Ghulam Abbas Saqi
Teacher & Motivater (G A Saqi)
بحثیت Teacher (جی اے ساقی) دوران امتحان فروری 2018 Students کو نقل سے بچاؤ .Motivation اور ایک انقلابی قوم 14 اگست 2047 کا Vision دیتے ہوئے.Ghs Hashmat Mirali تحصیل کبیروالا ضلع Khanewal.
17/02/2024
قائداعظم ؒ ان کے رفقاء اور اسلامیان ہند کی راہ دیکھ رہاہوں....جنہوں نے اپنی آنے والی نسلوں کیلیے ملک بنایا تھا.......کہیں کچھ دیکھائی نہیں دیتا...کہاں کھو گئے وہ لوگ.....کہاں رہ گئے ہم لوگ....😥😥
پاکستان زندہ باد
کبیروالا کی سیاست پر اعدادوشمار پر مبنی غیر جانبدارانہ تجزیہ
ازقلم ........جی ا ےساقی
پہلی مرتبہ پروڈیکٹیو تجزیہ آپ کو پڑھنے کو ملے گا......
ضروری وضاحت!میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی سے میری کوئی سیاسی وابستگی ہے البتہ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے وطنیت اور پاکستانیت کا جذبہ دل و دماغ میں موجزن ہے........ ایک آئیڈیالوجی وزڈم اور نظریہ رکھتا ہوں اور پاکستان کی خوشحالی اور اقوام عالم میں وقار وعظمت کیلیے فکری ہم آہنگی کا قائل بھی ہوں........
تفصیل سے قبل ضروری گزارش !آپ اپنے ووٹ کا صیحح استعمال کرتے ہوئے اپنی رائے دہی کا استعمال ضرور کریں آپ کی جس گروپ سے یاجس پارٹی سے وابستگی ہے اس کوووٹ کاسٹ کرنے کےلیے 8 فروری کوباہرنکلیں....
جمہوریت کو پروان چڑھائیں اور وطن عزیز کو خوشحال بناتے ہوئے عظیم سے عظیم تر بنائیں.......شکریہ
پاکستان میں ہونے والے چند الیکشنز کاٹرن آوٹ 35 سے 45 % کے درمیان رہا چند ایک کا میں بتادیتا ہوں 1977ء میں ٹرن آوٹ 61% تھا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ٹرن آوٹ ہے 2002 ءکا 40% ,2008ء کا 44%,2013 ء کا 53% ,2018ء کا 51% ٹرن آوٹ تھا....
موجودہ این اے 144 کبیروالا کا 2018ء میں ٹرن آوٹ 59.99% تھا کل ووٹرز 3 لاکھ 80 ہزار 605 تھے اور کاسٹ کیے گئے کل ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 28 ہزار 358 تھی
اب2024ء کے الیکشن میں NA 144 میں کل ایکٹوریٹ یعنی ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 63 ہزار 649 ہے 2018ء کے بعد اب 2024ء تک 83 ہزار 44 ووٹرز کا اضافہ ہوا جن ووٹرز کی عمر تقریبا 18 سے 25 سال تک ہے.....
پاکستان میں2024ء کے الیکشن کےلیے کل ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 69 لاکھ 80 ہزار 272 ہے اس میں 18 سے 35 سال کی عمر کے نوجوان ووٹرز کی تعداد 5 کروڑ 70 لاکھ 95 ہزار 197 ہے جو کہ کل ووٹرز کا 44% بنتا ہے (اگر اس الیکشن میں صرف نوجوان ہی مکمل ووٹ کاسٹ کردیں باقی نہ کریں تو بھی ٹرن آوٹ 40% سے اوپر رہے گا جو کہ گزشتہ چند الیکشنز سے بہتر ہوگا.....خیر)یاد رہے 2018ء کے الیکشن میں کل ووٹرز کی تعداد 10 کروڑ 59 لاکھ 55 ہزار 409 تھی....یوں گزشتہ 6 سالوں میں 2 کروڑ 10 لاکھ 24 ہزار 863 ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے.....جس کا مبینہ کہا جاتا تقریبا 60% ووٹرز پی ٹی آئی کا ہے قارئین !یہ تو تھے چند جنرل اعداد و شمار ......
اب ہم اپنی تحصیل کبیروالا NA 144 کی طرف آتے ہیں گزشتہ الیکشن میں امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹ بتاتا ہوں پھر اگلی بات کرتے ہیں 2018ء کے الیکشن میں سیدفخرامام شاہ بطور آزاد امیدوار 1 لاکھ 1 ہزار 520 ووٹ لیکر کامیاب ٹھہرے..... بیرسٹر رضاحیات ہراج پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 92 ہزار39 ووٹ لیکر دوسرےنمبر پر رہے..... سعیداحمد سرگانہ پی ایم ایل این کے ٹکٹ پر18 ہزار 116 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے ......عبدالخالق رحمانی 5 ہزار 557 ووٹ لیکر چوتھے اور اعجاز احمد پی پی پی کی ٹکٹ پر 4 ہزار 517 ووٹ لیکر پانچویں نمبر پر رہے .....
مین امیدوار یہی تھے کچھ دیگر چند سو ووٹوں والے بھی تھے کل ووٹرز 228358/380605 میں سے حاصل کردہ ووٹ کا ٹرن آوٹ 60% رہا......
اب2024ء کے الیکشن کیلیے کل ووٹرز 463649 ہیں ان کا اگر 60% ٹرن آوٹ نکالا جائے تو حاصل کردہ ووٹ 278189 بنیں گے اور اگر 65% ہوتو حاصل کردہ ووٹ 301371 بنیں گے اور اگر 70% ہوتو حاصل کردہ ووٹ 324554 بنیں گے اور اگر 75% ہوتو حاصل کردہ ووٹ 347736 بنیں گے....اس مرتبہ قوی امکان ہے کہ کبیروالا این اے 144 کا ٹرن آوٹ 75% رہے گا........گزشتہ 2018ء کے الیکشن کا اوورآل ٹرن آوٹ 51% تھا جبکہ ضلع خانیوال کا اوورآل 58% تھا جبکہ کبیروالا کا 60 % تھا اب جبکہ تمام مین پارٹیز کے امیدوار میدان میں ہیں اس کے علاوہ دو مین الیکٹیبلز جو اب تک جیتتے آئے ہیں وہ بھی بطور آزاد امیدوار میدان میں ہیں تو ایسے میں ہر کوئی ووٹرز کو باہر نکالنے کی بھرپور کوشش کرے گا لہذا اسی وجہ سے غالب امکان ہے کہ ٹرن آوٹ 75% رہے گا.....
اگر 75% ٹرن آوٹ رہتا ہے تو مقابلہ کن کے درمیان .....اور پھر کیسا رہے گا.....اس کی طرف آتے ہیں مگر اس سے پہلے چند باتیں اعدادوشمار کے مطابق سمجھنا ضروری ہیں...
جیسا کہ میں ابتداء میں بتا چکا ہوں کہ کل ووٹرز کا 44% نوجوان ہیں جن کی عمر 18 سے 35 سال ہے....اسی تناسب کو کبیروالا این اے 144 کے کل ووٹرز 463649 پر لگایا جائے تو 2لاکھ 5 ہزار ووٹرز ایسے ہیں جن کی عمر 18 سے 35 سال ہے اور ویسے بھی جو 2018ء کے الیکشن کے بعد نئے ووٹرز آئے ہیں جو کہ 83044 ہیں یہ نوجوان ہی ہیں.....اب یہ تو کنفرم ہوگیا کہ 2 لاکھ ووٹرز نوجوان ہیں ان کے حوالے سے مبینہ کہا جاتا ہے کہ 60 سے 80% پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں مگر میں کبیروالا کی حد تک اس سے اتفاق نہیں کرتا.....تو پھر میں اس 2 لاکھ ووٹرز کے تین حصے کرتا ہوں 180000 ووٹرز میں 60 ہزار پی ٹی آئی کے 60 ہزار سید گروپ کے 60 ہزار ہراج گروپ کے.........اور اوپر والا بیس پچیس ہزار ن لیگ اور پی پی پی کےنظریاتی ووٹرز ہیں....باقی مذہبی ووٹرز انہی سب میں شامل ہیں.......اب میں نے نوجوان ووٹرزکا کبیروالا کی حدتک پی ٹی آئی کو 33% دیا ہے جو کہ ممکن ہے....اب اس میں مخدوم گروپ کا بھی نوجوان ووٹ ہوگا اس کا بھی محدود اندازہ لگا لیجئے......یہ تو ممکنہ نوجوان ووٹرز کی تقسیم تھی اب جو 35 سال سے اوپر کے 263649 ووٹرز ہیں ان کی تقسیم کار کیا رہے گی.....تو اس کیلیے میرا تجزیہ یہ ہے کہ یہاں شخصیت پرستی اور مقامی دھڑے بندی کا ووٹ ہے.....جس کے ساتھ مقامی دھڑے زیادہ تعداد میں ہوئے وہی سیٹ نکال لے گا.....اگر ہر موضع کے وڈیرے نے نیوٹرل سا کردار ادا کیا اور خاموشی اختیار کی جو کہ بظاہر نہیں لگتا......تو پھر پی ٹی آئی کا چانس بن سکتا ہے ......اس کےلیے کم ازکم 1 لاکھ ووٹ کا فگر کراس کرنا ہوگا........اگر دونوں الیکٹیبلز گزشتہ الیکشن جتنے ووٹ لیتے ہیں تو پھر دونوں کے 101520+92039=193559 ووٹ بنیں گے....اوراگر ٹرن آوٹ 75% رہے تو حاصل کردہ ووٹ 347736 ہونگے ان میں سے مذکورہ 193559 نکال دیے جائیں تو باقی 154177 ووٹ بچیں جو دیگرپارٹیز کے امیدوار لیں گے.....مگر پھر وہی بات شخصیت پرستی اور دھڑے بندی کی.......اگر مواضعات کے وڈیروں کا اس مرتبہ سحر ٹوٹ گیا تو پی ایم ایل این کے امیدوار مخدوم مختار حسین شاہ یا پی ٹی آئی کے امیدوار بھی جیت سکتے ہیں......مگر بظاہر لگ رہا ہے مخدوم مختار حسین تقریبا 35 سے 40 ہزار ووٹ لیں گے جبکہ پی ٹی آئی کا امیدوار 50 سے 60 ہزار اگر دھڑے بندی کا ووٹ نہ ٹوٹا تو.....اگر دھڑے بندی کا ووٹ گیا تو پھر پی ٹی آئی باقی دو آزادامیدواروں کے ساتھ جیتنے کی دوڑ میں شامل ہوسکتی ہے.....اگر شخصیتی اور دھڑے بندی کاووٹ نہ ٹوٹا تو دو مین آزاد امیدواروں کے درمیان مقابلہ ون ٹو ون ہوگا.....سوال یہ ہے پی ٹی آئی امیدوار کے ہوتے ہوئے ان آزاد امیدواروں میں سے کون زیادہ پی ٹی آئی کا ووٹ لے گا.....اس پرمیرا تجزیہ............ شائد بیرسٹر رضاحیات ہراج زیادہ ووٹ لے جائے حالانکہ وہ ٹاک شوز میں بانی پی ٹی آئی پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں.....سید گروپ کو موقع پر آکر ٹکٹ نہ لینے یا لاتعلقی کرنے کا نقصان ہوسکتا ہے پی ٹی آئی کاووٹر بدظن ہوسکتا ہے حالانکہ سید گروپ عدم اعتمادکے دوران ثابت قدم رہے اور بعد تک ساتھ رہے........اب کبیروالا کی عوام کا شعور بھی ملاحظہ فرمائیں....
2002ء کے الیکشن میں ق لیگ کی حکومت بننے والی تھی اور اسکی لہر ویو اور ہائپ تھی.....انہوں نے پی پی پی کوووٹ دے بیرسٹر رضاحیات ہراج کو کامیاب کیا پھر 2008 ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹیکی لہرویو اور ہائپ تھی....پیر صاحب پی پی پی میں تھے بیرسٹرصاحب ق لیگ میں تو یوں بیرسٹر صاحب کامیاب ٹھہرے ....پھر 2013ء کے الیکشن میں لہر اورویو ن لیگ کی تھی پیر صاحب ن لیگ میں اور بیرسٹر صاحب آزاد تو بیرسٹر صاحب کامیاب رہے.....پھر 2018ء کے الیکشن میں لہر ویو اور ہائپ پی ٹی آئی کی تھی بیرسٹر صاحب پی ٹی آئی میں اورپیر صاحب آزاد تھے تو پیر صاحب کامیاب ٹھہرے.....گزشتہ 4 الیکشن میں کبیروالا کی عوام نے بننےوالی حکومت کے خلاف ووٹ دیا اور پانچویں مرتبہ بھی ایسا لگ رہا ہے.....ن لیگ کی حکومت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور ن لیگ کا امیدوار جیتتا نظر نہیں آرہا..........مقابلہ تین کے درمیان بھی بن سکتا ہے......دو آزاد اور ایک پی ٹی آئی.....سر دست مقامی دھڑے بندیوں کے حساب سے مقابلہ دو کے درمیان ون ٹوون ہے اگر ووٹر نکل آیا اور دھڑے بندی کو توڑنےمیں
کامیاب ہوگیا تو پھر انہونی ہوسکتی ہے ایک تیسرا گروپ اقتدار میں آکر اپ سٹ کر سکتا ہے.......چنددن رہ گئے ہیں دیکھتے ہیں کبیروالا NA 144 کا سلطان کون بنتا ہے.........
پاکستان زندہ باد
تحریر......جی اے ساقی
16 جنوری 2024ء
جی اے ساقی سموگ فوگ شدید اور دریاوں کے حوالے سے اپڈیٹ کرتے ہوئے......چشم ساقی نام سے یوٹیوب چینل ہے وہاں پر بھی جاکر رپورٹ دیکھ سکتے ہیں......
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Khanewal