Al Hafiz Educational Complex kul kasur

Al Hafiz Educational Complex kul kasur

Share

Group of school level students and teachers

31/05/2022

PTM
Al Hafiz Educational Complex Kul
Raasta kamyabi ka!
For more detail. 03024442471

04/05/2022

4 مئی 1799
یوم شہادت شیر میسور ٹیپو سلطان رحمتہ اللّه علیہ

ٹیپو سلطان کا مختصر تعارف
دور حکومت: 29 دسمبر 1782 تا 4 مئی 1799ء
تاجپوشی: 29 دسمبر 1782

والد کا نام: حیدر علی
والدہ کا نام: فاطمہ فخر النساء

پیدائش 20 نومبر 1750
بنگلور ، کرناٹک
وفات 4 مئی 1799 (عمر 48 سال)
سرنگاپٹم ، کرناٹک

تدفین :سرنگاپٹم ′
مذہب: اسلام

ٹیپو سلطان (پیدائش:20 نومبر 1750ء - وفات:4 مئی 1799ء) شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کاسب سے بڑا بیٹا، ہندوستان کا اصلاح و حریت پسندحکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد تھے۔

سلطان ٹیپو کو جس نے دھوکا دیا تھا وہ میر صادق تھا۔ اس نے سلطان سے دغا کیا اور انگریز سے وفا کی۔ انگریز نے انعام کے طور پر اس کی کئی پشتوں کو نوازا انہیں ماہانہ وظیفہ ملا کرتا تھا۔
مگر جب میر صادق کی اگلی نسلوں میں سے کوئی نہ کوئی ہر ماہ وظیفہ وصول کرنے عدالت آتا تو چپڑاسی صدا لگایا کرتامیر صادق غدّار کےورثاء حاضر ہوں

”جیسے شہید قبر میں جا کر سینکڑوں سال زندہ رہتا ہے ایسے ہی غدار کی غداری بھی صدیوں یاد رکھی جاتی ہے۔

دن کے اختتام پر فرق صرف اس چیز سے پڑتا ہے کہ انسان تاریخ میں صحیح طرف تھا یا غلط طرف پہ شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے یہ معروف قول تھا شیر میسور ٹیپو سلطان شہید کا ۔ٹیپو سلطان ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔
آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔
آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش دی۔یوں تو شجاعت و بہادری کے کئی قصے ان سے منسوب ہیں مگر اپنے قارئین کے ذوق کی نذر تحریر کررہے ہیں ۔
سینئیر کالم نگار جی این بھٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ :ڈیوک آف ولنگٹن کی سپاہ ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹنم فتح کرچکی تھیں مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹنم کے میدان میں جمع ہونے والے محب وطن شہیدوں کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے، رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اسکے اپنے بے ضمیر درباریوں‘اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی اپنا چہرہ شب کی تاریکی میں چھپا لیا تھا‘
اتنے میں چند سپاہی ولنگٹن کے خیمے میں آئے‘ انکے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے انہوں نے اسے ٹیپو سلطان کی شہادت اور اسکی نعش برآمد ہونے کی اطلاع دی یہ نعش سلطان کے وفاداروں کے ڈھیر کے نیچے دبی ملی جنرل ولنگٹن خوشی سے حواس باختہ ہوکر سلطان کی نعش کے پاس پہنچا تو وہ نعش وفاداروں کے جمگھٹ میں ایسی پڑی تھی جیسےبْجھی ہوئی شمع اپنے گرد جل کر مرنے والے پروانوں کے ہجوم میں ہو‘
جنرل نے سلطان کے ہاتھ میں دبی اسکی تلوار سے اسے پہچان کر اسکی شناخت کی۔ یہ تلوار آخر وقت تک سلطان ٹیپو کے فولادی پنجے سے چھڑائی نہ جا سکی اس موقع پر جنرل نے ایک بہادر سپاہی کی طرح شیر میسور کو سلیوٹ کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ
’’آج سے ہندوستان ہمارا ہے اب کوئی طاقت ہماری راہ نہیں روک سکتی‘‘
اور اسکی نعش اندر محل کے زنان خانے میں بھجوائی تاکہ اہلخانہ اس کا آخری دیدار کریں اس کے ساتھ ہی آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا جب سلطان کی قبر کھودی جانے لگی تو آسمان کا سینہ بھی شق ہو گیا اور چاروں طرف غیض و غضب کے آثار نمودار ہوئے بجلی کے کوندے لپک لپک کر آسمان کے غضب کا اظہار کر رہے تھے۔ اس وقت غلام علی لنگڑا، میر صادق اور دیوان پورنیا جیسے غدارانِ وطن خوف اور دہشت دل میں چھپائے سلطان کی موت کی خوشی میں انگریز افسروں کے ساتھ فتح کے جام لنڈھا رہے تھے اور انکے چہروں پر غداری کی سیاہی پھٹکار بن کر برس رہی تھی‘
جوں ہی قبر مکمل ہوئی لحد بن گئی تو آسمان پھٹ پڑااور سلطان میسور کی شہادت کے غم میں برسات کی شکل میں آنسوں کا سمندر بہہ پڑا۔ قبر پر شامیانہ تانا گیا محل سے لیکر قبر تک جنرل ولنگٹن کے حکم پر سلطان میسور کا جنازہ پورے فوجی اعزاز کے ساتھ لایا گیا۔ فوجیوں کے دو رویہ قطار نے کھڑے ہوکر ہندوستان کے آخری عظیم محبِ وطن بہادر جنرل اور سپوت کے جنازے کو سلامی دی۔

میسور کے گلی کوچوں سے نالہ و آہ شیون بلند ہو رہا تھا، ہر مذہب کے ماننے والے لاکھوں شہری اپنے عظیم مہربان سلطان کیلئے ماتم کر رہے تھےاور آسمان بھی انکے غم میں رو رہا تھا۔ جنرل ولنگٹن کے سپاہ نے آخری سلامی کے راؤنڈ فائر کئے اور میسور کی سرزمین نے اپنے ایک عظیم سعادت مند اور محب وطن فرزند کو اپنی آغوش میں ایک مادر مہربان کی طرح سمیٹ لیا۔
اس موقع پر سلطان کے معصوم چہرے پر ایک ابدی فاتحانہ مسکراہٹ نور بن کر چمک رہی تھی آج بھی ہندوستان کے ہزاروں باسی روزانہ اس عظیم مجاہد کی قبر پر بلا کسی مذہب و ملت کی تفریق کے حاضر ہو کر سلامی دیتے ہیں۔💞
#ٹیپوسلطان

الحافظ ایجوکیشنل کمپلیکس کل


Al Hafiz educational complex kul

01/05/2022
01/05/2022

تمام اہل اسلام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید کی خوشیاں مبارک ہوں.

03/04/2022

Admission. Open 50% off in Addimision fee
The best school for education

02/04/2022

Ramadan Mubarak
May Allah give you all the happiness and success and guide you to the right path.

16/03/2022

Admission Open Limited seats
Enrole now
For more Detail 03024442471

Want your school to be the top-listed School/college in Kasur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Main Usmanwala Road Kul
Kasur