حضرت بلال کے اذان نہ دینے پر سورج کا طلوع نہ ہونا
سوال
حضرت بلال کا جو واقعہ مشہور ہے کہ حضرت نے اذان نہیں دی تھی تو سورج نہیں نکلا اس واقعے کی کیا حقیقت ہے جواب دیکر مہربانی کرے؟
جواب
صورت ِ مسئولہ میں ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ بعض یہودیوں نے طعنہ دیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے مؤذن ایسا رکھا ہے، جسے شین اور سین کی تمیز نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے سے منع کردیا تو اس روز صبح نہیں ہورہی تھی، پھر صحابی نے بارگاہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوکر رات کے حوالے سے عرض کیا، پھر جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے اور فرمایا: جب تک حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان نہیں دیں گے، صبح نہیں ہو گی تو پھر حضرت بلال نے اذان دی تو صبح ہوئی۔
اور یہ بھی بیان کیاجاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال کا سین بھی اللہ تعالی کے نزدیک شین ہے۔
صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ واقعہ مستند کتب احادیث وسیر میں موجودنہیں ہے ،اور اس ضمن میں جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ محدثین کے نزدیک من گھڑت اور بے اصل ہے ؛لہذا اس کو بیان کرنا درست نہیں ،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دیگر فضائل کو بیان کرنا چاہیے۔
البدایۃ والنہایۃ میں ہے :
"ومنهم رضي الله عنهم بلال بن رباح الحبشي. ولد بمكة وكان مولى لأمية بن خلف، فاشتراه أبو بكر منه بمال جزيل لأن كان أمية يعذبه عذابا شديدا ليرتد عن الإسلام فيأبى إلا الإسلام رضي الله عنه، فلما اشتراه أبو بكر أعتقه ابتغاء وجه الله، وهاجر حين هاجر الناس، وشهد بدرا وأحدا وما بعدهما من المشاهد رضي الله عنه. وكان يعرف ببلال بن حمامة وهي أمه، وكان من أفصح الناس لا كما يعتقده بعض الناس أن سينه كانت شينا، حتى إن بعض الناس يروي حديثا في ذلك لا أصل له عن رسول الله أنه قال: إن سين بلال شينا. وهو أحد المؤذنين الأربعة كما سيأتي، وهو أول من أذن كما قدمنا".
(ج:5،ص:333،دارالفکر)
المقاصد الحسنۃ للسخاوی میں ہے :
"حديث: سين بلال عند الله شين، قال ابن كثير: إنه ليس له أصل، ولا يصح، وكذا سلف عن المزي في: إن بلالا، من الهمزة، ولكن قد أورده الموفق ابن قدامة في المغني بقوله: روي أن بلالا كان يقول أسهد، يجعل الشين سينا، والمعتمد الأول، وقد ترجمه غير واحد بأنه كان ندي الصوت حسنه فصيحه، وقال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن زيد صاحب الرؤيا: ألق عليه، أي على بلال، الأذان، فإنه أندى صوتا منك، ولو كانت فيه لثغة لتوفرت الدواعي على نقلها، ولعابها أهل النفاق والضلال، المجتهدين في التنقص لأهل الإسلام، نسأل الله التوفيق".
(ص:397،دارالکتاب العربی)
التذکرۃ فی الاحادیث المشتہرۃ میں ہے :
"قال الحافظ جمال الدين المزي اشتهر على ألسنة العوام ان بلالا رضي الله عنه كان يبدل الشين في الآذان سينا ولم نره في شيء من الكتب كذا وجدته عنه بخط الشيخ برهان الدين السفاقسي".
(ص:208،دارالکتب العلمیۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144402101496
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
Usman Bin Affan
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Usman Bin Affan, School, Khanewal.
نوافل کے رکوع سجدے میں دیگر دعائیں پڑھنے کا حکم
سوال
میں نفل اور تہجد کی نماز کے رکوع اور سجدون میں مسنون تسبیحات کے ساتھ "سبوح قدوس" بھی پڑھتا ہوں، کیا یہ غلط تو نہیں؟ اس سے میری نماز ضائع تو نہیں ہوجاتی؟کیا نوافل کے رکوع اور سجدوں تسبیحات کی کوئی تعداد مقرر ہے؟ کیوں کہ مین لمبے سجدے میں تعداد شمار کئے بغیر تسبیحات پڑھتا رہتا ہوں؟کیا تشہد میں درود کے بعد لمبی دعائیں مانگ سکتے ہیں؟
جواب
نوافل کے رکوع سجدوں میں تسبیحات کے ساتھ "سبوح قدوس" پڑھنا جائز ہے اور اس سے نماز پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔نوافل کے رکوع سجدے میں تسبیحات کی کوئی تعداد مقرر نہیں، لیکن طاق عدد ہونا بہتر ہے۔فرض نماز میں تو صرف مسنون دعاؤں پر اکتفا کریں، البتہ نوافل میں دیگر مسنون اور طویل دعائیں بھی مانگ سکتے ہیں، واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143601200005
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
18/08/2025
بیچ کی راہ... یقینی کفر
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّ نَکۡفُرُ بِبَعۡضٍ ۙ وَّ یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا بَیۡنَ ذٰلِکَ سَبِیۡلًا ﴿۱۵۰﴾ۙ
ترجمہ آسان قرآن
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ (کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۵۱﴾
ترجمہ بیان القرآن (تھانوی)
ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔ (151)
تفسیر عثمانی
ف ٣ یہاں سے ذکر ہے یہود کا۔ چونکہ یہود میں نفاق کا مضمون (مادہ۔عادت۔مزاج) بہت تھا اور آپ کے زمانہ میں جو منافق تھے وہ یہود تھے یا یہودیوں سے ربط اور محبت رکھنے والے اور ان کے مشورہ پر چلنے والے تھے اس لیے قرآن شریف میں اکثر ان دونوں فریق کا ذکر اکٹھا فرمایا ہے۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسولوں سے منکر ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں فرق کرنا چاہتے ہیں یعنی اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں پر ایمان نہیں لاتے اور بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور مطلب یہ ہے کہ اسلام اور کفر کے بیچ میں ایک نیا مذہب اپنے لیے نکالیں ایسے ہی لوگ اصل اور ڈھیٹ کافر ہیں۔ ان کے لیے خواری اور ذلت کا عذاب تیار ہے۔
فائدہ : اللہ کا ماننا جب ہی معتبر ہے کہ اپنے زمانہ کے پیغمبر کی تصدیق کرے اور اس کا حکم مانے۔ بدون (بغیر) تصدیقِ نبی کے، اللہ کا ماننا غلط ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ ایک نبی کی تکذیب اللہ کی اور تمام رسولوں کی تکذیب سمجھی جاتی ہے۔ یہود نے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وعلی وآلہ وسلم) کی تکذیب کی تو حق تعالیٰ کی اور تمام انبیاء کی تکذیب کرنے والے قرار دیے گئے اور کٹے (پکے۔کٹر) کافر سمجھے گئے۔
An-Nisa' | Verse 152
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
ترجمہ بیان القرآن (تھانوی)
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے سب رسول پر بھی اور ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ ضرور ان کے ثواب دینگے اور اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت والے ہیں بڑے رحمت والے ہیں۔ (ف ٥) (152)
An-Nisa' | Verse 152
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَمۡ یُفَرِّقُوۡا بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ اُولٰٓئِکَ سَوۡفَ یُؤۡتِیۡہِمۡ اُجُوۡرَہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۵۲﴾٪
تفسیر مظہری
والذین آمنوا باللہ ورسلہ: اور جو لوگ اللہ اور اس کے (تمام) پیغمبروں پر ایمان لائے۔
ولم یفرقو بین احد منہم: اور ان میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کیا۔
......
......
اولئک سوف یوتیہم اجورہم: ان لوگوں کو ضرور اللہ ان کا ثواب عطا فرمائے گا یعنی جس ثواب کا اللہ نے وعدہ کیا ہے وہ ضرور عنایت کرے گا۔ لفظ سوف وعدہ کو پختہ کرنے اور اس امر کو ظاہر کرنے کیلئے ہے کہ ثواب لامحالہ ملے گا خواہ ملنے میں تاخیر ہو۔
وکان اللہ غفورا: اور (جو کچھ ان سے قصور ہوگیا ہو) اللہ بخشنے والا ہے۔
رحیما: ان پر مہربانی کرنے والا ہے یعنی ان کی نیکیوں کے ثواب کو چند گنا کر دے گا۔
ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی کی روایت سے لکھا ہے کہ کچھ یہودیوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اللہ کی طرف سے (توراۃ کی لکھی ہوئی) تختیاں لائے تھے آپ بھی (اللہ کی کتاب کی لکھی ہوئی) تختیاں اللہ کی طرف سے لا کر ہم کو دیجئے ہم آپ کو سچا جانیں۔
بغوی نے تعیین کے ساتھ ان یہودیوں کے نام کعب بن اشرف اور فخاص بن عازوراء بتائے ہیں اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
04/08/2025
📖 مذکورہ روایت حجت نہیں:
اس روایت سے معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت محمد بن حنفیہ نے یزید کے ہاں کب اور کتنا قیام کیا تھا؟ اور اگر ایک بزرگ مہمان کے سامنے اس نے نیک اعمال کا مظاہرہ کر بھی لیا ہے تو اس سے اس کا دوام ثابت نہیں ہوتا۔ اور یہی اعتراض قائد وفد حضرت ابن مطیع رضی اللہ عنہ نے بھی کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے بعد اس کی حالت بدل گئی ہو۔ جیسا کہ محققین فرماتے ہیں۔ علاوہ ازیں فسق کا سبب صرف شراب نوشی ہی نہیں اور بھی اس کے اسباب ہیں۔ حافظ ابن کثیر کی اسی البدایہ والنہایہ میں ہے کہ وفد کے قائدین نے یزید سے ملاقات کے بعد مدینہ منورہ واپس آکر لوگوں کو بتایا کہ یزید تارک نماز ہے اور شراب پیتا ہے۔
اس لیے لوگوں نے یزید کی بیعت توڑنے کا عام اعلان کر دیا۔ اب قابل غور بات یہ ہے کہ کیا حضرت عبداللہ بن حنظلہ صحابی اور حضرت عبداللہ بن مطیع صحابی رضی اللہ عنہما سے کوئی مسلمان یہ بدظنی کر سکتا ہے کہ انہوں نے یزید کے خلاف غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ اور خود حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ روایت حجت نہیں ہے۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی کتاب میں یہ روایت نقل کرنے کے باوجود لکھا ہے کہ:
وقد كان يزيد فيه خصال محمودة من الكرم والحلم والفصاحة والشعر والشجاعة وحسن الرأى في الملك وكان ذا جمال حسن المعاشرة وكان فيه ايضاً اقبال على الشهوات وترك بعض الصلوات في بعض الاوقات واما تتها في غالب الأوقات الخ
(البدايه والنهاية جلد ۸ ص ۲۳۰۔ط السعادۃ قاہرہ)
محمود احمد عباسی صاحب نے اس عبارت کے متعلق لکھا ہے: علامہ ابن کثیر نے ان (یعنی یزید) کے خصائل کے بارے میں اسی قسم کے الفاظ تحریر کئے ہیں۔ وقد كان يزيد فيه خصال محمودة الخ لیکن عباسی صاحب نے عبارت حسن المعاشرة کے الفاظ تک درج کی ہے اور مابعد کے الفاظ چھوڑ دئیے ہیں جو ان کے موقف کے خلاف تھے حالانکہ دیانتداری کا تقاضا یہ تھا کہ جب وہ ابن کثیر رحمہ اللہ کی رائے لکھ رہے ہیں تو ان کی پوری رائے نقل کرتے۔
عباسی گروہ کے دوسرے مصنفین مولوی عظیم الدین صاحب وغیرہ بھی اپنی کتابوں میں پوری عبارت نقل نہیں کرتے۔ کیا تحقیق حق اس کا نام ہے؟ بہرحال عباسی صاحب نے مندرجہ عبارت کا حسب ذیل ترجمہ کیا ہے:
اور یزید کی ذات میں قابل ستائش صفات حلم و کرم - فصاحت و شعر گوئی اور شجاعت اور بہادری کی تھیں نیز معاملات حکومت میں عمدہ رائے رکھتے تھے اور وہ خوبصورت اور خوش سیرت تھے۔ (خلافت معاویہ و یزید طبع چہارم ص ۱۰۰)۔
اس کے بعد حافظ ابن کثیر نے جو الفاظ لکھے ہیں ان کا ترجمہ حسب ذیل ہے: اور اس میں شہوات کی طرف میلان بھی تھا اور بعض اوقات بعض نمازیں چھوڑ دیتا تھا اور بسا اوقات وہ نمازیں وقت گزر جانے کے بعد پڑھتا تھا۔
عباسی صاحب نے حسن المعاشرة کا ترجمہ ” خوش سیرت کیا ہے جو صحیح نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرہ یعنی لوگوں کے ساتھ میل جول میں وہ اچھا تھا۔ ورنہ جو شخص پابند نماز نہ ہو اور شہوات کی طرف میلان رکھتا ہوا اسے خوش سیرت کیونکر کہہ سکتے ہیں۔
2️⃣ حافظ ابن کثیر خود یزید کو فاسق قرار دیتے ہیں چنانچہ لکھتے ہیں:
بل قد كان فاسقاً - والفاسق لا يجوز خلعه لاجل ما يثور بسبب ذلك من الفتنة ووقوع الهرج كما وقع من الحرة ......
(البدايه والنهايه ج ۸ ص ۲۳۲ ط السعادۃ قاہرہ )
بلکہ وہ فاسق تھا اور فاسق کی بیعت توڑنا اس لیے جائز نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے فتنہ زیادہ بھڑکتا ہے اور جنگ و قتال واقع ہوتا ہے جیسا کہ واقعہ حرہ کے وقت ہوا)
🎯 حضرت محمد بن حنفیہ کی یہ روایت ابن کثیر نے نقل کی ہے جو بلا سند ہے اور خود حافظ ابن کثیر نے بھی اس روایت پر اعتماد نہیں کیا ورنہ وہ یزید کو کیوں فاسق قرار دیتے؟ لہذا مولانا سندیلوی اور سارے عباسی گروہ کا اس روایت سے یزید کو صالح قرار دینا بے اصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ ذھبی اور حافظ ابن حجر عسقلانی وغیرہ ائمہ جرح و تعدیل نے اس روایت پر اعتماد نہ کرتے ہوئے یزید کی عدالت کو مجروح قرار دیا ہے۔
3️⃣ اگر یزید فی الواقع صالح و عادل ہوتا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس کی کیوں مخالفت کرتے۔ کیا کوئی مسلمان ان جلیل القدر صحابہ کے متعلق یہ بدگمانی کر سکتا ہے کہ انہوں نے محض ذاتی اقتدار کی خواہش کی بنا پر ایسا کیا تھا اور پھر سندیلوی صاحب بڑے فخر سے لکھ رہے ہیں کہ میری رائے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے جلیل القدر بھائی اور یزید کے چشم دید گواہ حضرت محمد بن حنفیہ کی تحقیق کے عین مطابق یہ ہے کہ یزید ایک صالح مسلمان تھے اور خلیفہ عادل بھی تھے۔ (جواب شافی ص ۱۷)۔
حالانکہ حضرت محمد بن حنفیہ نے صراحتا یزید کو عادل خلیفہ نہیں کہا۔ علاوہ ازیں یہاں سوال یہ ہے کہ آپ نے حضرت محمد بن حنفیہ کی رائے کی پیروی کرنے کا تو دعوی کیا ہے لیکن آپ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے موقف کی پیروی کیوں نہیں کی۔ جو حضرت محمد بن حنفیہ سے بدرجہا افضل ہیں۔ کیونکہ حضرت حسین صحابی ہیں اور حضرت محمد بن حنفیہ صحابی نہیں تابعی ہیں۔ حضرت محمد بن حنفیہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فضیلت مروی نہیں اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خصوصی فضائل رسول اللہ صلی اللہ سے منقول ہیں۔
56
انشورنس کی شرعی حیثیت
سوال
انشورنس کی کتنی صورتیں ہیں؟ اور کون سی جائز اور کون سی ناجائز ہیں؟ مع وجوہات جواز اور عدمِ جواز بیان کرکے راہ نمائی فرمائیں!
جواب
زمانے کی جدت کے ساتھ ساتھ ہر چیز کے اندر جدت اور تبدیلی آرہی ہے، اسی حقیقت کے پیشِ نظر سودی کاروبار اور جوئے کی شکلوں میں بھی خاصی تبدیلی آگئی ہے، لیکن ان شکلوں کے بنیادی عناصر کو دیکھا جائے تو ان کی اصلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔
مروجہ انشورنس کی تمام کمپنیوں کا معاملہ بھی بینک کے کاروبار کی طرح ایک سودی معاملہ ہے، دونوں میں صرف شکل وصورت کا فرق ہے، نیز انشورنس کے اندر "سود" کے ساتھ " جوا" بھی پایا جاتا ہے، اور اسلام میں یہ دونوں حرام ہیں، ان کی حرمت قرآنِ کریم کی واضح اور قطعی نصوص سے ثابت ہے، کسی زمانے کی کوئی مصلحت اس حرام کو حلال نہیں کرسکتی۔
انشورنس میں "سود" اس اعتبار سے ہے کہ حادثہ کی صورت میں جمع شدہ رقم سے زائد رقم ملتی ہے اور زائد رقم سود ہے، اور "جوا" اس اعتبار سے ہے کہ بعض صورتوں میں اگر حادثہ وغیرہ نہ ہوتو جمع شدہ رقم بھی واپس نہیں ملتی، انشورنس کمپنی اس رقم کی مالک بن جاتی ہے۔
اسی طرح اس میں جہالت اور غرر ( دھوکا) بھی پایا جاتا ہے، اور جہالت اور غرر والے معاملہ کو شریعت نے فاسد قرار دیا ہے، لہذا کسی بھی قسم کا انشورنس کرنا اور کرانا اور انشورنس کمپنی کا ممبر بننا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
قرآنِ کریم میں ہے:
﴿ يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُون﴾ [المائدة: 90]
صحیح مسلم میں ہے:
"عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اٰكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ»".(3/1219، کتاب المساقات،دار احیاء التراث ، بیروت)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عن ابن سیرین قال: کل شيء فیه قمار فهو من المیسر".(4/483، کتاب البیوع والأقضیة، ط: مکتبة رشد، ریاض)
فتاوی شامی میں ہے:
"وَسُمِّيَ الْقِمَارُ قِمَارًا؛ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْ الْمُقَامِرَيْنِ مِمَّنْ يَجُوزُ أَنْ يَذْهَبَ مَالُهُ إلَى صَاحِبِهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَسْتَفِيدَ مَالَ صَاحِبِهِ وَهُوَ حَرَامٌ بِالنَّصِّ".(6 / 403، کتاب الحظر والاباحۃ، ط: سعید) فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144007200066
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
27/06/2025
نیا 1447 ہجری مبارک
19/06/2025
*دین علماء سے سیکھیں، جاہلوں سے نہیں*
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ لوگوں کے دلوں سے اچانک نکال لے، بلکہ علم کو علماء کے اٹھا لیے جانے سے (یعنی ان کی وفات کے ذریعے) ختم کرے گا۔ یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کسی عالم کو زندہ نہیں چھوڑیں گے تو لوگ جاہلوں کو اپنا پیشوا بنا لیں گے، ان سے سوال کیے جائیں گے، وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، تو خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے*۔"
(صحیح بخاری: 100، صحیح مسلم: 2673)
--------------------------------------------------عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال:
سَمِعْتُ رسولَ اللهِ ﷺ يقول:
«إنَّ اللهَ لا يَقْبِضُ العِلْمَ انْتِزاعًا يَنْتزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ العِلْمَ بِقَبْضِ العُلَمَاءِ، حتّى إِذا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا، اتَّخَذَ النَّاسُ رُؤُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا، فَأفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأضَلُّوا».
یہ اہم نکتہ سمجھ لیجیے کہ ضعیف، حسن اور صحیح؛ یہ ثابت یعنی سند والی احادیث کی صفات ہیں یعنی سند کے ساتھ حدیث موجود ہونے کے بعد اس کے صحیح، حسن یا ضعیف ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے، لیکن جس حدیث کی سند ہی نہ ہو یعنی اس کا کوئی معتبر ثبوت ہی نہ ہو تو وہ ضعیف کیسے ہوسکتی ہے! اس لیے غیر ثابت، منگھڑت، بے اصل اور بے سند روایات کو ضعیف کہہ کر فضائل میں چلانے والے کھلی غلطی کا شکار ہیں۔ خوب سمجھ لیجیے تاکہ غلطی سے حفاظت ہوسکے!
مفتی مبین الرحمان
آج رائیونڈ اجتماع کے پہلے حصہ کی آخری رات ہے.. کاش! مجھے بھی جانا نصیب ہوجاتا.. جانے والو! اپنی دعاؤں سے ہمیں محروم نہ کرنا
فریاد!!! جس کی سنوائی کی کوئی امید نہیں!!!
چند ماہ پیشتر ہی اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ وہ وقت دور نہیں جب "فراعنہ مدارس" کے قصے فیس بک پر نشر ہونا شروع ہو جائیں گے اور اب شاید وہ وقت آ ہی گیا ہے، رب کریم کا فضل و احسان کہ اپنے دس سالہ تدریسی زمانے میں براہ راست ہمارے ساتھ اس نوعیت کا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا البتہ بہت سے "متہمین" کو فرعونوں کے لہجے میں غراتے ضرور دیکھا ہے، اور بہت سے ساتھیوں کو اس کا شکار بھی ہوتے دیکھا ہے، لیکن بہرحال ہم اُن قصوں کو اب بھی اپنے سینے میں دفن رکھتے ہیں لیکن حالات اچھے نہیں ہیں، بالخصوص "مہتممین کا اپنے اساتذہ کے ساتھ رویہ" اگر ہر مدرس نے اپنے دکھڑے فیس بک پر سنانا شروع کر دیے تو شاید کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کتنی اونچی اونچی دستاریں لمحوں میں زمین بوس ہو جائیں گی، رب کریم ہر ایک کی عزت کو محفوظ رکھے
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ فوراً سے پہلے ان معاملات کے حل کی طرف سنجیدہ اقدامات اٹھا لیے جائیں، مہتممین کے لیے ضابطہ اخلاق مقرر کیا جائے اور انہیں اس پر عمل کرنے کا پابند بنایا جائے اور لازمی طور پر کوئی ایسی کمیٹی یا ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے کہ جہاں پر مہتممین اور اساتذہ اپنے مسائل حل کر سکیں وگرنہ یقین کیجیے کہ مجھ ایسا طالب علم بھی مستقبل کا بہت بھیانک منظر دیکھ رہا ہے، خدا کرے کہ یہ منظر پس منظر ہی رہے کبھو حقیقت کا روپ نہ دھارے
دردِ دل
محمد حمزہ صدیقی
سرکاری ادارے میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا
سوال
سوال یہ ہے کہ آج کل سرکاری نوکری بغیر رشوت کے ملتی ہی نہیں ہے، جس ادارے میں جاؤں پہلے کچھ مانگتے ہیں بغیر رشوت کے کوئی کام نہیں ہوتا، کیا اب ایسا کرنا صحیح ہے؟ یہ مسئلہ بہت عام ہو گیا ہے تو کیا عمومِ بلویٰ کی وجہ سے اس میں کوئی جواز آتا ہے یا پھر جواز کی کوئی اور صورت ہے تو اس کے متعلق کچھ رہنمائی فرمائیں؟
جواب
رشوت لینے اور دینے والے پر حضورِ اکرم ﷺ نے لعنت فرمائی ہے، چناں چہ رشوت لینا اور دینا دونوں ناجائز ہیں، اس لیے حتی الامکان رشوت دینے سے بچنا بھی واجب ہے، البتہ اگر کوئی جائز کام تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور حق ثابت ہونےکے باوجود صرف رشوت نہ دینے کی وجہ سے نہ ہورہا ہو تو ایسی صورت میں حق دار شخص کو چاہیے اولاً وہ اپنی پوری کوشش کرے کہ رشوت دیے بغیر کسی طرح (مثلاً حکامِ بالا کے علم میں لاکر یا متعلقہ ادارے میں کوئی واقفیت نکال کر) کسی طرح اس کا کام ہوجائے،اور جب تک کام نہ ہو اس وقت تک صبر کرے اور صلاۃ الحاجۃ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے مسئلہ حل ہونے کی دعا مانگتا رہے، لیکن اگر شدید ضرورت ہو اور کوئی دوسرا متبادل راستہ نہ ہو تو اپنے جائز ثابت شدہ حق کے حصول کے لیے مجبوراً رشوت دینے کی صورت میں دینے والا گناہ گار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینے والے شخص کے حق میں رشوت کی وہ رقم ناجائز ہی رہے گی اور اسے اس رشوت لینے کا سخت گناہ ملے گا۔
البتہ صورتِ مسئولہ میں اولاً ملازمت کے لیے سرکاری اداروں کے علاوہ غیر سرکاری محکموں میں ملازمت اور روزگار کے مواقع تلاش کیے جائیں ، اس لیے کہ مذکورہ رقم کی ادائیگی اپنے ثابت شدہ حق کے حصول اور تحفظ کے جواز کے تحت نہیں آتی، لہٰذا اس اس کام کے لیے رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔
ہاں اگر کوئی شخص اس موقع پر رشوت دے کر ملازمت حاصل کرچکا ہو اور وہ اس نوکری کا اہل بھی ہو،تو ایسے شخص کے لیے یہ ملازمت ،تنخواہ اور اس پر ملنے والی مراعات جائز شمار ہوں گی، بشرطیکہ وہ اس ملازمت کو امانت داری کے ساتھ پورا کرے، نیز اس پر رشوت دینے کی وجہ سے توبہ و استغفار بھی لازم ہوگی۔
05/07/2024
ہمارے پسندیدہ عطور میں ایک بہترین عطر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Culinary Team
Attire
Contact the school
Telephone
Website
Address
Khanewal