انتظار ہمیشہ انسان کو موت کے قریب لے جاتا ہے چاہے کسی کے انے کا انتظار ہو یا پھر موت کا انتظار کا دوسرا نام موت ہے تو سوچ سمجھ کر انتظار کیجئے انسان بے وفا ہے اور موت برحق ہے انتظار ہے اس کا کیجئے جو اپ کے انتظار میں ہو اس کی تیاری کیجئے صرف خدا کے ہو جائے بے شک وہ بڑا کارساز ہے اور نہایت رحم کرنے والا ہے
Wrritar M Yaqoob Baloch
poetry writers
Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Śãmíñâ Riaz, Kanwal Naz, Tahir Shah Tahir Shah, Mohammed Nadeem Nadeem Malik, Ibrar Hussain, Mian Bilal
بچھڑنا کوئی بڑی بات نھیں
دوری دشمنی کا نیا روپ ھوتا ھے
دشمنی میں راز رکھنا کمال ھوتا ھے راز دار دشمن لوگ اعلی ظرف بننا بڑی کامیابی ھے
ایم یعقوب
خوش ھوں ۔ کہنے والوں کا ذرہ بھی دل اور حالات اچھے نھیں ہوتے
ایم یعقوب بلوچ
25/12/2025
Allha pak Khair krey Mera new adetone print ho Raha hy sub doua krein jaldi AA jaye
25/12/2025
ایک شخص کا ایک بیٹا تھا،
روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا کہاں تھے.؟
تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا. ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج ہم آپ کے دوست سے ملنا چاہتے ہیں.
بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت؟
ابھی رات کے دوبجے ہیں کل چلتے ہیں.
نہیں ابھی چلتے ہیں.
آپ کے دوست کا تو پتہ چلے.
باپ نے ابھی پہ زور دیتے ہوئے کہا.
جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا.
بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے جو اس کے دوست کا باپ تھا آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے کہا کہ اپنے دوست سے ملنے آیا ہے.
اس وقت، مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا.
چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے،
مگر بہت دیر گزرنے کے بعد بھی یہی جواب آیا کہ صبح کو آجانا.
ابھی سونے دو،
اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگر آنا تو درکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا.
باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں.
جس کا نام خیر دین ہے.
دور سفر کرتے اذانوں سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،
مگر جواب ندارد، بالآخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ میں الله ڈنو، مگر پھر بھی دروازہ ساکت اور کوئی حرکت نہیں.
اب تو بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی.
لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی، اور دروازے کی زنجیر اور کنڈی کھولنے کی آواز آئی،
ایک بوڑھا شخص برآمد ہوا جس نے لپٹ کر اپنے دوست کو گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست، بہت معذرت، مجھے دیر اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد میرا دروازہ رات گئے کھٹکھٹایا تو مجھے لگا کہ کسی مصیبت میں ہو،
اس لیے جمع پیسے نکالے کہ شاید پیسوں کی ضرورت ہے،
پھر بیٹےکو اٹھایا کہ شاید بندے کی ضرورت ہے،
پھر سوچا شاید فیصلے کےلیے پگ کی ضرورت ہو تو اسے بھی لایا ہوں.
اب سب کچھ سامنے ہے،
پہلے بتاؤ کہ کس چیز کی ضرورت ہے؟
یہ سن کر بیٹے کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ابا جی کتنا سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں ہوتا جو رت جگوں میں ساتھ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر حق دوستی نبھانے آجائے.
آج بھی کئی نوجوان ایسی دوستیوں پہ اپنے والدین کو ناراض کرتے ہیں، باپ کے سامنے اکڑجاتے ہیں.
ذرا دل تھام کر سوچیے.
بغداد کے بازار میں ایک حلوائی صبح صبح اپنی دکان سجا رہا تھا کہ ایک فقیر آنکلا تو دکاندار نے کہا کہ باباجی آؤ بیٹھو
فقیر بیٹھ گیا تو حلوائی نے گرم گرم دودھ فقیر کو پیش کیا. فقیر نے دودھ پی کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس حلوائی کو کہا کہ بھائی تیرا شکریہ اور یہ کہہ کرفقیرچل پڑا۔
بازار میں ایک فاحشہ عورت اپنے دوست کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھ کر موسم کا لطف لے رہی تھی۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی تھی، بازار میں کیچڑ تھا، فقیر اپنی موج میں بازار سے گزر رہا تھا کہ فقیر کے چلنے سے ایک چھینٹا اڑا اورفاحشہ عورت کے لباس پر گر گیا۔ جب یہ منظر فاحشہ عورت کے دوست نے دیکھا تو اسے بہت غصہ آیا۔ وہ اٹھا اور فقیر کے منہ پرتھپڑ مارا اور کہا کہ فقیر بنے پھرتے ہو، چلنے پھرنے کی تمیز نہیں؟
فقیر نے ہنس کر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا
مالک تو بھی بڑا بے نیاز ہے، کہیں سے دودھ پلواتا ہے اور کہیں سے تھپڑ مرواتا ہے.. یہ کہہ کر فقیر آگے چل پڑا،
فاحشہ عورت چھت پر چڑھ رھی تھی تو سیڑھیوں پر اس کا پاؤں پھسلتا ہے اور زمین پر سر کے بل گر جاتی ہے، اس کو ایسی شدید چوٹ لگتی ہے کہ موقع پر ہی فوت ہوجاتی ہے۔
شور مچ گیا کہ فقیر نے آسمان کی طرف منہ کر کے بدعا دی تھی، جس کی وجہ سے یہ قیمتی جان چلی گئی
فقیر ابھی بازار کے دوسرے کونے تک نہیں پہنچ پائے تھے کہ لوگوں نے فقیر کو پکڑ لیا اور کہا کہ بڑے فقیر بنے پھرتے ہو، حوصلہ بھی نہیں رکھتے ہو
فقیرنے کہا کہ کیا ہوا میاں؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے بددعا دی اور عورت کی جان چلی گئی
فقیرنے کہا کہ واللہ میں نے تو کوئی بددعا نہیں دی تو لوگوں نے ضد کی اور کہا کہ نہیں تیری بددعا کا کیا دھرا ہے۔
جب لوگوں نے ضد کی تو فقیر نے کہا کہ اصل بات پوچھتے ہو تو میں نے کوئی بددعا نہیں کی، یہ یاروں یاروں کی لڑائی ہے.
لوگوں نے کہا کہ وہ کیا؟ فقیر نے کہا کہ جب میں گزر رہا تھا اور میرے پاؤں سے چھینٹا اڑا اور اس عورت کے لباس پر پڑا تو اس کے یار کو غصہ آیا، اس نے مجھے مارا تو پھر میرے یار کو بھی غصہ آگیا....رائٹر ایم یعقوب بلوچ
10/05/2025
"ہم اپنی آخری حد تک کوشش کرتے ہیں کھنڈر نما دل میں کچھ رنگ و روغن کی مرمت کی۔"
25/04/2025
آئینہ دیکھ کے یہ دیکھ سنورنے والے
تُجھ پہ بے جا تو نہیں مرتے یہ مرنے والے
~داغ دہلوی🖤
23/04/2025
تم تو چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری ہو ۔
تم نے کہاں دیکھے ہیں ڈھلتی شام کے سائے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Address
Dera Gazi Khan
Khanpur