National College and School System

National College and School System

Share

Place of Knowledge

23/04/2023

Admissions Open for Pre 1st Year session 2023. Cover 40% syllabus before matric result.

visit National college of science 🎓 and register yourself at expanding educational
Fsc pre medical
Fsc pre engg
Ics
FA
And coaching classes for 9th and 10th

23/04/2023

Admissions are open
Pre first year

25/06/2022

6th anniversary

09/11/2021

اقبال ڈے سپیشل

تو رہ نورد شوق ہے۔۔۔۔۔

اقبال ۔۔۔۔اک ایسا نام جس پر میں جب بھی لکھنا یا بولنا چاہتا ہوں میرا جسم کانپنے لگتا ہے۔۔۔جب آپ کو کسی سے محبت ہو کسی کا مقام آپ کے دل میں ہو تو جذبات کی بدولت آپ پر کپکپی طاری ہو جایا کرتی ہے۔۔۔
اقبال کی شاعری کا وہ حصہ جو جوانوں کےلیے ہے اس میں اک کمال کی موٹیویشن موجود ہے جسے سمجھ کر پڑھنے سے ایسی تحریک اور طاقت ملتی ہے کہ ستاروں پر کمند ڈال کر ستاروں کے آگے کے جہاں میں اتر جانے کا من کرتا ہے۔۔
اقبال جب خودی کا درس دیتے ہیں تو اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی سے شروع ہو کر خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے تک کا سفر اک لمحے میں طے کروا دیتے ہیں۔۔۔
عقل کا عشق سے موازنہ کرتے ہیں تو عشق کی اک جست کو سدرة المنتھی کا نام دے دیتے ہیں۔۔۔
اگر عرفات کا اقبال سے رشتہ پوچھا جاۓ تو یہ تعلق بچپن سے ہی قائم ہے جب دو ننھے ہاتھ اٹھا کر لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری پڑھنا سیکھا تھا۔۔۔تب میرے دل میں اک جذبہ سا پیدا ہو جاتا تھا۔۔۔ننھے ہاتھ بڑھتے گئے تو یہ دعا سمجھ میں آنا شروع ہوتی گئی پھر۔۔۔آنکھوں میں نمی اور دل میں جذبہ آجاتا کہ اور دل سے دعا نکلتی۔۔۔
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری۔۔۔۔گویا اقبال شمع بن جانے کا درس دیتے ہیں کہ خود کو جلا لو مگر روشنی بنو۔۔۔دیا بنو۔۔۔چراغ بن کر دنیا کو اپنے نور سے منور کرو۔۔۔
میں اس لائن کا اک اور مطلب سمجھا وہ یہ تھا کہ روشنی چاروں طرف پھیلا کرتی ہے بس عرفات چاروں طرف پھیل جا۔۔۔اور دنیا کو بتاؤ کہ تمھارا بھی وجود ہے۔۔۔اپنے وجود اور اپنی قیمت کا احساس دلاؤ شمع کی مانند روشنی دے کر۔۔۔۔
ذکر دعا کا ہو تو اقبال پروانے کی تڑپ کا تذکرہ کر دیتے ہیں یعنی دعا کی قبولیت کےلیے تڑپ لازمی جز ہے۔۔۔
بزرگ اک مشہور قصہ سنایا کرتے ہیں کہ
ایک فقیر اک دربار پر 20 سال سے پڑا تھا اور دعا کرتا تھا کہ آنکھیں عطا ہو جائیں اک دن اک بادشاہ کا اس دربار سے گزر ہوا تو اس نے فقیر کو سجدے میں مانگتے دیکھا وہ رکا اور فقیر سے پوچھا رب سے کیا مانگتے ہو اس نے جواب دیا 20 سال سے دو آنکھیں مانگ رہا ہوں۔بادشاہ نے فورا حکم دیا جلاد سامنے آؤ۔۔۔اس سے کہو کہ جب میں دربار سے باہر آؤں تو اس کی آنکھیں آ جانی چاہیے ورنہ اس کا سر قلم کر دو۔۔فقیر مزید ہریشان۔۔۔موت کو سر ہر دیکھ کر بہت گڑگڑایا اور سجدے میں رونے لگا۔۔بادشاہ واپس آیا تو فقیر کی بینائی واپس آ چکی تھی۔۔فقیر بادشاہ کے قدموں میں گر گیا اور کہا۔۔ایسا کیا ہے جو مجھے بیس سالوں میں نہیں ملا تم نے اک لمحے میں دے دیا۔۔۔بادشاہ مسکرایا اور کہا ۔
تیرے پاس دعا تو تھی تڑپ نہیں تھی میں نے بس تجھے وہ تڑپ دی۔۔۔

اقبال کی شاعری بہت سے رموز کو سمیٹے ہوۓ ہے۔۔اقبال کہیں پلٹنے جھپٹنے کا درس دیتے ہیں تو کہیں مسلسل چلنے کا سبق دیتے ہوۓ منزل قبول نہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔۔۔کہیں مرد مومن کو اس کا مقام بتاتے ہوۓ اسے اللہ کی برہان۔۔قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت کے درجوں تک لے جاتے ہیں تو کہیں مسلمان نوجوان کو آسمان کے ٹوٹے تارے سے تشبیہ دیتے ہیں۔۔گویا لہو گرم رکھنے کا اک بہانہ عطا کر دیتے ہیں۔۔۔
اقبال جب مجاہد کی زبان بنتے ہیں تو طارق بن زیاد کی صورت اختیار کر کے یوں قلم اٹھاتے
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اور پھر سوز جگر کی بات چھیڑ کر نعرہ لاتذر کا تذکرہ کرتے ہوۓ نگاہ مسلماں کو تلوار کہہ دیتے ہیں۔۔۔
جب مخلوق کی خدمت پر بات کرتے تو کہتے ہیں کہ

میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہو گا
جب انفرادیت پر بات ہوتی ہے تو لکھ اٹھتے کہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا۔۔۔۔
گویا
کبھی جگنو بن کر آسانی بانٹنے کا درس دیتے ہیں
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
کبھی کہہ دیتے تو شاہیں ہے تیرا مقام بلندی ہے تیرا کام پرواز ہے اور شاہیں پرواز سے تھک کر گرا نہیں کرتا۔۔۔۔
سہل پسندی ترک کرنے کا کہتے کہ
لیلی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول۔۔۔۔
کہیں یوں کہتے کہ تو تیز بہتی موج ہے تو ساحل قبول نہ کرنا

ﺍﮮ ﺟﻮﺋﮯ ﺁﺏ ﺑﮍﮪ ﮐﮯ ﮨﻮﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺗﻨﺪ ﻭ ﺗﯿﺰ
ﺳﺎﺣﻞ ﺗﺠﮭﮯ ﻋﻄﺎ ﮨﻮ ﺗﻮﺳﺎﺣﻞ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻗﺒﻮﻝ
ﮐﮭﻮﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺎ ﺻﻨﻢ ﮐﺪۂ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻣﯿﮟ
ﻣﺤﻔﻞ ﮔﺪﺍﺯ ! ﮔﺮﻣﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻧﮧ ﮐﺮﻗﺒﻮﻝ

اقبال نے خودی کے درجے بتا کر مقام قلندر سمجھا دیا اور رب کی معرفت کے حصول اور نیابت الہی کا طریقہ بتایا۔۔۔۔

اور جب اسم محمد کی بات آتی ہےتو اپنے الفاظ کو یوں بلند کرتے
کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اقبال کو ایک موٹیویٹر کے طور پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔۔۔یہ اساتذہ اور ادبی حلقوں کی ذمہ داری ہے کہ اقبال ایک موٹیویٹر بھی تھے کے طور پر کچھ کام کریں تاکہ آج کے نوجوان کو اقبال کی شاعری سے اپنی زندگی بہتر بنانے کا موقع ملے۔۔۔

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب۔۔۔
گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

Photos from National College and School System's post 15/05/2020

: Students of 9th & 11th Grade will be promoted. 10th grade papers to be checked and result will be announced. 12th Grade students can either double their 11th Grade result numbers or appear in 2021 Exams. Deadline for their decision.

07/05/2020

15 جولائی تک سکول کالج بند رکھنے کا فیصلہ
نہم اور گیارہویں جماعت کے طلباء کو گزشتہ امتحان کے مطابق اگلی کلاس میں پرموٹ کرنے کا فیصلہ

13/03/2020
05/02/2020

For the love of Kashmir 💚

24/01/2020

تعلیم کا حق کسی بچے کو دیا نہیں جا سکتا اور نا ہی اس سے چھینا جا سکتا ہے- یہ حق سب بچوں کا ہے۔ ہم سب کو مل کر یہ یقینی بنانا ہے کہ اس ملک کا کوئی بھی بچہ اپنے اس حق سے محروم نہ رہے۔

تعلیم سب کےلئے! 🌟📚

05/01/2020

Here's our new Project for 2020.
, , , , .

25/12/2019

“Pakistan is proud of her youth, particularly the students who have always been in the forefront in the hour of trial and need. You are the nation's leaders of tomorrow and you must fully equip yourself by discipline, education and training for the arduous task lying ahead of you. You should realise the magnitude of your responsibility and be ready to bear it.”

Muhammad Ali Jinnah
October 31, 1947

Want your school to be the top-listed School/college in Kasur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Kasur

Opening Hours

Monday 12:00 - 18:00
Tuesday 12:00 - 18:00
Wednesday 12:00 - 18:00
Thursday 12:00 - 18:00
Friday 12:00 - 18:00
Saturday 12:00 - 18:00