01/05/2026
Quran Tutor Online
This page is about online Quran Teaching. Where you Learn Quran online From any corner of the world.
01/05/2026
05/02/2026
سجدہ فقیری کا طریقہ سیکھ لیں! جھولیاں بھرجائیں گی
اس عمل سے کئی گھروں کے حالات بدلتے دیکھے، لوگوں کے کاروبار چلتے دیکھے، کئی بدکاری کرتے ہوئے راہ راست پر آگئے یعنی من کی وہ مرادیں بھی پوری ہوئیں کہ جن کا ہونا مشکل اور ناممکن نظر آتا تھا‘ کئی بیویوں کے شوہر راہ راست پر آگئے
اس تحریرپر نہ صرف روزانہ کی بنیاد پرعمل کرتا ہوں بلکہ یہ عمل میرے لیے کتنی اہمیت کا حامل ہے کہ میں تحریر کرنے سے قاصرہوں۔ آپ کی نظر عنایت بھی مجھے عمل کی بدولت نظر آتی ہے۔ بہرحال تحریر کردیا ہے شاید کوئی اور یہ عمل کرکے راہ نجات حاصل کرلے اور میری تحریر میرے لیے ذریعہ نجات بن جائے۔
آج میں آپ کو ایک عمل سے متعارف کروانا چاہتا ہوں جو واقعی گراں تو ہے لیکن ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات، ایک ایسا تحفہ قارئین کی نظر کررہا ہوں جو نہ صرف مجرب ہے بلکہ مجھ فقیر کا آزمودہ بھی ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ آپ کے تمام مسائل ایسے ٹھیک ہوتے جائینگے جیسے کبھی تھے ہی نہیں خواہ وہ آپ کے جسمانی مسائل ہوں یا روحانی۔ اس عمل سے کئی گھروں کے حالات بدلتے دیکھے، لوگوں کے کاروبار چلتے دیکھے، کئی بدکاری کرتے ہوئے راہ راست پر آگئے یعنی من کی وہ مرادیں بھی پوری ہوئیں کہ جن کا ہونا مشکل اور ناممکن نظر آتا تھا، کئی بیویوں کے شوہر راہ راست پر آگئے، کئی بدزبان اور کئی بیماریوں میں مبتلا خواتین اور حضرات نہ صرف سدھرے بلکہ آج وہ نیکی کا درس بھی دیتے نظر آتے ہیں۔
کئی جسمانی بیماریوں کے لیے میں نے اپنے مریضوں کو بتایا اور اس کا بیماری سے نجات کا بھی موجب پایا، کئی ایسے امراض ٹھیک ہوئے جن کا ایک سپیفیک ٹائم میں ٹھیک ہونا ممکن نہ تھا مثال کے طور پر بھگندر، ناسور، کینسر، بواسیر، دل کا عارضہ، رسولیاں، ڈر اؤنے خواب، ٹینشن، پریشانی غمگین رہنا، تنگی قلب، اولاد کا نہ ہونا، مفلسی یا مایوسی، لقوہ، جھوٹ بولنا، پینا پلانا، دائمی درد سر، صحت یابی کا عمل رک جانا اور وہ بیماریاں جن کو مکمل شفایابی کے لیے کچھ وقت درکار ہوتا ہے اور بیماری کی شدت کا اندازہ اسی کو ہوسکتا ہے جو کبھی اس تکلیف سے گزرا ہو لیکن اس عمل کے بعد خود مریض آکر یہ بتاتے ہیں کہ شفایابی کا عمل کتنا تیز تر ہوگیا ہے ۔
منگتوں اور فقیروں کا سجدہ
سجدہ فقیری:وہ سجدہ جو فقیر کرتے ہیں جو منگتوں کا کام ہے‘ مانگنا کس سے اللہ سے، تو رو رو کے اور گرگڑا کر رونا، اللہ جل جلالہ سے مانگنے والا رات ایک بجے کے بعد نہیں سوتا، وہ اپنی کمر زمین پر نہیں لگاتا، ستاروں کو دیکھتا رہتا ہے فجر سے بہت پہلے ستارے ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جب موسم انتہائی معتدل ہو جاتا ہے، گرمیوں میں اس وقت گرمی کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور سردیوں میں سردی کا احساس ختم ہو جاتا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری کائنات سمٹ گئی ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے مجھ جیسا فقیر اللہ جل جلالہ کو صدا لگاناہے سوہنیاں ربا سوہنا وقت اے کرم نوازیاں کر جو دل میں آپ کے دعا ہے وہ مانگیں ہر فقیر کے مانگنے کے اپنے الفاظ ہیں اس وقت جو مانگا جاتا ہے اس کو دے دیا جاتا ہے یہی وقت قبولیت کا ہے اس وقت کا مانگا ہوا کبھی واپس نہیں لوٹایا جاتا ویسے بھی سجدے میں جو مانگا جاتا ہے قبول کرلیا جاتا ہے آپ بھی اس وقت ایک سجدہ کرکے اللہ جل جلالہٗ سے اپنی حاجت کو پورا کروا سکتے ہیں جس نے بھی اس طرح سے مانگا اس کو دیا گیا۔لوگوں نے اس طرح سے پاکستان میں مانگا اور ان کو نتیجہ ہزاروں میل دور رہنے والوں کے لیے مل گیا‘ کئی مریضوں کے آپریشن ہونے تھے یہ سجدہ مرض سے نجات کا ذریعہ بن گیا کسی طرح کی بھی حاجت روئی نہ ہوئی ہو، اس ایک سجدے میں پوری ہو جائے گی اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے جائیں اور پڑھیں: سُبْـحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى( 7 مرتبہ)
(۲)اِنَّهٗ سَـمِیْعٌ قَرِیْبٌ(سورئہ سبا ،آیت۵۰)(گیارہ مرتبہ) (۳) لَبَّيْكَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ (گیارہ بار ) اور پھر سجدے میں اپنے مقصد کے دعا مانگیں۔
سجدہ فقیری کا وقت اور وجہ قبولیت
مسجد میں جتنے بجے نماز فجر کھڑی ہوتی ہے اس سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل جب راتیں چھوٹی ہوں اور دو گھنٹہ قبل جب راتیں لمبی ہوں یہ وہ وقت ہے جب میرا سوہنا رب پہلے آسمان سے اپنی مخلوق سے ہم کلام ہوتا ہے۔ حدیث کا بیان اس طرح ہے کہ’’ کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو دوں، ہے کوئی بیمار کہ اس کو شفا ء دوں، ہے کوئی رزق کا مارا کہ اس کو رزق دوں، ہے کوئی معافی مانگنے والا کہ اس کو معاف کردوں، ہے کوئی پریشان حال کہ اس کی پریشانی دور کردوں، ہے کوئی حاجت مانگنے والا کہ اس کی حاجت پوری کردوں اور یہ اللہ جل جلالہ کی ندا کا سلسلہ فجر کی نماز سے پہلے ختم ہو جاتا ہے یقیناً جو کوئی اللہ جل جلالہ کی اس ندا میں آجائے گا اس کی حاجت پوری ہو جائے گی فقیر اس طرح مانگنے سے غفلت نہیں کرتا بس آپ سے درخواست ہے کہ مانگیںتو فقیر بن کے مانگیں‘ سجدے میں مانگنے کا دوسرا راز یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ سجدے میں بندے کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں تیسرا یہ کہ سجدے میں جو پڑھا گیا وہ انتہائی اعلیٰ اور قرابت کا ذریعہ ہے۔سُبْـحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کہہ کے تعریف کی اِنَّهٗ سَـمِیْعٌ قَرِیْبٌکہہ کے قرب حاصل کیا اورلَبَّيْكَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کہہ کر حاضری لگوائی اور سجدے میں دعا کی اور منظوری ہوگی۔اللہ اکبر کہہ کے بیٹھ جائیں دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں الحمدشریف بمع بسم اللہ کے پڑھ کر وہی دعا مانگیں جو سجدہ میں مانگی تھیں۔ یاد رکھیں کہ الحمد شریف کبھی بھی بغیر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے نہ پڑھیں ویسے بھی جو شخص 41بار روزانہ الحمد شریف پڑھتا ہے اللہ پاک اس کی ہر ضرورت کو پورا کرتے ہیں اسکی حاجت روائی ہو جاتی ہے اس کا رازیہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے بیان کیا ہے کہ جب بندہ کہتا ہے اِیَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاكَ نَسْتَعِیْنُ تو اللہ جل جلالہ فرماتا ہے اے بندے جو تو نے مانگا میں نے دے دیا یہاں نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ وہ جو کچھ دے گا بہتر ہی ہوگا۔پڑھنے والوں سے التماس ہے کہ جب دعائیں کسی بھی طور پر قبول نہ ہورہی ہوتو اللہ جل جلالہ کو یہی سجدہ کر کے منالیں اور اپنی مرادیں پائیں انشاء اللہ دعائیں قبول ہونگی، ا
04/12/2025
هل تبحث عن طريقة مضمونة لتعليم نفسك أو أطفالك 👨👩👧👦 القرآن 📖 واللغة العربية 🗣️ من البيت 🏠، مع متابعة والتزام حقيقيَّين؟
في أكاديمية دار القرآن تتعلّم مع نخبة من المعلمين 👨🏫👩🏫، عبر حصص مباشرة 1:1 🎧، وجداول مرنة تناسب عملك ودراستك ⏰🎓، أينما كنت في العالم 🌍.
وتقدَّم دروس للأطفال والكبار 👶🧑🦳، ويشرف عليها معلّمون ومعلّمات يجيدون عدّة لغات 🌐، مع فصول آمنة 🛡️، وتقييمات دورية 📊 وتقارير مفصّلة لوليّ الأمر 👨👧.
سواء كنت مبتدئًا ⭐ أو تريد إتقان التلاوة والتجويد 🎙️ أو حفظ القرآن كاملًا 📖، في أكاديمية دار القرآن نضع لك خطة شخصية 📝 تناسب مستواك وأهدافك 🎯، لتنتقل بثبات من تعلّم الحروف إلى تلاوة متقنة ✅، وحفظ 🧠، وفهم أعمق لدينك وهويّتك 🕊️.
احجز حصتين تجريبيتين الآن مع أكاديمية دار القرآن، وابدأ رحلتك مع القرآن اليوم 🌙✨
📲 واتساب:
92 0300 6722370
🌐 الموقع الإلكتروني:https://www.facebook.com/share/1Aa4FTdndS/
09/11/2025
تانیہ اور نجیب
ایک ان دیکھی گرفت کی کہانی
Disclaimer(یہ ایک سچی کہانی ہے ناموں کی مطابقت محض اتفاقیہ سمجھی جائے اور یہ فرضی نام ہے)
تانیہ ایک سادہ، باحیا اور نرم دل لڑکی تھی۔ کالج میں داخلہ ملا تو اس کی زندگی جیسے بدل گئی۔ اب وہ روز صبح سویرے اٹھتی، نئے کپڑے پہنتی، خوبصورت perfume لگاتی، بالوں کو سنوارتی، اور بہت اہتمام کے ساتھ گھر سے نکلتی۔ اسے لگتا تھا کہ یہ سب معمول کی باتیں ہیں، ہر لڑکی ایسا ہی کرتی ہے۔ مگر اسے یہ احساس نہیں تھا کہ کچھ اعمال ایسے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں مگر روحانی طور پر highly risky ثابت ہو سکتے ہیں۔
پردے میں کوتاہی، غیر محرموں کے سامنے زیب و زینت، اور خوشبو لگا کر باہر نکلنا یہ سب ایسے اعمال تھے جن سے نہ صرف اللہ کی ناراضی حاصل ہوتی ہے بلکہ جنّات کی دنیا میں یہ اعمال ایک طرح کا unwanted attention پیدا کرتے ہیں۔
تانیہ کو یہ بات بالکل معلوم نہ تھی کہ یہ چھوٹی چھوٹی بے احتیاطی ایک دن اس کی پوری زندگی کو بدل دیے گی
وقت گزرتا گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کے ساتھ عجیب و غریب واقعات شروع ہوئے۔ وہ رات کو سوتی تو محسوس کرتی کہ جیسے کوئی اس کے قریب آ رہا ہو۔ کبھی ایسا لگتا جیسے کوئی سایہ اس کے اردگرد حرکت کر رہا ہے۔ کبھی جسم پر سردی سی طاری ہو جاتی، کبھی اچانک بوجھ محسوس ہوتا۔
پہلے پہل اس نے سمجھا کہ شاید stress یا mental pressure ہے، لیکن معاملہ صرف ذہنی نہیں تھا۔
خوابوں میں وہ اجنبی چہرے دیکھنے لگی، کبھی کوئی مرد اسے بلاتا، کبھی کوئی اسے چھونے کی کوشش کرتا۔ وہ ڈر جاتی، جاگ کر قرآن پڑھتی مگر پھر بھی وہ کیفیت ختم نہ ہوتی۔ آہستہ آہستہ وہ عبادت سے بھی دور ہونے لگی، نماز پڑھنے میں دل نہ لگتا، اور ایک عجیب قسم کی guilt feeling اس کے دل میں بیٹھ گئی۔
ایک رات اس نے خواب میں دیکھا کہ اس کے اپنے کسی محرم رشتے دار نے اس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کیا ہے۔
صبح جب آنکھ کھلی تو اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔ دل
میں شدید شرمندگی، خوف اور حیرت۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ خواب کیوں آیا۔ اگلے دن جب اس رشتے دار کو دیکھا تو نظریں جھک گئیں۔ ایسا لگا جیسے اس نے کوئی بہت بڑا گناہ کر لیا ہو۔ مگر وہ کسی سے کہہ نہیں سکتی تھی۔
ماں، باپ، بھائی سب کے سامنے خاموشی تھی۔
یہ کیفیت دراصل psychological trauma میں بدل گئی۔
وقت گزرا تو شادی کی بات چلی۔ مگر عجیب طرح کے رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ رشتے آتے مگر بات بننے سے پہلے ختم ہو جاتی۔ گھر کے ماحول میں بھی بدگمانیاں بڑھ گئیں۔ معمولی باتوں پر جھگڑے، تلخ کلامی اور عجیب سی بے برکتی۔ جیسے کوئی ان سب کے درمیان نفرت ڈال رہا ہو۔
آخر کار ایک رشتہ طے ہوا اور شادی ہو گئی۔
شادی کے دن بھی تانیہ کے چہرے پر خوشی کم اور ایک invisible heaviness زیادہ تھی۔ وہ اندر ہی اندر بوجھ محسوس کر رہی تھی۔
پہلی رات جو ہر لڑکی کے لیے خوشیوں اور محبت کا آغاز ہوتی ہے، تانیہ کے لیے ایک خوفناک تجربہ بن گئی۔
جب شوہر قریب آیا تو اسے ایسا لگا جیسے کوئی ان دونوں کے درمیان حائل ہو گیا ہو۔ اس کا جسم جیسے پتھر بن گیا، دم گھٹنے لگا، اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
نجیب حیران رہ گیا۔ اسے لگا شاید شرم یا گھبراہٹ ہے۔ مگر یہ کیفیت دنوں نہیں، ہفتوں تک برقرار رہی۔
اب تانیہ کی زندگی میں relationship issues بڑھنے لگے۔ شوہر کے ساتھ معمولی باتوں پر بحث، محبت کی کمی، دلوں میں سرد مہری، اور سب سے بڑھ کر رزق کی تنگی۔ نجیب کا کاروبار جو پہلے بہترین چل رہا تھا، اچانک نقصان میں جانے لگا۔
سودے خراب ہو جاتے، کلائنٹس پیچھے ہٹ جاتے، اور گھر کے اخراجات بڑھنے لگے۔
یوں لگتا تھا جیسے کوئی ان کے رزق پر حملہ کر رہا ہو۔
اور حقیقت یہی تھی
عاشق جن صرف عورت کے وجود پر نہیں بلکہ اس کے شوہر کے رزق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے تاکہ financial stress کے ذریعے ان کے رشتے کو تباہ کر دے۔
اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ گھر میں کھانے پینے کے لالے پڑ گئے۔ نجیب پریشان، تانیہ افسردہ۔
دونوں ایک دوسرے کو الزام دینے لگے۔ یہ وہ وقت تھا جب اللہ نے ان کے لیے ایک راستہ کھولا۔
ایک دن تانیہ نے قرآن کی ایک آیت پڑھی جس نے اس کے دل کو ہلا دیا
“اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے۔” (الاسراء: 82)
اس کے دل میں خیال آیا کہ شاید اس کی بیماری جسمانی نہیں، بلکہ روحانی ہے۔
اس نے نجیب کو سب کچھ بتایا خواب، احساسات، خوف، سب کچھ۔
نجیب پہلے تو حیران ہوا، مگر پھر اسے احساس ہوا کہ شاید یہی وہ اصل وجہ ہے جو ان کے درمیان دیوار بن چکی ہے۔
نجیب اسے ایک نیک اور تجربہ کار راقی کے پاس لے گیا۔
راقی صاحب نے دونوں کو سمجھایا کہ یہ معاملہ عاشق جن (possessive jinn) کا ہے۔
یہ جنات ایسے ہوتے ہیں جو عورت کے حسن، خوشبو یا بناؤ سنگھار سے متاثر ہو کر اس سے تعلق چاہتے ہیں، اور پھر اس کے جسم، ذہن اور حتیٰ کہ شوہر کی قسمت تک پر قبضہ کر لیتے ہیں۔
راقی نے بتایا کہ یہ علاج کوئی quick fix نہیں، بلکہ صبر، استقامت
اور عبادت کا طویل عمل ہے۔
اور یہ کہ انہوں نے کہا کہ یہ شیاطین دعا سے بہت شدید خائف ہوتے ہیں اپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس شیطان کے خلاف اللہ سے ہاتھ اٹھا کے دعا کیا کریں
تانیہ اور نجیب نے اللہ پر بھروسہ کیا۔
انہوں نے قرآن کی تلاوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا۔
سورۃ البقرہ گھر میں روز پڑھی جانے لگی۔
آیت الکرسی، معوذتین اور آیاتِ سحر دن رات دہرانے لگے۔جب بھی اسے کوئی ایسا خواب ستاتا تو وہ سورۃ النور کی تلاوت کرتی اور وہ بہت راحت محسوس کرتی اور اس خواب کی وجہ سے جو جسم پر اثر محسوس ہوتا تھا وہ فو فورا ظاہر ہو جاتا
تانیہ نے خوشبو لگانا، زینت دکھانا، اور
غیر شرعی عادات چھوڑ دیں۔
نجیب نے سچائی، صبر، اور دعا کو اپنا سہارا بنا لیا۔وہ اس کی ہمہ وقت نگرانی رکھنے لگا اور اس بات کا خاص خیال رکھتا کہ جیسے راقی صاحب نے ہدایات دی کہ پانی دم کر کے وہ پی رہی ہے جسم پر جسم پر دم کیا ہوا تیل لگا رہی ہے اس نے دم والے پانی سے غسل کیا یا نہیں اور ایسے ہی جو صورتیں سننے کے لیے دی ہیں ان کو وہ روز صبح شام سن رہی ہے یا نہیں اور وہ اپنے اس عمل میں بہت اخلاص اور محنت سے اس کے لیے ہمہ وقت موجود رہتا
کچھ ہی عرصے میں حالات بدلنے لگے۔
تانیہ کے چہرے پر سکون واپس آ گیا۔ خواب بدل گئے، خوف ختم ہونے لگا۔
کچھ ہفتے گزرے کہ نجیب نے محسوس کیا کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں
نجیب کے کاروبار میں دوبارہ برکت آنے لگی، قرض اترنے لگے، اور گھر میں محبت لوٹ آئی۔
وہ جان گئے کہ قرآن ہی اصل شفا ہے، اور جب بندہ اللہ کی پناہ میں آتا ہے تو کوئی جن، کوئی جادو، کوئی شیطان اس پر غالب نہیں آ سکتا۔
تانیہ اور نجیب کی کہانی صرف ایک جوڑے کی نہیں یہ ہزاروں گھروں کی حقیقت ہے۔
جہاں عورتیں خاموشی سے spiritual harassment برداشت کر رہی ہیں، مگر زبان نہیں کھولتیں۔
جہاں شوہر رزق کی تنگی کو محض قسمت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے ایک روحانی نظام کارفرما ہوتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ شیطان کا سب سے بڑا وار خاندان پر ہوتا ہے
وہ میاں بیوی کے درمیان نفرت، شک، اور غربت کے ذریعے محبت کو مٹا دیتا ہے۔
لیکن جو لوگ قرآن کو اپنا سہارا بناتے ہیں، ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے:
“شیطان کی چال کمزور ہے۔” (النساء: 76)
01/10/2025
17/09/2025
صرف واٹس ایپ پر رابطہ کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Gharibabad Khanpur
Khanpur
64100