Learn with Yousuf Malik

Learn with Yousuf Malik I Am A Teacher.

Eid Mubarak
09/04/2024

Eid Mubarak

09/04/2024

.















16/12/2022

یک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے ‏قران پاک کے 100 مختصر مگر انتہائی موثر پیغامات

1 گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 83

2 غصے کو قابو میں رکھو*
سورۃ آل عمران ، آیت نمبر 134

3 دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو،*
سورۃ القصص، آیت نمبر 77
4 تکبر نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 23
5 دوسروں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 22
6 لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19
7 اپنی آواز نیچی رکھا کرو،*
سورۃ لقمان، آیت نمبر 19
8 دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 11
9 والدین کی خدمت کیا کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23
10 والدین سے اف تک نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 23
11 والدین کی اجازت کے بغیر ان کے کمرے میں داخل نہ ہوا کرو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 58
12 لین دین کا حساب لکھ لیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 282
13 کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 36
14 اگر مقروض مشکل وقت سے گزر رہا ہو تو اسے ادائیگی کے لیے مزید وقت دے دیا کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 280
15 سود نہ کھاؤ،*
سورۃ البقرة ، آیت نمبر 278

*16 رشوت نہ لو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 42

*17 وعدہ نہ توڑو،*
سورۃ الرعد، آیت نمبر 20

*‏18 دوسروں پر اعتماد کیا کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*19 سچ میں جھوٹ نہ ملایاکرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 42

*20 لوگوں کے درمیان انصاف قائم کیا کرو،*
سورۃ ص، آیت نمبر 26
*21 انصاف کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہو جایا کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

*22 مرنے والوں کی دولت خاندان کے تمام ارکان میں تقسیم کیاکرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 8

*23 خواتین بھی وراثت میں حصہ دار ہیں،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 7

*24 یتیموں کی جائیداد پر قبضہ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 2

*‏25 یتیموں کی حفاظت کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 127

*26 دوسروں کا مال بلا ضرورت خرچ نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 6

*27 لوگوں کے درمیان صلح کراؤ،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 10

*28 بدگمانی سے بچو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*29 غیبت نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*30 جاسوسی نہ کرو،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*31 خیرات کیا کرو،*
سورۃ البقرة، آیت نمبر 271

*32 غرباء کو کھانا کھلایا کرو*
سورة المدثر، آیت نمبر 44

*33 ضرورت مندوں کو تلاش کر کے ان کی مدد کیا کرو،*
سورة البقرۃ، آیت نمبر 273

*34 فضول خرچی نہ کیا کرو،*
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 67

*‏35 خیرات کرکے جتلایا نہ کرو،*
سورة البقرۃ، آیت 262

*36 مہمانوں کی عزت کیا کرو،*
سورۃ الذاريات، آیت نمبر 24-27

*37 نیکی پہلے خود کرو اور پھر دوسروں کو تلقین کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر44

*38 زمین پر برائی نہ پھیلایا کرو،*
سورۃ العنكبوت، آیت نمبر 36

*39 لوگوں کو مسجدوں میں داخلے سے نہ روکو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 114

*40 صرف ان کے ساتھ لڑو جو تمہارے ساتھ لڑیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190

*41 جنگ کے دوران جنگ کے آداب کا خیال رکھو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 190

*‏42 جنگ کے دوران پیٹھ نہ دکھاؤ،*
سورة الأنفال، آیت نمبر 15

*43 مذہب میں کوئی سختی نہیں،*
سورة البقرة، آیت نمبر 256

*44 تمام انبیاء پر ایمان لاؤ،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 150

*45 حیض کے دنوں میں مباشرت نہ کرو،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 222

*46 بچوں کو دو سال تک ماں کا دودھ پلاؤ،*
سورة البقرة، آیت نمبر، 233

*47 جنسی بدکاری سے بچو،*
سورة الأسراء، آیت نمبر 32

*48 حکمرانوں کو میرٹ پر منتخب کرو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 247

*49 کسی پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو،*
سورة البقرة، آیت نمبر 286

*50 منافقت سے بچو،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 14-16

*‏51 کائنات کی تخلیق اور عجائب کے بارے میں گہرائی سے غور کرو،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 190

*52 عورتیں اور مرد اپنے اعمال کا برابر حصہ پائیں گے،*
سورة آل عمران، آیت نمبر 195

*53 بعض رشتہ داروں سے شادی حرام ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 23

*54 مرد خاندان کا سربراہ ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 34

*55 بخیل نہ بنو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 37

*56 حسد نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 54

*57 ایک دوسرے کو قتل نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 29

*58 فریب (فریبی) کی وکالت نہ کرو،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 135

*‏59 گناہ اور زیادتی میں دوسروں کے ساتھ تعاون نہ کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

*60 نیکی میں ایک دوسری کی مدد کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 2

*61 اکثریت سچ کی کسوٹی نہیں ہوتی،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 100

*62 صحیح راستے پر رہو،*
سورۃ الانعام، آیت نمبر 153

*63 جرائم کی سزا دے کر مثال قائم کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 38

*64 گناہ اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد کرتے رہو،*
سورۃ الانفال، آیت نمبر 39

*65 مردہ جانور، خون اور سور کا گوشت حرام ہے،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 3

*‏66 شراب اور دوسری منشیات سے پرہیز کرو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

*67 جوا نہ کھیلو،*
سورۃ المائدۃ، آیت نمبر 90

*68 ہیرا پھیری نہ کرو،*
سورۃ الاحزاب، آیت نمبر 70

*69 چغلی نہ کھاؤ،*
سورۃ الھمزۃ، آیت نمبر 1

*70 کھاؤ اور پیو لیکن فضول خرچی نہ کرو،*
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

*71 نماز کے وقت اچھے کپڑے پہنو،*
سورۃ الاعراف، آیت نمبر 31

*72 آپ سے جو لوگ مدد اور تحفظ مانگیں ان کی حفاظت کرو، انھیں مدد دو،*
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 6

*73 طہارت قائم رکھو،*
سورۃ التوبۃ، آیت نمبر 108

*74 اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،*
سورۃ الحجر، آیت نمبر 56

*‏75 اللہ نادانستگی میں کی جانے والی غلطیاں معاف کر دیتا ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 17

*76 لوگوں کو دانائی اور اچھی ہدایت کے ساتھ اللہ کی طرف بلاؤ،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 125

*77 کوئی شخص کسی کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا،*
سورۃ فاطر، آیت نمبر 18

*78 غربت کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 31

*79 جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس پر گفتگو نہ کرو،*
سورۃ النحل، آیت نمبر 36

*‏80 کسی کی ٹوہ میں نہ رہا کرو (تجسس نہ کرو)،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 12

*81 اجازت کے بغیر دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو،*
سورۃ النور، آیت نمبر 27

*82 اللہ اپنی ذات پر یقین رکھنے والوں کی حفاظت کرتا ہے،*
سورۃ یونس، آیت نمبر 103

*83 زمین پر عاجزی کے ساتھ چلو،*
سورۃ الفرقان، آیت نمبر 63

*84 اپنے حصے کا کام کرو۔ اللہ، اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین تمہارا کام دیکھیں گے۔*
سورة توبہ، آیت نمبر 105

*85 اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،*
سورۃ الکہف، آیت نمبر 110

*‏86 ہم جنس پرستی میں نہ پڑو،*
سورۃ النمل، آیت نمبر 55

*‏87 حق (سچ) کا ساتھ دو، غلط (جھوٹ) سے پرہیز کرو،*
سورۃ توبہ، آیت نمبر 119

*88 زمین پر ڈھٹائی سے نہ چلو،*
سورۃ الإسراء، آیت نمبر 37

*89 عورتیں اپنی زینت کی نمائش نہ کریں،*
سورۃ النور، آیت نمبر 31

*90 اللّٰه شرک کے سوا تمام گناہ معاف کر دیتا ہے،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 48

*91 اللّٰه کی رحمت سے مایوس نہ ہو،*
سورۃ زمر، آیت نمبر 53

*92 برائی کو اچھائی سے ختم کرو،*
سورۃ حم سجدۃ، آیت نمبر 34

*93 فیصلے مشاورت کے ساتھ کیا کرو،*
سورۃ الشوری، آیت نمبر 38

*‏94 تم میں وہ زیادہ معزز ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے،*
سورۃ الحجرات، آیت نمبر 13

*95 اسلام میں ترک دنیا نہیں ہے۔*
سورۃ الحدید، آیت نمبر 27

*96 اللہ علم والوں کو مقدم رکھتا ہے،*
سورۃ المجادلۃ، آیت نمبر 11

*97 غیر مسلموں کے ساتھ مہربانی اور اخلاق کے ساتھ پیش آؤ،*
سورۃ الممتحنۃ، آیت نمبر 8

*98 خود کو لالچ سے بچاؤ،*
سورۃ النساء، آیت نمبر 32

*99 اللہ سے معافی مانگو وہ معاف کرنے اور رحم کرنے والا ہے ،*
سورۃ البقرۃ، آیت نمبر 199

*100 جو دست سوال دراز کرے اسے نہ جھڑکو بلکہ حسب توفیق کچھ دے دو،*
سورۃ الضحی، آیت نمبر 10

21/10/2022
28/09/2022

زرافے کی گردن ۔ 🦒

نوجوان کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتا لہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔
میں نے اس سے کہا” میں تمہیں ایک کہانی سنانا چاہتاہوں “

اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔

”کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میں کبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ءکی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،

ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاد اور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔

نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅں سنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتا تھا، بچپن میں اس کا والد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔

ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔

وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔

میں نے عرض کیا ”پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے،

وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑ کر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔
دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہراکام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کاکسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیااور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔
ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔

وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔ 1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹربرنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔

وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔

1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا، آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ہیملٹن کو چلا جاتا ہے،اس کا محسن ہیملٹن ہوتا ہے“ میں خاموش ہو گیا۔
نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا

”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا، اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔

وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی، وہ 2005ءمیں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میں دفن کیاگیا اور اس کے بعدیونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں“ میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا

“ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا ”صرف ایک ہاں سے‘ جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں تو وہ مرتے دم تک مالی رہتایہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔

نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“

نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھالہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا“

میں رکا اور ہنس کر بولا

”تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔“

Copied

Address

Kharian

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learn with Yousuf Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category