01/10/2026
والدین کے نام ایک خط!
محترم والدین، طلبہ اور اساتذہ کرام,
کہا جاتا ہے کہ ہمیں یہ زمین اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں نہیں ملتی؛ ہم اسے اپنے بچوں سے ادھار لیتے ہیں۔
آج ہماری ذمہ داری صرف تعلیمی کامیابی، پیشہ ورانہ ترقی اور ذاتی خواہشات تک محدود نہیں۔ ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ جو دنیا ہم اپنے بچوں کے لیے چھوڑ کر جائیں، وہ صحت مند، محفوظ، خوبصورت اور زندگی سے بھرپور ہو۔
ماحول ہم سے الگ کوئی چیز نہیں۔ ہم جو سانس لیتے ہیں، جو پانی استعمال کرتے ہیں، ہمارے اردگرد موجود درخت، وہ جانور اور پرندے جو ہمارے ساتھ اس سیارے پر رہتے ہیں، اور وہ قدرتی مقامات جو ہماری زندگیوں میں توازن پیدا کرتے ہیں، یہ سب ہمارے مشترکہ گھر کا حصہ ہیں۔
ہم روزمرہ زندگی جس طرح گزارتے ہیں اور جو فیصلے کرتے ہیں، وہ نہ صرف بہت اہمیت رکھتے ہیں بلکہ ان کے خاصے دور رس نتائج بھی ہمارے اور ہمارے ماحول پر مرتب ہوتے ہیں۔
پانی کی بچت کرنا، کچرا کم کرنا اور اسے مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا، پلاسٹک کا کم استعمال کرنا، درخت لگانا اور ان کی دیکھ بھال کرنا، اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا، جانوروں اور جنگلی حیات کا احترام کرنا، توانائی کا ذمہ داری سے استعمال کرنا، اور چیزوں کو فوراً پھینک دینے کے بجائے دوبارہ استعمال کرنا—یہ سب ہماری چھوٹی مگر اہم ذمہ داریاں ہیں۔
ہر عمل بظاہر معمولی محسوس ہو سکتا ہے، لیکن جب ہزاروں لوگ سوچے سمجھے، بہتر فیصلے کرتے ہیں تو یہی چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر بامعنی تبدیلی بن جاتے ہیں۔
ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ ہمارا مقصد صرف بچوں کو دنیا میں کامیابی کے لیے تیار کرنا نہیں، بلکہ انہیں دنیا کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے بھی تیار کرنا ہے۔ سکول کا زمانہ، ہماری شخصیت سازی کیلئے سب سے اہم زمانہ ہوتا ہے۔ بچپن اور لڑکپن میں سیکھے ہوئے سبق اور عادات اکثر تمام زندگی ہمارے ساتھ رہتے ہیں ۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بڑے ہو کر یہ سمجھیں کہ ماحولیاتی ذمہ داری کسی ایک دن یا ایک ہفتے کی مہم کا نام نہیں، بلکہ سوچنے اور زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔
آئیے انہیں یہ سوال کرنے کی ترغیب دیں:
میں کیا مختلف کر سکتا ہوں؟
میں ضائع کرنے کے بجائے کیا بچا سکتا ہوں؟
میں تباہ کرنے کے بجائے کس چیز کی حفاظت کر سکتا ہوں؟
اور اس دنیا کو، جو مجھے اتنا کچھ عطا کرتی ہے، میں بدلے میں کیا دے سکتا ہوں؟
اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بچے ہماری باتوں سے زیادہ ہمارے عمل سے سیکھتے ہیں۔
اگر وہ ہمیں غیر ضروری لائٹس بند کرتے دیکھیں گے تو وہ ذمہ داری سیکھیں گے۔
اگر وہ ہمیں فطرت اور جانوروں کا احترام کرتے دیکھیں گے تو وہ ہمدردی سیکھیں گے۔
اگر وہ ہمیں کچرا کم کرتے اور دیکھیں گے تو وہ نظم و ضبط سیکھیں گے۔
اگر وہ ہمیں گندگی نا پھیلاتے ہوئے اور اپنے اردگرد کے ماحول کی دیکھ بھال کرتے دیکھیں گے تو وہ یہ سیکھیں گے کہ ہر وہ جگہ جہاں ہم رہتے ہیں، ہماری ذمہ داری ہے۔
لہٰذا آئیے اپنے اسکولوں اور گھروں کو ایسی جگہیں بنائیں جہاں ماحول کی دیکھ بھال روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن جائے۔
چاہے ہم پوری دنیا کو فوری طور پر تبدیل نہ کر سکیں، ہم دنیا کے اس چھوٹے سے حصے کو ضرور بہتر بنا سکتے ہیں جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔ اور شاید بامعنی تبدیلی ہمیشہ یہیں سے شروع ہوتی ہے۔
آئیے اپنے بچوں کو صرف ایسا مستقبل نہ دیں جس کی وہ امید کر سکیں، بلکہ انہیں ایسا سیارہ بھی دیں جو ورثے میں ملنے کے قابل ہو۔
نیک تمناؤں کے ساتھ