Faisal Saim

Faisal Saim

Share

In this page we present you Breaking News from Pakistan & every part of the world 🌎

12/01/2025

ذہنی مریض لوگ
سونا ڈھائی لاکھ تولہ ہونے کی وجہ سے عوام کی پہنچ سے دور ہوتا جارہا ہے اس سے بے وقوف مڈل کلاسیوں کی شادیاں بھی پہنچ سے دور ہورہی ہیں جہنوں نے گولڈ جیولری کا دکھاوا ضرور کرنا ہوتا ہے زیادہ تر وہ گولڈ بعد میں سارا سال سنبھال کر رکھ دیا جاتا ہےاور فنکشنز پر بھی نہیں پہنا جاتا مڈل کلاس یا لوئر مڈل کلاس کے لوگ اتنے بے وقوف ہوتے ہیں کہ لڑکا پوری عمر موٹر سائیکل چلاتا ہے لیکن بارات کے دن کئی عدد نئی کاریں کرائے پر لے کر دلہن کے گھر پہنچ جاتا ہےاور شادی سے اگلے دن وہی دولہا اور دلہن موٹر سائیکل پر رلتے ہوئے جاتے ہیں شادی کے دن دونوں ہی فضول خرچی کرلیتے ہیں اگر بچت کی جائے تو چھوٹی موٹی گاڑی آسانی سے آسکتی ہے جہیز میں لڑکی کو درجنوں بستر کمبل رضائیاں تکئے دئے جاتے ہیں جوکسی پیٹی یا الماری میں دس یا بیس سال بند رہتے اس سے بھی گھٹیا کام یہ ہے کہ لڑکی کے لئے دونوں طرف سے کئی عدد سوٹ اور جوتے اس لئے خریدے جاتے ہیں کہ آنے والے مہمانوں کو دکھائے جائیں جو بعد میں آؤٹ آف فیشن ہوجاتے ہیں یہ بے وقوف لوگ ساری عمر دال روٹی کھاتے ہیں ایک ایک روپے کی بچت کرتے ہیں لیکن شادی پر صرف دکھاوے کے لئے بریانی مٹن بیف اور پتہ نہیں کیا کیا انتظام کیا جاتا وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ مہندی بارات ولیمہ کےلئے لڑکے کی شادی پر دس سے پندرہ لاکھ لگا دیں گے لیکن سادگی سے شادی کرکے باقی پیسے اس لڑکے کو نہیں دیں گے کہ وہ اپنا کوئی کام کاج کرلے دلہن کا ایک فنکشن کا میک اپ پچیس ہزار سے شروع ہوکر لاکھوں تک جاتا ہے جو کے پانچ سے سات گھنٹوں کے لئے ایک جعلی تصویر پیش کرتا ہے اب تو فوٹو سیشن کے لئے لاکھوں لگا دئیے جاتے ہیں تاکہ یہ سب دکھاوا جسکو کرنے کے لئے لڑکی اور لڑکے دونوں گھر والوں کو اگلے ایک سال تک قرض اتارنا ہے محفوظ بھی رکھا جاسکے تاکہ زندگی میں آگے جاکر اسکو یاد کرکے رویا بھی جاسکے اگر یہ کچھ نہ کیا ہوتا تو زندگی مختلف ہوتی اس سارے معاملات میں لڑکی لڑکے والے دونوں برابر کے حصہ دار ہوتے اور پریشانی سال ہا سال

تھوڑا نہیں پورا سوچنے
اور ممکن ھوسکے تو اپنی قیمتی آراء سے نوازیں
کیونکہ ھمیں ہورا یقین ھے کہ آپ اک صاحب علم و فہم اور اعلی ظرف رکھنے والی شخصیت کے مالک ھیں۔

20/02/2023

( 20 فروری 2023ء) صدرِ مملکت عارف علوی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دے دی،سربراہ پلڈاٹ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے 57 ون کا اختیار استعمال کیا،الیکشن کمیشن کو 57 ٹو کے تحت الیکشن کرانا ہوں گے۔ اے آر وائے نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے احمد بلال محبوب نے کہا کہ 57 ون کے تحت صدر مملکت الیکشن کمیشن سے مشاورت کے بعد انتخابات کی تاریخ دیں گے،صدر مملکت آئین کے تحت ایڈوائس پر تاریخ کا اعلان کر سکتے ہیں۔
فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے کہا کہ آرٹیکل 220 کہتا ہے کہ الیکشن لاز آئینی تحفظ حاصل ہے،صدر مملکت نے 57 ون کے تحت پہلے الیکشن کمیشن کو مشاورتی خط لکھا،الیکشن کمیشن کو 57 ٹو کے تحت الیکشن کرانا ہوں گے،صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا جس پر جوابی خط بھی لکھا گیایاد رہے کہ صدرِ مملکت عارف علوی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کی تاریخ دے دی۔
صدرِ مملکت عارف علوی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 9 اپریل کو انتخابات کا اعلان کر دیا۔ صدرمملکت نے کہا ہے کہ الیکشن کمیش سیکشن 57 ٹو کے تحت انتخابات کا انعقاد کرے۔آئین اور قانون الیکشن میں 90 دن سے زائد کی تاخیر کی اجازت نہیں دیتا۔ آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف لیا ہے۔انتخابات کی تاریخ کے لیے آئینی اور قانونی حق استعمال کیا۔ قبل ازیں صدر مملکت نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا تھا جس میں انہوں نے انتخابات سے متعلق ہنگامی اجلاس کی دعوت دی تھی۔
صدر مملکت نے 20 فروری کو ایوان صدر میں الیکشنز کے حوالے سے مشاورت کی دعوت بھی دی تھی،خط میں کہا گیا کہ ایکٹ کے تحت صدر مملکت انتخابی تاریخوں کا اعلان مشاورت کے بعد کریں گے۔ عارف علوی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بے حسی پر ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ صدر عارف علوی کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک پہلے خط کا جواب نہیں دیا،بے چینی سے انتظار تھا کہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری کا احساس اور اس کے مطابق کام کرے گا۔ خط میں کہا گیا کہ اہم معاملے پر الیکشن کمیشن کے افسوسناک رویے پر مایوسی ہوئی۔

Mr_FaiSaL SaiM

23/01/2023

بجلی بریک ڈاؤن کی وجہ سے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی بند ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری بجلی کے بریک ڈاؤن کے دوران مسلسل جنریٹرز چلانے کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس ٹاورز کیلئے تیل کا ذخیرہ بھی ختم ہوگیا، جس کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کو سروسز جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی شہروں میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس متاثر ہیں۔
اس حوالے سے ٹیلی کام انڈسٹری کا کہنا ہے کہ صبح سے موبائل نیٹ ورک تنصیبات بیک اپ پاور پر چلائی جارہی ہیں، ٹیلی کام سروسز جاری رکھنے کیلئے نیشنل گرڈ سے بجلی کی جلدبحالی ناگزیر ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ صبح سے ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں ناصرف عدالتوں اور سرکاری دفاتر اور ہسپتالوں میں کام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے بلکہ بجلی نہ ہونے کے سبب بینکوں اور موبائل فون کمپنیوں کی سروسز بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں، اس ضمن میں موبائل فون کمپنیوں کے صارفین کی طرف سے سگنل نہ آنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
ادھر ملک میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن میں عملے کی مبینہ کوتاہی سامنے آگئی، جیو نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ تیل اور گیس بچانے کے لیے متعدد پاور پلانٹس بند تھے، 2 بار تربیلا سے خرابی شروع ہوئی، گڈو اور تھرمل پاور اسٹیشنز سے بھی مسئلہ خراب ہوا، پاور ہاوسز صبح 7 بجے چلائے تو انجینئرز اور متعلقہ حکام کی لاپرواہی کے باعث فریکوئنسی آؤٹ ہوئی اور سسٹم بیٹھ گیا، سسٹم میں موجود 9 ہزار میگاواٹ بجلی کو نہیں سنبھالا جا سکا۔
معلوم ہوا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں آج ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کا نوٹس لے لیا، نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں ہونے والے بریک ڈاؤن کا نوٹس لیتے ہوئے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے رپورٹ طلب کی گئی ہے کیوں کہ 2021ء اور 2022ء میں بلیک آؤٹ اور ٹاور گرنے کے واقعات پر جرمانے کر چکے ہیں، مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے نیپرا مسلسل ہدایات، سفارشات جاری کرتا رہا ہے۔
خیال رہے کہ نیشنل گرڈ میں خرابی کی وجہ سے ملک کے مختلف شہروں میں بجلی بند ہے، نیشنل گرڈ میں خرابی ہوئی اوربجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث کراچی سمیت مختلف شہروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی، اسلام آ باد، راولپنڈی ، کراچی ،لاہور ،پشاورسمیت ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کا بریک ڈا ون ہوا۔ وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ نیشنل گرڈ میں فریکونسی کم ہوئی جس سے سسٹم میں بریک ڈاؤن ہوا، سسٹم کی بحالی پر تیزی سے کام جاری ہے، وزیرتوانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ سال کے ان دنوں میں رات کو بجلی کی کم ضرورت ہوتی ہے، وولٹیج اور فریکونسی کی ویری ایشن کی وجہ سے بریک ڈاون ہوا۔
خرم دستیگیر نے کہا کہ ملک میں بجلی کا کوئی بڑا فالٹ نہیں آیا، امید ہے آئندہ 12 گھنٹوں میں ملک بھر میں بجلی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، پاور جنریشن کے وقت ایک ایک میگا واٹ کو دیکھا جاتا ہے کہ اس سے پاور ٹیرف پر کیا اثر پڑے گا اور موسم سرما میں چونکہ بجلی کی طلب کم ہوتی ہے اس لیے سسٹم کو رات کے وقت زیادہ تر سسٹم کو بند کر دیا جاتا ہے اور صبح ایک ایک کر کے سسٹم کو دوبارہ آن کیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ آج صبح سات بجے کے قریب جب ایک ایک کر کے سسٹم کو آن کیا جا رہا تھا تو اس دوران جامشورو اور دادو کے درمیان فریکوئنسی کی کمی کی وجہ سے بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا۔بریک ڈاؤن شمال سے جنوب تک آیا ہے اور ہم آہستہ آہستہ جنوب سے شمال کی طرف سسٹم بحال کر رہے، تربیلا اور وارسک سے کچھ سسٹم بحال کرنا شروع کر دیے ہیں۔

23/01/2023

بجلی کے بریک ڈاؤن کو 6 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر گیا مگر ملک کے مختلف شہروں کی بجلی بحال نہ کی جا سکی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے سے نیشنل گرڈ میں پیدا ہونے والی خرابی کو تاحال دور نہیں کیا جا سکا جس کی وجہ سے ملک کے مختلف شہر اب تک بجلی سے محروم ہیں۔کراچی،لاہور اور کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں بجلی بند ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن میں ٹرپنگ کے باعث کے الیکٹرک کے 540 سے زائد گرڈ اسٹیشن بند ہیں اور کراچی کے 50 فیصد سے زائد حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے جبکہ آئیسکو کے 117 گرڈ اسٹیشن متاثر ہونے سے وہاں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔ فیصل آباد،ٹوبہ ٹیک سنگھ اور سرگودھا میں بھی بجلی بند ہے،اسی طرح ملتان سمیت جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں بھی بجلی بند ہے جبکہ خیبر پختو نخوا کے مختلف شہر بھی بجلی سے محروم ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ این ڈی ڈی سی اور بجلی کی تقیسم کار کمپنیاں بجلی بحال کرنے کے کاموں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب ملک میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن میں عملے کی مبینہ کوتاہی سامنے آگئی۔جیو نیوز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ تیل اور گیس بچانے کے لیے متعدد پاور پلانٹس بند تھے،2 بار تربیلا سے خرابی شروع ہوئی، گڈو اور تھرمل پاور اسٹیشنز سے بھی مسئلہ خراب ہوا، پاور ہاوسز صبح 7 بجے چلائے تو انجینئرز اور متعلقہ حکام کی لاپرواہی کے باعث فریکوئنسی آؤٹ ہوئی اور سسٹم بیٹھ گیا، سسٹم میں موجود 9 ہزار میگاواٹ بجلی کو نہیں سنبھالا جا سکا۔
معلوم ہوا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک میں آج ہونے والے بجلی کے بریک ڈاؤن کا نوٹس لے لیا، نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں ہونے والے بریک ڈاؤن کا نوٹس لیتے ہوئے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) سے رپورٹ طلب کی گئی کیوں کہ 2021ء اور 2022ء میں بلیک آؤٹ اور ٹاور گرنے کے واقعات پر جرمانے کر چکے ہیں،مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کے لیے نیپرا مسلسل ہدایات، سفارشات جاری کرتا رہا ہے۔

23/01/2023

وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے سے ملک بھر میں بجلی کا بریک ڈاؤن ہے،وولٹیج میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ ہے مگر آج رات 10 بجے تک بجلی بحال ہو جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق خرم دستگیر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کا ترسیلی نظام محفوظ ہے،بجلی کے ترسیل نظام کو کوئی خلل یا حادثہ پیش نہیں آیا۔
بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں بجلی بحال کی ہے،کے الیکٹرک نے بھی جزوی طور پر بجلی بحال کر دی ہے۔پورے ملک میں ٹیمیں فنی خرابی کو دور کرنے کیلئے متحرک ہیں،جبکہ بجلی کے نظام کو بحال کرنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ نیشنل گرڈ سے بجلی تاحال بحال نہیں ہو سکی،نارتھ ساؤتھ نظام میں خرابی پیدا ہوئی،بجلی بنانے کے کارخانے شروع کرنے کیلئے بھی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بجلی معطلی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے،شہباز شریف نے تحقیقات کیلئے اعلٰی سطح کمیٹی بھی تشکیل دے دی۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر سے فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کا بحران کس وجہ سے پیدا ہوا؟اس حوالے سے آگاہ کیا جائے،ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ملک میں بجلی فوری بحال کی جائے،عوام کی مشکلات برداشت نہیں۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں پاور بریک ڈاؤن کو 8 سے زائد گھنٹے گزر گئے مگر بحالی نہیں کی جا سکی،منگلا کے ذریعے بھی سسٹم بحال کرنے کی کوشش فی الحال کامیاب نہیں ہوئی جبکہ ارسا نے منگلا سے پانی کے اخراج کی اجازت دے دی۔ بتایا گیا ہے کہ ایکسٹرا ہائی ٹینشن لائن میں ٹرپنگ کے باعث کے الیکٹرک کے 540 سے زائد گرڈ اسٹیشن بند ہیں اور کراچی کے 50 فیصد سے زائد حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے ،جبکہ ملتان سمیت جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ میں بھی بجلی بند ہے۔فیصل آباد،ٹوبہ ٹیک سنگھ اور سرگودھا میں بھی بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

14/01/2023

(13 جنوری 2022ء ) پنجاب اسمبلی توڑنے کے پنجاب میں 12اپریل کو الیکشن کرانے کا فیصلہ کرلیا گیا، وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں پارٹی رہنماؤں کو پنجاب میں اپنے حلقوں میں انتخابی مہم چلانے کی ہدایت کردی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ماڈل ٹاؤن میں پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیردفاع خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس کی اندرونی کہانی کے مطابق اجلاس میں پنجاب اسمبلی توڑنے کے بعد 12اپریل کو پنجاب میں الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے فیصلے سے پارٹی رہنماؤں کو آگاہ کردیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نوازشریف، مریم نواز، حمزہ شہباز اسی ماہ واپس آئیں گے۔

12/01/2023

(12 جنوری 2022ء) چوہدری مونس الہٰی کے مطابق اسمبلی تحلیل کرنے کا وعدہ پورا کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی جانب سے صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیے جانے کے بعد ان کے صاحبزادے اور رکن قومی اسمبلی چوہدری مونس الہٰی کی جانب سے ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وعدہ پورا کر دیا، انشاء اللہ عمران خان کو جلد وزیر اعظم کی کرسی پر دیکھیں گے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے پنجاب اسمبلی تحلیل کر دی، ترجمان پی ٹی آئی فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ نے اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیے، گورنر نے دو دنوں میں سمری منظور نہ کی تو اسمبلی 48 گھنٹوں میں خود بخود ٹوٹ جائے گی۔ترجمان پی ٹی آئی فواد چودھری نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کی ملاقات کے بعد زمان پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیے، وزیراعلیٰ کی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس گورنر پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، گورنر نے دو دنوں میں اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری منظور نہ کی تو اسمبلی 48 گھنٹوں میں خود بخود ٹوٹ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے کیا وعدہ پورا کردیا ہے۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی کے ساتھ خیبرپختونخواہ کی اسمبلی کو بھی تحلیل کردیا جائے، ہمارا پاکستان کے عوام سے وعدہ تھا کہ ہم عوام میں واپس جائیں گے، آج عمران خان نے وہ وعدہ پورا کردیا ہے، یہ دونوں حکومتیں ہماری اپنی حکومتیں تھی ، ہم نے اپنی حکومتیں ختم کرکے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ عوام کے پاس میں جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، عوام آج بھی صرف عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں، یہاں پر میں چودھری پرویزالٰہی اور حسین الٰہی اور ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے ایک اصول کی خاطر ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق عبوری حکومت کیلئے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو خط لکھ رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کے ساتھ عبوری حکومت قائم کردی جائے گی، 90 دنوں میں پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں عام انتخابات ہونے جار ہے ہیں۔پاکستان کی 60 فیصد نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ اب بھی وفاقی حکومت کو ضد سے باہر آنا چاہیے اور پاکستان کو قومی انتخابات کی جانب بڑھنا چاہیے۔ جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو پاکستان میں کبھی معاشی استحکام نہیں آسکتا۔ جب 60 فیصد نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں تو باقی 40 نشستوں پر بھی انتخابات ہونے چاہئیں۔

12/01/2023

(12 جنوری 2022ء) وزیر اعظم اور چئیرمین پیپلز پارٹی ملک کے سب سے غیر مقبول لیڈرز قرار، آئی آر آئی ایس سروے نتائج کے مطابق بلاول بھٹو محض 1 فیصد عوام کا اعتماد حاصل کر سکے، شہباز شریف پر عوام کی جانب سے اعتماد کرنے سے انکار۔ ہم نیوز کی رپورٹ کے مطابق آئی آر آئی ایس نامی ادارے کی جانب سے عوامی رائے پر مبنی تازہ ترین سروے میں ملک کے لیڈروں کی مقبولیت جاننے کی کوشش کی گئی۔
سروے میں عمران خان 56 فیصد کے ساتھ ملک کے سب سے مقبول لیڈر قرار پائے، جبکہ پی ڈی ایم قیادت مجموعی طور پر بھی پی ٹی آئی چئیرمین کے مقابلے میں نصف مقبولیت بھی حاصل نہ کر سکی۔ سروے کے دوران 56 فیصد افراد نے عمران خان پر اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے چئیرمین ہی ملک کو مشکلات سے نکال سکتے ہیں، جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو 19 فیصد، پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف زرداری کو 2 فیصد، بلاول بھٹو کو محض 1 فیصد عوام کا اعتماد حاصل ہو سکا۔
ملک کے وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف 0 فیصد عوام کی حمایت حاصل کر سکے، یعنی ملک کے سب سے غیر مقبول لیڈر قرار پائے۔ یوں عمران خان کی 56 فیصد مقبولیت کے مقابلے میں وفاقی حکومت کی اتحادی جماعتوں کی قیادت مجموعی طور پر بھی محض 22 فیصد عوامی حمایت حاصل کر سکی۔

12/01/2023

(12 جنوری 2023ء) سپریم کورٹ نے ڈیمز عملدرآمد کیس میں آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈز کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا، عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو ڈیم فنڈز کا تمام ریکارڈ آڈیٹر جنرل کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،عدالت نے وفاقی حکومت کو دونوں ڈیمز کیلئے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت کر دی، اور ریمارکس دئیے کہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ کاری کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ عوام کو بتائیں گے ان کے فنڈز سے کون سی مشینری خریدی گئی،ملک میں مالی مشکلا ت پر تشویش ہے اور ایسے اقدامات کرنے ہیں جن پر اخراجات کم ہوں،اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں۔
واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ پاور ڈویژن پر واپڈا کے 240 ارب واجب الادا ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پاور ڈویژن واپڈا کو کیوں ادائیگی نہیں کر رہا؟ سیکرٹری پاور ڈویژن نے عدالت میں بتایا کہ بجلی کی مد میں وصولیوں پر 400 ارب خسارے کا سامنا ہے،گردشی قرضہ 2 کھرب 600 ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اسی وجہ سے آئی ایم ایف نے خدشات کا اظہار کیا ہے،اگر آپ سے یہ کمپنیاں نہیں چلتیں تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟بجلی تقسیم کار کمپنیاں ان کو دے دیں جو چلا سکیں،آڈیٹر جنرل ڈیم فنڈز کو چیک کریں کہ کوئی بے ضابطگی تو نہیں ہوئی؟ سیکریٹری پاور ڈویژن نے مزید بتایا کہ کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے جس میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں،بجلی چوروں کیخلاف کارروائی بھی مناسب انداز میں نہیں کی جاتی۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟۔ سیکریٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکلر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے، بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے،۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو،بعدازاں عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

12/01/2023

(12 جنوری 2022ء) ایم کیوایم پاکستان کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ حلقہ بندیاں ٹھیک نہ ہوئیں تو15 جنوری کو انتخابات نہیں ہونے دیں گے، آج رات حلقہ بندیاں ٹھیک کرادیں پھر چاہے کل الیکشن کرا لیں، آرٹی ایس بیٹھتا رہا تو جمہوریت بھی بیٹھ جائے گی، 2018 میں جیتنے والے حیران اور جتوانے والے پریشان تھے۔
خالد مقبول صدیقی نے نے ایم کیوایم دھڑوں کے انضمام کے موقع پر پی ایس پی اور تنظیم بحالی کمیٹی کے قائدین مصطفی کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور عامر فاروق کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حالات کی سنگینی کا ہم سب کو علم ہے، وقت کی ضرورت ہے ہم سب ایک دوسرے کی آواز بنیں، کراچی کو منی پاکستان کہا جاتا ہے، وہ لوگ جنہوں نے تحریک پاکستان کیلئے جدوجہد کی اور پاکستان کو جس مقصد کیلئے بنایا گیا اس مقصد کو پورا کرنے جنہوں نے پاکستان کی جدوجہد کی ان پر پاکستان کو بچانے کی سب پر ذمہ داری ہے، ہماری اپیل اور دعوت شمولیت پر تمام لوگوں نے آپس میں بیٹھنے اور ضم ہونے کا فیصلہ کیا،ہم سب کی مشترکہ کوششیں رنگ لائی ہیں، ایم کیوایم کے خلاف سازشیں اورقوم میں مایوسی پیدا کرنے والوں کو آج مایوسی ہوگی، ہم نے پاکستان کو بنایا تھا اور پاکستان بچائیں گے۔
اس موقع پر مصطفی کمال نے کہا کہ 14اگست 2013میں الطاف حسین کی جماعت کو چھوڑ کر گیا، ہماری ان کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی یا رنجش نہیں تھی، پھر انیس قائمخانی بھی چھوڑ کر گئے، ہم نے جو بغاوت کی وہ کھل کرکی، میرا کوئی بھائی لاپتا نہیں تھا، روزانہ پاکستان کی ریاست کو گالیاں بکیں جارہی تھیں، مودی کو آواز دی جارہی تھی کہ اپنی سرحدیں کھولو اور ہمیں پناہ دی جائے ، خواتین کو بچے پیدا ہونے کا بتایا جاتا تھا، یہ وہ دور تھا جب ہر تیسرے دن شہداء قبرستان میں لاش جاتی تھی، شکر ہے آج وہ منظر نہیں ہے، چھ سال سے شہداء قبرستان کو تالے لگ گئے، لاپتا بچے ماؤں کو واپس مل گئے۔
آج 12جنوری 2023ہے، کراچی کو راء کے تسلط سے اس لئے آزاد نہیں کرایا تھا کہ آصف زرداری کا تسلط ہو، آصف زرداری کا ارادہ بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانا ہے، بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے کیلئے کراچی کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم کی تقسیم زہرقاتل تھی، ایم کیوایم کومو قع دیا جائے تو 10ارب ڈالر تنہا کراچی کما کر دے سکتا ہے، جنیوا سے 10 ارب ڈالر تحفہ ہماری غیرت پر ایک اور سوال آگیا، پورے ملک میں سیاسی کشیدگی ہے اقتدار قتدار کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

12/01/2023

(12 جنوری 2022ء) وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے پنجاب اسمبلی تحلیل کردی ہے، ترجمان پی ٹی آئی فواد چودھری نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیے، گورنر نے دو دنوں میں سمری منظور نہ کی تو اسمبلی 48 گھنٹوں میں خود بخود ٹوٹ جائے گی۔ ترجمان پی ٹی آئی فواد چودھری نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی کی ملاقات کے بعد زمان پارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے اسمبلی توڑنے کی سمری پر دستخط کردیے، وزیراعلیٰ کی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس گورنر پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے، گورنر نے دو دنوں میں اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری منظور نہ کی تو اسمبلی 48 گھنٹوں میں خود بخود ٹوٹ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے کیا وعدہ پورا کردیا ہے۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی کے ساتھ خیبرپختونخواہ کی اسمبلی کو بھی تحلیل کردیا جائے، ہمارا پاکستان کے عوام سے وعدہ تھا کہ ہم عوام میں واپس جائیں گے، آج عمران خان نے وہ وعدہ پورا کردیا ہے، یہ دونوں حکومتیں ہماری اپنی حکومتیں تھی ، ہم نے اپنی حکومتیں ختم کرکے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ عوام کے پاس میں جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، عوام آج بھی صرف عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں، یہاں پر میں چودھری پرویزالٰہی اور حسین الٰہی اور ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے ایک اصول کی خاطر ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق عبوری حکومت کیلئے اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو خط لکھ رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر کی مشاورت کے ساتھ عبوری حکومت قائم کردی جائے گی، 90 دنوں میں پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں عام انتخابات ہونے جار ہے ہیں۔پاکستان کی 60 فیصد نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ اب بھی وفاقی حکومت کو ضد سے باہر آنا چاہیے اور پاکستان کو قومی انتخابات کی جانب بڑھنا چاہیے۔ جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا تو پاکستان میں کبھی معاشی استحکام نہیں آسکتا۔ جب 60 فیصد نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں تو باقی 40 نشستوں پر بھی انتخابات ہونے چاہئیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Kasur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Kasur