GZ Explorer

GZ Explorer

Share

Explorer

09/02/2023
09/02/2023

آپ کی گاڑی کو زنگ کیوں لگتا ہے ???

08/02/2023

‏پاکستان میں مہنگائی پر موجود حکومت کی ویسی ہی نظریں ہیں جیسے آپ کی گنے پہ
🤪😀😀😀😀😀

Photos from GZ Explorer's post 07/02/2023
07/02/2023

Pray for Turkey

31/01/2023

Shukirya

02/01/2023

ایک بزرگ سے کسی سانپ نے بیعت کر لی تھی

ایک بزرگ سے کسی سانپ نے بیعت کر لی تھی۔ انہوں نے اس سے یہ عہد لیا کہ کسی کو ڈسنا نہیں جانوروں نے جو دیکھا کہ یہ کسی کو کچھ کہتا ہی نہیں ہے تو نڈر ہو کر سب نے اس کو مارنااور تنگ کرنا شروع کر دیا۔ چند روز کے بعد وہ بزرگ کے پاس آیا تو دیکھا بہت ہی بری حالت میں ہے۔ پوچھا کیا حال ہے؟ کہا

آپ نے کاٹنے سے منع کر دیا تھا جانوروں کوجب یہ خبر ملی تو اب سب مجھے تنگ کرنے لگے۔فرمایا!’’میں نے کاٹنے سے ہی تو منع کیا ہے پھنکارنے سے تو منع نہیں کیا ہے، اب سے جوجانور پاس آئے فوراً پھنکار دیا کروکہ وہ بھاگ جائے۔اس روز سے غریب کو چین ملا اسی طرح بزرگوں

کو بھی چاہئے کہ کبھی کبھی پھنکار دیا کریں تاکہ لوگ بلاوجہ زیادہ تنگ نہ کریں
ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔ ” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تاجر نے کہا۔۔۔“70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے کتنے ہیں؟“۔ تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔

واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا:۔“اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔ ”تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ “۔ یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:۔ “ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں۔۔ “

02/01/2023

پرانے زمانے میں مالاکنڈ پہاڑی کے دامن میں ایک گاوں آباد تھا۔ جب بھی کوئی مسافر گاڑی حادثے کا شکار ہو کر پہاڑ سےگر جاتی یہ لوگ جاکر ان کا سامان لوٹتے۔
یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔

ان کا امام مسجد میں نماز کے بعد کچھ یوں دعا پڑھتا:
"اے پروردگار بہت عرصہ ہوا ہے کوئی گاڑی نہیں گری۔۔۔۔۔۔ کوئی باراتیوں سے بھری بس گرا دے جن کی عورتیں سونے سے لدی ہوئی ہوں۔۔۔۔ ۔۔۔۔
رب کریم کوئی برطانیہ پلٹ کی گاڑی گرادے جس کا بیگ سامان سے اور جیب پاونڈ سے بھرا ہو ۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔

ہم تیرے نادان بندے ہیں اگر ہم سے کوئی بھول ہوئی ہو تو رحم کا معاملہ کر ورنہ ہمارے بچے بھوکے مر جائیں گے۔"

پیچھے سے مقتدی آمین ثمہ آمین کی صدا لگاتے۔۔۔۔۔

پشتو کہاوت ہے:
"دا چا پہ شر کی دا چا خیر یی۔"
جس کا ترجمہ ہے:
"کسی کے شر میں کسی کی خیر ہوتی ہے"۔

قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم نے دوسروں کے شر میں اپنی خیر منائی ہے۔ ہم نے خود سے کچھ نہیں کیا نہ اپنے ادارے مضبوط کئے نہ انڈسٹری بنائی نہ برآمدات بڑھائی۔ تعلیم صحت اور انصاف کسی شعبے پر محنت نہیں کی۔۔۔

*پچاس کی دہائی* میں ہم نے "سیٹو" اور "سینٹو" کے مزے اڑائے۔

*ساٹھ کی دہائی* میں سرد جنگ میں امریکہ کا ڈارلنگ بن کر یوٹو طیاروں کو اڈے دیکر ڈالر بٹورے۔

*ستر کی دہائی* میں بھٹو صاحب نے عرب اسرائیل جنگوں میں جے کانت شکرے کا کردار نبھایا اور ڈائیلاگ بول بول کر مفت تیل کے مزے اڑائے۔

*اسی کی دہائی* میں روس افغانستان والے کھاتے میں ہم نے خوب "ریمبو تھری" بنا کر باکس آفس پر پیسے بنوائے۔

*نوے کی دہائی* میں کسی کا شر ہمارے ہاتھ نہیں آیا اور ہماری حالت بہت پتلی ہوگئی۔

*دو ہزار* کے بعد رحمت خداوندی نے پھر جوش مارا اور امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا۔
اس شر کا جام لیکر ہم خوب جھومے، اسلحے اور ڈالروں کی برسات ہوئی۔

اس دفعہ ہم اکشے کمار بنے رہے کیونکہ
*"جو ہم بولتے وہ ہم کرتے ہیں اور جو نہیں بولتے وہ ڈیفنٹلی کرتے ہیں"* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*اس کے بعد آٹھ سال ہوئے* کہ خدا ہم سے ناراض ہے اور ہمارے اردگرد کوئی شر نہیں ہورہا۔

حالت بہت خراب ہے ڈالر ڈبل سنچری کراس کر گیا ہے۔ لوگوں کا معیار زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔

آئیں سب مل کر اپنے رب کریم سے دعا مانگتے ہیں:

"اے تمام جہانوں کے مالک امریکہ کا ایران پر حملہ کروادے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چین اور امریکہ کی کوئی زبردست سرد جنگ شروع کرادے۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
سعودی اور حوثیوں کی لڑائی ہمارے مکران ساحل تک پھیلا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روس اور یوکرین کی لڑائی میں ہمیں فریق بنادے۔۔۔۔

پروردگار ہم تیرے نادان بندے ہیں اگر تو رحم کا معاملہ نہیں کرے گا تو ہم بھوکے مر جائیں گے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Khushab?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Khushab
Khushab