24/03/2026
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7xL3BH5JLqp3MHHY19
مقاصد:
✨ یہاں آپ:
1ـ درسِ نظامی کی کتب کے حوالے سے سوالات پوچھ سکتے ہیں
2ـ کسی بھی سبق کی وضاحت
3ـ کسی خاص سبق یا عبارت کے بارے میں رہنمائی
4ـ مشکل مقامات کی تشریح اور حل
5ـ ترکیب ، صیغے اور وجہ اعراب
6ـ اگر آپ کہیں اٹک جائیں یا سمجھ نہ آئے تو بلا جھجک سوال کریں۔
🤝 ہمارا مقصد:
علم کو آسان بنانا اور طلبہ کی مکمل رہنمائی کرنا ہے
نوٹ: رضائے الٰہی کے لیے چینل فولو کریں
03054341388
WhatsApp channel
Follow this WhatsApp channel for the latest updates directly on WhatsApp.
17/03/2026
موصوف اور صفت (عربی نحو کا اہم سبق)
عربی زبان میں موصوف اور صفت کا تعلق کسی چیز کی خوبی، حالت یا وصف بیان کرنے سے ہوتا ہے۔
موصوف:
وہ اسم جس کی کوئی صفت بیان کی جائے یعنی ذات کو موصوف کہتے ہیں۔
صفت:
وہ لفظ جو موصوف کی خوبی یا حالت بیان کرے یا اس کے متعلق کی اسے صفت کہتے ہیں۔
سادہ مثالیں:
1️⃣ رجلٌ صالحٌ
رجل = موصوف (آدمی)
صالح = صفت (نیک)
2️⃣ كتابٌ مفيدٌ
كتاب = موصوف (کتاب)
مفيد = صفت (فائدہ مند)
3️⃣ طالبٌ مجتهدٌ
طالب = موصوف (طالب علم)
مجتهد = صفت (محنتی)
4️⃣ بنتٌ صالحةٌ
بنت = موصوف (لڑکی)
صالحة = صفت (نیک)
5️⃣ بيتٌ كبيرٌ
بيت = موصوف (گھر)
كبير = صفت (بڑا)
قرآن پاک سے مثالیں:
1️⃣ الْعَذَابِ الْعَظِيمِ
العذاب = موصوف
العظيم = صفت
2️⃣ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
الفوز = موصوف
العظيم = صفت
اہم اصول:
صفت اپنے موصوف کے ساتھ چار چیزوں میں مطابقت رکھتی ہے:
✔ اعراب (رفع، نصب، جر)
✔ معرفہ یا نکرہ ہونا
✔ واحد، تثنیہ، جمع
✔ مذکر اور مؤنث
مثال:
الرجلُ الصالحُ
1ـ دونوں معرفہ
2ـ دونوں مرفوع
3ـ دونوں مذکر
4ـ دونوں واحد ہیں ۔
آسان طریقہ یاد رکھنے کا:
موصوف = جس کی بات ہو رہی ہو
صفت = اس کی خوبی بیان کرنے والا لفظ
📚 یہ قاعدہ عربی سمجھنے اور قرآن کریم کے ترجمہ و تفسیر میں بہت مدد دیتا ہے۔
✍️ تحریر: محمد عمران مدنی
15/03/2026
1️⃣3 سے 10 تک کے اعداد: ان کا معدود ہمیشہ جمع اور مجرور (زیر والا) ہوتا ہے، کیونکہ یہ "مضاف الیہ" کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
مثال: ثَلَاثَۃُ رِجَالٍ (تین مرد)۔
2️⃣11 سے 99 تک کے اعداد: ان کا معدود ہمیشہ واحد اور منصوب (زبر والا) ہوتا ہے، اسے "تمیز" کہا جاتا ہے۔
مثال: اَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا (گیارہ ستارے)۔
3️⃣100، 1000 اور ان کے تثنیہ و جمع: ان کا معدود ہمیشہ واحد اور مجرور ہوتا ہے۔
مثال: مِائَۃُ رَجُلٍ (سو مرد)۔
4️⃣1 اور 2 کے اعداد: ان کے لیے الگ سے عدد ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسم کا واحد یا تثنیہ ہونا ہی کافی ہوتا ہے۔ اگر عدد آئے تو وہ صفت کے طور پر معدود کے اعراب کے مطابق ہوتا ہے۔
مثال: رَجُلٌ وَاحِدٌ (ایک مرد)۔
15/03/2026
📍اسمِ اشارہ: اشارہ کرنے والا لفظ (مثلاً: یہ، وہ)۔
📍مشارٌ الیہ: جس چیز کی طرف اشارہ کیا جائے (مثلاً: کتاب، لڑکا)۔
15/03/2026
مرکبِ اشاری:🩷🩷
وہ مرکبِ ناقص ہے جو اسمِ اشارہ اور مشارٌ الیہ کے ملنے سے بنتا ہے، جس سے سننے والے کو پورا مطلب سمجھ نہیں آتا۔ یہ کسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: ”وہ کرسی“، ”یہ قلم“، ”وہ کاغذ“۔
15/03/2026
*أحسنُوا الظنّ بأقدَارِكُم*
*فإنَّها تَأتِي مَحملة بظنُونكم ..*🪽🩶
"اپنی تقدیروں کے بارے میں اچھا گمان رکھو،
کیونکہ وہ تمہارے گمانوں کے مطابق ہی آتی ہیں۔" 🩶
15/03/2026
جواب دیں۔
الۡمَغۡضُوۡبِ کیا ہے؟
1ـ اسم تفضیل
2ـ اسم فاعل
3ـ اسم مفعول