Tadrees.ul.Quran

Tadrees.ul.Quran

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Tadrees.ul.Quran, Education, Civic center, Gulshan-e-Iqbal, Karanchi.

Assalamalikum,
Good News for the Muslims of US and Canada......
Now you and your loved ones can learn Quran Pak through Skype and Zoom by highly skilled Teachers.

18/11/2024

تہجد کا حیرت انگیز تعارف :

کیا آپ کو معلوم ہے فرض نمازوں اور قیام اللیل میں کیا فرق ہے ؟
سب سے زیادہ تحقیق جو میں نے قیام اللیل کے متعلق کی ہے ، اس سے آپ کے تن بدن میں رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
میری خواہش ہو گی کہ آپ سب اس تحریر کو آخر تک لازمی پڑھیں ۔
یہ "دعوت کا کارڈ" ہے
(رب العالمین)کی طرف سے۔
مجھے رات کے آخری حصے کی نماز (قیام اللیل)نے تعجب میں مبتلا کر دیا!
اور میں نے اس میں پایا کہ:
- فرض نمازوں کی ندا بشر ہی لگاتے ہیں ، جبکہ قیام اللیل کی ندا رب العالمین لگاتے ہیں ۔
- فرض نمازوں کی ندا ہر شخص سنتا ہے ، جبکہ قیام اللیل کی ندا بعض لوگ ہی محسوس کرتے ہیں ۔
- فرض نمازوں کی ندا
(حي على الصلاة ،حي على الفلاح) ہے ۔
جبکہ قیام اللیل کی ندا
( ھل من سائل فأعطیہ....)
ہے کوئی سوال کرنے والا میں اسے عطا کر دوں ؟
- فرض نمازیں تمام مسلمانوں پر فرض ہیں ۔
جبکہ قیام اللیل صرف اللہ کے چُنے ہوئے مؤمن ہی ادا کرتے ہیں ۔
- فرض نمازیں بعض لوگوں کی دکھاوے کی نظر ہو جاتی ہیں ۔
جبکہ قیام اللیل چپ کر اورصرف اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جاتی ہے ۔
- فرض نمازوں کو ادا کرتے وقت مسلمان دنیاوی سوچوں میں مگن اور شیطانی وسوسوں میں مبتلا رہتا ہے ۔
جبکہ قیام اللیل میں مؤمن دنیا سے منقطع اور آخرت کی فکر میں مگن ہو جاتا ہے ۔
۔ فرض نمازوں میں مسلمان مسجد میں دوسروں سے ملاقات میں مشغول ہو جاتا ہے ،
جبکہ قیام اللیل میں مؤمن اللہ سے ملاقات کا شرف اور اس سے کلام اور سوال کا متلاشی رہتا ہے ۔
قیام اللیل میں اللہ نے خود اپنے بندوں سے دعا کی قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے ۔
- آخر میں
قیام اللیل اس خوش نصیب کو حاصل ہوتی ہے جس سے اللہ کلام کرنا چاہتا ہو،اور اسکے ھم وغم سننا چاہتا ہو ،کیونکہ وہ اپنے اس مؤمن بندے کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔
پس خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے اللہ ذوالجلال والاکرام کی طرف سے بھیجا گیا دعوت نامہ کارڈ کی صورت میں حاصل کیا اور اس کے سامنے بیٹھ کر باتیں کیں اور اس سے
مناجات کی لذتیں حاصل کیں۔
جب آپ رات کے آخری پہر اندھیروں میں اپنے مالک الملک کے سامنے پیش ہوں تو بچوں والا اخلاق اپنائیں ۔
کہ جب بچہ کوئی چیز مانگتا ہے تو نہ ملنے پر وہ روتا ہے ، یہاں تک کہ حاصل کر لیتا ہے ۔ پس آپ بھی اپنے رب سے بچوں کی طرح مانگیں ۔
اپنے ساتھ دوسروں کو بھی ترغیب دیں ۔ تاکہ دوسروں کے عمل کا آپ کو بھی پورا اجر ملے ۔ دعا ھے اللہ اپنا قرب اور پیارے آقا ﷺ کی سچی پکی غلامی اور روز محشر آقا ﷺ کی شفاعت نصیب فرماۓ ۔آمین
عربی عبارت سے ترجمہ

03/08/2024

*جس کی کوئی گارنٹی نہیں اس کا نام زندگی ہے اور جس کی فل گارنٹی ہے اس کا نام موت ہے، زندگی ایک کتاب ہے، پہلا صفحہ پیدائش، آخری صفحہ موت، درمیانی صفحات خالی ہیں، اس میں جو پسند ہو لکھیں، بس ایسا کچھ لکھیں کہ اللہ کو دکھاتے ہوئشرمندگى محسوس نہ ہو.

26/05/2024

ایک آدمی دو بہت اونچی عمارتوں کے درمیان تنی ہوئی رسی پر چل رہا تھا۔
وہ بہت آرام سے اپنے دونوں ہاتھوں میں ایک ڈنڈا پکڑے ہوۓ سنبھل رہا تھا۔
اس کے کاندھے پر اس کا بیٹا بیٹھا تھا, زمین پر کھڑے تمام لوگ دم سادھے کھڑے یک ٹک اسے دیکھ رہے تھے۔
جب وہ آرام سے دوسری عمارت تک پہنچ گیا تو لوگوں نے تالیوں کی بھرمار کر دی اور اس کی خوب تعریف کی۔
اس نے لوگوں کو مسکرا کر دیکھا اور بولا،
*کیا آپ لوگوں کو یقین ہے میں واپس اسی رسٌی پر چلتا ہوا دوسری طرف پہنچ جاؤں گا؟* لوگ چلٌا کر بولے، ہاں ہاں تم کر سکتے ہو۔
اس نے پھر پوچھا، "کیا آپ سب کو بھروسہ ہے؟" لوگوں نے کہا، ہاں ہم تم پر شرط لگا سکتے ہیں۔
اس نے کہا، "ٹھیک ہے، کیا آپ میں سے کوئی میرے بیٹے کی جگہ میرے کاندھے پر بیٹھے گا؟ میں اسے بحفاظت دوسری طرف لے جاؤں گا"۔
اسکی بات سن کر سب کو سکتہ سا ہو گیا۔ سب خاموش ہو گئے.
یقین الگ چیز ہے،اور بھروسہ الگ چیز۔۔
بھروسہ کرنے کے لیے آپ کو مکمل فنا ہونا پڑتا ہے۔
اور آج ہم سب میں اسی بھروسے کی کمی ہے ۔ہم اللہ تعالیٰ پر یقین تو رکھتے ہیں لیکن بھروسہ نہیں کرپاتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے:
فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّه
جب تم پکا ارادہ کر لو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرو۔

03/10/2022

سقراط نے جب زہر کا پیالہ پیا تو ایتھنز کے حکمرانوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اُن کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والا جہنم رسید ہوا،
یونان کی اشرافیہ جیت گئی،
سقراط کی دانش ہار گئی۔
وقت گزر گیا۔
اسکاٹ لینڈ کی جنگ آزادی لڑنے والے دلاور ولیم والس کو جب انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ اوّل نے گرفتار کیا تو اُس پر غداری کا مقدمہ قائم کیا،
اسے برہنہ کرکے گھوڑوں کے سموں کے ساتھ باندھ کر لندن کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر ناقابل بیان تشدد کے بعد اُسے پھانسی دے کر لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔
اُس وقت کا بادشاہ جیت گیا،
ولیم والس ہار گیا۔
وقت گزر گیا۔
گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں تو یہ کیتھولک عقائد کی خلاف ورزی تھی، چرچ نے گلیلیو پر کفر کا فتویٰ لگایا اور اسے غیرمعینہ مدت تک کے لئے قید کی سزا سنا دی،
یہ سزا 1633میں سنائی گئی، گلیلیو اپنے گھر میں ہی قید رہا اور 1642میں وہیں اُس کی وفات ہوئی،
پادری جیت گئے
سائنس ہار گئی۔
وقت گزر گیا۔
جیو رڈانو برونو پر بھی چرچ کے عقائد سے انحراف کرنے کا مقدمہ بنایا گیا،
برونو نے اپنے دفاع میں کہا کہ اس کی تحقیق عیسائیت کے عقیدہ خدا اور اُس کی تخلیق سے متصادم نہیں
مگر اُس کی بات نہیں سنی گئی اور اسے اپنے نظریات سے مکمل طور پر تائب ہونے کے لئے کہا گیا،
برونو نے انکار کر دیا، پوپ نے برونو کو کافر قرار دے دیا، 8فروری1600کو جب اسے فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا
تو برونو نے تاریخی جملہ کہا
’’میں یہ فیصلہ سنتے ہوئے اتنا خوفزدہ نہیں ہوں
جتنا تم یہ فیصلہ سناتے ہوئے خوفزدہ ہو۔‘‘
برونو کی زبان کاٹ دی گئی اور اسے زندہ جلا دیا گیا۔
پوپ جیت گیا،
برونو ہار گیا۔
وقت گزر گیا۔
حجاج بن یوسف جب خانہ کعبہ پر آگ کے گولے پھینک رہا تھا تو اُس وقت ابن زبیرؓ نے جوانمردی کی تاریخ رقم کی، انہیں مسلسل ہتھیار پھینکنے کے پیغامات موصول ہوئے
مگر آپ ؓ نے انکار کر دیا،
اپنی والدہ حضرت اسماؓ سے مشورہ کیا،
انہوں نے کہا کہ اہل حق اس بات کی فکر نہیں کیا کرتے کہ ان کے پاس کتنے مددگار اور ساتھی ہیں، جاؤ تنہا لڑو اور اطاعت کا تصور بھی ذہن میں نہ لانا،
ابن زبیر ؓ نے سفاک حجاج بن یوسف کا مقابلہ کیا اور شہادت نوش فرمائی،
حجاج نے آپؓ کا سر کاٹ کر خلیفہ عبدالمالک کو بھجوا دیا اور لاش لٹکا دی،
خود حضرت اسماؓ کے پاس پہنچا اور کہا تم نے بیٹے کا انجام دیکھ لیا،
آپؓ نے جواب دیا ہاں تو نے اس کی دنیا خراب کر دی اور اُس نے تیری عقبیٰ بگاڑ دی۔
حجاج جیت گیا،
ابن زبیر ؓ ہار گئے۔
وقت گزر گیا۔
ابو جعفر منصور نے کئی مرتبہ امام ابو حنیفہ ؒکو قاضی القضاۃ بننے کی پیشکش کی مگر آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا، ایک موقع پر دونوں کے درمیان تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ منصور کھلم کھلا ظلم کرنے پر اتر آیا،
اُس نے انہیں بغداد میں دیواریں بنانے کے کام کی نگرانی اور اینٹیں گننے پر مامور کر دیا، مقصد اُن کی ہتک کرنا تھا،
بعد ازاں منصور نے امام ابوحنیفہ کو کوڑے مارے اور اذیت ناک قید میں رکھا،
بالآخر قید میں ہی انہیں زہر دے کر مروا دیا گیا،
سجدے کی حالت میں آپ کا انتقال ہوا،
نماز جنازہ میں مجمع کا حال یہ تھا کہ پچاس ہزار لوگ امڈ آئے، چھ مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔
منصور جیت گیا،
امام ابو حنیفہ ہار گئے۔
وقت گزر گیا۔
تاریخ میں ہار جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا،
یونان کی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقتور تھی
مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ سقراط کا سچ زیادہ طاقتور تھا۔
ولیم والس کی دردناک موت کے بعد اس کا نام لیوا بھی نہیں ہونا چاہئے تھا مگر آج ابیرڈین سے لے کر ایڈنبرا تک ولیم والس کے مجسمے اور یادگاریں ہیں،
تاریخ میں ولیم والس امر ہو چکا ہے۔
گلیلیو پر کفر کے فتوے لگانے والے چرچ اپنے تمام فتوے واپس لے چکے ہے،
رومن کیتھولک چرچ نے ساڑھے تین سو سال بعد تسلیم کیا کہ گلیلیو درست تھا اور اُس وقت کے پادری غلط تھے ۔
برونو کو زندہ جلانے والے بھی آج یہ بات مانتے ہیں کہ برونو کا علم اور نظریہ درست تھا اور اسے اذیت ناک موت دینے والے تاریخ کے غلط دوراہے پر کھڑے تھے۔
تاریخ میں حجاج بن یوسف کو آج ایک ظالم اور جابر حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس کی گردن پر ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون ہے
جبکہ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ شجاعت اور دلیری کا استعارہ ہیں، حجاج کو شکست ہو چکی ہے ابن زبیرؓ فاتح ہیں۔
جس ابو جعفر منصور نے امام ابوحنیفہ کو قید میں زہر دے کر مروایا
اس کے مرنے کے بعد ایک جیسی سو قبریں کھودی گئیں اور کسی ایک قبر میں اسے دفن کر دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کس قبر میں دفن ہے،
یہ اہتمام اس خوف کی وجہ سے کیا گیا کہ کہیں لوگ اُس کی قبر کی بےحرمتی نہ کریں،
گویا تاریخ کا فیصلہ بہت جلد آ گیا۔
آج سے ایک سو سال بعد ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا،
تاریخ ہمیں روندتی ہوئی آگے نکل جائے گی ،
آج یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہے اور کون تاریخ کے غلط دوراہے پر ہے،
کون حق کا ساتھی ہے اور کون باطل کے ساتھ کندھا ملائے ہوئے ہے،
کون سچائی کا علمبردار ہے اور کون جھوٹ کی ترویج کر رہا ہے،
کون دیانت دار ہے اور کون بے ایمان،
کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔
ہم میں سے ہر کوئی خود کو حق سچ کا راہی کہتا ہے
مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بات دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے،
کیونکہ اگر ہر شخص نے حق کا علم تھام لیا ہے تو پھر اس دھرتی سے ظلم اور ناانصافی کو اپنے آپ ختم ہو جانا چاہئے
لیکن سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اُس منزل سے کہیں دور بھٹک رہے ہیں۔
آج سے سو برس بعد البتہ جب کوئی مورخ ہمارا احوال لکھے گا تو وہ ایک ہی کسوٹی پر ہم سب کو پرکھے گا،
مگر افسوس کہ اُس وقت تاریخ کا بےرحم فیصلہ سننے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔
سو آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو ہم ایک بےرحم کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ کہیں ہم یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا،
کہیں ہم برونو کو زندہ جلانے والے پادریوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،
کہیں ہم حجاج کی طرح ظالموں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،
کہیں ہم امام ابوحنیفہ اور امام مالک پر کوڑے برسانے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،
کہیں ہم ابن رشد کے خلاف فتویٰ دینے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے.....
کہیں ہم تاریخ کی غلط سمت میں تو نہیں کھڑے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرکے خود کو غلطی پر تسلیم کرنا بڑے ظرف کا کام ہے جس کی آج کل شدید کمی ہے۔
وقت تو گزر ہی جاتا ہے،
دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کس باضمیر نے وہ وقت کیسے گزارا.... ؟
بقول اقبال
برتر از اندیشۂ سُود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تُو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم‌دواں، ہر دم جواں ہے زندگی
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق دکھائے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور باطل کو باطل دکھائے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
منقول

26/09/2022

📱 *موبائل فون یا کسی اور ڈیجیٹل ڈیوائس میں موجود قرآن کریم کو بلا وضو چھونے کا حکم* 📱

❄️ *موبائل فون سمیت ہر ڈیجیٹل ڈیوائس دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے:*
موبائل فون، لیپ ٹاپ یا کسی اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے حصوں اور اجزا کا جائزہ لیا جائے تو یہ دو حصوں پر مشتمل نظر آتا ہے:
1⃣ *ہارڈ وئیر:*
اس سے مراد وہ اجزا ہیں جو ظاہری اور مادّی وجود رکھتے ہیں جنھیں چھوا جاسکتا ہے، جیسے کیسنگ کور، اسکرین سمیت ہارڈ وئیرکے تمام اجزا وغیرہ۔
2⃣ *سوفٹ وئیر:*
اس سے مراد وہ اجزا ہیں جو ظاہری اور مادّی وجود نہیں رکھتے جیسے موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس چلانے والا آپریٹنگ سسٹم، پروگرامز، ایپلی کیشنز سمیت تمام سوفٹ وئیرز۔ واضح رہے کہ آڈیو، ویڈیو، فوٹو، ورڈ یا پی ڈی ایف فائلز وغیرہ سبھی سوفٹ ڈیٹا کے ضمن میں آتے ہیں۔
⭕ اس دوسری قسم یعنی سوفٹ وئیرز سے متعلق اس قدر جاننا اہم ہے کہ یہ ظاہری اور مادی مستقل وجود نہیں رکھتے، یہ محض برقی لہریں ہوتی ہیں جنھیں چھوا نہیں جاسکتا، ان کو موبائل فون سمیت کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس سے الگ نہیں کیا جاسکتا حتیٰ کہ اگر موبائل فون اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے ٹکڑے کرلیے جائیں تو بھی انھیں کہیں سے برآمد نہیں کیا جاسکتا۔ ان تمام وجوہات کی وجہ سے انھیں مستقل مادّی وجود کا درجہ دینا اور اس کے تمام احکام اس پر جاری کرنا مشکل ہے۔

❄️ *موبائل فون سمیت کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس کو مصحفِ قرآنی کا درجہ نہیں دیا جاسکتا:*
ماقبل کی تفصیل سمجھنے کے بعد یہ سمجھیے کہ قرآن کریم جب سوفٹ فائل کی صورت میں موبائل، لیپ ٹاپ یا کسی اور ڈیجیٹل ڈیوائس میں محفوظ ہوتا ہے تو وہ دوسری قسم یعنی سوفٹ ویئرز میں شمار ہوتا ہے جس کی تفصیل بیان ہوچکی کہ یہ مستقل مادی وجود نہیں رکھتی، اس لیے جب قرآنی سوفٹ وئیر موبائل فون یا کسی اور ڈیجیٹل ڈیوائس میں محفوظ کردیا جائے تو پورے موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس کو قرآنی مصحف کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ موبائل فون یا کوئی اور ڈیجیٹل ڈیوائس تو کم وبیش بہت سے سوفٹ فائلز اور دیگر امور پر مشتمل ہوتا ہے، اور قرآن کریم انھی میں سے ایک فائل کی صورت میں محفوظ ہوتا ہے۔ جب سوفٹ قرآن کی وجہ سے پورے موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس کو مصحف کا درجہ نہیں دیا جاسکتا تو اس پر مصحف کے تمام احکام بھی جاری نہیں کیے جاسکتے۔ البتہ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے جیسا کہ ایک صندوق میں مختلف چیزیں رکھی ہوں ان میں ایک قرآن کریم بھی رکھا ہوا ہو، یا جیسا کہ ایک شیشے میں قرآن کریم محفوظ کرلیا جائے تو ظاہر ہے کہ اس صندوق یا شیشے کو مصحف کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی سوفٹ وئیر پر مشتمل موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس کو چومنے کو مصحف قرآنی کو چومنے کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔

❄️ *ماقبل کی تفصیل کی روشنی میں ثابت ہونے والے احکام:*
ماقبل کی تفصیل کی بنا پر درج ذیل احکام معلوم ہوجاتے ہیں:
1⃣ موبائل سمیت کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس کو قرآنی مصحف قرار دے کر اس کے لیے وضو ضروری قرار نہیں دیا جاسکتا، بلکہ جس موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس میں قرآن محفوظ ہو اس کو بلا وضو چھونا جائز ہے۔
2⃣ موبائل سمیت کسی بھی ڈیجیٹل ڈیوائس میں جب قرآنی سوفٹ فائل کھول دی جائے تو ایسی صورت میں اس موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے اسکرین کو قرآنی ورق کا درجہ بھی نہیں دیا جاسکتا، جس کی وجوہات یہ ہیں کہ:
▪ جب قرآنی سوفٹ فائل کی وجہ سے موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس کو مصحف کا درجہ حاصل نہیں تو موبائل اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے اسکرین کو قرآنی ورق کا درجہ بھی حاصل نہیں ہوگا۔
▪ یہ سوفٹ قرآن جو موبائل یا کسی اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے اسکرین سے نظر آتا ہے یہ درحقیقت اس اسکرین پر نہیں ہوتا بلکہ اسکرین سے الگ ایک اور شیشہ نما چیز پر نظر آتا ہے جسے ریم کہا جاتا ہے، اس لیے یہ اسکرین اس ریم سے جدا چیز ہے، اس کو قرآنی ورق کا درجہ نہیں دیا جاسکتا، اور نہ ہی اسے متصل غلاف کا درجہ دیا جاسکتا ہے، یہ ایسا ہے جیسے شیشے میں قرآن کریم رکھا ہو اور اسے اوپر سے چھوا جائے۔

⭕ *خلاصہ:*
ماقبل کی تفصیل سے یہ مسئلہ بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ:
ڈیجیٹل ڈیوائس چاہے موبائل ہو، کمپیوٹر ہو یا لیپ ٹاپ وغیرہ؛ اس میں قرآنی سوفٹ فائل میں تلاوت کرنے کے لیے وضو ضروری نہیں، بلکہ بلا وضو موبائل کو بھی چھوا جاسکتا ہے، موبائل کے اسکرین کو بھی، اور اسی طرح صفحہ پلٹنا بھی درست ہے، البتہ بہتر یہی ہے کہ باوضو ہوکر چھوے۔
(تفصیل دیکھیے: قرآن مجید کو بغیر وضو چھونے کا حکم از مفتی محمد رضوان صاحب دام ظلہم)

‼️ *جامعہ دار العلوم کراچی کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیں:*
’’موبائل میں قرآنی آیات کے جو نقوش ہمیں نظر آتے ہیں حقیقت میں وہ حروف ونقوش موجود نہیں ہوتے بلکہ صرف شعاعیں اور برقی لہریں ہوتی ہیں جو ہمیں نظر آتی ہیں، لہٰذا یہ نقوش قرآنی آیات کے حکم میں نہیں، اس لیے بغیر وضو اس کو چھونا جائز ہے، خاص کر جب اسکرین کا شیشہ بھی حائل ہو، البتہ ادب کا تقاضا یہ ہے کہ بلا وضو اسکرین پر ہاتھ نہ لگائے۔ (تبویب: 24/ 958)‘‘
(فتویٰ نمبر: 90/ 1523)

✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہ
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
23 جُمادَی الاُولی1441ھ/ 19 جنوری 2020

23/07/2022

قصہ حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ تعالی کا ٰ، ،،،،،،،!

یہ سن ۱۴ ہجری کی بات ہے۔ ایرانی سپہ سالار رستم کی قیادت میں بیاسی ہزار کافر فوجیں تھیں۔ جب مجاہدین اسلام، جن کی تعداد سات یا آٹھ ہزار تھی، اس سے نبردآزما ہونے کے لئے ایرانی سرحد پر قادسیہ کے مقام پر جمع ہوئے تو رستم نے مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ کہہ کر اپنا ایلچی بھیجا کہ تم فوجیوں میں سے کسی کو اپنا نمائندہ ببنا کر میرے پاس بھیجو تا کہ اس سے تبادلہ خیال کروں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا جو تیس سالہ جوان تھے اور فقرا ء صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے اور ان سے فرمایا: جائو اور اپنی وضع قطع میں کچھ تبدیلی نہ کرنا، کیونکہ ہم ایسی قوم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعے عزت و شان بخشی ہے، اگر ہم نے اسلام کو چھوڑ کر کسی اور ذریعے سے عزت و شان طلب کی تو اللہ تعالیٰ ہمیں ذلیل و رسوا کر دے گا۔
حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ اپنے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی نصیحت سن کر اپنے دبلے پتلے اور لاغر گھوڑے پر سوار ہوئے اور پھٹا پرانا کپڑا پہنے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں نیزہ لے کر روانہ ہوئے ۔جب رستم کو خبر پہنچی کہ مسلمانوں کا نمائندہ اس کی خدمت میں حاضر ہونے والا ہے تو اس نے اپنے ارد گرد حکماء وزراء اور فوجیوں کو اکٹھا کیا۔ وہ تمام صف بندی کر کے تیار ہو گئے تا کہ ان کی یہ ہیئت دیکھ کر مسلمان نمائندہ مرعوب ہو جائے اور اچھی طرح گفتگو نہ کر سکے۔ مسلم نمائندے کی آمد کی خبر سن کر رستم نے اپنی مجلس کو سونے کی تاروں سے کڑھے ہوئے تکیوں اور ریشم کی مسندوں سے سجایا اور قیمتی یاقوت و جواہرات سے مزین تاج پہنے ہوئے سونے کے تخت پر جلوہ افروز ہوا۔
جب ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو رستم نے اپنے فوجیوں اور وزیروں کو انہیں اندر بلانے کا حکم دیا۔ حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ پرانے کپڑوں میں اپنے چھوٹےسے گھوڑے پر سوار داخل ہوئے اور ریشم کی مسندوں کے کناروں کو اپنے گھوڑے کے سموں سے روندتے ہوئے آگے بڑھے، آپ کے جسم پر ہتھیار، زرہ اور خود تھا۔ سپاہیوں نے کہا: اپنے ہتھیار اتار دو۔
ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا:
؛” میں بغیر بلائے تمہارے پاس نہیں آیا، بلکہ تمہاری دعوت پر یہاں آیا ہوں۔ لہٰذا اگر تم نے مجھے اس حال میں چھوڑ ا تو ٹھیک ورنہ میں واپس جاتا ہوں “۔
یہ سن کر رستم نے اپنے سپاہیوں سے کہا: اسے ایسے ہی آنے دو۔
حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ مسندوں کے اوپر اپنے نیزے پر ٹیک لگاتے ہوئے اور اکثر مسندوں کو نیزے کی نوک سے پھاڑتے ہوئے داخل ہوئے، تا کہ رستم اور اس کے سپاہیوں کے سامنے یہ ظاہر کریں کہ یہ دنیا انتہائی حقیر و ذلیل ہے، اللہ کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس کی حقارت و ذلت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ناز و نعم اپنے ایک کافر بندے کے حوالے کر دیئے ہیں۔
ادھر مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا حال یہ تھا کہ وہ زمین پر بغیر کسی بچھونے کے سو جاتے تھے۔ جب حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ رستم کے سامنے کھڑے ہوئے تو اس نے کہا: بیٹھ جائو۔
ابن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تیرے پاس مہمان بن کر نہیں آیا کہ بیٹھوں ، بلکہ ایک نمائندے کی حیثیت سے آیا ہوں۔ تمہیں جو بات کرنی ہے کرو۔۔۔ رستم نے کہناشروع کیا
اہل عرب، تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ قسم میرے معبود کی، تم لوگوں سے زیادہ ذلیل و خوار قوم ہم نے اور نہیں دیکھی، رومیوں کی اپنی ایک تہذیب ہے، اہل فارس کی اپنی ایک تہذیب ہے یونان کی اپنی اور ہندوستانیوں کی اپنی ایک تہذیب ہے۔ مگر تم اہل عرب جھگڑا لو اور ضدی لوگ ہو، بکریوں اور اونٹوں کو ریگستان مین دوڑانے والے ہو، آخر تم لوگ کس نیت سے ہماری سرحد پر آئے ہو؟
ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا؛
؛” ہاں اے بادشاہ، ہم ویسے ہی تھے جیسا کہ تم نے کہا ہے بلکہ ہم اس سے بھی گئے گزرے تھے۔ ہم جاہل اور گنوارتھے، بتوں کی عبادت کرتے تھے، بکریوں کو پانی پلانے پر جھگڑتے، اپنے قریبی عزیز کو معمولی بات پر قتل کر دیتے تھے، ہمیں کسی نظام اور دستور کا کچھ علم نہ تھا اور نہ ہی ہمارے پاس تہذیب و تمدن نام کی کوئی چیز تھی، “۔
یہ کہہ کر ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کو تھوڑا سا جھٹکا دیا اور پھر رستم کی طرف مخاطب ہوئے۔ ان کی آواز بلند ہو گئی اور وہ کہہ رہے تھے۔
؛” لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ ہم بندوں کو بندوں کی بندگی سےنکال کر اللہ کی بندگی کی طرف لے جائیں، دنیا کی تنگی و پریشانی سے نکال کر آخرت کی وسعت و فراوانی کی طرف لے جائیں اور مختلف مذاہب کے ظلم و جور سے نکال کر اسلام کے عدل و انصاف کی طرف لے جائیں “۔
اگلا دن مسلمانوں کے لئے فتح و نصرت کی نوید تھا۔ سورج کی شعاعیں کفر کی ظلمت کو مٹانے کے لئے روشن ہوئیں ۔ مجاہدین اسلام اور دشمنانِ اسلام آمنے سامنے ہوئے اور دونوں میں جنگ شروع ہو گئی۔ تین دن گھمسان کا رن پڑا۔ ایرانی مسلمانوں کی تلواروں کی جھنکار اور ان کے خنجروں کی چمک کی تاب نہ لا سکے۔ مسلمانوں کو تاریخ ساز فتح نصیب ہوئی۔ فتح کے بعد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایوان کسریٰ میں داخل ہوئے جس نے ایک ہزار سال تک لوگوں پر حکمرانی کی تھی۔ جب مسلمانوں کے اس عظیم کمانڈر نے کسریٰ کے محل میں سونے سے ملمع سازی کا کام دیکھا اور وہاں ہیرے جواہرات، قیمتی پتھر اور موتیوں کے نقش و نگار دیکھے تو اللہ کے اس انعام پر بے اختیار رونے لگے اور قرآن کریم کی ان آیات کی تلاوت کرنے لگے۔
كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُيُوْنٍ
وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ كَرِيْمٍ
وَّنَعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فٰكِهِيْنَ
كَذٰلِكَ وَاَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاۗءُ وَالْاَرْضُ وَمَا كَانُوْا مُنْظَرِيْنَ
وہ بہت سے باغات اور چشمے چھوڑ گئے۔
اور کھتیاں اور راحت بخش ٹھکانے۔
اور آرام کی چیزیں جن میں عیش کر رہے تھے۔
اسی طرح ہوگیا اور ہم نے ان سب کا وارث دوسری قوم کو بنا دیا
سو ان پر نہ تو آسمان و زمین روئے اور نہ انہیں مہلت ملی۔

08/07/2022

‏آج میں بازار جوتا خریدنے گیا
دُکان میں داخل ہُوا تو مردانہ ورائٹی کی جانب ایک خوبصورت چہرہ، سفید ٹوپی ، سنت سے سجی داڑھی اور سفید لباس میں ملبوس انسان نے خوش آمدِید کہتے ہُوئے مختلف ڈیزائن دکھائے,
میں نے ان کا دینی حلیہ دیکھتے ہوے پوچھا:
آپ کا نام کیا ہے؟
میرا نام ریحان ہے۔
آپ کی تَعلِیم؟
دِینی تَعلِیم دَرسِ نظامی (فضیلت)، اور‏ دُنیوی تَعلِیم بی اے تک۔
کتنا عرصہ ہوا یہاں کام کرتے؟
دو ماہ ہونے کو ہیں۔
آپ کو کوئی اور کام نہیں مِلا؟

ایک مدرسے میں معلّم کے پیشے سے منسلک تھے اور قریب کے مسجد میں امام بھی,
الحمدللہ میں اپنی زندگی میں بہت خوش تھا.
بس اس مہنگائی کے باعث گھریلو حالات سے مجبور ہو کر رزقِ حلال کی تلاش میں ایک امام اور مدرسے کا استاد ہونے کے ناطے اپنی تمام تر حدود و قیود کا خیال رکھتے ہوئے اس طرف رخ کیا۔
آپ کی تَنخواہ کِتنی ہے؟
ماہانہ 17 ہزار مِلتے ہیں، روزانہ کا سَو روپیہ، اور کمِیشن الگ ہے۔
مسجد اور مدرسے سے کل تنخواہ کتنی تھی؟
‏امام نے افسردگی کے عالم میں بتایا 8 ہزار!
میں خاموش ہو گیا، میرے پاس الفاظ ختم ہوگئے.
مجھ سے صرف اتنا ہو سکا کہ جوتوں کا ڈبہ ان کے ہاتھ سے لے لیا.
وہ اصرار کرتے رہے کہ میں پہنا کر چیک کرواتا ہوں، میری ڈیوٹی ہے، لیکن میں نے ایسا نہیں کرنے دِیا.
میرا ضمیر مجھے بار بار کہہ رہا ‏تها کہ اِن ہاتهوں کو بوسہ دو!
کسی وقت یہ ہاتھ مُقَدَّس کتابیں قرآن، تفاسیر،احادیث، مسائل اور دیگر اسلامی کتب اُٹهایا کرتا تھا
لیکن آج وہی ہاتھ جوتے اور چپل اٹھانے پر مجبور ہے۔
انھوں نے بھی مدرسہ میں اتنی ہی کتابیں پڑھیں اتنے ہی سال لگاۓ صرف اسکا نام مدرسہ یا دین سیکھنے کی اتنی بڑی سزا تو نہ دیں
صبح شام خود پڑھنے اور تحقیق کا درس دینے والوں سے پوچھیں کہ وہ علمی درسگاہ کیوں گۓ گھر کیوں نہ سیکھا، مولوی لفظ کا مذاق بند کریں علماء کی عزت کریں انکی قدر کریں انھیں اتنا آسودہ حال تو بنائیں کہ وہ فکرِ معاش کے جھمیلوں کی جگہ آپکی مصروفیات کے باوجود آپکو دینی شعور باہم پہنچائیں۔
کہاجاتا ہے کہ سلطان محمود غزنوی کے ذہن میں ہمیشہ تین سوال کھٹکتے ، رہتے،،،،،
"پہلا سوال یہ کہ میں واقعی سبکتگین کا بیٹا ہوں کے نہیں... کیونکہ ان کے متعلق مشہور تھا کہ یہ بادشاہ کے سگے بیٹے نہیں بلکہ لے پالک ہے

دوسرا یہ یہ کہ علماء واقعی انبیاء کے وارث ہیں؟ یہ تو خود بے اختیار قوم ہے انبیاء کا وارث تو بادشاہِ وقت یا کسی با اختیار آدمی کو ہونا چاہیے تھا
تیسرا یہ کہ میں جنت میں جاؤں گا یا نہیں،،،،
انہی تین سوالات کو ذہن میں لے کر وہ ہمیشہ پریشان رہتے تھے
ایک مرتبہ کسی سفر سے واپس آرہے تھے کے راستے میں ایک طالبعلم کو دیکھا جو کتاب ہاتھ میں لیے ایک کباب فروش کے دئیے کے پاس کھڑا ہے ہوا چلتی ہے تو یہ طالب علم دئیے کے ذرا قریب ہوجاتے ہے زیادہ آگے بھی نہیں بڑھ سکتے کہیں کباب فروش یہ نہ کہدے کہ بھائی لینا نہیں تو پھر کھڑے کیو ہو
سلطان محمود نے جب یہ منظر دیکھا تو خادم کو حکم دیا کہ مشعل اس طالب علم کو دیا جائے،،،،
خود اندھیرے میں گھر تشریف لے آئے،،، اسی رات
خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا اور سلطان محمود کو اپنے تینوں سوالوں کے جواب مل گئے،
معلوم ہے جملہ کیا تھا'
ملاحظہ ہو،،،
"اے سبکتگین کے بیٹے،،،،تیرے جنت میں جانے کے لئے اتنا کافی ہے کہ ،،،،،تو نے اس انبیاء کے وارث کو چراغ دیا...!

لہٰذا کسی اللہ والے سے دوستی لگائیں اسکی گزر بسر جانیں اور اپنی ذمہ داری سمجھیں
ہم سیکھ نہیں سکتے تو سکھانے والے کی ہمت بن کہ صدقہ جاریہ تو کما سکتے ہیں۔ ثواب کے لالچ میں ہی سہی نیکی کی تجارت کرلیں
امام مسجد، عالم دیں، کسی بھی اللہ والے کے گھر کے افراد اور اسکی آمدن پوچھ کے جیسا اپنے گھر کا بجٹ بناتے ہیں ذرا بنا کے دیکھیں۔

*خدارا اپنے علماء کی عزت کریں!*
*اپنےمسجد امام کی عزت کریں!*

30/05/2022

أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ ‎﴿١﴾‏ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ‎﴿٢
تمہیں حرص نے غافل کر دیا (1) یہاں تک کہ قبریں جا دیکھیں (2)
ہر آدمی قرآن کی زبان میں، تکاثر میں مصروف ہے- وه اندها دهند بس سامان حیات کے اضافہ میں لگا هوا ہے- اس کی کوششوں کا مرکز و محور صرف یہ ہے کہ دنیا کی چیزیں اس کے پاس زیاده سے زیاده هو جائیں-

یہ آدمی کی زبردست بهول ہے- دنیا کی چیزوں میں اضافہ صرف آدمی کی اپنی ذمہ داریوں (liabilities) کو بڑهاتا ہے، مگر آدمی اپنی نادانی سے یہ سمجهتا ہے کہ وه اپنے اثاثہ کو بڑها رہا ہے-
(مطالعہ قرآن )

Want your school to be the top-listed School/college in Karanchi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Civic Center, Gulshan-e-Iqbal
Karanchi
75460