Dr. Hafiz Rizwan Abdullah

Dr. Hafiz Rizwan Abdullah

Share

A seeker of knowledge and tutor of the Holy Quran. This is Dr. Hafiz Rizwan Abdullah's Official page. Dr. Hafiz Rizwan Abdullah completed his Ph.D.

from The Islamia University of Bahawalpur, Pakistan. He is currently working as a Lecturer in a Public Sector College. He completed Hifz-ul-Quran only in five months and he memorized the hadith book; Bolough-ul-Maraam (Alhumdulillah). He did Dar's-e-Nizami from Jamia Salfia Faisalabad. Dar's-e-Nizami is 7 years extensive Islamic scholar course. He has a great amount of interest in Islamic youth de

30/04/2026
01/02/2026

ایک غلط فہمی کی اصلاح

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾ (النور: 26)

اکثر لوگ اس آیت کو نکاح کے مفہوم میں بیان کرتے ہیں کہ اچھا مرد اچھی عورت کے لیے اور برا مرد بری عورت کے لیے ہوتا ہے، حالانکہ یہ مفہوم درست نہیں۔

یہ آیت واقعۂ افک کے پس منظر میں نازل ہوئی، جب منافقین نے ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر جھوٹا الزام لگایا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ ناپاک باتیں ناپاک لوگوں ہی کی زبان سے نکلتی ہیں اور پاکیزہ باتیں صرف پاک دل لوگوں کی پہچان ہوتی ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ لوگوں کو ان بہتانوں سے بری قرار دیاہے۔
اسی آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ﴾
" یہ لوگ ان باتوں سے بالکل پاک اور بری ہیں جو ان کے بارے میں کہی جاتی ہیں" ۔

لہٰذا اس آیت کا براہِ راست تعلق نکاح سے نہیں۔
اس کی واضح مثالیں قرآن میں موجود ہیں:
فرعون جیسے بدترین شخص کی بیوی حضرت آسیہؓ نیک تھیں جن کا قول اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نقل فرمایاہے:
﴿رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ﴾(التحریم: 11)
"اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے"۔

جبکہ دوسری طرف حضرت نوحؑ اور حضرت لوطؑ جیسے عظیم انبیاء کی بیویاں نافرمان تھیں، جن کے بارے میں فرمایا:
ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ (التحریم: 10)
"تم دونوں جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہو جاؤ" ۔

لہٰذا یہ آیت نکاح کے بارے میں نہیں بلکہ پاکیزہ اور ناپاک باتوں اور کردار کے بارے میں ہے۔اس اعتبار سے آیت مبارکہ کا ترجمہ یوں ہو گا:
"ناپاک باتیں ناپاک لوگوں کے لیے ہیں، اور ناپاک لوگ ناپاک باتوں ہی کے لائق ہیں اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ لوگ پاکیزہ باتوں ہی کے اہل ہیں۔ یہی لوگ ان باتوں سے بری ہیں جو ان کے بارے میں لوگ کہتے ہیں اور ان کے لیے بخشش اور باعزت رزق ہے"۔

📚 ماخوذ از: تفسیر ابن کثیر

ڈاکٹر حافظ رضوان عبداللہ

20/07/2025

الحمد للّٰہ
التربیۃ اسلامک سنٹر کا لینٹر ڈالنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
تعلیم و تربیت کا عظیم منصوبہ جہاں ہمارے بچوں کے درخشاں مستقبل کے خواب شرمندہ تعبیر ہوں گے ان شاءاللہ

ایڈریس: عقب گورنمنٹ گرلز کالج، گرین فورٹ ، میاں چنوں پاکستان

23/04/2025

نیکی پھیلائیں، اجر کمائیں

22/04/2025

نیکی پھیلائیں، اجر پائیں

26/03/2025

Alhamdulillah, honored to present a research article.

Want your school to be the top-listed School/college in Khanewal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Khanewal