01/06/2026
Govt Higher Secondary School Girote Khushab
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Govt Higher Secondary School Girote Khushab, Grote khushab, Khushab.
سرکاری سکول، میعاری سکول!
ہمارا مقصد طلبہ کو بہترین تعلیمی ماحول فراہم کرنا اور والدین کو طالب علم ، استاد اور تعلیم کے حقیقی معنوں سے آشنا کرنا ہے، اور اس کے علاوہ آپ کو اسکول کی سرگرمیوں، داخلوں اور دیگر اہم معلومات سے بھی آگاہ رکھا جائے گا۔ شکریہ
01/06/2026
26/05/2026
تمام موجودہ اور سابقہ طالب علموں سمیت معزز استاذہ کرام اور اہل علاقہ کو عیدالاضحٰی مبارک ہو
اللہ تعالی ہم سب کی قربانی قبول و منظور فرمائے آمین
منجانب : پرنسپل و جملہ سٹاف گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول گروٹ
21/05/2026
!السلام و علیکم معزز والدین
امید ہے آپ خیریت سے ہونگے
جیسا کہ آج سے موسمِ گرما کی تعطیلات کا آغاز ہو چکا ہے۔ گزارش ہے کہ بچوں کی صحت، حفاظت اور مثبت سرگرمیوں پر خصوصی توجہ دیں۔ گرمی سے احتیاط کروائیں اور چھٹیوں کا ہوم ورک صرف ایک رسمی کام نہیں، بلکہ ان کی تعلیمی بہتری کے لیے ضروری ذمہ داری ہے، اسے ضرور مکمل کروائیں۔
یہ وقت بچوں کے آرام، سیر و تفریح اور خوشیوں کو بڑھانے کا بھی ہے، اس لیے انہیں خوشگوار مصروفیات فراہم کریں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو خیر و عافیت کے ساتھ
دوبارہ سکول میں جمع فرمائے۔ آمین۔
منجانب : پرنسپل و جملہ سٹاف گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول گروٹ خوشاب
11/05/2026
اصل مسئلہ:
اکثر وہی والدین جو گورنمنٹ اسکول میں بچے کو سادہ یا نامکمل حالت میں بھیج دیتے ہیں، لیکن جب بچے کو پرائیویٹ اسکول میں داخل کرواتے ہیں تو کسی نہ کسی طرح یونیفارم، جوتے، کتابیں، فیس — سب کا انتظام کر لیتے ہیں۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
1. ترجیح بدل جاتی ہے:
پرائیویٹ اسکول میں داخلہ ایک “فیصلہ” ہوتا ہے، اس لیے والدین پہلے سے ذہنی و مالی تیاری کرتے ہیں۔
2. سماجی دباؤ زیادہ ہوتا ہے:
پرائیویٹ اسکول میں بچے کا لباس، بیگ، جوتے فوراً نمایاں ہوتے ہیں، اس لیے والدین کوشش کرتے ہیں کہ بچہ کمتر محسوس نہ کرے۔
3. ادارے کی سختی:
پرائیویٹ اسکول اکثر مکمل یونیفارم، کتابیں اور قواعد لازمی کرواتے ہیں؛ یوں والدین کو پورا کرنا پڑتا ہے۔
4. نفسیاتی قدر:
بعض والدین فیس دینے کے بعد تعلیم کو “سرمایہ کاری” سمجھتے ہیں، اس لیے باقی اخراجات بھی اہم لگتے ہیں۔
5. گورنمنٹ اسکول کے بارے میں عمومی لاپرواہی:
یہ سوچ بھی اثر انداز ہوتی ہے کہ “وہاں تو جیسے بھی چلا جائے” — اور یہی رویہ بچے کی ظاہری حالت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔
اصل مسئلہ:
کیا ہم بچے کی ضرورت کو ادارے کے حساب سے اہم سمجھتے ہیں؟
اگر ہاں، تو مسئلہ صرف غربت نہیں… رویّہ بھی ہے۔
المختصر:
“بچہ وہی ہوتا ہے، والدین بھی وہی… بدلتی ہیں تو صرف ترجیحات ”
محترم والدین اور معززینِ علاقہ! السلام علیکم!
امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے۔ آج ہم آپ کی توجہ ایک نہایت اہم موضوع کی طرف دلانا چاہتے ہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام اس وقت بے شمار مسائل کا شکار ہے، جن کی بنیادی وجہ والدین کا عدم تعاون، اساتذہ کرام کا روایتی طریقہ تدریس، اور مجموعی طور پر نظام کی کمزوریاں ہیں۔ اگر ہم اپنے نظامِ تعلیم کا دوسرے ممالک سے موازنہ کریں تو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بے شمار اصلاحات متعارف کروائے جانے کے باوجود ہم وہ نتائج حاصل نہیں کر سکے جو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک حاصل کر رہے ہیں۔
آج ترقی یافتہ ممالک میں ایک سترہ سے اٹھارہ سال کا نوجوان تعلیم میں ہم سے بہت آگے ہے، جبکہ ہمارے ہاں میٹرک کرنے والا طالب علم اس بات سے بھی ناواقف ہوتا ہے کہ اسے آگے کس سمت جانا ہے۔ ان کے پاس نہ ڈائریکشن ہوتی ہے، نہ رہنمائی، نہ مستقبل کا واضح لائحہ عمل۔ یہ اساتذہ کرام اور والدین کی زمہ داری تھی جس میں اکثر لاپرواہی ہوتی رہی ہے۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم اسی بنیادی شعبے میں سب سے زیادہ کمزور ہیں۔ اساتذہ کرام بھی اسی نظام سے گزر کر اس مقام تک پہنچتے ہیں، البتہ ہم سب کے پاس ایک اختیار موجود ہے: اپنی حد تک بہترین کوشش کرنا اور اپنی ذمہ داری کو پوری ایمانداری سے نبھانا۔
ہماری ذمہ داری صرف بچوں کو پاس کروانا نہیں بلکہ انہیں سمجھانا ہے۔ بچوں کے تصورات واضح کیے جائیں، انہیں رٹہ لگانے سے بچایا جائے، اور ان سے یہ پوچھا جائے کہ وہ کس حد تک چیزوں کو سمجھ پا رہے ہیں۔ چاہے سال بھر میں سو میں سے پچاس فیصد مواد بھی سمجھا دیا جائے تو یہ کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں۔ اسکے علاوہ اپنی صلاحیتوں کے بہتر سے بہترین کرنا ہے نا کہ پرانے اور دقیانوسی یا روایتی طریقہ تدریس کو پکڑ کے بیٹھ جانا۔ ڈر اور خوف کی فضا کلاس میں قائم کرنا ، ذات پات اور تعلقات کی بنیاد پہ بچوں میں تفریق کرنا۔۔۔یہ سب غیر زمہ درانہ رویوں میں شامل ہوتا ہے۔اصل مقصد یہ ہے کہ بچہ جان سکے کہ ریاضی میں ایک سٹیپ کے بعد دوسرا سٹیپ کیسے آتا ہے، لاجک کیا ہوتی ہے؟ فزکس ، کیمسٹری اور کمپیوٹر کیا ہیں؟ انکا روزمرہ زندگی میں کیا اطلاق ہے؟ انگریزی میں جملہ کب درست ہوتا ہے، اور اسلامیات میں سیکھے گئے اصول زندگی میں کس طرح لاگو کرنے ہوتے ہیں۔ یہ سب اوراسکے علاوہ بہت کچھ ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
لہذا والدین سے التماس ہے کہ وہ روزانہ اپنے بچوں سے پوچھیں کہ انہوں نے آج کیا سیکھا، کیا سمجھا، کون سی چیز مشکل لگی۔ اگر کوئی کمی محسوس ہو تو بلا جھجھک اساتذہ سے رابطہ کریں۔ یہ بچے ہمارے اپنے ہیں اور ہم سب ان کے مستقبل کے ذمہ دار ہیں۔ اساتذہ کرام والدین کی مثبت آرا کو ہمیشہ خوش آمدید کہتے ہیں۔
اساتذہ کرام سے گزارش ہے کہ نظام کو کوسنے کی بجائے اپنی زمہ داریوں پہ خصوصی توجہ دیں ، والدین سے رابطہ قائم کریں ، اور زیادہ سے زیادہ بچوں کی بہتری کےلئے تعلیمی اقدامات پہ توجہ دیں۔ ہم نے ہی بہترین معاشرے کی بنیاد رکھنی ہے۔ اس معاملے میں ہم سب کو ضرور فکر مند ہونا چاہئے۔
آخر میں، امید ہے کہ آپ سب ادارے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے اور ان اہم تعلیمی امور پر توجہ دیتے رہیں گے۔ ہمارا مقصد صرف ایک ہے: بچوں کے بہتر، روشن اور مضبوط مستقبل کی ضمانت۔
شکریہ
10/05/2026
آپ میں سے کس کس نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول گروٹ سے تعلیم حاصل کی ہے؟ آپکا سیشن کیا تھا؟ اور کون کونسی اچھی یادیں منسلک ہیں؟
السلام و علیکم معزز اساتذہ کرام !
استاد باپ کی طرح ہوتا ہے اور بچے کتنے بھی بڑے ہوجائیں باپ سے بڑے نہیں ہوتے
ایک بات سمجھ لیں
پیسے کو مقصد بنا کر سٹوڈنس کو خوش رکھنے کی کوشش کریں گے تو آپ صرف ان کے لئیے ایک ملازم ہی بن کر رہ جائیں گے
استاد بنیں کہ آپ ملازم ہر گز نہیں ہیں
اور استاد سٹوڈنٹس کی خوشی نا خوشی کی پرواہ نہیں کرتے ،ان کی کامیابی کو پیش نظر رکھتے ہیں
پھر چاہے وہ وقتی طور پر آپ کو ظالم وغیرہ ہی کیوں نہ سمجھیں
EST(Math) حسیب الرحمن
گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول گروٹ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Grote Khushab
Khushab
41000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 17:00 |
| Tuesday | 09:00 - 17:00 |
| Wednesday | 09:00 - 17:00 |
| Thursday | 09:00 - 17:00 |
| Friday | 09:00 - 17:00 |