چپ رہسن تاں موتی ملسن صبر کریں تا ہیرے
پاگلاں واکوں رولا پاویں نا موتی نا ہیرے
Ayyan's circle
Ayyan Ahmad Mayo
یہ جو ہماری درس گاہوں میں اُستاد ہوتے ہیں
حقیقت میں یہی قوم کی بُنیاد ہوتے ہیں
سُنیں روداد ہم جب بھی کسی کی کامیابی کی
ہر اک روداد میں یہ مرکزِ روداد ہوتے ہیں
شکریہ: ان تمام اساتذہ کا جن کی محنت ، محبت اور صحبت کے سبب اللہ نے زندگی کا بہترین بنا دیا ۔ بے شک میرا آسان اور بہتر آج میرے اساتذہ کی محنت اور دعاؤں کے طفیل ہے ۔ رب کریم میرے تمام اساتذہ پر اپنا کرم فرمائے رکھے امین۔
27/09/2023
Passion creates. Addiction consumes - Gabor Mate
جذبہ اور نشہ : زندگی میں جذبہ اور مثبت طاقت ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو بڑھا دیتی ہے اور نشہ انسان کو کھا جاتا ہے۔ ہمیں پہچاننا چاہیے کہ ہمیں اپنے کام کا نشہ ہو گیا ہے یا ہمارے اندر کام کا جذبہ ہے ۔۔۔۔
Passion is a creative force that ignites inspiration, drive, and purpose. When we are passionate about something, we channel our energy and focus into it, creating and building something meaningful. On the other hand, addiction is portrayed as a consuming force that can drain our energy and divert our attention away from productive pursuits.
انسانوں کا جنگل ۔۔
جب گھر کا چوکیدار خود کو کو گھر کا مالک سمجھنے لگے۔
جب پادری، ملا، اور پنڈت خود کوھی خدا سمجھنے لگے،
جب قاضی ھی خود کو قانون سمجھنے لگے،
جب عورت کی عزت و تذلیل، حسب و نسب اور ذات برادری دیکھ کر کی جانے لگے،
جب استاد جہالت، عصبیت اورتعصب پڑھانے لگے،
جب ضمیر اور ادراک کی آنکھ اندھی ھو جاۓ،
جب انسان خود کو ذندہ رکھنے کے لیۓ خود کو ھی اقساط (پارٹس) میں بیچنا شروع ھو جاۓ،
جب میں، میرا، اور میرے کے علاوہ سب غلط ، جھوٹے اور "جوٹھے" ھوں
تو سمجھ جاؤ یہاں اس بستی میں, انسانوں کے سوا سب بستے ھیں
08/07/2023
سوچ اور نظر :
بعض دفعہ کچھ چیزیں ہمیں فضول ، بیکار اور بے معنی لگتی ہیں یہی حال کچھ رشتوں کا بھی ہے جنہیں ہم بےسود اور فضول سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ہمارے نظریے سے غلط ہوتے ہیں لیکن ۔۔۔
صرف اگر دیکھنے کا انداز بدل لیں تو نظر آنے والی تصویر بدل جاتی ہیں۔ سوچنے کا انداز بدل لیں تو سامنے والے کے غلط دلائل بھی سہی لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اپنے آپ کو دوسرے کی جگہ پر رکھ سوچنا شروع کر دیں تو مخالف کے غلط نظریات بھی درست لگنے لگتے ہیں۔
اس لئیے زندگی کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئیے کبھی کبھی دیکھنے کا انداز اور سوچ کا زاویہ بدل کر دیکیھں ۔
اللہ رب العزت سمجھ اور عمل کی توفیق دے۔ امین
( کاوش : عیان احمد )
ﻗﺴﻄﻨﻄﻨﯿﮧ میں ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺭاﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮕﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ
ﻗﺎﺿﯽ ﺷﻤﺶ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺣﻤﺰﮦ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﯽ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﺮﺍﺟﻤﺎﻥ ﮨﯿﮟ- ﻣﻘﺪﻣﮧ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﺍ، ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﮔﻮﺍﮨﺎﻥ ﮐﯽ ﻓﮩﺮﺳﺖ ﺩﯾﮑﮭﯽ، ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺑﺎ ﯾﺰﯾﺪ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ- ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﻮﺍﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﭩﮩﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛ ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮔﻮﺍﮦ ﻗﺎﺑﻞ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺎﭨﺎ ﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ
ﺣﺎﮐﻢ ﻭﻗﺖ کی ﮔﻮﺍﮨﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ
ﻟﻮﮒ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺷﺸﺪﮦ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ، ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﻗﺎﺿﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ جان ﺳﮑﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﻮﮞ،،،،؟؟
ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؛
ﮔﻮﺍﮦ ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ- ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ
ﺣﺎﮐﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﮔﺮﺩﻥ ﺟﮭﮑﺎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁئندہ ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍس ﻄﺮﺡ ﻗﺎﺿﯽ ﻧﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﮐﯽ ﺗﻤﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
29/06/2023
عیدالاضحی مبارک ہو
23/06/2023
Francis Bacon نے کہا"Knowledge is power"
لیکن اگر نالج ہی پاور ہوتا تو سیگریٹ کے نقصانات جاننے باوجود سیگریٹ نا پیتے ، شراب نوشی کرنے والے شراب نا پیتے ، چغلی کھانے والے چغلی کھاتے ، کام چور کام چوری نا کرتے ، کرپشن کرنے والے بدعنوانیاں چھوڑ دیتے ، معاشرتی برائیوں کا خاتمی ہو جاتا ، معاشرے میں ہر طرف خوشحالی ہی خوشحالی ہوتی لیکن ایسا نہی ہے جب کہ سب کو نالج ہے کہ کس امر کا فائدہ ہے اور کس کا نقصان ہے
سب جانتے ہیں صبح کی ورزش صحت کے اچھی ہے اور تیل میں فرائی کی گئی چیزیں نقصان دہ ہیں لیکن احتیاط پھر نہی کرتے مطلب نالج تو پاور نہی ہے پھر ؟
ہم نالج کو پاور سمجھتے ہیں اسی لئیے موجودہ حالات کو پہنچ گئیے ہیں لیکن
سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاور کیا ہے؟
پاور
اصل پاور
Ex*****on of Knowledge
ہے ۔
آج ہی میں ہمسائیوں کے حقوق کا علم ہے لیکن زندگی میں اس پر عمل نہی ہے جبکہ یورپ میں ان حقوق کو execute کیا جا رہا ہے اور وہاں علم پاور ہے کیونکہ وہاں علم اور اس پر عمل موجود ہے ۔ اللہ ہمیں knowledge اور knowledge کو execute کرنے کی توفیق دے۔ امین
20/06/2023
دل بڑا ہو تو ہاتھ کھل جاتا ہے ،
ہاتھ کھل جائے تو جائے،
تو
دل کھل جاتا ہے ،
دل کھل جائے تو خیال بڑے ملتے ہیں
دل چھوٹا ہو تو خیال بونے ہو جاتے ہیں، نظریہ مفلوج ہو جاتا ہے
اسی لئیے سخاوت کا حکم ملتا ہے
اور اللہ تو سخی کو اپنا دوست کہتا ہے ۔۔۔ جس کا دوست رب ہو گیا اس کے خیال کی رفعت و بلندی کی پرواز کی حد نہی رہتی ۔۔۔ اللہ ہمیں سخاوت کی توفیق دے اور اللہ والوں کی صحبت سے مستفید فرمائے۔ امین
17/06/2023
حضرت اویس قرنی کو جنت کے دروازے پر کیوں روک لیاجائے گا۔
حضوراکرم (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جارہے ہوں تو اویس قرنی کو جنت کے دروازے پرروک لیاجائے گا۔
حضرت اویس قرنی کون ہیں ۔
اویس نام ہے عامرکے بیٹے ہیں مرادقبلہ ہے قرن انکی شاخ ہے اوریمن انکی رہائش گاہ تھی ۔
حضرت نے ماں کے حددرجہ خدمت کی ۔وہ آسمانوں تک پہنچی اویس قرنی حضورکی خدمت میں حاضرنہیں ہوسکے۔
جبرئیل آسمان سے پہنچے اورانکی بات کوحضورنے بیان کیا چونکہ حضوردیکھ رہے تھے کہ آئندہ آنیوالی نسلیں اپنی مائوں کیساتھ کیساسلوک کریں گی ایک سائل نے سوال کیا یارسول ﷲ (صلی ﷲ علیہ وسلم) قیامت کب آئے گی توآپ نے ارشاد فرمایامجھے نہیں معلوم کب آئے گی توسائل نے کہاکہ کوئی نشانی توبتادیں توآپ نے فرمایاجب اولاداپنی ماں کوذلیل کرے گی توقیامت آئے گی۔
حضور(صلی ﷲ علیہ وسلم) نے حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اورحضرت علی (رضی ﷲ عنہ) سے کہاکہ تمہارے دور میں ایک شخص ہوگا جس کانام ہوگا اویس بن عامر درمیانہ قد رنگ کالا جسم پر ایک سفید داغ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے ان کاحلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہو وہ آئے گاجب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے۔
حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اور حضرت علی (رضی ﷲ عنہ)کواویس قرنی کی دعاکی ضرورت نہیں تھی۔
یہ امت کو پیغام پہنچانے کے لیے ہے کہ ماں کا کیا مقام ہےحضرت عمر (رضی ﷲ عنہ) حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) کیاکہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کرئیں تو حضو (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا عمر،علی اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتاہے توﷲ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا۔
حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا اور کہا کہ تمام حاجی کھڑے ہوجاو آپ کے حکم پرتمام حاجی کھڑے ہوگئے پھر کہا کہ سب بیٹھ جاو صرف یمن والے کھڑے رہو تو سب بیٹھ گئے اور یمن والے کھڑے رہے پھرکہا کہ یمن والے سارے بیٹھ جاو صر ف مراد قبیلہ کھڑا رہے پھرکہا مراد والے سب بیٹھ جاو صرف قرن والے کھڑے رہو تو مراد قبیلے والے بیٹھ گئے صرف ایک آدمی بچااور حضرت عمر نے کہا کہ تم قرنی ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کابیٹاہے میراسگا بھتیجاہےاس کادماغ ٹھیک نہیں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں توحضرت عمر نے کہاکہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہاآ پ نے پوچھا کدھر ہےتواس نے کہاکہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیاہے اونٹ چرانے،
آپ نے حضرت علی کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگادی جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ اویس قرنی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں یہ آکربیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز ختم ہونے کاانتظار کرنے لگےجب حضرت اویس نے محسوس کیاکہ دو آدمی آگئے تو انہوں نے نماز مختصرکردی ۔
سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی توکہاجی میں مزدور ہوں اسے خبرنہیں کہ یہ کون ہیں تو حضرت عمر نے کہاکہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہ اکہ میرانام ﷲ کابندہ تو حضرت عمر نے کہا کہ سارے ہی ﷲ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیارکھا ہےتو حضرت اویس نے کہاکہ آپ کون ہیں میرا انٹرویو کرنے والے ان کایہ کہنا تھا کہ حضرت علی نے کہاکہ اویس یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اور میں ہوں علی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگےکہاکہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کو پہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر نے کہاکہ تو ہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمر نے کہاکہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اور کہا کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکرآپ کامیں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر نے کہاکہ ہاں ﷲ کے نبی نے فرمایاتھا۔
عمر اور علی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں،
تبلیغ نہیں،
تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے۔
13/06/2023
استاد کی تنخواہ
پکاسو (Picasso) سپین میں پیدا ہونے والا ایک بہت مشہور مصور تھا۔ اس کی پینٹنگز پوری دنیا میں کروڑوں اور اربوں روپے میں بک رہی تھیں۔
ایک دن جب وہ سڑک پر چل رہا تھا تو ایک عورت کی نظر پکاسو پر پڑی اور اتفاق سے اس نے اسے پہچان لیا۔ وہ بھاگ کر اس کے پاس آئی اور کہنے لگی، "جناب، میں آپ کی بہت بڑی مداح ہوں۔ مجھے آپ کی پینٹنگز بہت پسند ہیں۔ کیا آپ میرے لیے بھی پینٹنگ بنا سکتے ہیں؟"
پکاسو مسکرایا اور بولا، "میں یہاں خالی ہاتھ آیا ہوں۔ میرے پاس کوئی اوزار نہیں ہے۔ پھر کیسے میں تمہارے لیے پینٹنگ بناؤں؟”
لیکن عورت اب ضد کر رہی تھی۔ اس نے کہا، "مجھے ابھی ایک پینٹنگ بنا دو۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ ہم دوبارہ کب ملیں گے۔"
پکاسو نے پھر اپنی جیب سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اپنے قلم سے کاغذ پر کچھ کھینچنے لگا۔ تقریباً دس منٹ میں پکاسو نے کاغذ پر ایک پینٹنگ بنائی، اسے عورت کے حوالے کیا اور کہا، "یہ پینٹنگ لے لو، تمہیں اس کے لیے ایک ملین ڈالر آسانی سے مل سکتے ہیں۔"
عورت بہت حیران ہوئی۔ اس نے اپنے آپ سے کہا، "اس پکاسو نے جلدی سے یہ قابل عمل پینٹنگ صرف 10 منٹ میں بنائی، اور یہ مجھے بتاتا ہے کہ یہ ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ ہے۔" لیکن ایک لفظ کہے بغیر اس نے پینٹنگ اٹھائی اور خاموشی سے گھر آ گئی۔ اس کا خیال تھا کہ پکاسو اسے بے وقوف بنا رہا ہے۔ وہ بازار گئی اور پکاسو کی بنائی ہوئی پینٹنگز کی قیمت دریافت کی۔ جب اسے پتہ چلا کہ پینٹنگ ایک ملین ڈالر تک حاصل کر سکتی ہے، تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
وہ دوبارہ پکاسو کے پاس بھاگی اور کہنے لگی، "جناب، آپ ٹھیک کہتے ہیں، ان تصویروں کی قیمت تقریباً ایک ملین ڈالر ہے۔"
پکاسو مسکرایا اور بولا، ’’میں پہلے ہی بتا چکا ہوں۔
عورت نے کہا، "جناب، کیا آپ مجھے اپنا شاگرد بنائیں گے؟ مجھے پینٹ کرنا سکھائیں، میرا مطلب ہے کہ جس طرح آپ نے دس منٹ میں ایک ملین ڈالر کی پینٹنگ بنائی ہے، میں 10 گھنٹے میں اچھی پینٹنگ بنا سکتی ہوں، مگر 10 منٹ میں نہیں۔اس طرح تم مجھے تیار کرو۔"
پکاسو مسکرایا اور بولا، "یہ پینٹنگ جو میں نے 10 منٹ میں بنائی ہے اسے سیکھنے میں مجھے “تیس سال”لگے، میں نے اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال اس کام میں گزارے ہیں۔
عورت چونک کر پکاسو کو دیکھنے لگی۔
ایک “استاد” کو 40 منٹ کے لیکچر کے لیے ادا کی گئی تنخواہ، اوپر کی کہانی کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ استاد کے ایک ایک جملے کے پیچھے اس کی کئی سالوں کی محنت ہوتی ہے۔
معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ “استاد”نے تو بولنا ہی ہے۔ بس اتنا ہی ملنا چاہئے۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج دنیا میں جتنے لوگ باوقار عہدوں پر فائز ہیں، ان میں سے اکثر کسی نہ کسی “استاد” کی وجہ سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔
اگر آپ بھی “استاد” کی تنخواہ کو مفت سمجھتے ہیں تو ایک وقت میں 40 منٹ کا موثر اور بامعنی لیکچر دیں۔ آپ کو فوری طور پر احساس ہو جائے گا کہ آپ کتنے قابل ہیں!
تمام قابل احترام اساتذہ کے لیے ❤️❤️
ایک نظم جس میں غریب باپ کی اپنی اولاد کو پڑھانے کی لگن اور گورنمنٹ سکولوں میں اساتذہ یاد کروانے کی کوشش کہ کس طرح غریب آدمی اپنے بچے کو خواب دے کر سکول بھیجتا ہے ، کیسے پیسے کماتا ہے اور کیسے دھکے کھاتا ہے لیکن پھر بھی اپنے بچے کو پڑھاتا ہے ۔۔۔ مکمل لازم سنیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Address
Kasur