ
13/07/2026

دعا مکمل پڑھنے سے پہلے پریشانی ختم ہو جائے گی۔ ان شاءاللہ

12/07/2026



Address

Sabir Abad Road Dhandhooka Shakardara
Kohat
26382

Telephone

+923411960991

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Persona Model High School Shakardara Kohat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Persona Model High School Shakardara Kohat:

Shortcuts

Share

Category