02/01/2023
ایک بزرگ سے کسی سانپ نے بیعت کر لی تھی
ایک بزرگ سے کسی سانپ نے بیعت کر لی تھی۔ انہوں نے اس سے یہ عہد لیا کہ کسی کو ڈسنا نہیں جانوروں نے جو دیکھا کہ یہ کسی کو کچھ کہتا ہی نہیں ہے تو نڈر ہو کر سب نے اس کو مارنااور تنگ کرنا شروع کر دیا۔ چند روز کے بعد وہ بزرگ کے پاس آیا تو دیکھا بہت ہی بری حالت میں ہے۔ پوچھا کیا حال ہے؟ کہا
آپ نے کاٹنے سے منع کر دیا تھا جانوروں کوجب یہ خبر ملی تو اب سب مجھے تنگ کرنے لگے۔فرمایا!’’میں نے کاٹنے سے ہی تو منع کیا ہے پھنکارنے سے تو منع نہیں کیا ہے، اب سے جوجانور پاس آئے فوراً پھنکار دیا کروکہ وہ بھاگ جائے۔اس روز سے غریب کو چین ملا اسی طرح بزرگوں
کو بھی چاہئے کہ کبھی کبھی پھنکار دیا کریں تاکہ لوگ بلاوجہ زیادہ تنگ نہ کریں
ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔ ” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تاجر نے کہا۔۔۔“70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے کتنے ہیں؟“۔ تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔
واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا:۔“اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔ ”تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ “۔ یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:۔ “ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں۔۔ “