12/09/2026
سحرِ صبحِ اسمبلی: کندن بنتے کردار اور باوقار تعلیمی سفر
صبح کی پہلی روشنی جب گورنمنٹ کمپری ہینسیو ہائیر سیکنڈری سکول کوہاٹ کے صحن کو چھوتی ہے، تو علم کا ایک نیا آفتاب طلوع ہوتا ہے۔ یہاں کے در و دیوار پر نظم و ضبط کی وہ خوشبو بکھر چکی ہے جو صرف پڑھاتی نہیں، بلکہ انسان کو تراش کر شاہکار بناتی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (مردانہ) کوہاٹ، جناب ظہور خان صاحب کی بصیرت افروز ہدایات سے پھوٹنے والی کرن نے صبح کی اسمبلی کو محض ایک روایت نہیں، بلکہ خود آگاہی کا پہلا سبق بنا دیا ہے۔
انچارج پرنسپل ڈاکٹر ارشاد صاحب کے لفظوں سے بکھرتی ہدایت کا سحر دیکھیے- انہوں نے طلباء اور اساتذہ کو ایک ہی دھاگے میں پرو دیا۔ ان کا ہر لفظ فکر کی گہرائی میں ڈوبا ہوا تھا کہ تہذیب کا تاج صرف وہی قومیں پہنتی ہیں جو ڈسپلن کی بھٹی سے گزرتی ہیں۔ جیسے آگ کی تپش خام سونے کو کندن بناتی ہے، بالکل ویسے ہی تربیت کی سختی طالب علم کی روح کو نکھار کر کندن بنا دیتی ہے۔
اس علمی مسند پر ان کے ساتھ موجود سینئر سبجیکٹ اسپیشلسٹ غفور الرحمن صاحب اور ڈاکٹر سید مختار احمد شاہ صاحب، سینئر سبجیکٹ اسپیشلسٹ اس تعلیمی سفر کے وہ معمار ہیں جن کا خلوص اس ادارے کے ڈسپلن کی بنیاد ہے۔
اور اس تمام تر تعلیمی نظام کے روحِ رواں، پرنسپل امیر نواز خٹک صاحب کا یہ ایمان کہ:
"عمارتیں صرف اینٹ اور گارے سے نہیں بنتیں، میرا تدریسی سٹاف ہی وہ مضبوط اور وقار دار ستون ہے جس پر اس ادارے کی عظمت کا محل کھڑا ہے۔"
یہ محض جملے نہیں، تعلیمی پاسبانی کا وہ عہد ہے جو علم کے ہر طالب کے دل میں شمعِ امید روشن کر رہا ہے۔ کمپری ہینسیو سکول کوہاٹ میں نظم و ضبط، محبت اور تربیت کا یہ حسین امتزاج ایک نئے درخشندہ کل کی وعید سنا رہا ہے۔