Dr. Hafiz Rizwan Abdullah

Dr. Hafiz Rizwan Abdullah A seeker of knowledge and tutor of the Holy Quran. This is Dr. Hafiz Rizwan Abdullah's Official page. Dr. Hafiz Rizwan Abdullah completed his Ph.D.

from The Islamia University of Bahawalpur, Pakistan. He is currently working as a Lecturer in a Public Sector College. He completed Hifz-ul-Quran only in five months and he memorized the hadith book; Bolough-ul-Maraam (Alhumdulillah). He did Dar's-e-Nizami from Jamia Salfia Faisalabad. Dar's-e-Nizami is 7 years extensive Islamic scholar course. He has a great amount of interest in Islamic youth development and wants to dedicate his life to bring positive change in society. He regularly conducts and participates in Daroos, seminaries, and social welfare projects. His approach towards Islamic is Qur'an and Hadith-centric. This page aims to bring you an assortment of short educational and inspirational video clips of Dr. Hafiz Rizwan Abdullah offering excellent advice on everyday relevance!!

23/09/2026

اللہ کی نعمتیں گننا شروع کر دو
شکایتیں ختم ہو جائیں گی۔

26/08/2026

کیسی کیسی قیامتیں ٹوٹتی ہیں لوگوں پر اور کیسے کیسے غم کے ہمالیہ آ گرتے ہیں ان کے سروں پر!
ہمالیہ کے دامن میں واقع پمز کے نرسری وارڈ میں بھڑکنے والی آگ نے 15 معصوم جانوں کو نگل لیا۔ کتنے آنگن اجڑ گئے! ان میں کتنے ایسے والدین تھے جنہیں برسوں کے انتظار کے بعد یہ نعمت نصیب ہوئی ہوگی۔
آگ تو بے رحم ہوتی ہے؛ جب بھڑکتی ہے تو چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں کرتی۔ مگر افسوس! ہمارے اربابِ اقتدار کی بے حسی بعض اوقات اس آگ سے بھی زیادہ بے رحم محسوس ہوتی ہے۔
سانحہ ہو جانا ممکن ہے، حادثہ کسی بھی وقت پیش آ سکتا ہے؛ مگر مسلسل اور متواتر سانحات ہوتے رہنا یقیناً نااہلی اور بے حسی کی علامت ہے۔
ہر واقعے کے بعد کمیٹیاں بنتی ہیں، کمیشن تشکیل پاتے ہیں، رپورٹس تیار ہوتی ہیں، مگر عملی طور پر عوام کی زندگی میں بہتری دکھائی نہیں دیتی۔
ہر آتشزدگی کو ’’شارٹ سرکٹ‘‘ کہہ کر ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جانا مسئلے کا حل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حفاظتی انتظامات کیا تھے؟ نگرانی کون کر رہا تھا؟ اور آئندہ ایسے سانحات روکنے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے؟
خدارا! اس عوام کے سکھ، تحفظ اور سہولت کے لیے بھی کچھ کیجیے۔
ڈاکٹر حافظ رضوان عبداللہ

13/08/2026
الحمد للہآج سے تقریباً دس سال قبل لکھی گئی اپنی کتاب "فہمِ عقیدہ" کا مقدمہ دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ میں نے اس مقدمے میں...
07/08/2026

الحمد للہ
آج سے تقریباً دس سال قبل لکھی گئی اپنی کتاب "فہمِ عقیدہ" کا مقدمہ دوبارہ پڑھنے کا موقع ملا۔ میں نے اس مقدمے میں اپنے فہم اور مطالعے کے مطابق انسانی زندگی میں عقیدے کی مرکزیت اور ضرورت و اہمیت پر چند معروضات پیش کی تھیں۔ اسے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔
کتاب: فہمِ عقیدہ (مقدمہ) مؤلف: حافظ رضوان عبداللہ
===============
عقیدہ انسان کی بنیادی اور فطری ضرورت ہے۔ جس طرح ہوا، پانی اور غذا کے بغیر انسان کے لیے اس زمین پر زندہ رہنا اور حرکت کرنا ممکن نہیں ہے، اسی طرح عقیدے اور نظریے کے بغیر انسان کی زندگی صرف نام کی زندگی ہے، حقیقت میں وہ مردہ اور بے جان جسم ہے، جو مخصوص طرزِ زندگی، بہترین لائحۂ عمل اور مستقبل کی پیش بندی سے یکسر محروم ہوتا ہے۔
اس کرۂ ارض پر کروڑوں لوگ آباد ہیں، جو ملک و وطن، قوم و نسل، تہذیب و ثقافت اور معاشرے کے اعتبار سے مختلف لوگوں کا مجموعہ ہیں۔ آپ ان سب کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ دنیا کا کوئی فرد اور معاشرہ ایسا نہیں ہے جس کی زندگی کسی نظریے اور اصول کی پابند نہ ہو۔وہ نظریات صحیح ہیں یا غلط، اس بات سے قطعِ نظر کر کے دیکھا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ہر شخص کا قول و عمل انہی مخصوص اصول و نظریات کا عکاس ہوتا ہے اور اس کی سیرت و کردار پر ان اصول و عقائد کی چھاپ نمایاں نظر آتی ہے۔
یہ اصول و نظریات انسان کو اپنی جان سے بھی عزیز ہوتے ہیں اور وہ کسی بھی صورت ان پر آنچ نہیں آنے دیتا، بلکہ موقع ملے تو وہ ان کی خاطر اپنی قیمتی ترین متاع، یعنی جان کی قربانی کو بھی عظیم سعادت خیال کرتا ہے۔
لہٰذا، جب عقیدے اور نظریے کی انسانی زندگی میں اتنی اہمیت ہے تو ضروری ہے کہ ان کی اصلاح کی سر توڑ کوشش کی جائے اور جس قدر ممکن ہو انہیں بگاڑ اور خرابی سے بچایا جائے، تاکہ ان اصول و نظریات کی کوکھ سے جنم دینے والا قول و عمل اور سیرت و کردار صحیح سالم، تندرست اور توانا ہو اور وہ بداخلاقیوں، کمزوریوں اور خامیوں سے ممکن حد تک محفوظ رہے۔
انسان کے لیے صحیح اصول و نظریات سے وابستہ ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بنیادی طور پر انسان عقل، روح اور جسم و قالب کا مجموعہ ہے۔ انسان کی عقل، روح اور مادی جسم کے لیے اگر کوئی ضابطہ اور قانون نہ بنایا جائے اور ان کی تسکین کی خاطر مناسب غذا کا اہتمام نہ کیا جائے تو خود ان میں بھی بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور دوسرے بہت سے لوگوں کی ضلالت و گمراہی کا وافر سامان بھی فراہم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، عقل انسان کے جسم کی حاکم اور قوتِ فیصلہ کی مالک ہے، مگر یہی عقل دولتِ ایمان اور الٰہی نظریات سے محروم ہو تو مادیت پرستی، سیکولرزم، لادینیت اور الحاد کا شکار ہو جاتی ہے۔
روح، عقل سے بھی ایک لطیف شے ہے، جس کے بغیر ایک پل بھی اس دنیا میں جینا محال ہے۔ مگر ایمان اور صحیح عقیدے کے بغیر یہی روح، جب اطمینان و تسکین کی تلاش میں نکلتی ہے تو رہبانیت کی آغوش میں جا گرتی ہے اور انسان کے کردار و عمل کو ایسی سمت پر ڈال دیتی ہے کہ انسان اس دنیا میں تماشہ بن جاتا ہے۔
ہماری ظاہری نظر سے انسان کے مادی اور خاکی جسم کا انکار بھی قطعاً ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہی وہ آشیانہ ہے جو عقل و روح کا بسیرا ہوتا ہے۔ مگر ایمان اور صحیح عقیدے کو انسان کی زندگی سے نکال دیا جائے تو یہ خاکی جسم بھی تمرد اور سرکشی پر اتر آتا ہے اور اس دنیا میں فتنہ و فساد کا ایک ہنگامہ برپا کر دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انسان کی عقل، روح اور جسم کو راہِ راست پر لانے اور بغاوت و سرکشی سے روکنے کے لیے صحیح عقیدے اور ایمان کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
صحیح اصول و عقائد کے بغیر نہ انسان کی صالح سیرت اور حسنِ کردار کی تشکیل ممکن ہے، نہ انسان کی شرارتوں اور شر انگیزیوں سے اس دنیا کو محفوظ رکھنا اور اسے امن و سلامتی کا گہوارہ بنانا ممکن ہے۔
یہ صحیح اصول و نظریات ہی کی طاقت ہے جو انسان کو ایک اچھا انسان بناتی ہے، ایک صالح معاشرے کو وجود بخشتی ہے اور من حیث القوم پورے اجتماعی نظام کی بنیادوں میں نیکی اور اچھائی کی روح پھونک دیتی ہے۔
ایمان و یقین کی وجہ سے انسان کے قول و عمل میں اس انقلاب کی جھلک دیکھنی ہو تو فرعون کے جادوگروں کا واقعہ اس کی نہایت عمدہ مثال ہے۔ جو جادوگر شر اور برائی کا دفاع کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کرنے پر تلے ہوئے تھے، کچھ ہی دیر بعد ایمان اور معرفتِ الٰہی کا ذائقہ چکھ لینے سے ان میں یہ تبدیلی پیدا ہوئی کہ وہ اپنی تمام تر طاقتوں اور توانائیوں کے ساتھ حمایتِ حق کے لیے باطل کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ یہ تبدیلی اور انقلاب، نتیجہ تھا محض درستیِ عقائد و نظریات کا۔
یہی وہ عظیم مشن، بلند مقصد اور زبردست انقلاب برپا کرنے کا جذبہ تھا جس کی خاطر اس دنیا میں انبیاء و رسل کا مبارک سلسلہ شروع ہوا۔ اس مقدس گروہ نے حصولِ مقصد کی خاطر جو طریقۂ تبلیغ اپنایا اور جس نقطے سے اپنی دعوت کا آغاز کیا، وہ یہی اصلاحِ اصول و عقائد ہی تھا۔سبھی کی تعلیمات میں اولین اور پہلا نمبر توحید اور معرفتِ الٰہی ہی کا ہے۔ خود ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت و تعلیمات کو دیکھیں، خاص طور پر تیرہ سالہ مکی زندگی پر نظر ڈالیں تو آپ کی دعوت کا مقصدِ وحید ہی اصلاحِ عقیدہ نظر آتا ہے۔یہ سب اہتمام اس لیے تھا کہ عقیدے کی اصلاح کے بغیر انسان کے قول و عمل کی اصلاح کرنا ایک ناممکن سی بات ہے، جو کبھی بار آور نہیں ہوتی۔
عقیدے کی اہمیت کے پیشِ نظر اس موضوع پر بہت سے علماء نے نہایت مبارک اور کامیاب کوششیں کی ہیں۔ انہی کتابوں سے علمی جواہر سمیٹ کر اس کتاب کے مباحث کو زینت بخشی گئی ہے۔ ان تمام معاون کتب کے حوالہ جات اکثر مقامات پر فراہم کر دیے گئے ہیں، تاہم اگر کہیں حوالہ درج نہ ہو تو میری انہی گزارشات کو حوالہ سمجھ لیا جائے اور اسے کسی قسم کی علمی خیانت پر محمول نہ کیا جائے۔
اس کتاب میں کوشش کی گئی ہے کہ علمِ عقیدہ کی فلسفیانہ اور متکلمانہ بحثوں سے گریز کرتے ہوئے مسائل کو عام فہم اور آسان انداز میں پیش کیا جائے۔یہ کوشش اگر کامیاب اور نفع مند ہے تو محض اللہ کے فضل اور توفیق کی وجہ سے ہے اور اگر اس میں نقصان کے پہلو ہیں یا غلطیاں اور کمزوریاں ہیں تو وہ میری کم علمی اور کوتاہ نظری کا نتیجہ ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ قارئین کو محفوظ اور سلامت رکھے۔
اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مؤلف، ناشر اور تمام معاونین کے لیے ذخیرۂ آخرت بنائے۔ آمین۔
خاکسار
حافظ رضوان عبداللہ

07/08/2026

🌿 خطباتِ سیرت النبی ﷺ — نئی قسط کا آغاز
الحمد للہ!
گزشتہ برس جامع مسجد المکرم میں خطباتِ سیرت النبی ﷺ کا آغاز کیا گیا تھا، جس میں رسول اللہ ﷺ کی مکی زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا گیا۔
اب ان شاء اللہ، آج سے سیرت کے دوسرے اور نہایت اہم مرحلے "مدنی زندگی" کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔
🌸 آج کا موضوع
"جب مدینہ حضور ﷺ کے استقبال میں جھوم اٹھا"
آئیے! رسول اللہ ﷺ کی مبارک سیرت کے اس ایمان افروز سفر میں ہمارے ساتھ شامل ہوں اور اپنی زندگی کو سیرتِ طیبہ کی روشنی سے منور کریں۔
🕌 خطبہ جمعہ
پروفیسر ڈاکٹر حافظ رضوان عبداللہ
جامع مسجد المکرم، محلہ رحمانیہ، میاں چنوں
🕧 آغازِ خطبہ: 12:50 PM
🕌 نمازِ جمعہ: 1:30 PM
خود بھی تشریف لائیں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں۔

31/07/2026

شاید آج کی شام آپ کی تقدیر بدل جائے!

سنا ہے اس بار یورپ گرمی سے جھلس اٹھا۔ درجۂ حرارت چالیس ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا۔ شدید گرمی کے باعث اموات کی خبریں بھی س...
05/07/2026

سنا ہے اس بار یورپ گرمی سے جھلس اٹھا۔ درجۂ حرارت چالیس ڈگری سے بھی تجاوز کر گیا۔ شدید گرمی کے باعث اموات کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ جہاں صدیوں سے ٹھنڈک اور معتدل موسم کا راج تھا، وہاں اچانک ایسی جھلسا دینے والی گرمی حیرت انگیز ہے۔اگرچہ موسمیاتی تبدیلی اس کا ایک بڑا سبب ہے مگر ایک صاحب ایمان کے لیے یہ اسباب اس حقیقت سے نہیں ٹکراتے کہ ہوا، بادل ، سورج اور موسم کی ہر تبدیلی خود ان کے اپنے اختیار سے نہیں ہوتی بلکہ حکم الٰہی کی پابند ہے۔ وہ چاہے تو صحرا میں پھول کھلا دے، آگ کو گلزار بنا دے اور ٹھنڈے و معتدل خطوں کو تپتے میدانوں میں بدل دے۔گرمی ہو یا سردی، بہار ہو یا خزاں، سب اسی کے حکم کے تابع ہیں ، وہی اسباب کا خالق ہے اور مسبب الاسباب بھی۔
انسان نے اپنے علم اور ٹیکنالوجی کی بدولت بہت سی مشکلات کا مقابلہ کیا اور کامیابیاں بھی سمیٹیں۔ یہ علم بجا طور پر انسانیت کے لیے ایک بلسنگ ہے مگر بعض اوقات ایک ہی موسمی تبدیلی تمام تر وسائل کے باوجود انسان کو بے بس کر دیتی ہے اور اسے یہ احساس دلا دیتی ہے کہ حقیقی اختیار اور کامل قدرت کسی اور ہی ذات کے پاس ہے۔رہے نام اللہ کا۔
ڈاکٹر حافظ رضوان عبداللہ

ان شاء اللہ
02/07/2026

ان شاء اللہ

Address

Khanewal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Hafiz Rizwan Abdullah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dr. Hafiz Rizwan Abdullah:

Shortcuts

Share

Category