دختران ملت Dukhtaran e Millat

دختران ملت Dukhtaran e Millat One impulse from a vernal wood can teach us more of a man Of morle evil and of good Than all the sages can

MANDEER
10/03/2016

MANDEER

31/01/2016

ایک کہانی

میری ماں کی ایک آنکھ تھی اور وہ میرے سکول کے کیفیٹیریا میں خانسامہ تھی جس کی وجہ سے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا سو اُس سے نفرت کرتا تھا ۔ میں پانچویں جماعت میں تھا کہ وہ میری کلاس میں میری خیریت دریافت کرنے آئی ۔ میں بہت تلملایاکہ اُس کو مجھے اس طرح شرمندہ کرنے کی جُراءت کیسے ہوئی ۔ اُس واقعہ کے بعد میں اُس کی طرف لاپرواہی برتتا رہا اور اُسے حقارت کی نظروں سے دیکھتا رہا ۔
اگلے روز ایک ھم جماعت نے مجھ سے کہا “اوہ ۔ تمہاری ماں کی صرف ایک آنکھ ہے”۔ اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں زمین کے نیچے دھنس جاؤں اور میں نے ماں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ۔ میں نے جا کر ماں سے کہا “میں تمہارھ وجہ سے سکول میں مذاق بنا ہوں ۔ تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی ؟” لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا تھا ۔ میں ماں کے ردِ عمل کا احساس کئے بغیر شہر چھوڑ کر چلا گیا ۔
میں محنت کے ساتھ پڑھتا رہا ۔ مجھے کسی غیر مُلک میں تعلیم حاصل وظیفہ کیلئے وظیفہ مل گیا ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے اسی ملک میں ملازمت اختیار کی اور شادی کر کے رہنے لگا ۔ ایک دن میری ماں ھمیں ملنے آ گئی ۔ اُسے میری شادی اور باپ بننے کا علم نہ تھا ۔ وہ دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میرے بچے اس کا مذاق اُڑاتے رھے ۔
میں ماں پر چیخا ” تم نے یہاں آ کر میرے بچوں کو ڈرانے کی جُراءت کیسے کی ؟” بڑی آہستگی سے اُس نے کہا “معافی چاہتی ہوں ۔ میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں”۔ اور وہ چلی گئی ۔
ایک دن مُجھے اپنے بچپن کے شہر سے ایک مجلس میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا جو میرے سکول میں پڑھے بچوں کی پرانی یادوں کے سلسلہ میں تھا ۔ میں نے اپنی بیوی سے جھوٹ بولا کہ میں دفتر کے کام سے جا رہا ہوں ۔ سکول میں اس مجلس کے بعد میرا جی چاہا کہ میں اُس مکان کو دیکھوں جہاں میں پیدا ہوا اور اپنا بچپن گذارہ ۔ مجھے ہمارے پرانے ہمسایہ نے بتا یا کہ میری ماں مر چکی ہے جس کا مُجھے کوئی افسوس نہ ہوا ۔ ہمسائے نے مجھے ایک بند لفافے میں خط دیا کہ وہ ماں نے میرے لئے دیا تھا ۔ میں بادلِ نخواستہ لفافہ کھول کر خط پڑھنے لگا ۔ لکھا تھا.
“میرے پیارے بیٹے ۔ ساری زندگی تُو میرے خیالوں میں بسا رہا ۔ مُجھے افسوس ہے کہ جب تم مُلک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے تو میں نے تمہارے بچوں کو ڈرا کر تمہیں بیزار کیا ۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اپنے سکول کی مجلس مین شمولیت کیلئے آؤ گے تو میرا دل باغ باغ ہو گیا ۔ مُشکل صرف یہ تھی کہ میں اپنی چارپائی سے اُٹھ نہ سکتی تھی کہ تمہیں جا کر دیکھوں ۔ پھر جب میں سوچتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ تمہیں بیزار کیا تو میرا دل ٹُوٹ جاتا ہے ۔
کیا تم جانتے ہو کہ جب تم ابھی بہت چھوٹے تھے تو ایک حادثہ میں تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی ۔ دوسری ماؤں کی طرح میں بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایک آنکھ کے ساتھ پلتا بڑھتا اور ساتھی بچوں کے طعنے سُنتا نہ دیکھ سکتی تھی ۔ سو میں نے اپنی ایک آنکھ تمہیں دے دی ۔ جب جراحی کامیاب ہو گئی تو میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا کہ میرا بیٹا دونوں آنکھوں والا بن گیا اور وہ دنیا کو میری آنکھ سے دیکھے گا

18/01/2016
18/01/2016
06/12/2015

غیبت ایک اہم بیماری ہے جس کا ہم سب شکار ہیں...

ابوہریره سے روایت ہے کہ رسول الله صلی علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟" انهوں نے عرض کی الله اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں.
آپ نے فرمایا: "تیرا ایسی چیز کے ساتھ اپنے بهائی کا ذکر کرنا جسے وه ناپسند کرتا ہے."
دریافت کیا گیا: "بتلائیے! اگر جو میں کہہ رہا ہوں وه میرے بهائی میں موجود ہو؟
آپ نے فرمایا: "اگر تم جو کہہ رہے ہو وه اس میں موجود ہے تو یقینا تم نے اسکی غیبت کی اور اگر وه اس میں موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان باندها" (صحیح مسلم)

غیبت سے مراد کسی بهی شخص کا ایسا ذکر جو اسے ناپسندیده هو خواه اس کا تعلق
اس کے بدن
اس کے دین
اس کی دنیا
اس کے نفس
اس کے مال
اس کی اولاد
اس کی بیوی/شوهر
اس کی حرکات
خوش مزاجی، سخت مزاجی سے سب اس کے برے ذکر میں شامل ہے خواہ یہ ذکر لفظوں میں ہو یا اشارے کنائے میں.

غیبت کے اسباب

💡غصہ: دوسرے شخص پر غصہ آئے تو غیبت کر کہ دل ٹهنڈا کرنا

💡تکبر: دوسروں کو حقیر سمجهنا اور جاہل اور بے وقوف کہنا تاکہ اپنی برتری ثابت ہو.

💡مذاق اڑانا: دوسروں کا مذاق اڑانا اور نقل اتارنا تاکہ لوگ محظوظ ہوں اور میں نمایاں ہو جاوں.

💡حسد: دل کا حسد جو کسی کی دولت، مرتبے اور نعمتوں سے ہوتا ہے غیبت کی شکل میں نکلتا ہے.

💡بغض: کسی شخص کے لیے پالی گئی نفرت کے اظہار کے لیے.

💡کینہ: کسی کی غلطی کو اپنے دل میں بٹها لینا اور چڑ کر اس کی برائیاں کرنا

💡لوگوں کا ڈر: مجلس میں مروت کے طور پر لوگوں کی خوشنودی کے لیے غیبت میں شریک ہونا

اگر ہم کسی کی غیبت کرتے ہیں تو یقینا ہم میں یہ برائیاں موجود ہیں.

جب تک ہم اپنے آپ کو غیبت کرنے والا نہیں سمجهیں گے تب تک اس گناه میں مبتلا رہیں گے. اس آئینے میں اپنا احتساب کریں. دوسروں کو نہ پرکهیں.

غیبت کی مختلف اقسام کی ممانعت قرآن میں ان سوره میں آئی ہے.
المجادلہ #9-10
المومن #19
ق #16-17-18
الاحزاب #70
الفرقان #63
الهمزه #1
النساء #148
یس #65
الحجرات #11-12
بنی اسرائیل #36-53

اگر آپ واقعی اس گناه سے بچنا چاهتے هیں تو ان آیات کا ترجمہ پڑھ لیجیے گا.

غیبت کی ممانعت احادیث میں

رسول الله نے فرمایا: "جس رات معراج میں مجهے اوپر لے جایا گیا تو وهاں میرا گزر ایسے لوگوں پر ہوا جو اپنے ناخنوں سے اپنے چہرے نوچ رہے تهے.میں نے جبرئیل سے پوچها یہ کون لوگ هیں؟" انهوں نے کها:"یه وه لوگ هیں جو لوگوں کا گوشت کهاتے تهے اور لوگوں کی آبرو پر حملہ کیا کرتے تهے"(ابوداود)

غیبت کے نقصانات

🚩فساد پیدا هوتا هے
🚩باهمی نااتفاقیاں جنم لیتی هیں
🚩نیکیاں ضائع هو جاتی هیں
دوسرے کے گناهوں کا بوجهه تحفتا ملتا هے
🚩الله کی ناراضگی کا سبب
🚩سخت عذاب کی وعید
🚩گناه کبیره
🚩هر ایک سے دل برا رهتا هے
🚩گهر کا ماحول خراب
🚩الله کی رحمت سے دوری
🚩لوگوں کی نظر میں اپنی عزت کهونا
🚩قطع رحمی کا سبب

سب سے اہم
جسکی غیبت کی گئی اگر اس نے معاف نہ کیا تو الله تعالی بهی معاف نهیں کریں گے.

غیبت کا فائده صرف ...زبان کا چٹکهارا !!! کیا اتنے نقصانات کے باوجود هم اس کے چسکے کو چهوڑ نهیں سکتے.
لوگوں سے لوگوں کی باتیں کرنا چهوڑیں گے تو اس بیماری سے جان چهڑوا سکیں گغیبت کا علاج

📍اعتراف
سب سے پهلے یہ اعتراف کیجئے کہ میرے اندر غیبت کی عادت موجود هے اور مجهے اسکی اصلاح کرنی هے.
ان شاء الله. اپنے آپ سے پختہ عهد اور اراده کریں کہ میں ابهی سے غیبت چهوڑ رهی هوں

📍الله سے مدد اور دعا مانگیں
الله کے آ گے دو رکعت نماز پڑهه کرسچے دل سے غیبت سے بچنے کی دعا کریں.

📍اس شخص سے معافی مانگیں.
جس کی غیبت کی هے اسے جا کر بتائیں اور معافی مانگیں.

📍جرمانہ
اپنے لئیے جرمانہ مقرر کیجئے مثلا نفل نماز روزہ یا صدقہ

📍تعوذ
غیبت کا خیال آتے هی تعوذ پڑهیں.

📍لوگوں کو موضوع گفتگو نہ بنائیں
غیبت سے بچنے کا بهترین طریقہ هر وقت رشتہ داروں.دوست احباب کا تزکره نہ کریں نہ هی تجسس کریں هر قسم کی رائے اور تنقید سے اجتناب برتیں.

📍تحفہ دیں
جسکی غیبت کی اسکو کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور دیں.
انکے حق میں دعا کریں.

🌟سب سے بڑهه کر الله سے ڈریں اپنے اعمال نامے کا تصور ذهن میں لائیں آخرت میں سب کو پتا چل جائے گا تو کیسی رسوائی هوگی

Here are some practical tips 👇

جس کی غیبت هو رهی هو اس کا دفاع کریں.
اس کی اچهائیوں کا تذکره کریں
پہلے تولیں پهر بولیں
لوگوں کے بارے میں کرید کر غیبت کا راستہ آسان نهیں کریں مثلا اور سناو .....کیسی هے اسکا رویہ اب تمهارے ساتهه کیسا هے.

بولیں تو اچهی بات نهیں تو خاموش رهیں.

موضوع بدل دیں.

منع کردیں روک دیں لوگوں کو؟ غیبت کرنے سے. یاد رکهیں قبر میں تنها جانا هے اپنی نیکیوں کی خود خفاظت کریں.

اگر کوئی بعض نہ آئے تو اس جگہ سے اٹھ جائیں.

فون پر مختصر اور اچهی گفتگو کریں.

دوسروں کو غیبت کے متعلق بتائیں تاکہ آپ کا عمل بهی بهتر هو. مسیج کر کے بتائیں.

ایک دوست کا وٹس ایپ

Address

Mandeer
Kharian
50090

Telephone

+923229521000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دختران ملت Dukhtaran e Millat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to دختران ملت Dukhtaran e Millat:

Shortcuts

Share

Category