09/06/2026
الحمدللہ عزوجل
گزشتہ شب شیخِ کامل قبلہ امیراہلسنت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی
الحمدللہ! درسِ نظامی، عربی گرامر اور دینی علوم کے مستند لیکچرز یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔
مقصد: رضائے الٰہی اور خدمتِ دین۔
فالو کریں اور علم سے جڑیں۔
09/06/2026
الحمدللہ عزوجل
گزشتہ شب شیخِ کامل قبلہ امیراہلسنت مولانا الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی
ان شاء اللہ عزوجل جلد پیر و مرشد کی بارگاہ میں حاضری
اللہ پاک خیر و عافیت سے سفر مکمل فرمائے آمین
02/06/2026
دعوتِ اسلامی کے صرف ایک شعبہ مدرسة المدینہ جہاں بچوں کو قرآن حفظ و ناظرہ کروایا جاتا ہے
اس کے اسٹاف کی تعداد ہزاروں میں ہے
ان دنوں کراچی عالمی مدنی مرکز میں اسٹاف کا ٹریننگ سیشن جاری ہے!
عکس بند مناظر 2.6.26
31/05/2026
🌹📚 استاد سے بغاوت کرنے کے دس بڑے نقصانات 📚🌹
علم کی راہ میں کامیابی صرف ذہانت سے نہیں بلکہ ادب، عاجزی اور استاد کے احترام سے حاصل ہوتی ہے۔ جو طالبِ علم اپنے استاد سے بغاوت، بے ادبی یا سرکشی کا راستہ اختیار کرتا ہے، وہ خود اپنے علمی مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے۔
1️⃣ علم سے برکت اٹھا لی جاتی ہے 📖
بسا اوقات انسان بہت کچھ پڑھ لیتا ہے، لیکن علم میں اثر، نفع اور برکت باقی نہیں رہتی۔
2️⃣ فہمِ صحیح سے محرومی 🧠
کتابیں سامنے ہوتی ہیں، اسباق بھی یاد ہوتے ہیں، مگر صحیح سمجھ اور گہری بصیرت نصیب نہیں ہوتی۔
3️⃣ ادب ختم ہو تو علم بھی رخصت ہو جاتا ہے 🎓
علم کی بنیاد ادب ہے۔ جب ادب ختم ہو جائے تو علم کی روح بھی باقی نہیں رہتی۔
4️⃣ گمراہی کے دروازے کھل جاتے ہیں ⚠️
استاد کی رہنمائی سے دور ہو کر انسان اپنی رائے اور خواہشات کو حق سمجھنے لگتا ہے۔
5️⃣ غرور اور خود پسندی پیدا ہو جاتی ہے 😔
وہ خود کو دوسروں سے زیادہ عقل مند اور سمجھدار سمجھنے لگتا ہے، جو ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
6️⃣ اصلاح سے محرومی 🛠️
استاد کی تنبیہ، رہنمائی اور اصلاح نہ ملنے سے غلطیاں عادت بن جاتی ہیں۔
7️⃣ علم بے عمل ہو جاتا ہے 📚➡️🚫
زبان پر علمی باتیں تو آ جاتی ہیں، مگر کردار اور زندگی میں ان کا اثر دکھائی نہیں دیتا۔
8️⃣ علمی وقار ختم ہو جاتا ہے ⚖️
اہلِ علم ایسے شخص کی بات کو اہمیت نہیں دیتے، کیونکہ علم کے ساتھ ادب بھی ضروری ہے۔
9️⃣ فیضِ استاد سے محرومی 🤲
استاد کی دعا، توجہ، شفقت اور روحانی نسبت سے محروم ہو جانا ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
🔟 دنیا و آخرت میں خسارہ 🌍➡️🌹
نہ دنیا میں حقیقی عزت اور علمی مقام ملتا ہے اور نہ آخرت میں اس علم کا پورا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
✨ خلاصۂ کلام ✨
جو طالبِ علم استاد کا ادب کرتا ہے، اس کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے اور اس کی رہنمائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے علم، فہم، عمل اور برکت کی دولت عطا فرماتا ہے۔
🌷 باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب 🌷
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذۂ کرام کا ادب و احترام کرنے اور ان کے فیوض و برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaD5pDyEawdp2rfwhX31
دین و دنیا کی باتیں ایک ساتھ - WhatsApp channel
Follow دین و دنیا کی باتیں ایک ساتھ's WhatsApp Channel. ہم آپ جناب کو اس چینل میں خوش آمدید کہتے ہیں۔🌹 اس چینل میں آپ کو دین و دنیا کی دلچسپ و مفید معلومات شئیر کی جائے گی ۔ ان شاءاللہ
اگر آپ کسی غلطی پر مطلع ہوں تو ضرور اطلاع فرمائیں اس کی تصحیح کردی جائے گی
نیز اگر آپ کو اس چینل سے علمی طور پر فائدہ ہو رہا ہے تو دیگر اہلِ علم حضرات کو بھی یہ چینل جوائن کرائیں. Join 1.6K followers for the latest updates.
🐄🔪 مولوی حضرات اب بھی سب سے زیادہ مخلص نکلے! 😄
پورا مہینہ درزیوں کا سیزن رہا 👔✂️
بھائی نے سوٹ ایسا ریٹ لگا کر سلوایا کہ لگے شادی اپنی نہیں، درزی کی ہو رہی ہے! 💸😂
پھر عید والے دن حجام حضرات کی عید آ گئی 💈😎
بال کم اور ریٹ زیادہ کاٹے گئے…
اور اوپر سے فرمایا:
“عید ہے جی… ریٹ تو بڑھے گا!” 🤭
اس کے بعد تین دن قصائیوں کی چاندی ہی چاندی رہی 🔪🐄
ایک ایک قصائی ایسے بِک رہا تھا جیسے IPL کا کھلاڑی ہو! 😅
“بھائی جلدی بک کرو، ورنہ اگلا نمبر چاند رات کے بعد آئے گا!” 😂
پھر شروع ہوا ڈاکٹروں کا سیزن 💊🤒
کیونکہ کچھ بہادر لوگ تکّے، کباب، کلیجی، نہاری، پائے اور کولڈ ڈرنک کو ایک ہی پلیٹ میں اکٹھا کر بیٹھے تھے 🍖🥤🔥
اب معدہ بیچارہ بھی آخر انسان ہی تھا! 😭
اور اگر کسی نے واقعی حد ہی کراس کر دی… 😬
تو پھر مولوی صاحب کی باری آئی 🕌😔
نہ کوئی “پیکیج”
نہ “ایڈوانس بکنگ”
نہ “عید اسپیشل چارجز”
بس خاموشی سے:
🤲 دعا
🕌 نمازِ جنازہ
📖 تلاوت
سب فی سبیلِ اللہ ❤️
اور مزے کی بات یہ ہے کہ…
آخر میں گورکن بھی کہتا ہے:
“بھائی جی! ہمارا کام فری نہیں ہوتا…” ⚰️😅
🐐 واقعی بقرہ عید ہر شعبے کو وقتی روزگار دے جاتی ہے…
مگر مولوی صاحب آخر تک مخلص ہی رہتے ہیں! 🤭
28/05/2026
عیدالاضحیٰ کے پہلے ہی دن پاکستان میں 72 لاکھ سے زائد جانوروں کی قربانی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ یہ صرف مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ملک کی سب سے بڑی موسمی معیشت بھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پہلے دن 34 لاکھ بکرے، 31 لاکھ گائیں، ساڑھے تین لاکھ بھیڑیں، ڈھائی لاکھ بھینسیں اور ایک لاکھ بیس ہزار اونٹ قربان کیے گئے، جس سے پورے ملک میں کھربوں روپے کی معاشی سرگرمی متحرک ہوئی۔
ماہرین کے اندازوں کے مطابق صرف پہلے دن ہی قربانی سے جڑی مجموعی اکانومی 800 ارب سے 1000 ارب روپے کے درمیان رہی۔ اس رقم کا بڑا حصہ براہِ راست دیہی علاقوں میں منتقل ہوا، جہاں مویشی پالنے والے کسانوں، بیوپاریوں، چارہ فروشوں، ٹرانسپورٹرز، قصابوں، کھال تاجروں اور عارضی مزدوروں نے بھرپور آمدن حاصل کی۔ یعنی ایک ایسا سرمایہ جو عام دنوں میں شہروں تک محدود رہتا ہے، وہ چند دنوں کے اندر دیہات اور چھوٹے قصبوں تک منتقل ہو گیا۔
شہری سطح پر دیکھا جائے تو کراچی، لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور پشاور سب سے بڑی قربانی منڈیاں بن کر سامنے آئے۔ کراچی میں لاکھوں جانوروں کی خرید و فروخت سے اربوں روپے کی سرگرمی ہوئی، جبکہ لاہور اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں نے بھی مویشی معیشت کو غیر معمولی تقویت دی۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں سے ہزاروں خاندانوں نے اپنے جانور فروخت کر کے سال بھر کی کمائی ایک ہی سیزن میں حاصل کی۔
اس پورے عمل نے لاکھوں لوگوں کو عارضی روزگار بھی فراہم کیا۔ صرف ٹرانسپورٹ، چارہ، منڈی سروسز، قصاب کاری، کھالوں کی تجارت اور کولڈ چین سیکٹر میں لاکھوں مزدوروں اور چھوٹے کاروباروں کو کام ملا۔ یہی وجہ ہے کہ عیدالاضحیٰ کی اکانومی کو پاکستان کی سب سے بڑی “کیش سرکولیشن ایکٹیویٹی” بھی کہا جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ساری معیشت زیادہ تر نقدی پر چلتی ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی غیر رسمی یا کیش اکانومی کتنی بڑی ہے۔ عید قربان صرف مذہبی جذبے کا اظہار نہیں بلکہ ایک ایسا معاشی سائیکل بھی ہے جو چند دنوں میں دیہات سے شہروں اور شہروں سے دیہات تک دولت کی بڑی منتقلی کا سبب بنتا ہے
جب اسپین میں چھری اور نیزوں سے ہزاروں بیل ہلاک ہو جاتے ہیں
اور اذیت دیتے ہوئے کہتے ہیں
"یہ تو کھیل ہے"
اور جب ڈنمارک میں ہزاروں افراد سینکڑوں ڈالفن کو قتل کر دیتے ہیں
(یہاں تک کہ سمندر سرخ ہو جاتا ہے)
یہ کہتے ہیں
"یہ تو ایک تہوار ہے"
اور جب یہودیوں کا ایک گروہ ہزار مرغیوں کو پتھر پر مار دیتے ہیں ان کے مطابق اس طرح ان کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں
وہ کہتے ہیں
"یہ ہمارا عقیدہ اور مذہب"
اور جب عیسائی نئے سال کے دن بھارتی پرندوں کو ذبح کرتے ہیں اور اس کو اپنا مقبول کھانا کہتے ہیں
لیکن جب مسلمان اللہ کی خاطر کسی جانور کو قربان کر کے اتنا احتیاط برتے کہ چھری تیز ہو جانور کو چارہ اور پانی ڈال کے اور پھر یہ خیال رکھ کے کہ سامنے کوئی اور جانور بھی نہ ہو پھر انکا گوشت مساکین میں تقسیم ہو تو کفار کے پلے ہوئے سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں
وجہ یہ ہے کہ اسلام دین حق ہے اور حق سے شیطانوں کو تکلیف ہوتی ہے
علامہ عطاء محمد بندیالوی علیہ الرحمہ فرماتے تھے:
"التکرار یفکر الحمار"
تکرار ، گدھے کو بھی مفکر بنا دیتا ہے۔
17/05/2026
الدروس النحوية کتاب کا تعارف
اگر آپ اپنی عربی زبان کو مزید اچھا کرنا چاہتے ہیں یا آپ نحو میں بختگی کے خواہشمند ہیں تو یہ کتاب آپ کے لئے بے حد مفید ہے۔
12ویں صدی ہجری جامعہ ازہر کے چند طلبہ کرام نے اپنی محنت وجستجو سے تیار کی ہے اور یہ وہ ہی طلبہ کرام ہیں جنہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی کو صحیح سے استعمال کیا جس کا ثمرہ رب العزت سے یہ بھی ملا ہے کہ ان طلبہ کی ایک کتاب *دروس البلاغۃ* عرصہ دراز سے پاک و ہند کے مدراس میں شامل ہے میری مراد حفنی ناصف ، محمد دیاب ، مصطفی طموم اور محمد صالح ہیں۔
انکی کئی کتب آج بھی بلاد عرب کے نصاب میں شامل ہیں
جس میں سے ایک کتاب دروس النحویۃ بھی ہے
اس کے متعلق اس کتاب کو 55 سال سے پڑھانے والے مولانا سعید اللہ افغانی کہتے ہیں "میں آج تک اس کتاب کی چاشنی سے سیراب نہیں ہوا ہوں۔"
یہ کتاب باعتبار حجم تو چھوٹی ہے لیکن باعتبار نفع و فوائد کے بڑی ہے،
اس کتاب کو یاد کرنے کے بعد مطالعہ کرنے ، عربی عبارت کے سمجھنے ، عربی کتب کے پڑھنے میں چاشنی اور عربی زبان میں خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوگا ان شاء اللہ عزوجل
اس کتاب کا اسلوب ان کی کتاب النحو الواضح کی طرح ہی ہے لیکن اس میں "خیر الکلام ما قل و دل" والا اسلوب رکھا گیا ہے ابتداء کلمہ کی بحث ہے اور پھر اس کو 3 اجزاء پر تقسیم کیا گیا ہے پہلا جزء حرف پر مشتمل ہے دوسرا جزء فعل پر اور تیسرا اسم پر مشتمل ہے
کتاب کا اسلوب یہ ہے کہ سب سے پہلے مثال کو بیان کرتے ہیں
اس کے بعد امثلہ کی بڑی جامع و مانع وضاحت فرماتے ہیں اور سب سے آخر میں پورے سبق کے ہر جزء کو سمیٹتے ہوئے ایک تمرین جس کو مشق کہتے ہیں وہ دیتے ہیں تاکہ طلباء کرام کو کتاب کا سبق ازبر ہو جائے
اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ باعتبار الفاظ اور مشکل تراکیب کے آسان ترین ہے اور تمام قواعد نحویہ پر مشتمل ہے اور جو بھی شخص نحو کی بڑی کتب کو پڑھنا چاہتا ہے جیسے کتب ابن ہشام وغیرہ تو ایسے شخص کو چاہئے کہ ابتداء اس کتاب سے کرے کیونکہ اسکے بعد وہ کتابیں سمجھنا آسان ہو جائے گا
واللہ اعلم ورسولہ اعلم
احمد رضا گھانچی
28 -01 -2021
یہ کتاب مکتبۃ المدینۃ العربیہ سے حاصل کی جاسکتی ہے
https://whatsapp.com/channel/0029VaD5pDyEawdp2rfwhX31
دین و دنیا کی باتیں ایک ساتھ - WhatsApp channel
Follow دین و دنیا کی باتیں ایک ساتھ's WhatsApp Channel. ہم آپ جناب کو اس چینل میں خوش آمدید کہتے ہیں۔🌹 اس چینل میں آپ کو دین و دنیا کی دلچسپ و مفید معلومات شئیر کی جائے گی ۔ ان شاءاللہ
اگر آپ کسی غلطی پر مطلع ہوں تو ضرور اطلاع فرمائیں اس کی تصحیح کردی جائے گی
نیز اگر آپ کو اس چینل سے علمی طور پر فائدہ ہو رہا ہے تو دیگر اہلِ علم حضرات کو بھی یہ چینل جوائن کرائیں. Join 1.6K followers for the latest updates.
09/05/2026
مائیک محض ایک آلہ نہیں بلکہ ایک نعت خوان یا خطیب کے لیے اس کے فن کا اظہار کرنے والا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ جب مائیک کو جالی سے پکڑا جاتا ہے تو ہوا کا دباؤ اور ساؤنڈ ویوز بلاک ہو جاتی ہیں، جس سے 'فیڈ بیک' (Feedback) پیدا ہوتا ہے اور وہ ناگوار سیٹی بجنے لگتی ہے۔
نعت خوانوں اور خطبا کے لیے مائیک استعمال کرنے کی کچھ اہم احتیاطیں اور تکنیکی نکات درج ذیل ہیں:
# # # 1. مائیک پکڑنے کا صحیح طریقہ
* **ہینڈل کا استعمال:** مائیک کو ہمیشہ اس کے نچلے حصے یعنی ہینڈل سے پکڑیں۔ جالی (Grille) کو کبھی ہاتھ سے نہ ڈھانپیں، کیونکہ جالی کے اندر موجود "ڈایافرام" کو آواز جذب کرنے کے لیے کھلی جگہ چاہیے ہوتی ہے۔
* **مضبوط گرفت مگر نرمی:** مائیک کو بہت سختی سے نہ پکڑیں کہ ہاتھ کی رگڑ کی آواز (Handling Noise) اسپیکر تک جائے، اور نہ ہی اتنا ڈھیلا چھوڑیں کہ وہ ہلتا رہے۔
# # # 2. فاصلے کا توازن (Proximity Effect)
* **آواز کا اتار چڑھاؤ:** جب آپ اونچی آواز (High Pitch) میں پڑھ رہے ہوں تو مائیک کو منہ سے تھوڑا دور کر لیں۔ اس کے برعکس، جب آواز دھیمی یا باریک ہو تو مائیک کو قریب لائیں تاکہ فریکوینسی برقرار رہے۔
* **بیس (Bass) کنٹرول:** مائیک جتنا منہ کے قریب ہوگا، آواز اتنی ہی بھاری اور "بیس" والی محسوس ہوگی۔ اگر آواز ضرورت سے زیادہ موٹی ہو رہی ہو تو فاصلہ ایک انچ بڑھا دیں۔
# # # 3. سانس اور حروف کی ادائیگی
* **پ، پھ، ب کا دباؤ:** کچھ حروف (جیسے 'پ' یا 'بھ') ادا کرتے وقت ہوا کا تیز جھونکا نکلتا ہے جسے "Plosives" کہتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے مائیک کو بالکل سامنے رکھنے کے بجائے معمولی سا ترچھا (Angle پر) رکھیں تاکہ ہوا براہ راست ڈایافرام سے نہ ٹکرائے۔
* **سانس کی آواز:** لمبا سانس لیتے وقت مائیک کو ایک طرف کر لیں تاکہ اسپیکر میں سانس لینے کی آواز سنائی نہ دے۔
# # # 4. آواز کی فریکوینسی اور ہینڈلنگ
* **مائیک کا رخ:** ہمیشہ مائیک کے اوپری حصے کی طرف رخ کر کے بولیں۔ اگر آپ سر ہلاتے ہوئے مائیک سے دور ہو جائیں گے تو فریکوینسی ڈراپ ہو جائے گی اور سامعین کو آواز کم اور زیادہ سنائی دے گی۔
* **فیڈ بیک سے بچاؤ:** اسٹیج پر حرکت کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ مائیک کا رخ براہ راست اسپیکر (Monitors) کی طرف نہ ہو، ورنہ فریکوینسی لوپ بن جائے گی اور سیٹی بجنے لگے گی۔
# # # 5. مائیک اسٹینڈ کا استعمال
* اگر مائیک اسٹینڈ پر لگا ہے تو اسے بار بار ہاتھ نہ لگائیں۔ اسٹینڈ کی اونچائی اپنی قد کے مطابق پہلے ہی سیٹ کر لیں تاکہ دورانِ خطاب آپ کو جھکنا نہ پڑے، کیونکہ جھکنے سے پھیپھڑوں پر دباؤ پڑتا ہے اور آواز کا اتار چڑھاؤ متاثر ہوتا ہے۔
ایک اچھا نعت خوان یا خطیب وہی ہے جو مائیک کو اپنے وجود کا حصہ سمجھے۔ آواز کا سفر مائیک سے شروع ہوتا ہے، اس لیے اگر ابتدا ہی تکنیکی طور پر درست ہوگی تو سننے والوں تک آواز کا جادو پوری آب و تاب کے ساتھ پہنچے گا۔
سہیل محمود قادری 03178105457
مدنی ساؤنڈ سسٹم واہ کینٹ