ᴀʟᴍᴀʜᴅɪ ᴘᴜʙʟɪᴄ ʜɪɢʜ ꜱᴄʜᴏᴏʟ & ᴄᴏʟʟᴇɢᴇ

ᴀʟᴍᴀʜᴅɪ ᴘᴜʙʟɪᴄ ʜɪɢʜ ꜱᴄʜᴏᴏʟ & ᴄᴏʟʟᴇɢᴇ

Share

The Holy Prophet Hazrat Muhammad (S.A.W.W) said "To Get Education is the duty of every man and Woman"

22/01/2026

چیرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوہاٹ نے سالانہ دوم (Annual-II) امتحانات سے پیپر لیس ایڈمیشن سسٹم نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
چیئرمین کوہاٹ بورڈ کے مطابق نئے نظام کے تحت طلبہ اور تعلیمی اداروں کو کاغذی فارم جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی، جبکہ داخلہ فیس اور طلبہ کے کوائف کی تصدیق آن لائن پورٹل کے ذریعے خودکار انداز میں کی جائے گی۔ اس اقدام سے شفافیت میں اضافہ، کارکردگی میں بہتری اور طلبہ کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے گی۔

18/01/2026

والدین ایک دفعہ لازمی پڑھیں۔

والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔
اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔
بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟
یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔
اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔
یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔

School Education Information

#تعلیم

15/01/2026

محترم والدین السلام علیکم،

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ کل بروز جمعہ 16 جنوری سے سکول باقاعدہ طور پر دوبارہ کھل رہا ہے اور تدریسی سرگرمیوں کا آغاز ہو رہا ہے۔

تمام والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو مکمل یونیفارم، کتابوں اور کاپیوں کے ساتھ مقررہ وقت پر سکول بھیجیں تاکہ تعلیمی سلسلہ بروقت اور منظم انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

⏰ سکول حاضری کا وقت: صبح 8:20
⏰ سکول چھٹی کا وقت: دوپہر 1:35

براہِ کرم وقت کی پابندی کو یقینی بنائیں۔ آپ کے تعاون کا شکریہ۔

والسلام
انتظامیہ

31/12/2025
Photos from ᴀʟᴍᴀʜᴅɪ ᴘᴜʙʟɪᴄ ʜɪɢʜ ꜱᴄʜᴏᴏʟ & ᴄᴏʟʟᴇɢᴇ's post 10/12/2025



17/11/2025

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

محترم والدین!
آپ کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ المہدی پبلک ہائی سکول و کالج میں نئے شیڈول کے مطابق سکول کا آغاز صبح 8:15اور 1:20 کو چھٹی ہو گی۔

براہِ کرم بچوں کو وقت پر سکول بھیجنے کی ہدایت فرمائیں۔
نوٹ : تمام طلباء و طالبات کل سے سکول یونیفارم میں سکول بیگ کے ساتھ آئیں گے۔

شکریہ

المہدی پبلک ہائی سکول و کالج — انتظامیہ

10/11/2025

کلاس کنٹرول — ایک فن، ایک سمجھ، ایک رویہ 🎓

تعلیمی دنیا میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈسپلن، کلاس کنٹرول اور بیہیویئر مینجمنٹ* ایک ہی چیزیں ہیں، حالانکہ یہ تینوں اپنی نوعیت میں الگ ہیں۔
ڈسپلن کارکردگی سے جڑا ہوا ہے، جبکہ کلاس کنٹرول اورBehaviour Management اس ماحول سے تعلق رکھتے ہیں جس میں وہ کارکردگی پیدا ہوتی ہے۔

آج ہم انہی دو پہلوؤں پر بات کریں گے —
کہ کلاس کنٹرول کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
اور اساتذہ اپنے رویوں کے ذریعے کلاس میں سیکھنے کا ماحول کیسے قائم کر سکتے ہیں؟

کلاس کنٹرول کا مقصد

کلاس کنٹرول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ استاد تدریسی عمل کو *بغیر کسی غیر ضروری مداخلت کے، مؤثر، پُرسکون اور منظم انداز میں* چلا سکے۔
یہ دو بنیادی ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے:

1. استاد کی شخصیت اور رویہ
2. سکول کا کلچر اور بیہیویئر مینجمنٹ پالیسی

پہلا ستون: استاد کی شخصیت

کلاس کنٹرول کی کامیابی کی چابی ٹیچر کے پہلے چند دنوں کے رویےمیں چھپی ہوتی ہے۔
اگر استاد معمولی بات پر غصہ کرتا ہے، تو بڑے بچے اس غصے کو تفریح سمجھنے لگتے ہیں۔
کچھ ہی دنوں میں کلاس میں نظم و ضبط مذاق بن جاتا ہے۔

دوسری طرف، اگر استاد خاموش، نرم اور حد سے زیادہ برداشت والا ہو —
تو بچے اپنی مرضی کرنے لگتے ہیں۔
ایسی صورت میں استاد کی موجودگی اور غیر موجودگی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ٹیچر اپنے پہلے ہفتے میں ہی ایک مضبوط مگر مہذب تاثر قائم کرے۔
کلاس کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ **"یہ استاد نرم بھی ہے، مگر کمزور نہیں"

مؤثر کلاس کنٹرول کے عملی اصول

1. پہلے چھ سات لیکچر بہترین تیاری سے لیں۔
ایسا تاثر دیں کہ آپ اپنی کلاس کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
جب بچے آپ سے امپریس ہوں گے، تو وہ آپ کے نظم کو خود بخود قبول کریں گے۔

2. ابتدائی مزاحمت پر حد سے زیادہ ردعمل نہ دیں۔
شور یا بات چیت پر فوری سزا دینے کے بجائے خاموش، پُرسکون ردعمل دیں۔
لیکن اگر ایک بار والدین کو بلانے کی دھمکی دیں — تو اسے پورا ضرور کریں۔
بچے کو احساس ہونا چاہیے کہ آپ کی بات حرفِ آخر ہے۔

3. والدین سے رابطہ سمجھداری سے کریں۔
والدین کو یہ کبھی نہ کہیں کہ بچہ شور کر رہا تھا۔
یہ سکول کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔
اس کے بجائے کہیں کہ بچہ لیکچر پر توجہ نہیں دے رہا یا ہوم ورک مکمل نہیں کیا۔
اس سے بچے پر اثر زیادہ ہوتا ہے۔

4. ایسی دھمکی نہ دیں جو پوری نہ کر سکیں۔
کیونکہ نامکمل دھمکیاں اعتماد توڑ دیتی ہیں۔

بچے آپ کے دشمن نہیں، سیکھنے والے ہیں

کلاس کنٹرول کا مطلب یہ نہیں کہ کلاس کو "خاموش قید خانہ" بنا دیا جائے۔
دلچسپی اور تعلق کامیاب ٹیچنگ کی بنیاد ہیں۔

* بچوں سے دوستانہ تعلق رکھیں۔
* اپنی زندگی کے تجربات اور سبق بانٹیں۔
* تعریف کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔
* اپنی ناکامیوں کا رونا نہ روتے پھریں — کیونکہ بچے حوصلہ افزا مثالیں چاہتے ہیں، نہ کہ افسوس ناک کہانیاں۔

یاد رکھیں، اگر آپ زندہ ہیں، محنت کر رہے ہیں، اور کچھ کما رہے ہیں —
تو آپ ناکام نہیں، بلکہ کامیاب ہیں۔
اور یہی جذبہ بچوں تک منتقل ہونا چاہیے۔

دوسرا ستون: سکول کا کلچر

سکول یا کالج اگر بچوں کے رویوں کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو Behaviour Management Policy ناگزیر ہے۔

1. پالیسی بنائیں 📜

واضح ضابطے طے کریں:

* پہلی بار شور کرنے پر تنبیہ
* دوسری بار نام لے کر متوجہ کرنا
* تیسری بار کھڑا کرنا یا کاونسلر کے پاس بھیجنا
* چوتھی بار والدین سے رابطہ
* اگر پھر بھی بہتری نہ آئے تو عارضی معطلی

ایسے ہی دس سے پندرہ عام غلط رویوں کے لیے پالیسی تحریری طور پر تیار کریں،
اور اساتذہ و طلبہ دونوں کو بار بار یاد دلائیں۔

2. قانون پر عمل کریں ⚖️

پالیسی تب ہی کامیاب ہوگی جب اس پر مسلسل عملدرآمد ہوگا۔
جب طلبہ دیکھیں گے کہ "جو لکھا ہے، وہی ہو رہا ہے"، تو خود بخود نظم پیدا ہوگا۔

3. تربیت اور حوصلہ افزائی 🌟

بچوں کے اندر سزا و جزا کا تصور پیدا کریں۔
ہر ماہ دو قسم کے سرٹیفیکیٹس دیں:

* Good Behaviour Certificate — ان بچوں کے لیے جو پہلے سے مثبت رویہ رکھتے ہیں۔
* Most Improved Behaviour Certificate — ان بچوں کے لیے جنہوں نے اپنے رویے میں نمایاں بہتری دکھائی۔

یہ طریقہ نہ صرف کلاس کنٹرول بہتر بنائے گا بلکہ سکول کا مجموعی ماحول بھی خوشگوار کرے گا۔

کلاس کنٹرول طاقت یا ڈر سے نہیں، احترام اور تعلق سے قائم ہوتا ہے۔
ایک اچھا استاد وہ نہیں جو کلاس کو خاموش رکھے،
بلکہ وہ جو کلاس کو سننے پر مجبور کر دے۔

Photos from ᴀʟᴍᴀʜᴅɪ ᴘᴜʙʟɪᴄ ʜɪɢʜ ꜱᴄʜᴏᴏʟ & ᴄᴏʟʟᴇɢᴇ's post 04/11/2025

فسٹ ٹرم امتحان ہال “سی” کی تصویری جھلکیاں


Want your school to be the top-listed School/college in Kohat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Kohat

Opening Hours

Monday 08:00 - 14:00
Tuesday 08:00 - 14:00
Wednesday 08:00 - 14:00
Thursday 08:00 - 14:00
Friday 08:00 - 12:00
Saturday 08:00 - 14:00