29/04/2026
Iqra Rozat ul Atfal School Ghundi Kala Karak
Iqra Rozatul Atfal School
Ghundi Kala Chokara Karak is committed to Excellence.
29/04/2026
23/01/2026
پلے گروپ تا کلاس نہم میں داخلے جاری ہیں۔
والدین / سرپرست صاحبان آپ اپنے بچوں کا مستقبل روشن کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کرکے مندرجہ ذیل باتوں پر عمل کریں۔🙏
1. بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔
2. ان کی شخصیت سازی میں مدد کریں۔
3. انہیں علم و ادب کا حامل بنائیں۔
4. ان کی ذہنی و جسمانی صحت کا خیال رکھیں۔
5. انہیں اخلاقیات اور روایات کا درس دیں۔
6. بچوں کو خود اعتمادی اور حوصلہ دیں۔
7. ان کی پیشرفت پر نظر رکھیں اور انہیں سراہیں۔
8. بچوں کو وقت دیں اور ان کے ساتھ تعلق استوار کریں۔
والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔
اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔
بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟
یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔
اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔
یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔
School Education Information
#تعلیم
“سکول قرآن کے سائے میں
— تعلیم نہیں، تشکیلِ انسان”
سکول اگر صرف عمارت، کتابیں، فیسیں
اور نتائج کا نام ہوتا تو شاید قرآن کی ضرورت نہ پڑتی، مگر چونکہ سکول انسان بناتا ہے،
اس لیے اس کا سایہ قرآن کے بغیر ادھورا ہے۔ قرآن کوئی اضافی مضمون نہیں، کوئی سائیڈ سبجیکٹ نہیں، بلکہ یہ ہمارا ایمان، ہماری سمت، ہمارا ضابطۂ حیات اور ہماری روحانیت ہے۔
جو کتاب عرشِ معلیٰ سے اتری ہو، جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہو، جو انسان کو انسان بنانے کا مکمل دستور دے—
وہ کتاب اگر تعلیمی ادارے کے کنارے پر رکھ دی جائے تو پھر شکایت بچوں سے نہیں، نظام سے ہونی چاہیے۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سکولوں میں قرآن موجود تو ہے، مگر مرکز میں نہیں۔ سب سے کم وقت، سب سے کم تیاری، اور سب سے کم سنجیدگی اگر کسی مضمون کو دی جاتی ہے تو وہ قرآن ہے۔
کئی جگہ قاری صاحب خود معنی و مفہوم سے ناآشنا ہوتے ہیں، بچے تلفظ دہرا دیتے ہیں مگر پیغام دل تک نہیں پہنچتا۔
ہم نے قرآن کو سمجھنے، سوچنے، تدبر کرنے اور عمل میں لانے کے بجائے صرف پڑھنے اور ختم تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ پڑھنا، سمجھنا اور عمل—تینوں لازم ہیں۔
قرآن کے سائے میں سکول کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مضمون کو ختم کر دیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مضمون کو قرآن سے روشنی دی جائے۔ ہم بہت بڑی بات نہیں کر رہے؛ صرف اتنا کہ قرآن کے چھوٹے چھوٹے احکامات ہمارے نظام میں نظر آئیں۔ کلاس روم میں سچ بولنے کی آیت ہو،
صبر کی تلقین ہو، امانت کی تعلیم ہو، عدل کا تصور ہو، وقت کی پابندی ہو، صفائی ہو، نیت کی درستگی ہو۔ دیواریں بولیں، فائلیں بولیں، اساتذہ کا لہجہ بولے، نظام بولے کہ یہ ادارہ قرآن کے سائے میں چل رہا ہے۔
اگر واقعی ہم چاہتے ہیں کہ سکول انسان پیدا کرے، کردار بنائے، صرف ڈگری یافتہ ہجوم نہیں بلکہ باشعور نسل تیار ہو، تو پھر قرآن کو ماڈل پیریڈ بنانا ہوگا۔
وہ پیریڈ جس سے باقی تمام مضامین کو سمت ملے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب پرنسپل، استاد، والدین اور طالب علم—سب اپنی ترجیحات درست کریں۔ جب سب ایک ہی سمت دیکھیں، ایک ہی مرکز مانیں، ایک ہی کتاب کو اصل سمجھیں۔
قرآن کے سائے میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اوقات، ہمارا نظم، ہمارا اخلاق، ہمارا پڑھانا، ہمارا بولنا، حتیٰ کہ ہمارا چلنا پھرنا بھی ایک الہامی کتاب کی روشنی میں ہو۔ کیونکہ جو نظام آخری کتاب کو زندگی میں جگہ دے دیتا ہے، اللہ اس کی دنیا بھی سنوار دیتا ہے اور آخرت بھی۔
یہ کوئی خواب نہیں، یہ ایک قابلِ عمل ماڈل ہے—بس نیت، سمت اور ہمت کی ضرورت ہے۔
18/01/2026
کلاس پلے گروپ تا کلاس نہم میں داخلے جاری ہیں۔
حکومت نے یونیورسٹیز اور کالجز کیلیۓ تعطیلاتِ موسم سرما 23 دسمبر سے 31 دسمبر تک لگادی ہیں اور پراٸمری ، مڈل ہاٸی سکول کیلیۓ تعطیلات موسم سرما یکم جنوری سے 15 جنوری تک لگادی ہیں۔ جب موسم، علاقہ، حالات سب کچھ ایک جیسے ہیں۔ تو چھٹیاں اِدھر اُدھر کیوں لگاٸی ہیں۔ حکومت کو چاہیۓ کہ پراٸمری، مڈل ، ہاٸی سکول کی چھٹیاں بھی 23 دسمبر سے 31 دسمبر تک لگادے۔
پراٸمری سیکشن کیلیۓ ایک فیمیل ٹیچر کی ضرورت ہے۔
تعلیمی قابلیت
BS/ BSc/ MSc
اقرأ روضة الاطفال سکول غنڈیکلہ چوکارہ:: 03339938573
مڈل + میٹرک کلاسز کے میتھس سبجیکٹ کیلیۓ ایک میل ٹیچر کی ضرورت ہے۔ خواہشمند حضرات رابطہ کرسکتے ہیں۔
اقرأ روضة الاطفال سکول غنڈیکلہ چوکارہ
03339938573
03379212917
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karak
27200
Opening Hours
| Monday | 07:00 - 14:00 |
| Tuesday | 07:00 - 14:00 |
| Wednesday | 07:00 - 14:00 |
| Thursday | 07:00 - 14:00 |
| Friday | 07:00 - 14:00 |
| Saturday | 07:00 - 14:00 |