دربار عالیہ حضرت خواجہ نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ نقشبندی

دربار عالیہ حضرت خواجہ نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ نقشبندی

Share

This page related to ISLAM, and purpose of this page to tell people about preach of Islam.

19/04/2026

در در تے گدائیاں کیتیاں نہیں اساں ہور کمائیاں کیتیاں نہیں ایک سونیا تیرا نا ں سونا اساں دم دم نال پکا چھڈیا❣️

20/03/2026

#انشاءاللّٰه‎‎
#مرکزی عید گاہ دربار شریف والی بستی نظام آباد خانیوال میں عید الفطر کی نماز۔۔۔۔ 7:30 بجے ادا کی جائے گی۔

04/02/2026

#تعمیر #مسجد #جامع #نظامیہ #دربار #شریف #والی #بستی #نظام #آباد #خانیوال
#تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے #رمضان #المبارک سے قبل #چھت کی تیاری کی اشد ضرورت ہے۔
بھرپور تعاون فرمائیں۔

Islamic

211800341180190

( )
#ایڈمن
#سیدمحمدشاہزیب #علی
#نظامی

Photos from ‎دربار عالیہ حضرت خواجہ نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ نقشبندی‎'s post 29/01/2026

#الحمداللّٰه‎
۔مسجد کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔
اہل خیر سے تعاون کی اپیل۔
یہ آپ کے پاس آخرت کا ذخیرہ جمع کرنے کا بہترین وقت ہے۔ آپ مکمل سامان، سامان کا کچھ حصہ، یا نقد رقم کی صورت میں اپنا حصہ ڈال کر اس کارِ خیر میں شامل ہو سکتے ہیں

10/12/2025

#بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا

ماہ جمادی الثانی کی 22/تاریخ کو امیر المومنین افضل البشر بعد الانبیاء حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا- حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کی ذاتِ مقدسہ محتاج تعارف نہیں- کون کلمہ گو ہے جو آپ کی شخصیت و مرتبیت سے آشنا نہیں- جب فاران کی چوٹی سے آفتابِ اسلام بلند ہوا، معلم انسانیت حضور نبی کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے دعوت اسلام دی تو سب سے پہلے جس قلب مقدس و مطہر نے انوار ایمانی کو اپنے اندر جذب کیا اور اپنے دل کو اسلام کی نورانی دعوت کا نشیمن بنایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ امیر المومنین افضل البشر بعد الانبیاء حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کا مبارک و مقدس قلب اطہر ہے- آپ ملاحظہ فرمائیں کہ حضرتِ علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کے فضائل کس طرح بیان کرتے ہیں-

حضرتِ سیدنا اسید بن صفوان رضی الله تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

جب حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله عنہ کا وصال ہوا تو مدینے کی فضا میں رنج و غم کے آثار تھے- ہر شخص شدت غم سے نڈھال تھا- ہر آنکھ سے اشک رواں تھے- صحابہ کرام علیہم الرحمتہ والرضوان پر اسی طرح پریشانی کے آثار تھے جیسے حضورِ اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے وقت تھے- سارا مدینہ غم میں ڈوبا ہوا تھا- پھر جب حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کو غسل دینے کے بعد کفن پہنایا گیا تو حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم تشریف لائے اور کہنے لگے: آج کے دن نبی آخر الزماں صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے خلیفہ ہم سے رخصت ہو گئے- پھر آپ رضی الله عنہ حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله عنہ کے پاس کھڑے ہو گئے اور آپ رضی الله عنہ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اے صدیق اکبر! رضی الله عنہ آپ پر الله رب العزت رحم فرمائے- آپ رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے بہترین رفیق، اچھے محب، بااعتماد رفیق اور محبوب خدا صلی الله علیہ وسلم کے رازداں تھے- حضور صلی الله علیہ وسلم آپ رضی الله عنہ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے، آپ رضی الله عنہ لوگوں میں سب سے پہلے مومن، ایمان میں سب سے زیادہ مخلص، پختہ یقین رکھنے والے اور متقی و پرہیز تھے- آپ رضی الله عنہ دین کے معاملات میں بہت زیادہ سخی اور الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی دوست تھے- آپ رضی الله عنہ کی صحبت سب سے اچھی تھی، آپ رضی الله عنہ کا مرتبہ سب سے بلند تھا، آپ رضی الله عنہ ہمارے لیے بہترین واسطہ تھے، آپ رضی الله عنہ کا اندازِ خیر خواہی، اسلام کی دعوت دینے کا طریقہ، شفقتیں اور عطائیں رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کی طرح تھیں، آپ رضی الله عنہ رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے بہت زیادہ خدمت گزار تھے، الله رب العزت آپ رضی تعالیٰ عنہ کو اپنے رسول صلی الله علیہ وسلم اور اسلام کی خدمت کی بہترین جزا عطا فرمائے-

آپ رضی الله عنہ نے دین متین اور نبی کریم رؤوف رحیم صلی الله علیہ وسلم کی بہت زیادہ خدمت کی، الله رب العزت اپنی رحمت کے شایان شان آپ رضی الله تعالیٰ عنہ کو جزاء عطا فرمائے-

جس وقت لوگوں نے رسولِ کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کو جھٹلایا تو آپ رضی الله عنہ نے رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کی تصدیق فرمائی- حضور نبی اکرم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کے ہر فرمان کو حق و سچ جانا اور ہر معاملے میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تصدیق فرمائی- الله رب العزت نے قرآن کریم میں آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا-

الله رب العزت قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

ترجمہ- اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی یہی ڈر والے ہیں-(سورہ زمر، پارہ ٢٤)
اس آیتِ کریمہ میں صدق بہ سے مراد صدیق اکبر رضی الله عنہ یا تمام مومنین ہیں- پھر حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم نے مزید فرمایا:

اے صدیق اکبر! رضی الله عنہ جس وقت لوگوں نے بخل کیا آپ رضی الله عنہ نے سخاوت کی، لوگوں نے مصائب و آلام میں رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیا لیکن آپ رضی الله عنہ رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے- آپ رضی الله عنہ حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی صحبت سے بہت زیادہ فیضیاب ہوئے- آپ رضی الله عنہ کی شان تو یہ ہے کہ آپ رضی الله عنہ کو ،، ثانی اثنین،، کا لقب ملا، آپ رضی الله عنہ یار غار ہیں، الله رب العزت نے آپ رضی الله عنہ پر سکینہ نازل فرمایا، آپ رضی الله عنہ نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت فرمائی، آپ رضی الله عنہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے رفیق و امین اور خلیفہ فی الدین تھے- آپ رضی الله عنہ نے خلافت کا حق ادا کیا، آپ رضی الله عنہ نے مرتدین سے جہاد کیا، حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کے وصالِ ظاہری کے بعد لوگوں کے لیے سہارہ بنے، جب لوگوں میں اداسی اور مایوسی پھیلنے لگی تو اس وقت بھی آپ رضی الله عنہ کے حوصلے بلند رہے- لوگوں نے اپنے اسلام کو چھپایا لیکن آپ رضی الله عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار کیا- جب لوگوں میں کمزوری آئی تو آپ رضی الله عنہ نے ان کو تقویت بخشی، ان کی حوصلہ افزائی فرمائی اور انہیں سنبھالا-

آپ رضی الله تعالیٰ عنہ نے ہمیشہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سنتوں کی اتباع کی- آپ رضی الله عنہ رسولِ کریم صلی الله علیہ وسلم کے خلیفہ برحق تھے- منافقین و کفار آپ رضی الله عنہ کے حوصلوں کو پست نہ کر سکے- آپ رضی الله عنہ نے کفار کو ذلیل کیا، باغیوں پر خوب شدت کی، آپ رضی الله عنہ کفار و منافقین کے لیے غیض و غضب کا پہاڑ تھے- لوگوں نے دینی امور میں سستی کی لیکن آپ رضی الله عنہ نے بخوشی دین پر عمل کیا- لوگوں نے حق بات سے خاموشی اِختیار کی مگر آپ رضی الله عنہ نے علی العلان کلمہ حق کہا، جب لوگ اندھیروں میں بھٹکنے لگے تو آپ رضی الله عنہ کی ذات ان کے لیے منارہ نور ثابت ہوئی- انہوں نے آپ رضی الله عنہ کی طرف رخ کیا اور کامیاب ہوئے، آپ رضی الله عنہ سب سے زیادہ ذہین و فطین، اعلیٰ کردار کے مالک، سچے، خاموش طبیعت، دور اندیش، اچھی رائے کے مالک، بہادر اور سب سے زیادہ پاکیزہ خصلت تھے-

الله رب العزت کی قسم! جب لوگوں نے دین اسلام سے دوری اختیار کی تو سب سے پہلے آپ رضی الله عنہ ہی نے اسلام قبول کیا- آپ رضی الله عنہ مسلمانوں کے سردار تھے- آپ رضی الله عنہ نے لوگوں پر مشفق باپ کی طرح شفقتییں فرمائیں- جس بوجھ سے وہ لوگ تھک کر نڈھال ہوگئے تھے آپ رضی الله تعالیٰ عنہ نے انہیں سہارہ دے کر وہ بوجھ اپنے کندھوں پر لاد لیا- جب لوگوں نے بے پروائی کا مظاہرہ کیا تو آپ رضی الله عنہ نے قوم کی باگ ڈور سنبھالی، جس چیز سے لوگ بے خبر تھے آپ رضی الله عنہ اسے جانتے تھے اور جب لوگوں نے بے صبری کا مظاہرہ کیا تو آپ رضی الله عنہ نے صبر سے کام لیا- جو چیز لوگ طلب کرتے آپ رضی الله عنہ عطا فرما دیتے- لوگ آپ رضی الله عنہ کی پیروی کرکے کامیابی کی طرف بڑھتے رہے اور آپ رضی الله عنہ کے مشوروں اور حکمت عملی کی وجہ سے انہیں ایسی ایسی کامیابیاں عطا ہوئیں جو ان لوگوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھیں- آپ رضی الله عنہ کافروں کے لیے درد ناک عذاب اور مومنوں کے لیے رحمت، شفقت اور محفوظ قلعے تھے- الله رب العزت کی قسم! آپ رضی الله عنہ اپنی منزلِ مقصود کی طرف پرواز کر گئے اور اپنے مقصود کو پالیا- آپ رضی الله عنہ کی رائے کبھی غلط نہ ہوئی، آپ رضی الله عنہ نے کبھی بزدلی کا مظاہرہ نہ کیا- آپ رضی الله عنہ بہت نڈر تھے- کبھی نہ کبھراتے گویا آپ رضی الله عنہ جذبوں اور ہمتوں کا ایسا پہاڑ تھے جسے نہ تو آندھیاں ڈگمگاں سکیں نہ ہی سخت گرج والی بجلیاں متزلزل کر سکیں- آپ رضی الله عنہ بالکل ایسے ہی تھے جیسے حضورِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے آپ رضی الله عنہ کے بارے میں فرمایا- آپ رضی الله عنہ بدن کے اعتبار سے اگرچہ کمزور تھے لیکن الله تعالیٰ کے دین کے معاملے میں بہت زیادہ قوی و مضبوط تھے- آپ رضی الله عنہ اپنے آپ کو بہت عاجز سمجھتے لیکن الله تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ رضی الله عنہ کا رتبہ بہت بلند تھا اور آپ رضی الله عنہ لوگوں کی نظروں میں بھی بہت باعزت و وباقار تھے-

حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم نے آپ رضی الله عنہ کی تعریف کرتے ہوئے مزید فرمایا: آپ رضی الله عنہ نے کبھی کسی کو عیب نہ لگایا- نہ کسی کی غیبت کی اور نہ ہی کبھی لالچ کیا- بلکہ آپ رضی الله عنہ لوگوں پر بہت زیادہ مشفق و مہربان تھے، کمزور و ناتواں لوگ آپ رضی الله عنہ کے نزدیک محبوب اور عزت والے ہوتے- اگر کسی مالدار اور طاقتور شخص پر ان کا حق ہوتا تو انہیں ضرور ان کا حق دلواتے- طاقت اور شان وشوکت والوں سے جب لوگوں کا حق نے لیتے وہ آپ رضی الله عنہ کے نزدیک کمزور ہوتے- آپ رضی الله عنہ کے نزدیک امیر وغریب سب برابر تھے، آپ رضی الله عنہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ مقرب ومحبوب وہ تھا جو سب سے زیادہ متقی و پرہیز تھا- آپ رضی الله عنہ صدق و سچائی کے پیکر تھے- آپ رضی الله عنہ کا فیصلہ اٹل ہوتا، آپ رضی الله عنہ بہت مضبوط رائے کے مالک اور حلیم و بردبار تھے- الله رب العزت کی قسم! آپ رضی الله عنہ ہم سب سے سبقت لے گئے- آپ رضی الله عنہ کے بعد والے آپ رضی الله عنہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے- آپ رضی الله عنہ نے ان سب کو پیچھے چھوڑ دیا- آپ رضی الله عنہ اپنی منزلِ مقصود کو پہنچ گئے- آپ رضی الله عنہ کو بہت عظیم کامیابی حاصل ہوئی، آپ رضی الله عنہ نے اس شان سے اپنے اصلی وطن کی طرف کوچ کیا کہ آپ رضی الله عنہ کی عظمت کے ڈنکے آسمانوں میں بج رہے ہیں اور آپ رضی الله عنہ کی جدائی کا غم ساری دنیا کو رلا رہا ہے- ہم ہر حال میں اپنے رب کے فیصلے پر راضی ہیں، ہر معاملے میں اس کی اطاعت کرنے والے ہیں- اے صدیق اکبر رضی الله عنہ! رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی الله عنہ کی جدائی کا غم مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا غم ہے- آپ رضی الله عنہ کی ذات اہل اسلام کے لیے عزت کا باعث بنی، آپ رضی الله عنہ مسلمانوں کے لیے بہت بڑا سہارا اور جائے پناہ تھے- الله رب العزت نے آپ رضی الله عنہ کی آخری آرام گاہ اپنے پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم کے قرب میں بنائی- الله رب العزت ہمیں آپ رضی الله عنہ کی طرف سے اچھا اجر عطا فرمائے اور ہمیں آپ رضی الله عنہ کے بعد صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے اور گمراہی سے بچائے- آمین

لوگ حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم کا کلام خاموشی سے سنتے رہے- جب آپ رضی الله عنہ نے خاموشی اختیار کی تو لوگوں نے زور و قطار رونا شروع کر دیا اور سب نے بیک زبان ہوکر کہا: اے حیدر کرار! آپ رضی الله عنہ نے بالکل سچ فرمایا- آپ رضی الله عنہ نے بالکل سچ فرمایا-
(الریاض النضرة، جلد اول/ صفحہ نمبر، 262)

ایک بار حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله عنہ اور حضرتِ علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم کی ملاقات ہوئی تو آپ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم کو دیکھ کر مسکرانے لگے- حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم نے پوچھا: آپ کیوں مسکرا رہے ہیں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے فرمایا: میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ پل صراط سے وہی گزرے گا جس کو علی المرتضیٰ تحریری اجازت نامہ دیں گے- یہ سن کر حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ کرم الله تعالیٰ وجہ الکریم بھی مسکرا دئے اور عرض کرنے لگے: کیا میں آپ کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے لیے بیان کردہ خوشخبری نہ سناؤں؟ کہ رسولِ کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پل صراط سے گزرنے کا تحریری اجازت نامہ صرف اسی کو ملے گا جو ابو بکر صدیق سے محبت کرنے والا ہوگا-
(الریاض النضرة، جلد اول/ صفحہ نمبر، 207)

امیر المومنین حضرتِ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ عشقِ رسول صلی الله علیہ وسلم کی دولتِ لازوال سے مالا مال تھے- حضورِ اقدس صلی الله علیہ واٰلہٖ وسلم نے وصال ظاہری کے بعد آپ کی مبارک زندگی میں سنجیدگی زیادہ غالب آگئی اور تقریباً دو سے سات ماہ پر اپنی باقی زندگی گزارنا آپ کو انتہائی دشوار ہوگیا- آپ حضورِ اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کی یاد میں بے قرار رہنے لگے- حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ کی وفات کا سبب حقیقی حضور صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کا وصال ظاہری تھا- حضور صلی الله علیہ وسلم کے وصال ظاہری کے بعد سے آپ کا بدن مسلسل گھلنے لگا اور بالآخر آپ بھی دنیاسے وصال فرما گئے
#ایڈمن سیدمحمدشاہ زیب علی نظامی

27/11/2025

#حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے۔ وہاں ایک بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے۔ اس روز یہودیوں کا بہت بڑا عالم فنحاص اس اجتماع میں آیا تھا۔

صدیق اکبر رضی الله نے فنحاص سے کہا اے فنحاص! اللہ سے ڈر اور اسلام قبول کر لے اللہ کی قسم تو خوب جانتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں اور تم یہ بات اپنی تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہو اس پر فنحاص کہنے لگا۔
وہ اللہ جو فقیر ہے بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں۔

غرض فحناص نے یہ جو مذاق کیا تو قرآن کی اس آیت پر اللہ کا مذاق اڑایا۔
من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا☆ (سورہ البقرہ ٢٤٥)

صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ اللہ کا دشمن میرے رب کا مذاق اڑا رہا ہے تو انہوں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا:

”اس رب کی قسم جس کی مٹھی میں ابوبکر کی جان ہے اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا-“

فنحاص دربار رسالت میں آ گیا۔ اپنا کیس حکمران مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ کہنے لگا:”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دیکھئے! آپ کے ساتھی نے میرے ساتھ اس اور اس طرح ظلم کیا ہے۔“

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا:
”آپ نے کس وجہ سے اس کے تھپڑ مارا۔“
تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی :”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے اس دشمن نے بڑا بھاری کلمہ بولا۔ اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم لوگ غنی ہیں۔ اس نے یہ کہا اور مجھے اپنے اللہ کے لئے غصہ آ گیا۔

چنانچہ میں نے اس کا منہ پیٹ ڈالا۔“
یہ سنتے ہی فنحاص نے انکار کردیا اور کہا :” میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔“

اب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی دینے والا کوئی موجود نہ تھا۔

یہودی مکر گیا تھا اور باقی سب یہودی بھی اس کی پشت پر تھے۔

یہ بڑا پریشانی کا سماں تھا۔ مگر اللہ نے اپنے نبی کے ساتھی کی عزت وصداقت کا عرش سے اعلان کرتے ہوئے یوں شہادت دی۔ #لَقَد سَمِعَ اَللَّہُ قَولَ الَّذِینَ قَالُو ااِنَّ اللَّہ َ فَقِیر وَنَحنُ اَغنِیَائُ☆ ( آل عمران : ۱۸۱)
”اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں-“ ۔۔۔۔۔ !

صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے رب کی گستاخی پر رب کے دشمن کے طمانچہ مارا اور جب صدیق کی صداقت پہ حرف آنے لگا تو رب تعالیٰ نے صدیق کی صداقت کا اعلان عرش سے کر دیا۔

( #تفسیر قرطبی،4۔129، #زاد المیسر1۔514، #ابن کثیر1۔434)
طالب دعا ایڈمن #سیدمحمدشاہزیب #علی #نظامی

Dosto agar post achi lagey to lqzmi share karen ta k dosrun tak asani se pohnch sakey .
Or ho sake to hamen follow kar den.Jazak ALLAH

30/09/2025

🌹 #انشاءاللّٰه🌹‎‎

#️بزرگوں کے اعراس مبارکہ 6-7نومبر #2025بروز #جعمرات اور #جعمہ المبارک فائنل شیڈول

#یہ محفلِ عرس ذکرِ الٰہی، نعت و منقبت، اصلاحِ احوال اور
روحانی فیوض و برکات کا عظیم الشان اجتماع ہوگی۔

#محفل میں ممتاز علما کرام، ثناخوانانِ مصطفیٰ تشریف لا کر ہمارے دلوں میں ایمان و عشق کی شمعیں روشن کریں گے۔

#آئیے! اپنے اہل و عیال سمیت شرکت کریں اور رحمتوں و
برکتوں سے اپنے دامن کو بھر لیں
#ایڈمن #سیدمحمدشاہزیب #علی #نظامی

25/08/2025

ولادت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خوشی منانا❤️
حدیث مبارکہ:
عَنْ عُرْوَةَ في روایة طویلة قَالَ: وَثُوَیْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِي لَهَبٍ، کَانَ أَبُوْ لَهَبٍ أَعْتَقَهَا، فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صلی الله علیه وآله وسلم، فَلَمَّا مَاتَ أَبُوْ لَهَبٍ أُرِیَهٗ بَعْضُ أَهْلِهٖ بِشَرِّ حِیْبَةٍ، قَالَ لَهٗ: مَاذَا لَقِیْتَ؟ قَالَ أَبُوْ لَهَبٍ: لَمْ أَلْقَ بَعْدَکُمْ غَیْرَ أَنِّي سُقِیْتُ فِي هٰذِهٖ بِعَتَاقَتِي ثُوَیْبَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ

أخرجه البخاري في الصحیح، کتاب النکاح، باب وأمهاتکم اللاتي أرضعنکم، 5/1961، الرقم: 4813، وعبد الرزاق في المصنف، 7/478، الرقم: 13955

’’حضرت عروہ رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ ثویبہ ابو لہب کی لونڈی تھی اور ابو لہب نے اُسے آزاد کر دیا تھا، اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔ جب ابو لہب مر گیا تو اُس کے اہل خانہ میں سے کسی کے خواب میں وہ نہایت بری حالت میں دکھایا گیا۔ اس (دیکھنے والے) نے اُس سے پوچھا: کیسے ہو؟ ابو لہب نے کہا: میں بہت سخت عذاب میں ہوں، اِس سے کبھی چھٹکارا نہیں ملتا۔ ہاں مجھے (اُس عمل کی جزا کے طور پر) اس (انگلی) سے قدرے سیراب کر دیا جاتا ہے جس سے میں نے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں) ثویبہ کو آزاد کیا تھا۔‘‘

اِسے امام بخاری، امام عبد الرزاق رحمھما اللہ نے روایت کیا ہے۔

تشریح 1۔

’’شارح بخاری حافظ ابن حجرعسقلانی نے امام سہیلی رحمھما اللہ کے حوالے سے فتح الباری میں یوں بیان کیا ہے کہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

ابو لہب مر گیا تو میں نے اسے ایک سال بعد خواب میں بہت برے حال میں دیکھا اور یہ کہتے ہوئے پایا کہ تمہاری جدائی کے بعد آرام نصیب نہیں ہوا بلکہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں، لیکن جب پیر کا دن آتا ہے۔ تو میرے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ پیر کے دن ہوئی تھی اور جب ثویبہ نے اس روز ابو لہب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خبر دی تو اس نے (ولادتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی میں) ثویبہ کو آزاد کر دیا تھا۔‘‘

ذکره العسقلاني في فتح الباري، 9/145.

تشریح 2۔

’’حافظ شمس الدین محمد بن عبد ﷲ جزری رحمہ اللہ (م 660ھ) اپنی تصنیف عرف التعریف بالمولد الشریف میں لکھتے ہیں:

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر خوشی منانے کے اَجر میں اُس ابولہب کے عذاب میں بھی تخفیف کر دی جاتی ہے جس کی مذمت میں قرآن حکیم میں ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے۔ تو اُمتِ محمدیہ کے اُس مسلمان کو ملنے والے اَجر و ثواب کا کیا عالم ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی مناتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عشق میں حسبِ اِستطاعت خرچ کرتا ہے؟ خدا کی قسم! میرے نزدیک ﷲ تعالیٰ ایسے مسلمان کو اپنے حبیب مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی منانے کے طفیل اپنی نعمتوں بھری جنت عطا فرمائیں گے۔‘‘

تشریح 3۔

’’حافظ شمس الدین محمد بن ناصر الدین دمشقی رحمہ اللہ (م 842ھ) مورد الصادي في مولد الہادي میں فرماتے ہیں:

یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں ثویبہ کو آزاد کرنے کے صلہ میں ہر پیر کے روز ابو لہب کے عذاب میں کمی کی جاتی ہے۔ لہٰذا جب ابو لہب جیسے کا۔فر کے لیے کہ جس کی مذمت قرآن حکیم میں کی گئی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں اُس کے ہاتھ ٹوٹتے رہیں گے – حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی منانے کی وجہ سے ہر سوموار کو اُس کے عذاب میں تخفیف کر دی جاتی ہے، تو اس شخص کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے جس نے اپنی ساری عمر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کی خوشی منائی اور توحید پر فوت ہوا۔‘‘

تشریح 4۔

بالکل ایسا ہی مضمون امام جلال الدین سیوطی (م 855ھ) نے الحاوي للفتاوی/206 میں، اور حسن المقصد في عمل المولد/6566 میں، امام شھاب الدین قسطلانی (م 923ھ) نے المواهب اللدنیة، 1/147 میں ذکر فرمایا ہے۔ رحمھم اللہ

تشریح 5۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ (م 1052ھ) اِسی روایت کا تذکرہ کرنے کے بعد ’مدارج النبوۃ (2/19)‘ لکھتے ہیں:

’’یہ روایت میلاد کے موقع پر خوشی منانے اور مال صدقہ کرنے والوں کے لیے دلیل اور سند ہے۔ ابولہب جس کی مذمت میں ایک مکمل قرآنی سورت نازل ہوئی جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں لونڈی آزاد کر کے عذاب میں تخفیف حاصل کر لیتا ہے تو اس مسلمان کی خوش نصیبی کا کیا عالم ہوگا جو اپنے دل میں موجزن محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے ولادتِ مصطفی کے دن مسرت اور عقیدت کا اظہار کرے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ (یہ اظہارِ مسرت اور عقیدت) ان بدعات سے پاک ہو جنہیں عوام الناس نے گھڑ لیا ہے جیسے موسیقی اور حرام آلات اور اسی طرح کے دیگر ممنوعات، تاکہ اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
راستے سے محرومی کا باعث نہ بنے
#ایڈمن سیدمحمدشاہ زیب علی نظامی

17/07/2025

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک شخص جس نے (دنیا میں) علم سیکھا اور سکھایااور قرآن مجید پڑھا، (قیامت کے روز) اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اللہ تعاليٰ اسے اپنی نعمتیں یاد کرائے گا تو وہ شخص اُن کا اقرار کرے گا۔ اللہ تعاليٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے شکریہ میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے سکھایااور تیری رضا کی خاطر قرآن کی قرات کی۔ اللہ تعاليٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے علم اس لئے حاصل کیا تاکہ عالم کہلائے اور قرآن کی قرات اس لیے کی تاکہ قاری کہلائے۔ سو یہ کہا جاچکا ہے۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔
(اللہ کریم کی پناہ) اللہ کریم دکھاوے اور ریاکاری سے ہمیں محفوظ فرمائے آمین ثم آمین بحرمت طہ ویسن

اِس حدیث کو امام مسلم، احمد، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإمارة، باب من قاتل للرياء والسمعة استحق النار، 3/ 1513، الرقم/ 1905، وأحمد بن حنبل في المسند، 2/ 321، الرقم/ 8260، والنسائي في السنن، کتاب الجهاد، باب من قاتل ليقال فلان جرئ، 6/ 23، الرقم/ 3137، والحاکم في المستدرک، 1/ 189، الرقم/ 364، وأبو عوانة في المسند، 4/ 489، الرقم/ 7441، والبيقهي في السنن الکبری، 9/ 168، الرقم/ 18330

22/06/2025
25/05/2025

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
تشریحِ حکایت — حضرت مرشد کریم رحمتہ اللہ علیہ کی روحانی روشنی میں

"جو گناہ چھوڑنا چاہے، مگر نفس غالب ہو، اُسے پہلے اپنے آپ سے یہ پانچ سوال کر لینے چاہییں۔"

1. رزقِ خدا پر پل کر نافرمانی؟
مرشد کریم فرماتے ہیں:
"جس کا نوالہ تو چبا رہا ہے، اسی کی نافرمانی کر رہا ہے؟ یہ روحانی بے حیائی ہے۔ فقیری کا پہلا قدم یہی ہے کہ بندہ اپنے رزق کو پاک جانے اور پاک مالک کا ادب پہچانے۔"

2. زمینِ خدا پر رہ کر بغاوت؟
"اگر ساری زمین اس کی ہے، تو بندے کو یہ غیرت کیوں نہیں آتی کہ میں کہاں پاؤں رکھ رہا ہوں؟ بندہ جب مقامِ حیا میں قدم رکھتا ہے تو زمین بھی گواہی دیتی ہے، اور جب نافرمانی کرتا ہے تو زمین تھرتھرا اٹھتی ہے!"

3. کیا اللہ تجھے دیکھ نہیں رہا؟
"فقیر کا دل وہی روشن ہوتا ہے جو ہر لحظہ 'نظراللہ' میں جیتا ہے۔ اگر تو گناہ کرتے وقت یہ سمجھے کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، تو تیری حالت کانپ جائے۔ 'مراقبہ' یہی ہے: رب کو اپنے قریب تر جاننا۔"

4. موت کا اعتبار ہے؟
"اے سالک! موت کبھی دروازہ کھٹکھٹا کر نہیں آتی۔ اگر تجھے اگلی سانس کی ضمانت نہیں، تو کیا یہ وقت غفلت کا ہے؟ جو توبہ کل پر چھوڑتا ہے، وہ شیطان کا شکار ہے۔"

5. دوزخ کا سفر پسند ہے؟
"آج جو جہنم سے نہ ڈرے، وہ کل اُس کی آگ میں پکارے گا۔ مرشد کا کام ہے مرید کو اس دنیا میں ہی جھنجھوڑ دینا تاکہ وہ آخرت میں ہلا نہ مارے۔"

مرشد کریم فرماتھے:
"توبہ وہی سچی ہے جس کے بعد گناہ کی طرف پلٹنے کی غیرت باقی نہ رہے۔ اور یہ غیرت تب پیدا ہوتی ہے جب بندہ اپنے رب کی عظمت، اپنی بے بسی، اور مرشد کریم کی نگاہ کو ایک ساتھ محسوس کرے۔"

Want your school to be the top-listed School/college in Khanewal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Khanewal