Jauhar Pakistan

Jauhar Pakistan

Share

JMET is a non-profitable civil society organization. It has been working in education & health since 1969

09/07/2025

ربط اور جوہر وقف پاکستان کے زیرِ اہتمام
ایک پُرنور و پُرمعنویت محفلِ مسالمہ کا اہتمام بعنایتِ الٰہی انکسار و احترام عمل میں لایا جا رہا ہے
اہلِ بصیرت و اصحابِ عشق کو صدقِ دل سے دعوتِ شمولیت دی جاتی ہے

07/06/2025

عید الاضحی مبارک!

اپنے بچوں کو قربانی کی حقیقت سے روشناس کرائیں کہ یہ صرف جانور ذبح کرنے اور گوشت تقسیم کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنی خواہشات، لالچ اور انا کی قربانی دینے کا درس ہے۔ یہ تو درحقیقت "اپنی ہر پیاری چیز کو اللہ کی راہ میں قربان کر دینے" کا سبق ہے۔

جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ ہمیں "سر تسلیم خم کر دینے" کی تعلیم دیتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی اپنی انا، ضد، لالچ اور خود غرضی کو اللہ کے سامنے قربان کرنا ہوگا۔

قربانی کا گوشت بانٹیں. مگر یاد رکھیں، حقیقی قربانی تو وہ ہے جب ہم اپنے دل کی سختی، غرور اور مفاد پرستی کو ذبح کر دیں۔

سلامت رہیں، سلامتی کا باعث بنیں۔
محتشم نقوی

06/04/2024
27/09/2023

معروف ڈرامہ نگار نورالہدی شاہ کی معافی

تقریباً چھ سال پہلے دبئی کے ہسپتال میں میری نواسی وقت سے بہت پہلے ساتویں مہینے کی ابتدا میں ہی پیدا ہو گئی۔ میرے گھر کا وہ پہلا بچہ تھی۔ شادی کے چار سال بعد میری بیٹی کے ہاں بچہ ہوا تھا مگر وہ بھی ان حالات میں کہ لگتا تھا کہ مکمل بنی بھی نہیں ہے۔ بالوں بھرا ننھا سا بندر کا بچہ جس کا پورا ہاتھ میری انگلی کی ایک پور پر آتا تھا۔

زندہ رہے گی یا نہیں؟ زندہ رہے گی تو نارمل ہوگی یا نہیں؟
ان سوالوں کا جواب ڈاکٹرز کے پاس بھی نہیں تھا ۔ہر روز ڈاکٹرز بتاتے کہ بس ختم ہوا چاہتی ہے، فوراً پہنچو۔ بھاگے بھاگے پہنچتے۔ پھر کچھ سانسیں لینا شروع کرتی تو ایک امید کے ساتھ گھر لوٹتے۔ مگر اگلے دن امید پھر دم توڑ دیتی۔

ہاتھوں پیروں کی انگلیاں نیلی پڑ جاتیں۔ پوچھنے پر بتایا جاتا کہ اگر بلڈ سرکیولیشن نارمل ہوگئی تو یہ ٹھیک ہو جائیں گی ورنہ جسم کا ناکارہ حصّہ بن جائیں گی۔ وینٹ پر بے دم پڑی بچی نے ہماری سانسیں پھلا دیں۔ کبھی دماغ کا ٹیسٹ بتاتا کہ دماغی طور پر نارمل نہ ہوگی۔ کبھی دل میں سوراخ ملتا۔ کبھی آنکھوں کا معاملہ سامنے آ جاتا۔ اوپر سے خرچہ اتنا کہ تین لاکھ درہم پندرہ دن کا بل بن گیا۔ میرا حال یہ تھا کہ میرے سامنے میری اپنی بیٹی کے بھی آنسو تھے اور اس کے بچے کی ناممکن زندگی بھی۔ تھک کر چوُر ہو گئی۔ ایک بار تو ڈاکٹر کو بھی کہہ دیا کہ اس کو بچانے کی کوشش نہ کریں۔ بچ بھی گئی تو پتہ نہیں کس حال میں ہوگی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کون ہوتی ہیں زندگی چھیننے کا فیصلہ کرنے والی!

انہی حالات میں ایک دن نماز میں کھڑے ہوئے میں رو دی۔ اللہ کو بے بسی سے مخاطب کرکے کہا کہ یااللہ مجھ سے ایسا کیا گناہ ہو گیا ہے کہ جس کی یہ سزا ہے؟

بالکل ہی اگلے لمحے چھپاک سے ایک منظر کی تصویر اور اس میں ایک چہرہ صرف ایک سیکنڈ کے لیے میری نگاہ یا ذہن سے گزر گیا اور حیرت کی بات کہ اگلے سیکنڈ میں مجھے یاد بھی نہ رہا کہ میں نے کیا دیکھا تھا۔

پوری نماز اسی کشمکش میں گزری پر یاد ہی نہ آیا۔ اگلے دو دن، دبئی کی سڑکوں پر ہسپتال اور گھر کے بیچ آتے جاتے، رات کو بستر میں، میں اسی کشمکش سے گزرتی رہی۔ پر یاد ہی نہ آیا کہ دیکھا کیا تھا میں نے۔ اپنے جتنے بھی گناہوں اور خطاؤں کی فہرست میرے ذہن میں تھی، انہیں گنتی رہی مگر کسی سے اس منظر کا نشان نہیں مل رہا تھا۔

دو دن بعد اچانک یاد آ گیا کہ وہ کیا منظر اور چہرہ تھا۔

پندرہ برس پرانا وہ واقعہ مجھے کبھی بھی یاد نہ آیا تھا۔

میری ایک بہت ہی قریبی رشتہ دار لڑکی، شوہر اور حالات کے ہاتھوں ستائی ہوئی، دو بچوں کو ساتھ لیے چھوٹے سے ٹاؤن سے حیدرآباد شفٹ ہوئی تھی کہ اس کا تو مستقبل تاریک تھا ہی پر کسی طرح بچوں کا مستقبل سنور جائے۔ اس کے بیٹے بیٹی کو میں نے حیدرآباد کے بہت ہی اچھے اسکولوں میں داخل کروایا۔ اسے بچوں سمیت تب تک اپنے گھر میں رکھا جب تک ان کی رہائش کا بندوبست نہ ہوا۔ اسی دوران اس کی بیٹی کا نویں کلاس کا بورڈ کا امتحان بھی ہوا اور وہ بچی اے گریڈ مارکس لے کر پاس ہو گئی۔ رزلٹ کے اگلے دن وہ بچی روتی ہوئی اسکول سے لوٹی۔ پتہ چلا کہ کلاس ٹیچر مس حبیب النسا نے اسے پوری کلاس کے سامنے کہا ہے کہ تم تو اتنے نمبر لینے والی نہیں ہو۔ کس سے سفارش کروائی ہے؟
بھری کلاس میں اس بے عزتی پر وہ بچی بری طرح رو رہی تھی۔ بچی کی حالت دیکھ کر ماں بھی رو رہی تھی۔ اوپر سے بچی نے کہہ دیا کہ اب وہ اس اسکول نہیں جائے گی۔

میں ہمیشہ سے مظلوم کے حق کے لیے لڑنے مرنے پر تُل جانے والی رہی ہوں اور اس طرح کے جھگڑوں میں خدائی فوجدار کی طرح کوُد پڑنے کی عادت رہی ہے میری۔

فوراً گاڑی نکالی اور پہنچ گئی اسکول۔ حیدرآباد کے اکثر لوگ مجھے پہچانتے تھے۔ میں سیدھی پرنسپل کے آفس میں گئی اور ہنگامہ مچا دیا کہ ایک بچی اپنی محنت سے پڑھی ہے۔ ایک چھوٹے ٹاؤن سے مستقبل بنانے آئی ہے اور حالات کی وجہ سے پہلے سے ہی سہمی ہوئی ہے۔ اس کی اس طرح ٹیچر حبیب النسا نے پوری کلاس کے سامنے انسلٹ کی ہے!

میرے ہنگامے پر مس حبیب النسا کو حاضر کیا گیا۔ سادہ سی خاتون مگر چہرے پر ٹھہراؤ۔ کہنے لگیں ہاں میں نے کہا ہے، کیونکہ مجھے وہ بچی اتنی ہوشیار نہیں لگتی جتنے نمبر اس نے لیے ہیں۔ یقیناً یا سفارش کی ہے، یا کاپی کی ہے۔

مجھے پتہ تھا کہ وہ بچی بچاری سفارش کروانے کی طاقت نہیں رکھتی۔ نہ ہی اپنی سہمی ہوئی شخصیت کی وجہ سے کاپی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رٹے مار کر اس نے امتحان دیا تھا اور اتفاق سے وہی سوال آگئے جن کے جواب اسے یاد تھے۔

میں مس حبیب النسا پر برس پڑی کہ یہ کہاں کا انصاف ہے! آپ صرف چھوٹے شہر کی بچی دیکھ کر اسے کمتر قرار دے رہی ہیں اور اس کا مستقبل برباد کر رہی ہیں۔ میری آواز یوں بھی بھاری ہے، اس میں مزید گرج آ گئی۔ مس حبیب النسا اسکول کی باقی ٹیچرز کی بھی ناپسندیدہ تھیں۔ سو ان کی کھنچائی کا تماشہ دیکھنے پرنسپل کے آفس کے باہر ٹیچرز جمع ہوگئیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ بھی خوش تھیں کہ چلو کوئی تو ہے مس حبیب النسا کو سنانے والا۔

قصہ مختصر کہ پرنسپل نے بھی کچھ سخت الفاظ کے ساتھ اس کی کھنچائی کی اور میرے ساتھ میرے گھر آ کر اس بچی کو سوری کہا۔ یوں یہ معاملہ تمام ہوا۔

یہ نیتاً میری ایک نیکی تھی۔ ایک مظلوم ماں اور اس کی بچی کی مدد۔

دبئی میں جب سسک کر نماز میں جب میں نے اللہ کو کہا کہ مجھ سے ایسی کیا غلطی ہوگئی ہے جس کی سزا میں مجھ پر اولاد کی تکلیف آ گئی ہے۔۔۔ جواب میں وہ حیات اسکول کی پرنسپل کے آفس کے اس منظر کی ایک سیکنڈ کی تصویری جھلک اور مس حبیب النسا کا چہرہ تھا۔

میں کراچی آئی۔

میری ایک کزن مس حبیب النسا کے ساتھ اسی اسکول میں پڑھاتی رہی تھیں۔ میں نے سلویٰ سے مس حبیب النسا کا نمبر مانگا اور اسے پوری بات بتائی۔
سلویٰ بتانے لگی میں نے بچپن مس حبیب النسا کے ساتھ قرآن پڑھتے ہوئے گزارا ہے۔ وہ حافظِ قران ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ اور حدیث سنَد کے ساتھ پڑھی ہوئی ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے اپنے ضعیف والدین کی خدمت میں جوانی گزار دی مگر شادی نہ کی کہ والدین کو ان کی ضرورت تھی۔ اپنے آخری دنوں میں ان کے والد بہت ہی ضعیف اور مشکل ہو گئے تھے مگر وہ کبھی اس مشکل ڈیوٹی میں اُف تک نہ کہتی تھیں بلکہ والد کے پیچھے پیچھے دوڑی دوڑی پھرتی تھیں۔ ان کے غسل خانے کے کام بھی وہ اپنے ہاتھوں سے کرتی تھیں۔
سلویٰ سے نمبر لے کر میں نے مس حبیب النسا کو فون کیا۔ میرا نام سن کر وہ خوش ہو گئیں۔ میں نے کہا کہ میں ایک ضروری کام کے سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ فوراً کہا کہ آ جائیے۔

اگلے دن صبح ہوتے ہی میں کراچی سے حیدرآباد سیدھی ان کے گھر پہنچ گئی۔ وہ کچھ بوڑھی اور کمزور ہو چکی تھیں۔ اس بات پر خوش تھیں کہ ایک مشہور رائٹر خاص طور پر ان سے ملنے آئی ہے۔

خوش ہو کر کہنے لگیں کہ میں ریٹائر ہو چکی ہوں اور حیات اسکول چھوڑ چکی ہوں اور ایک پرائیویٹ اسکول میں پرنسپل ہوں۔ آپ کا فون آیا تو میں نے اپنی ٹیچرز کو بتایا کہ نورالہدیٰ شاہ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں۔ میری ٹیچرز نے کہا کہ ان کا بیوہ عورت کے حقوق سے متعلق ایک ڈرامہ چل رہا ہے۔ وہ اس موضوع پر آپ سے شرعی مشورہ کرنا چاہتی ہوں گی۔

میں نے کہا، آپ کو یاد ہے میں حیات اسکول میں آپ کی شکایت لے کر آئی تھی؟

انہوں نے لمحہ بھر سوچا، پھر انکار میں سر ہلا دیا کہ مجھے یاد نہیں۔

میں نے یاد دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ پرنسپل کے آفس میں میں بہت اونچی آواز میں سخت الفاظ کے ساتھ آپ سے لڑی تھی۔۔آپ کی انسلٹ کی تھی۔ آپ کو یاد ہے؟
ذرا سوچا، پھر انکار میں سر ہلا دیا۔ انہیں واقعی وہ واقعہ یاد نہیں تھا۔

قریب ہی بیٹھے ہوئے میں نے جھک کر ان کے پیر چھو لیے اور ان کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میں نے ایسا کیا تھا اور میں آپ سے اپنے اس عمل کی معافی مانگنے آئی ہوں۔

مس حبیب النسا نے ایک دم سے معافی کے لیے جڑے میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ یہ نہیں پوچھا کہ آج اتنے برسوں بعد کیسے یہ خیال آیا اور کس مجبوری نے تمہیں جھکایا ہے۔ انتہائی سنجیدگی سے کہا میں نے آپ کو معاف کردیا ہوگا جو وہ بات یاد نہیں رہی پھر بھی میں نے آپ کو دل سے معاف کیا۔ اللہ میری معافی آپ کے لیے قبول فرمائے اور آپ جس بھی مشکل میں ہیں اسے آسان کرے اور آپ پر آئی ہوئی آزمائش کو معاف کرے۔

اس کے بعد انہوں نے بات بدل دی۔ بڑی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں کرتی رہیں۔ بڑے شوق سے مجھے کھلاتی پلاتی رہیں۔ دعاؤں کے ساتھ مجھے خدا حافظ کہا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات میں انہوں نے بات کا رُخ اس طرف آنے ہی نہیں دیا کہ میں اپنی مجبوری کی اصل کہانی انہیں سناتی۔

چند دنوں بعد میں واپس دبئی لوٹ گئی جہاں اینکیوبیٹر میں ایک ننھی سی جان میں ہماری جان پھنسی ہوئی تھی۔

میری وہ نواسی اس سال ستمبر میں چھ سال کی ہو جائے گی۔ ماشالله بہت ہی شرارتی ہے۔ بہت ہی ذہین اور باتونی۔ گھنگریالے بالوں اور بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ بالکل ہی گڑیا سی لگتی ہے۔ اللہ نے اسے ہر عیب سے بچا لیا۔ بس ایک ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی اوپر کی پور نیلی پڑنے کے بعد دوبارہ نارمل حالت میں نہیں آئی اور انگلی سے جھڑ گئی۔ اس ایک پور کی کمی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان کی تخلیق کا معاملہ کیا ہے اور کس کے ہاتھ میں ہے۔
مس حبیب النسا آج بھی حیات ہیں۔

سوشل میڈیا نے حقوق العباد کے معاملے میں معافی کو بہت آسان کر دیا ہے۔ ایک میسج بناوْ نئے اسلامی سال کے آغاز یا شبِ برات پر پوسٹ لگادو کہ اگر مجھ سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو یا زیادتی کی ہو تو اللّہ کے واسطے معاف کر دے۔۔اور پرسکون ہو کر سو جاوْ۔

اتنی آسانی سے حقوق العباد کی معافیاں اگر روزِ محشر بھی ہو گئیں تو یقیناً حساب مختصر ہو جائے گا اور پچاس ہزار سال کے برابر گرم ترین دن جس نے انسانوں کو سروں تک پسینے میں ڈبو دیا ہو گا ،کی ضرورت نہیں رہے گی اور ہم جلد از جلد بہشت کے باغوں میں پہنچ چکے ہوں گے
معافیوں کی اسی طرح کی اک رات میں حیدرآباد سے کراچی سفر کر رہی تھی۔ اسی سفر کے دوران سوشل میڈیا پر معافیوں کا لین دین پڑھتے ہوئے مجھے اپنا یہ ذاتی تجربہ یاد آ گیا۔
یہ تجربہ مجھے سکھا گیا کہ معافی دراصل کیا چیز ہوتی ہے اور نیکی کرنے کا تکبر انسان کو کس طرح سزا کا مستحق بناتا ہے ۔ ہم محض اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم رسمی معافی تلافی کرتے ہوئے پچھلی گلی سے بہشت کی طرف نکل جائیں گے۔

معافی آپ کی انا کے ٹکڑے ٹکڑے مانگتی ہے جو رب کو نہیں چاہیں، بلکہ اس انسان کے پیروں میں جا کر رکھنے ہوتے ہیں، جس کے ساتھ آپ نے زیادتی کی ہوتی ہے

19/09/2023

بیٹیوں کی تربیت کے حوالے سے صائمہ اکرم چوہدری کی گزارشات۔۔
===
"وہ اٹھائیس سالہ لڑکی PHD کا انٹری ٹیسٹ دینے کراچی آئی تھی اور کچھ وجوہات کی بنا پر اسے دو دن کی بجائے، میرے گھر میں پورا ہفتہ رہنا پڑا اور یہ پورا ہفتہ میری قوت برداشت پر ایک عظیم امتحان تھا، اور میرا ارادہ تھا کہ اسکی والدہ جہاں کہیں مجھے ملیں گی میں اسے اونچی ٹانگ والا سیلوٹ ضرور ماروں گی جو ہمارے فوجی ، واہگہ بارڈ پر پڑوسیوں کے سامنے مارتے ہیں ۔۔
اس لڑکی کے قیام کے دوران میری ہیلپر سوشیلہ نے کوئی چھتیس بار مجھے کہا کہ باجی اگر اس لڑکی کی ماں نے تو اسے کچھ نہیں سیکھایا لیکن تعلیم نے اسے اتنا تو شعور دیا ہوگا کہ وہ کم ازکم اپنی ذاتی صفائی اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رہنا سیکھ لیتی، اور صفائی تو آپ لوگوں کے مذہب میں نصف ایمان ہے ۔ سوشیلہ کا کہنا بھی ٹھیک تھا۔
پانچ دن میں اسکے نئی بیڈ شیٹ انتہائی غلیظ ہو چکی تھی، اسے اپنے بیڈ پر ٹرے رکھ کر کھانا کھانے کی بُری عادت تھی جسکے نتیجے میں نئ بیڈ شیٹ پر کئِ داغ لگ چکے تھے ،ڈریسنگ پر رکھا اسکا ہیر برش بالوں سے بھرا ہوا تھا، سائِڈ ٹیبل پر چائے کے گندے کپ اور گلاس، چاکلیٹ، بسکٹ، اور چپس کے پیکٹ کے ریپر، اسکے میلے کپڑے، بکھرے جوتے دوتین دن تو میری ہیلپر نے پورے روم سے سمیٹے اور پھر میں نے اسے منع کر دیا اور اگلے دو تین دن میں ،میں نے اسکی گندگی کی انتہاء کے ساتھ اسکی ڈھٹائی کی انتہا بھی دیکھ لی ۔جب وہ روم سے نکلتی تو پورا کمرہ پانی پت کا میدان بنا ہوتا۔
وہ فخریہ اندازمیں مجھے بتاتی تھی کہ اسکی ماں نے اسے کبھی ہل کر پانی بھی نہیں پینے دیااور اسے ڈسٹنگ سے چڑ ہے اور واڈروب سیٹ بھی اسکی والدہ کرتی تھیں کیونکہ اسکی والدہ اس سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھتی تھیں ، جنکے مطابق میکے میں بچیوں کو عیاشی کروا دو، پتا نہیں سسرال کیسا ملے۔ انکے سسرال کا تو پتا نہیں لیکن مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اگلوں کو کیسی بہو ملنے والی ہے اور مجھے سوچ کر ہی ان سے ابھی سے ہمدردی ہونے لگی کیونکہ جب آپکو گندگی محسوس نہ ہو اور پھوہڑ پن آپکے مزاج کا حصہ بن جائے تو پھر کوئی مائی کا لال یا سسرال ،آپ کو تبدیل نہیں کر سکتا اور ایسی کئی مثالیں میرے اردگرد سانس لیتی ، دوسروں کو بیزار کرتی موجود ہیں۔

اسی طرح اسلام آباد میں ایک فیملی فرینڈ کے ہاں جانا ہوا، پورا گھر بکھرا ہوا اور انکی دونوں یونیورسٹی جانے والی بیٹیاں مزے سے اپنے اپنے آئی پیڈ منہ پر چپکائے لیٹی تھیں کہ ماں بیمار تھی اور میڈ ایک ہفتے کی چھٹی پر تھی اور انہیں ڈھنگ سے چائے بھی بنانی نہیں آتی تھی اور انکے والد بڑے فخر سے ہمیں یہ بات بتا رہے تھے کہ انہوں نے بیٹیوں کو بہت لاڈ سے پالا ہے اس لیے
انہیں دو جوان بیٹیوں کی موجودگی میں بھی چاَئے ہوٹل سے منگوا کر پلانی پڑی، اور میں بس انکی بچیوں کی ادائیں ہی دیکھتی رہ گئی ،جنہیں نہ ماں کی بیماری کی ٹینشن تھی اور نہ باپ کے مہمانوں کی، اور جو چائے انہوں نے سرو کی ، وہ ٹرے میں چھلک رہی تھی اور چائے کے ایک کپ کے کنارے بھی ٹوٹے ہوئے تھے ۔

آج فرح بھٹو، کی وال پر لڑکیوں کی تربیت کے حوالے سے پوسٹ دیکھی تو بہت سے کمنٹس پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس معاملے میں بیٹیوں کی نہیں بلکہ ماوں کی تربیت کی زیادہ ضرورت ہے، جنہوں نے اولاد کی پڑھائِ کوہوا بنا کر انہیں اپنی ہتھیلی کا چھالہ بنا لیا ہے ، اور ان کو لگتا ہے کہ بچوں کو صرف اچھے گریڈز کی ضرورت ہے ،اور وقت پڑنے پر وہ سب سیکھ جاتے ہیں ، بلاشبہ وہ سیکھ جاتے ہیں لیکن اس کام میں مہارت آنے تک کا جو وقفہ ہوتا ہے وہ ان کے آس پاس رہنے والے لوگوں کے صبر کا امتحان ہوتا ہے ، اور اسی عرصے میں کئی رشتے بنتے اور بگڑ جاتے ہیں ۔
کچھ پیاری بہنوں نے اپنے تلخ تجربات کی روشنی میں کمنٹس کر رکھے تھے کہ جو سگھڑ ہوتی ہیں یا جن کو سارے کام آتے ہیں انہیں کون سا سسرال والے سر پر بیٹھا دیتے ہیں، ان پیاری بہنوں سے صرف اتنی گذارش ہے کہ کچھ کام انسان کو اپنی ذات کے لیے بھی کر لینے چاہیے ، صفائی نصف ایمان ہے اور اپنے اردگرد کا اچھا ماحول اور اچھا کھانا، صرف سسرالیوں کا ہی نہیں آپ کا بھی اتنا ہی حق ہے ۔اس لیے یہ سیلقہ کسی اور کو امپریس کرنے کے لیے نہیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سیکھیں اس سے آپ کی اپنی ہی زندگی آسان ہوگی ۔
بہت سال پہلے جب میں کلاس فور کی اسٹوڈنٹ تھی تو میری والدہ نے گھر میں ہم دونوں بہنوں کی برتن دھونے ، گھر کو سمیٹنے اور پوچا مارنے کی ڈیوٹیز لگائ ہوئی تھیں ، جو اس وقت مجھے سخت ناگوار گذرتی تھیں ،ہمارے گھر میں لڑکوں کو بھی کوئی خاص پروٹوکول دینے کا رواج نہیں تھا، دونوں بھائی اپنے کپڑے خود پریس کرتے، اپناکھانا خود نکال کر برتن کچن میں رکھ کر آتے اور اپنے جوتے خود پالش کرتے ،اور انکی یہ عادتیں آج تک پختہ ہیں اس معاملے میں انہوں نے کبھی کسی کو تنگ نہیں کیا۔۔
میری والدہ کو خاندان والے بہت باتیں سناتے تھے کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو بہت چھوٹی عمر میں کام پر لگا دیا ہے لیکن اسکا یہ فائدہ ہوا کہ بہت بچپن میں ہی ہمیں چیزوں کو سمیٹنا، اور مینج کرنا آگیا۔
پھر مجھے کتابیں پڑھنے اور لکھنے کی لت گئی، اس کے بعد ہوسٹل چلی گئی، اور واپس آئ تو کالج کی لیکچرر شپ مل گئی، اس عرصے میں کوکنگ پس پشت چلی گئی، روٹی بنانی تو بہت بچپن میں ماں نے زبردستی سیکھا دی تھی لیکن کوکنگ کی طرف سے میرا ہاتھ "ہولا " تھا کیونکہ گھر میں امی اور بجیا کی موجودگی میں مجھے پریکٹس کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ جب بھرے سسرال میں گئی تو شروع میں تو مجھے چیزوںکے حساب کتاب کا ہی پتا نہیں چلتا تھا، اور میری دیورانیاں اس کام میں طاق تھیں اور ہر کام منٹوں میں نبٹا لیتی تھیں، اور میں دیکھتی رہ جاتی ۔
آج شادی کے پندرہ سال بعد بھی گھر میں کوئی آٹھ دس مہمان ایک ساتھ آجائِیں تو میں گھبرا جاتی ہوں کیونکہ مجھے کھانے کی مقدار کا ہی اندازہ نہیں ہوتا اور میرا ماننا ہے کہ کوکنگ میں مہارت ہمیشہ پریکٹس سے آتی ہے اور اسکا حل اب میں نے خانساماں رکھ کر نکال لیا ہے ،لیکن میری ماں ہمیشہ کہتی تھی کہ کسی سے کام کروانے کے لیے خود کام کرنا آنا چاہیے تب ہی انسان کسی اور سے کروا سکتا ہے ورنہ ہیلپر بہت چونا لگاتے ہیں۔

اسی طرح اپنی شادی کے ایک ہفتے کے بعد میں نے اپنی کسی سسرالی رشتے دار کو فون کر کے فروٹ ٹرائفل بنانے کی ریسپی پوچھی تو ڈاکٹر صاھب نے مجھے اس دن بڑے دوستانہ انداز میں یہ بات سمجھائی کہ تم کوکنگ چینلز سے چیزیں بنانا سیکھ لو،لیکن کسی رشتے دار کی ہیلپ مت لو، ورنہ ساری زندگی یہ بات سننے کو ملے گی کہ اسے کھانا تو ہم نے بنانا سیکھایا تھا اور بعد میں تم کوکنگ میں ایکسپرٹ بھی ہو جاو گی تو بھی یہ بات ساری زندگی تمہارے لیے طعنہ بنی رہے گی ،کیونکہ دنیا کی اس معاملے میں یاداشت بہت تیز ہوتی ہے اور لوگ کریڈٹ لینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔مجھے پندرہ سالوں میں بارہا اس چیز کا احساس ہوا کہ مجھے بہت عرصہ پہلے ہی کوکنگ سیکھ لینی چاہیے تھی تاکہ اب تک میں پرفیکٹ ہو چکی ہوتی ۔ میاں کی بات کی گہرائی کا اندازہ اس دن ہوا ۔جب انکے کسی دوست کے ہاں دعوت پر جانا ہوا تو انکی ڈاکٹر بہو کے ہاتھ میں بہت لذت تھی، اور ہم نے کھل کر تعریف کی تو ساس کی طرف سے جلا کٹا جواب ملا، ارے رہنے دیں ،ماں کے گھر سے تو صرف ڈاکٹری کی ڈگری لے کر آئی تھی، اس کو گھر داری اور کھانا بنانا تو ہم نے سیکھایا اور صرف ڈگریوں سے گھر تھوڑا چلتے ہیں ۔
اس کے بعد انکی ساس صاحبہ نے اپنی بہو کے پھوہڑ پنے کے قصے نمک مرچ لگا کر سنائے ، اور اس بیچاری کا چہرہ ضبط کی کوشش میں سرخ ہو رہا تھا، اور تب میں نے انکی بہو کی خفت مٹانے کے لیے سرسری انداز میں بتایا کہ مجھے تو خود ساری کوکنگ میرے میاں نے سیکھائی ہے ، اور یہ بات کچھ غلط بھی نہیں تھی،چکن پلاو بنا نا میں نے ڈاکٹر صاحب ہی سے سیکھا تھا لیکن ہر لڑکی کو اتنا اچھا لائف پارٹنر یا سسرال ملے یہ ضروری نہیں ۔
میں آج بھی مانتی ہوں کہ مجھے گھر کو مینج کرنا، ہیلپرز سے کام لینا، ڈسٹنگ کرنا، اور صفائی ستھرائی کے سارے کام بہت اچھی طرح آتے ہیں کیونکہ یہ کام میں نے بہت بچپن میں سیکھ لیے تھے لیکن کوکنگ سے جان چھڑائی تو اس کام میں مہارت آج تک نہیں آسکی۔

میں اپنی اسٹوڈنٹس کو ایک بات ضرور سمجھاتی ہوں کہ زندگی گذارنے کا سلیقہ اپنے سسرال کے لیے نہیں "اپنی" زندگی کو آسان بنانے کے لیے سیکھیں کیونکہ ایک متوازن اور نفیس ماحول کی آپکو خود بھی اشد ضرورت ہوتی ہے ، اور اردگرد کا گندا ماحول آپ کی نفسیات پر بھی بہت بُرا اثر ڈالتا ہے ، اس لیے اپنی زندگی میں سلیقہ اپنے لیے پیدا کریں ۔
اس سال یورپ کے ٹرپ میں جتنے گھروں میں بھی جانا ہوا، ان کے کھانے کی ٹیبلز ان کے بچے اور اسپیشلی لڑکے سیٹ کر رہے تھے، کھانے کے بعد برتن، واش کرنے کے لیے مشین میں لگانے کا کام بھی انہی بچوں کے ذمے تھا، اور مجھے یورپ جا کر پتا چلا کہ وہاں بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو سکول کی طرف سے یہ ذمے داری دی جاتی ہے کہ وہ گھر میں پیرنٹس کی ہیلپ
کر یں گے اور پھر وہ لوگ پیرنٹس سے باقاعدہ پوچھتے ہیں ، اس لیے وہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی چھوٹی عمر سے ذمے داری نبھانا سیکھ جاتے ہیں ، انہیں ایک مخصوص عمر میں سکول کے بعد، کسی نہ کسی ریسٹورنٹ ، مال یا کسی بھی جگہ پر کوئی نہ کوئی کام بھی کرنا ہوتا ہے، اس سے چھوٹی عمر سے ہی ان میں کمانے کی لگن پیدا ہو جاتی ہے،جبکہ ہمارے ہاں پیرنٹس بچوں کی تعلیم، ان کی شادیاں اور پھر شادیوں کے بعد انہیں فنانشلی سیٹ کرنے میں ہی اپنی ساری زندگیاں برباد کر دیتے ہیں ، اور ان میں سے اکثر بچے سیٹ ہونے کے بعد جب انہیں پتا چل جاتا ہے کہ اب والدین کے پاس کچھ نہیں رہا، تو بدقسمتی سے وہ بھی انہیں کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ ویسے بھی جو چیز بغیر محنت کے حاصل ہو جائے اسکی اہمیت کا احساس بھی کم لوگوں کو ہوتا ہے
۔
میں اس روئیے کے بھی خلاف ہوں جہاں ہم ہر گھر کی ہر ذمے داری لڑکیوں پر ڈال کر اپنے لڑکوں کو ہڈ حرام اور سست بنا دیتے ہیں، اور بھائیوں کے سارے کام انکی بہنوں کے ذمے لگا دئیے جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ کچن میں سے پانی کا گلاس اٹھا کر خود پانی پینے کے بھی روادار نہیں ہوتے ، میں نے اپنے گھر میں ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا تھا ، اس لیے مجھے کبھی اچھا نہیں لگا کہ ایک ہٹا کٹا نوجوان لیٹا ہوااپنی بہنوں پر حکم چلا رہا ہو۔

میں اپنی فرینڈز اور سب جاننے والیوں سے یہی کہتی ہوں کہ صرف بیٹیوں کو ہی نہیں اپنے بیٹوں کی بھی اس معاملےمیں تربیت کریں ، اور انہیں ملٹی ٹاسکنگ سیکھائیں ، سکول ، کالج یا یونیورسٹی جانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنے ذاتی کاموں کا بوجھ بھی ماں باپ پر ڈال دیں اور انہیں اپنے ذاتی کام جیسے کپڑے پریس کرنا، اپنی واڈروب سیٹ کرنا اور اپنے روم کو انسانوں کے رہنے کی جگہ بنانے کا ہنر ضرور سیکھائیں ، اور جو چیزیں آپ سیکھائیں گے وہ ان کو بُری بھی نہیں لگیں گی، ورنہ دنیا اپنے انداز میں سیکھائے گی جو شاید آپ کو پھر بہت چبھے گا ، اور زندگی میں سلیقہ اور نفاست اپنی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے پیدا کریں نہ کہ سسرال کا سوچ کر بحالت مجبوری سیکھیں ،کیونکہ آپکے والدین کا بھی آپ کی دی ہوئی آسانی پر اتنا ہی حق ہے جتنا دوسروں کا۔۔۔

تحریر: صائمہ اکرم چوہدری

22/07/2023

جوہر وقف پاکستان کے زیرِ اہتمام محفل مسالمہ .....
نامور شعراء کرام شہدائے کربلا اور اہلِ بیت اکرام کے حضور نذرانہ ءِ عقیدت پیش کریں گے

محفل میں شرکت کر کے اہل بیت و اطہار کا قرب حاصل کیجئے

28/04/2023

آج میں بہت افسردہ ہوں۔ آج میں نے پانچواں بچہ دیکھا جس کی جنس غیر متعین تھی۔ اس بچے کو دیکھ کر میرا دل ٹوٹ گیا۔ کم علمی کس قدر نقصان دہ ہوتی ہے یہ بچے اس نقصان کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

پیدائش کے وقت ان تمام بچوں کے جنسی اعضاء لڑکیوں جیسے تھے۔ بعد میں ان کی ماؤں نے محسوس کیا کہ شاید ان لڑکیوں میں کچھ خامی رہ گئی ہے۔ ایسے بچوں کو مائیں انہیں کسی جنرل پریکٹیشنر، بچوں کے ڈاکٹر، سرجن، یا یورولوجسٹ (یعنی پیشاب کے امراض کا ڈاکٹر) کے پاس معائنے کے لیے لے جاتی ہیں۔ ڈاکٹر بچے کے کروموسوم ٹیسٹ کرواتے ہیں ( اسے کیریوٹائپنگ کہتے ہیں ) تاکہ کروموسومز سے بچے کی جنس کا تعین ہو سکے۔ ہفتوں کے انتظار کے بعد ٹیسٹ کے نتائج معلوم ہوتے ہیں : 46 XY یعنی بچے کے کروموسومز میں ایکس اور وائے کروموسومز موجود ہیں۔ ڈاکٹرز مطمئن ہو جاتے ہیں اور ماں باپ کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ’مبارک ہو۔ آپ کا بچہ لڑکا ہے‘ ، اور پھر یہ بچہ میرے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

بجے کے والدین اس وقت بے انتہا سٹریس میں ہوتے ہیں۔ بچے کی غیر متعین جنس کا سٹریس، ڈاکٹر کی ’مبارک باد‘ کا سٹریس، بچے کا نام تبدیل کرنے کا سٹریس، بچے کا لباس اور رہن سہن تبدیل کرنے کا سٹریس۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن جب میں اس بچے کی طرف دیکھتا ہوں تو میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش یہ بچہ لڑکی ہی رہتا۔

بعض اوقات ایسی بچیوں کو بلوغت سے پہلے تک یہ علم نہیں ہوتا کہ ان کی جنس باقی لڑکیوں سے مختلف ہے۔ ایک دن اچانک انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ لڑکی نہیں ہیں۔ پھر وہ تمام تاریخ دہرائی جاتی ہے : اخباروں میں سرخیاں لگتی ہیں ’لڑکی لڑکا بن گئی‘ ۔ اس بچی کی شخصیت پر جنس کی تبدیلی کا انتہائی گہرا اثر پڑتا ہے۔ اسے ساری عمر پردے میں رہنا سکھایا گیا تھا، صرف لڑکیوں سے کھیلنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب اچانک وہی بچی ایک لڑکے کی صورت میں بغیر چادر کے باہر دھکیل دی جاتی ہے۔ اس بچے کے لیے یہ کتنا تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جو خود اس پراسیس سے گزرا ہو۔

جنس متعین کرنے میں پانچ مختلف فیکٹرز عمل پیرا ہوتے ہیں۔
1۔ جنس متعین کرنے والے کروموسوم جو عام طور پر XX (لڑکی) یا XY (لڑکا) کی صورت میں ہوتے ہیں۔

2۔ بچے کے بیرونی اعضا یعنی بچہ بظاہر لڑکا لگتا ہے یا لڑکی

3۔ بچے کے ہارمونز اور ان کا عمل۔ بعض اوقات کروموسومز کے مطابق ہارمونز ہوتے نہیں اور بعض اوقات یہ ہارمونز جنسی اعضاء پر کام نہیں کرتے۔

4۔ والدین کا بچے کی جنس کا اعلان کرنا، بچے کا نام رکھنا وغیرہ بچے کی پرورش لڑکے کے طور پر کی جا رہی ہے یا لڑکی کے طور پر۔

5۔ بچے کی اندرونی سوچ یعنی بچہ اپنے آپ کو لڑکا تصور کرتا ہے یا لڑکی۔ کئی دفعہ جسمانی طور پر مکمل لڑکوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ غلط جسم میں ہیں اور انہیں لڑکی ہونا چاہیے تھا، یا جسمانی طور پر نارمل لڑکیوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ غلط جسم میں ہیں اور انہیں لڑکا ہونا چاہیے تھا۔
_______

آئیے کروموسومز کے بارے میں کچھ تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔ حمل کے آغاز میں ہر بچے کا جسم لڑکی کی طرح کا ہوتا ہے۔ لیکن اگر بچے کے کروموسومز میں Y کروموسوم موجود ہے تو جب یہ کروموسوم فعال ہوتا ہے تو جنین میں لڑکی کے جنسی اعضا غائب ہونے لگتے ہیں اور لڑکے کے جنسی اعضا ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ البتہ اگر Y کروموسوم میں انتہائی اہم جین SRY نہ ہو یا کسی وجہ سے یہ جین فعال نہ ہو پائے تو ایکس وائے کروموسوم ہونے کے باوجود (یعنی جینیاتی طور پر لڑکا ہونے کے باوجود) بچے کے جسم میں لڑکے کے جنسی اعضا نہیں بن پاتے اور یہ بچہ پیدائش کے وقت لڑکی ہی معلوم ہوتا ہے۔

اسی طرح اگر کسی بچے کے کروموسوم XX ہوں تو ایسا بچہ لڑکی ہوتا ہے۔ لیکن اگر حمل کے دوران کسی وجہ سے ٹیسٹوسٹیرون ہارمون (یعنی مردانہ جنسی ہارمون) زیادہ بننے لگیں تو بچے کے جنسی اعضا لڑکے جیسے بن جاتے ہیں اگرچہ جینیاتی طور پر یہ لڑکی ہی ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کی درست جنس کی فوری شناخت ضروری ہوتی ہے تاکہ ضروری سٹیرائیڈز فراہم کر کے اس سقم کو دور کیا جا سکے۔ اگر ایسے بچوں کا جلد علاج نہ کیا جائے تو ان کی موت واقع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے کے کروموسومز تو XY ہیں اور حمل کے دوران مناسب مقدار میں مردانہ جنسی ہارمونز بھی پیدا ہو رہے ہیں لیکن بچے کے جنسی اعضا کے علاقے میں وہ ریسیپٹرز موجود نہیں ہوتے جو مردانہ ہارمونز کے ساتھ بائنڈ کرتے ہیں اور جنسی اعضا کو لڑکوں جیسا بناتے ہیں۔ اس وجہ سے ایسے بچے کے جنسی اعضا لڑکی جیسے ہی رہ جاتے ہیں۔
_________

بدقسمتی سے ہمارے پدر سری معاشرے میں والدین کو لڑکے کی ہی خواہش ہوتی ہے۔ نارمل لڑکی کے مقابلے میں ہمیں ابنارمل لڑکا زیادہ قابل قبول ہوتا ہے۔ جب غیر متعین جنس کی بچی کو ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر فوری طور پر ان کے کروموسوم کا ٹیسٹ کرتے ہیں۔ اگر ٹیسٹ کے رزلٹ XY ہوں تو والدین یہ سن کر خوش ہو جاتے ہیں کہ جسے وہ بیٹی سمجھ کر پالتے رہے ہیں وہ اصل میں ان کا بیٹا ہے۔ فوری طور پر اس بچی کا نام تبدیل کر کے لڑکوں والا نام رکھ دیا جاتا ہے اور اسے لڑکوں جیسے کپڑے پہنا دیے جاتے ہیں۔ کسی ڈاکٹر سے دوسری رائے لینے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، اور یہ غلطی ہمارے ہاں سرجن اور بچوں کے ڈاکٹر اکثر کرتے ہیں کہ دوسرے ڈاکٹروں سے مشورہ کیے بغیر ایسی بچیوں کی سرجری کر کے ان کے خصیے کھینچ کر خصیہ دانی یعنی sc***um میں اتار دیے جاتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ یہ خصیے کام کریں گے یا نہیں۔ ایسے بچوں کا عضو تناسل عموماً بہت چھوٹا ہوتا ہے اس لیے والدین کو کسی پلاسٹک سرجن سے مشورہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے جو یہ مسئلہ حل کر دے گا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں میں افسردہ ہوتا ہوں۔

کئی صورتوں میں یہ بچیاں بلوغت تک پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ والدین عموماً ڈاکٹر سے مشورہ اس وقت کرتے ہیں جب بلوغت کا وقت آن پہنچتا ہے لیکن ان بچیوں کی چھاتیاں بڑی نہیں ہوتیں اور انہیں ماہواری نہیں شروع ہوتی۔ پھر وہی کہانی دہرائی جاتی ہے یعنی کروموسوم ٹیسٹ، اس بچی کے لڑکا ہونے کا اعلان، اور پھر والدین کا جشن۔ بچے کو لڑکوں والا نام دیا جاتا ہے اور مردانہ کپڑے پہنانے جاتے ہیں۔

جب ایسے بچے میرے پاس لائے جاتے ہیں اس وقت ان کی جنس کا یا تو صرف اعلان اور کپڑوں اور نام کی تبدیلی کی حد تک جنس تبدیل کی جا چکی ہوتی ہے اور یا ساتھ ساتھ ادھورے طور پر سرجری سے تبدیل کی جا چکی ہوتی ہے اور کشتیاں جلائی جا چکی ہوتی ہیں۔ یعنی واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا ہوتا۔

اگر خوش قسمتی سے یہ بچے مجھے اس وقت ریفر کیے جائیں جب ان کا آپریشن نہیں ہوا ہوتا تو ہم فوری طور پر ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بٹھاتےہیں جن میں اینڈو کرانولوجسٹ (یعنی مختلف غدود کے ڈاکٹر) گائناکالوجسٹ، یورولوجسٹ، پلاسٹک سرجن، سائیکاٹرسٹ، سائیکالوجسٹ، اور بچوں کے ڈاکٹر شامل ہوتے ہیں۔ اس بحث میں بچوں کے والدین کو بھی نمائندگی دی جاتی ہے۔ کئی والدین کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ لڑکا، خواہ وہ کتنا ہی نامکمل کیوں نہ ہو، ایک لڑکی کی نسبت زیادہ کامیاب رہتا ہے اور اپنی حفاظت خود کر سکتا ہے۔ لیکن میرا تجربہ کچھ اور ہی کہتا ہے۔ جن بچوں کی جنس بلوغت کے وقت تبدیل کی جاتی ہے، لڑکیوں کی نسبت ان کا جنسی استحصال ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

اگر ہمیں پہلے سے یہ علم ہو کہ آپریشن کے بعد بچے کے جنسی اعضا نارمل نہیں ہوں گے تو ایسے بچوں کو لڑکی کی صورت میں ہی رہنے دینا ان بچوں کے لیے کہیں بہتر ہے۔ انہیں جنس کی تبدیلی کی ذہنی اور جسمانی تکلیف سے گزارنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ آپریشن سے تقریباً مکمل لڑکیاں بن سکتی ہیں جو شادی کے قابل ہوتی ہیں لیکن ان میں سے کئی بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتی ہے۔ ان لڑکوں کی اکثریت بھی بچے پیدا نہیں کر سکتے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ عام نارمل جوڑوں میں سے پندرہ فیصد بے اولاد رہتے ہیں۔

میری تمام والدین اور ڈاکٹر حضرات سے گزارش ہے کہ اگر کسی بچی کو غیر متعین جنس کا مسئلہ درپیش ہے تو خدارا جلدبازی سے کام نہ لیجیے اور ان بچوں پر کام کرنے والے ڈاکٹروں کے مکمل بورڈ سے مشورے کے بغیر کوئی قدم اٹھانے سے گریز کیجیے۔
_____________

نوٹ: ڈاکٹر عبیداللہ پاکستان کے مایہ ناز پلاسٹک سرجن ہیں جو بچوں میں جنس کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل پر کام کرتے ہیں۔ یہ آرٹیکل نہ صرف ان کے کئی دہائیوں کے تجربے کا نچوڑ ہے بلکہ اس تحریر میں وہ ذہنی تکلیف بھی صاف طور پر دیکھی جا سکتی ہے جس سے ڈاکٹر صاحب ہر اس کیس کو ہینڈل کرتے ہوئے گزرتے ہیں جس میں کسی بچی کی جنس آپریشن کے ذریعے تبدیل کی جاتی ہے۔ اس پراسیس سے گزرتی بچیوں کی ذہنی اذیت کا جس قدر اندازہ ڈاکٹر عبیداللہ صاحب کو ہے وہ بہت کم ماہرین کو ہو گا۔

Written by: Dr. Obaidullah Obaid
Translation: Qadeer Qureshi
July 14, 2021

20/04/2023

جس طرح قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ اللہ کریم نے خود لیا ہے اسی طرح کلمہ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کا ذمہ بھی اللہ نے خود لیا ہے کیونکہ 27رمضان المبارک کو وجود میں آنے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان بزرگوں کی قربانیوں کا ثمر ہے جو قیامت کی صبح تک شادباد رہے گا ان خیالات کا اظہار ٹرسٹی جوہر پاکستان ڈاکٹر محتشم نقوی نے جوہر کمپلیکس میں یوم استقلال پاکستان ، جشن آزادی کے حوالے سے مسجد بنی فاطمہ میں افطاری کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہم 27رمضان المبارک کی آزادی کو بھول گئے ہیں اس لیے ریاست مدینہ کا خواب پورا نہ ہو سکا آج بھی نوجوان نسل کو اپنی حقیقی آزادی کو تسلیم کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ فرد سے معاشرہ بنتا ہے اگر ہم بحیثیت فرد درست ہو جائیں اور ہر فرد 27 رمضان المبارک کو جشن آزادی منائے. انہوں نے کہا کہ والد محترم پروفیسر ڈاکٹر منور حسین نقوی نے اپنی زندگی میں ہر سال یوم استقلال پاکستان منایا اسی روایت کو آخری سانسوں تک جاری رکھیں گے،اس موقع پر چیئرمین پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز مینجمنٹ ایسوسی ایشن خان پور ڈاکٹر رحیم الدین نے کہا کہ ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اسلامی طریقوں پر لاکر دنیا کی صف اول میں آنا ہوگا تقریب سے سول ڈیفنس آرگنائزیشن کے چیف وارڈن ڈاکٹر محمد یوسف چودھری،ڈاکٹر محمد لطیف چودھری،نائب امیر جماعت اسلامی خان پور عامر اشتیاق،ساجد محمود خان نے بھی خطاب کیا اور یوم استقلال پاکستان 27 رمضان المبارک کو منانے پر زور دیا،اس موقع پر حاضرین نے ملک پاکستان سے محبت میں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ اور پاکستان ذندہ باد کے نعرے لگائے آخر میں قومی ترانہ اور ملکی سلامتی و خوشحالی کے لیے منظور الحسن ناصر ہاشمی نے بانی جوہر ٹرسٹ پاکستان مرحوم پروفیسر ڈاکٹر منور حسین اور تحریک پاکستان کے مرحومین،پاک فوج اور ملکی سلامتی ترقی خوشحالی کے لیے دعا کروائی,اس موقع پر جام عبد المجید،ڈاکٹر ناظم بلوچ، حماد حسن،اسامہ قریشی،ڈاکٹر جاوید اقبال،ڈاکٹر جمال،ڈاکٹر طیب،کے علاوہ وکلاء صحافیوں اور سول سوسائٹی و اہل علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی،

Photos from Jauhar Pakistan's post 04/01/2023

Maulana Mohammad Ali Jauhar dies at task in London.

Today, on 4th of January 1931, Maulana Mohammad Ali JAUHAR (R. A) passed away. Frequent jail sentences, his diabetes and lack of proper nutrition while jailed, made him very sick. Despite his failing health, he wanted to attend the first Round Table Conference held in London in 1930. Before his death he left message for his people.

According to The New York Times, when he arrived in England he left a prophetic message; he said, ‘my wife who doesn’t speak a word of any foreign language lifted her veil for the first time to come with me on this trip to nurse me or to burry me.’ He died of stroke while attending the Round Table Conference in London at the age of 53. He wanted unity of his people. Before his death he was able to draft his last message, he listened while it was read to him. He approved it and said final farewell to his wife and brother Shaukat Ali.

Capt. Wedgwood Benn, Secretary of State of India issued a sorrow statement on his death, paying tribute to his courage to come to England being ill. He said, ‘Maulana Mohammad Ali courted death knowing he was a dying man, he gladly cross the world in service of India. A great Musulman, a great patriot, a great prophet of Humanity, he deliberately gave his life in the cause of reconciliation. We mourn with his relatives, and offer tender sympathy to his devoted wife, widowed in a strange land.’

Below is a rare original copy of The New York Times of January 1931 issue on his death from our collection; rare, the first and the last photographs of Maulana Mohammad Ali Jauhar. (R. A)

Want your school to be the top-listed School/college in Khanpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Jauhar House, 695/B, Model Town
Khanpur
64100