14/09/2026
#قلم کو بندوق بنانا—بچپن کے ذہن کے ساتھ یہ کیسا مذاق؟
یہ تصاویر بظاہر چند خوبصورت رنگوں میں بنے قلموں اور کھلونوں کی ہیں، مگر ان کے پیچھے چھپا پیغام انتہائی تشویشناک ہے۔ قلم، جو علم کی علامت ہے، اسے بندوق اور تلوار کی شکل دینا محض ایک ڈیزائن کا انتخاب نہیں؛ یہ بچوں کے ذہنوں میں تشدد کی علامتوں کو معمول بنانے کی ایک خطرناک روش ہے۔
ایک بچہ جب روزانہ اپنے ہاتھ میں بندوق نما قلم لے کر اسکول جاتا ہے، اسے دیکھتا ہے، دوستوں کو دکھاتا ہے اور اس سے کھیلتا ہے تو وہ صرف قلم استعمال نہیں کر رہا ہوتا؛ وہ اپنے ماحول سے #علامتیں، #تصورات اور رویے بھی سیکھ رہا ہوتا ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا خطہ کئی دہائیوں تک جنگ، دہشت گردی، اسلحے اور انتہا پسندی کے سایے میں رہا ہے۔ اس تلخ تاریخ کا سب سے بڑا بوجھ ہماری نئی نسل نے اٹھایا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر بچوں کے لیے قلم بھی بندوق کی شکل میں بنایا جائے اور اسے خوبصورت، دلچسپ اور پرکشش بنا کر بازار میں پیش کیا جائے تو یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہے کہ:
ہم اپنے بچوں کے ہاتھ میں علم دے رہے ہیں یا تشدد کی علامت؟
ہم ان کے خواب تعمیر کر رہے ہیں یا جنگ کے استعارے؟
بچوں کے ہاتھ میں #قلم ہونا چاہیے، بندوق نہیں؛ کتاب ہونی چاہیے، تلوار نہیں؛ خواب ہونے چاہئیں، جنگ نہیں۔
یہ معاملہ کسی ایک دکاندار، ایک کمپنی یا ایک علاقے تک محدود نہیں۔ یہ #بچوں کی ذہنی تربیت، تعلیمی ماحول اور معاشرتی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک پرامن، تعلیم یافتہ اور برداشت کرنے والی نسل چاہتے ہیں تو ہمیں ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی نظر رکھنا ہوگی جو بظاہر معمولی ہیں، مگر بچوں کے ذہن میں بڑے تصورات تشکیل دیتی ہیں۔
#حکومت اور انتظامیہ سے سنجیدہ مطالبہ
متعلقہ حکومتی ادارے، ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم اور صارفین کے تحفظ کے ذمہ دار ادارے فوری طور پر ایسی مصنوعات کا نوٹس لیں، ان کی فروخت اور بچوں پر ممکنہ نفسیاتی و سماجی اثرات کا جائزہ لیں اور ماہرینِ اطفال، ماہرینِ نفسیات اور تعلیم کے ماہرین کی رائے کی روشنی میں مناسب کارروائی کریں۔
آج اگر ہم نے اسے صرف ایک معمولی کھلونا سمجھ کر نظرانداز کردیا تو کل ہمیں اس سوال کا جواب دینا پڑ سکتا ہے کہ:
جب بچے کے ہاتھ میں قلم دینے کا وقت تھا، ہم نے اسے بندوق کی شکل کا قلم کیوں دیا؟
نسلوں کی تعمیر کھلونوں سے بھی ہوتی ہے۔
آئیے بچوں کو ہتھیاروں کی کشش نہیں، علم کی طاقت سے روشناس کرائیں۔
#قلم کو قلم ہی رہنے دیں—کیونکہ قلم سے مستقبل لکھا جاتا ہے، جنگ نہیں۔
KP Elementary & Secondary Education Department Khyber Pakhtunkhwa Information Technology Board - KPITB