10/08/2026
🌹مدرس اور اس کی ذمہ داری🌹
محمد مبشر رضا
آج کے دور میں تدریس کو معمولی اور آسان کام سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ماہر استاد کی ذمہ داری صرف کتاب پڑھا دینا نہیں، بلکہ طالبِ علم کے ذہن کو سمجھنا، اس کے اشکالات کو محسوس کرنا، اس کے سوال کے پسِ پردہ موجود الجھن کو دریافت کرنا اور پھر اسے اس انداز سے سمجھانا ہے کہ علم اس کے ذہن میں راسخ ہوجائے۔
ایک حقیقی مدرس وہ ہے جو صرف الفاظ نہیں پڑھاتا بلکہ ذہن بناتا، فکر سنوارتا اور طالبِ علم کی علمی صلاحیت کو نکھارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کم استعداد طالبِ علم بھی اگر ماہر اور صاحبِ فن استاد کے زیرِ تربیت آجائے تو اس کی صلاحیتیں نکھر سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔جبکہ بہترین ذہانت و فطانت رکھنے والا طالبِ علم بھی اگر غیر ماہر استاد کے ہاتھ میں ہو تو اپنی استعداد کے مطابق علمی ترقی نہیں کر پاتا۔۔۔۔۔
شارح بخاری فقیہ العصر مفتی شریف الحق امجدی صاحب فرماتے ہیں:
آج تدریس کو یار لوگوں نے بہت آسان بنالیا ہے، علمی کاموں میں سب سے آسان تدریس کو سمجھا جانے لگا ہے۔ عالم یہ ہے کہ مدارس میں ایسے ایسے لوگ مدرس ہیں کہ حیرت ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تدریس ایک بہت اہم اور مشکل کام ہے۔ خود کتاب کے مضامین کو کما حقہ سمجھنا اور پھر طالب علم کو اس طرح سمجھا دینا کہ وہ واقعی سمجھ لے اتنا مشکل ہے کہ اس کی تعبیر کے لیے الفاظ نہیں ۔ پھر اگر طالب علم ذہین ہے تو اس کے شبہات کو اس طرح دور کرنا کہ وہ مطمئن ہو جائے ۔ صرف خدادا د استعداد ہی سے ہوسکتا ہے ، طالب علم جو شبہہ وارد کر رہا ہے، اس کی بنیاد کیا ہے ؟
وہ ابھی قادر الکلام نہیں اپنی بات کما حقہ کہہ نہیں پاتا ہے ، ایک ماہر استاذ کا کام یہ ہے کہ وہ طالب علم کے غیر مربوط جملوں سے یہ اخذ کر لے کہ اس کو کھٹک کیا ہے؟ اور یہ کہنا کیا چاہ رہا ہے؟ جس مدرس میں یہ کمال نہ ہو وہ حقیقت میں مدرس نہیں ۔(مقالات شارح بخاری ،ج1،ص 802)
مزید آپ فرماتے ہیں:
کہا جاتا ہے اگر طالب علم ذہین ہے تو اسے کوئی بھی استاذ پڑھائے وہ ذی استعداد ہو جائے گا۔ لیکن میرا تجربہ اس کے خلاف ہے، آج ہمارے ہزاروں عربی مدارس ہیں ، جن میں ذہین سے ذہین طلبہ تحصیل علم کی شوق میں آتے ہیں لیکن چونکہ اب ہمارے مدارس میں اساتذہ کی تقریر استعداد دیکھ کر نہیں ہوتی بلکہ رشتہ ، سفارش، اور سیاسی اغراض کے لیے ہوتی ہے، اس لیے اکثر مدرسین بھرتی کیے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ذہین سے ذہین طالب علم فراغت کے بعد بھی نا خواندہ رہتا ہے،منتہی طلبہ ابتدائی باتیں تک نہیں بتا پاتے وہ بھی ایسی باتیں جو ہر وقت زبان زرد رہتی ہیں ، اور افسوس یہ ہے کہ اساتذہ بھی اس سے ناواقف ہیں ، دورہ حدیث میں شریک ہونے والے ذہین طلبہ بھی یہ نہیں جانتے کہ ثانیہ ،ثالثہ ، رابعہ وغیرہ کیا صیغے ہیں، نماز میں کیا فرض ہے، کیا واجب کیا سنت و غیرہ وغیرہ، لیکن ایک ماہر مدرس متوسط ذہین رکھنے والے طالب علم کو بھی کندن بنا دیتا ہے۔(مقالات شارح بخاری ،ج1،ص 802)
شارح بخاری کے کلام سے ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
➊ تدریس صرف پڑھانے کا نام نہیں۔
ایک مدرس کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ جو کچھ خود سمجھتا ہے، اسے طالبِ علم کے ذہن میں بھی اسی طرح منتقل کردے کہ طالبِ علم حقیقتاً اسے سمجھ لے۔۔
➋ استاد کو طالبِ علم کا ذہن پڑھنا چاہیے۔۔۔
طالبِ علم ہمیشہ اپنا سوال واضح الفاظ میں بیان نہیں کرپاتا۔ کبھی اس کے چند ٹوٹے پھوٹے جملوں کے پیچھے ایک بڑا اشکال چھپا ہوتا ہے۔ ماہر استاد وہ ہے جو ان جملوں سے اصل الجھن تک پہنچ جائے۔۔۔۔۔
➌ ہر عالم لازماً ماہر مدرس نہیں ہوتا۔
علم کا ہونا اپنی جگہ، مگر علم کو منتقل کرنے کا فن ایک الگ صلاحیت ہے۔ اسی لیے تدریس کے لیے صرف معلومات نہیں بلکہ تدریسی استعداد بھی ضروری ہے۔۔۔۔
➍ ذہانت کے باوجود غلط استاد نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ سمجھنا درست نہیں کہ ذہین طالبِ علم کو کوئی بھی پڑھائے، وہ خود بخود قابل بن جائے گا۔ استاد کی شخصیت، علمی پختگی اور تدریسی مہارت طالبِ علم کی علمی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔۔۔۔۔۔
➎ ماہر استاد متوسط طالبِ علم کو بھی کندن بنا دیتا ہے۔
ایک کامیاب مدرس کی سب سے بڑی پہچان ہے کہ وہ صرف پہلے سے ذہین طلبہ پر محنت نہیں کرتا، بلکہ متوسط استعداد رکھنے والے طالبِ علم کی صلاحیت کو بھی پہچان کر اسے نکھارتا ہے۔۔۔۔