23/01/2017
کهیوڑه ← معدنی وسائل سے مالا مال
کس قدر افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ حکومتوں اور موجودہ حکومت نے اس معدنیات سے بھر پور علاقے کو نظرانداز کرکے سوتیلی ماں جیسا سلوک اپنا رکھا ہے ، اس علاقے سے سالانہ اربوں روپیہ کمایا جا رہا ہے ، مگر علاقے کی ترقی اور عوام کے لئے حکومت اور عوامی نمائندوں کے پاس کوئی پیکج نہیں ، دل کو برا نہ لگے تو حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے کے ساتھ جو ظلم و زیادتی ہو رہی ہے اس میں سابقہ اور موجودہ عوامی نمائندے برابر کے شریک ہیں، جنہوں نے اس علاقے کے مسائل کو اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو صحیح معنوں میں نہ تو قومی اسمبلی میں اور نہ ہی صوبائی اسمبلی میں اٹھایا ہے ، بالفاظ دیگر یہاں کے منتخب عوامی نمائندے نااہل اور عوامی مسائل سے نابلد افراد تهے، جن کی وجہ سے یہ علاقہ پسماندہ اور مسائل کا شکار رہا ، معدنی اور قدرتی وسائل سے مالا مال اس علاقے کو ہمیشہ سے ہی بنیادی مسائل کا سامنا رہا ، لاکھوں کی تعداد میں یہاں اندرون ملک اور بیرون ملک سے سیاح نمک کی کان دیکھنے آتے ہیں مگر افسوس کہ وہ اس علاقے میں آ کر مایوس اور دل شکستہ ہو جاتے ہیں کیونکہ نہ تو ان کے رہنے کے لئے کوئی بہترین ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہے اور نہ ہی کوئی پارک یا تفریح گاہ موجود ہے. میری گزارش ہے کہ کوئی بندہ خدا اس علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے، اور حکومت وقت سے اس علاقے کی ترقی کے لئے کوئی اچھا سا منصوبہ یا پیکج منظور کروائے. میری زاتی رائے ہے کہ نمک کی کان سے ملحقہ پہاڑی اور میدانی علاقے میں بین الاقوامی سطح کا سفاری پارک بنایا جائے اور چیئر لیفٹ لگائی جائے، بچوں اور فیملی کے لئے ڈزنی لینڈ یا جوائے لینڈ کی طرز کا پارک بنایا جائے. 3☆ ہوٹل بنایا جائے. لاہور اور اسلام آباد سے کهیوڑه تک کے لیے سفاری ٹرینیں چلائی جائیں ، اس علاقے میں پائے جانے والے کیمیائی مرکبات کی تحقیق و ریسرچ کے لیے بین الاقوامی سطح کی لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جائے.
تحریر ! محمد قیوم ربانی ◇ ☆ ◆★ https://twitter.com/qayumrabani/status/656311378937016320
“کس قدر افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ حکومتوں اور موجودہ حکومت نے اس معدنیات سے بھر پور علاقے کو نظرانداز کرکے سوتیلی ماں جیسا سلوک اپنا رکھا ہے ،”