17/07/2026
Al-Nasir Online Quran Academy
Online teaching
I am Hafiz Nasir Mahmood & am teaching Quran to the students all over the world.I have 25 years teaching experience in teaching Quraan to the students by offline..
17/07/2026
21/03/2026
میری طرف سے تمام اہل اسلام کو عید الفطر کی خوشیاں مبارک ہو۔۔۔یا اللہ تمام اہل اسلام کے مسلمانوں کو اور بالخصوص پاکستان کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں۔۔۔۔
*عید کے نماز میں یہاں وہاں دیکھنے سے بہتر ہے 5 منٹ نکال کر یہ سیکھ لے*
*عید کی نماز اور اسکا طریقہ*
*نیت.... دو رکعت نماز عیدالفطر* *واجب 6 تکبیر زائد کے ساتھ*
*اللہ اکبر........ ثناء مکمل پڑھ کر 3 تکبیر*
*اللہ اکبر..... ہاتھ چھوڑ دو*
*اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دو*
*اللہ اکبر...... ہاتھ باندھ لو*
*امام قرأت کرے گا*
*أعوذ با اللہ..... بسمہ اللہ... فاتحہ....* *سورت رکوع سجدہ*
*پہلی رکعت مکمل*
................
*دوسری رکعت*
*بسمہ اللہ.... فاتحہ..... سورت*
*اسکے بعد 3 تکبیر*
*اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دیں*
*اللہ اکبر..... ہاتھ چھوڑ دیں*
*اللہ اکبر....... ہاتھ چھوڑ دیں*
.................
*اللہ اکبر کہہ کر رکوع کریں*
*پھر سجدہ سلام*
*ماشاء اللہ جی نماز عید ادا ہو گئی*
*روزانہ 5 منٹ مشق کریں....* *دوسروں کو سکھائیں*
*نماز عید کا خطبہ پڑھنا سنت ہے اور سننا واجب ہے*،،،.
08/03/2026
صورتحال دلچسپ ہوتی جا رہی ہے۔
کھیل سارا تیل اور گیس کے وسائل پر قبضے کا تھا۔
ساتھ میں ڈبل گیم یہ کھیلی گئ کہ ایران خلیجی ممالک کا بھرکس نکالےگا
اور ہم نے اسکا ایک بھی پٹاخہ نہیں روکنا۔
عرب جتنا تباہ حال ہوگا
اسکے بعد کی تعمیر اور وسائل کی خریداری اسکو یورپ ہی سے کرنی ہے لہذا جتنی زیادہ تباہی اتنی بڑی خریداری
ساتھ ساتھ ایران میں رجیم چینج کرکہ وینزویلا طرز کی حکومت تشکیل دینگے
اور وارے نیارے ہو جائینگے۔
ان حالات میں پاکستان پر فخر ہوتا ہے جس نے گیم کی بازی ہی پلٹ ڈالی۔
سب سے پہلے سعودیہ پر حملے بند کروائے اسکے بعد ایران کو گارنٹی فراہم کرکہ گلف کے تمام ممالک کو محفوظ رستہ فراہم کردیا۔
گو کہ عرب اس آپرچونیٹی کا حقدار ہرگز نہیں تھا۔ جس لحاظ سے انہوں نے بھارت کو ابو بنا کر وہاں اہل پاکستان کو رسوا کن طرز عمل سے نوازا۔
لیکن بھائ چاہے کتنا ہی کمینہ ہو
ہوتا تو بھائ ہی ہے"" پر عمل کرتے ہوئے پاکستان نے نہ صرف حملوں کی بندش کروائ بلکہ ساتھ معذرت بھی ایران کی کروادی۔
اب کے حالات یہ ہونگے کہ ایرانی میزائل صرف اور صرف تل ابیب و امریکی بحری بیڑوں کا پیچھا کرے گی۔
سیٹلائٹ چین کا ہوگا
حساس تنصیبات کی نشان دہی روس کرے گا۔
تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹیں پاکستان جیسے ممالک کا بھرکس نکالیں گی۔
امریکی ٹرمپ کے ہر بیان پر ہم اسے وائٹ ہاؤس میں پاکستانی ترجمان قرار دیتے رہے
لیکن میدان کی بات آئ تو امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل خریداری کی اجازت دیکر پاکستان کے مقابلے میں مضبوط کرنے کی آخری کڑی خود جوڑ ڈالی۔
مخلص اپنے ساتھ ایران بھی نہیں
ورنہ اندازہ لگائیں آپریشن سندور بھارت کا اب تک برقرار ہے۔
ہمیں دکھایا گیا کہ ایران نے چاہ بہار سے بھارت کا بوریا بستر گول کردیا
لیکن ابھی پرسوں کی خبر سے ہنڈیا بیچ سمندر پھوٹ گئ کہ ایرانی بحریہ بھارت کے ساتھ 2 دن قبل تک مشترکہ جنگی مشقوں میں مصروف تھی۔
وہ تو بھلا ہو ہندو بنئیے کا جس نے اپنی ازلی فطرت سے مجبور ہوکر 130 ایرانیوں کا انتم سمندار کردیا۔
ورنہ اپنا خیال یہی تھا کہ ایرانی و ہندو راہ رسم انتہا پر پہنچ کر دم توڑ چکیں اب بس وہ ہمارا ہی ہے۔۔
بہرحال اللہ کا کرم ہے پاکستان بہت اچھا کھیل رہا ہے۔
منقول
08/03/2026
قابلِ توجہ!
تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں نئے تعلیمی سیشن کا آغاز ہو رہا ہے، لہٰذا بچوں کے نام/ولدیت پورا لکھنے کے ساتھ ساتھ تاریخ پیدائش میں بھی بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
کیونکہ کیڈٹ کالجز و مختلف سکالرشپ وغیرہ کے انٹری ٹیسٹ کے لئے عمر کی حد ضروری ہوتی ہے، ابتدائی داخلے میں غلط اندراج مستقبل کے لئے مسئلہ بن سکتا ہے۔
کون سی جماعت میں بچے کی عمر کیا ہونی چائیے۔
بنوں تعلیمی بورڈ نے اساتذہ و والدین کی آسانی کے لئے ہر کلاس کے لئے عمر کی حد لکھی ہے۔
دوسری بات یہ کہ نام کا املا و سپلینگ لکھتے وقت بھی بہت احتیاط کریں۔ کافی بچے جب کسی ٹیسٹ میں اپیئر ہوتے ہیں یا بورڈ ایگزیم ہو، ان کے نام کا املا ٹھیک نہیں ہوتا یا سپلینگ میں غلطی ہوتی ہے۔
یا
کسی زائد لفظ کی وجہ سے مسئلہ بنتا ہے جیسے "وجیہہ منور" کی جگہ "وجیہہ نور" لکھ دیا جاتا ہے یا والد کے نام کے ساتھ "خان" جان" کا اضافہ اپنے سے کیا جاتا ہے۔
یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں مستقبل میں طالب علم کے لئے عذاب بن جاتی ہے۔
لہذا
اساتذہ کرام بلخصوص پرائمری ٹیچرز کی خدمت میں عرض ہے کہ خدارا اس کا خاص خیال رکھیں کیونکہ آج کل نام، ولدیت یا تاریخ پیدائش میں تھوڑی سی غلطی کی تصحیح کرنے کے لئے کافی دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں، اور خرچہ اس کے علاوہ۔
اس لئے بچے کو داخلہ دیتے وقت مکمل تسلی کر لیا کریں کہ یہ سب ٹھیک ہے۔
آسانی کے لئے ان کے والد کی CNIC چیک کرکے طالب علم کی ولدیت لکھی جائے اور اگر بچے کا فارم ب بنا ہو تو اس کے مطابق بچے کا نام لکھا جائے۔
نوٹ:
اب نئے رولز کے مطابق تمام بورڈز نے متفقہ طور پر نہم کے لئے بچے کی عمر کی حد بارہ سال سے زائد کی رکھی ہے یعنی بارہ سال سے زائد طلباء و طالبات کو نہم میں داخلہ دیا جائے گا۔
ہمارا اکثر طبقہ اس حوالے سے شروع میں غافل رہتا ہے،عین موقع پر پھر سکول، دفاتر ،نادرا اور بورڈز کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ لہذا تمام تعلیم یافتہ والدین ایک دفعہ خود یا کسی سے چیک کروالیا کریں کہ آیا اندارج ٹھیک ہوا ہے یا نہیں ؟
چاہے پرائمری سکول میں ہو یا پھر مڈل / ہائی...
کبھی کبھار پرائمری سے ٹھیک چل رہا ہوتا ہے، مڈل یا ہائی میں نام، ولدیت/ تاریخ میں غلطی ہو جاتی ہے۔
*✍️نئے سال پر کرنے کے کام✔️*
نیا سال ایک مسلمان کے لیے جشن کا نہیں بلکہ غور و فکر، محاسبۂ نفس اور اصلاح کا موقع ہے۔ اس موقع پر درج ذیل کام کرنے چاہئیں:
1۔ محاسبۂ نفس:
گزرا ہوا سال سامنے رکھ کر اپنے اعمال کا جائزہ لیا جائے کہ کہاں پہ کمی کوتاہی ہوئی اور کہاں بہتری کی ضرورت ہے۔✔️
2۔ سچی ، سچی ، پکی توبہ:
اللہ تعالیٰ کے حضور دل سے توبہ کی جائے، گناہوں پر ندامت ہو اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کیا جائے۔✔️
3۔ فرائض کی پابندی:
خاص طور پر نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی میں کمی کوتاہی کو دور کرنے کا عزم کیا جائے۔✔️
4۔ قرآنِ مجید سے تعلق مضبوط کرنا:
روزانہ قرآنِ کریم کی تلاوت، ترجمہ اور سمجھنے کا معمول بنایا جائے۔✔️
5۔ دعاء اور استغفار:
اپنے لیے ، والدین ، اساتذہ کرام اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے کثرت سے دعاء کی جائے۔✔️
6۔ اخلاق کی اصلاح:
روحانی بیماریوں یعنی غصہ ، حسد ، جھوٹ اور غیبت جیسے گناہوں کو چھوڑنے کا ارادہ کیا جائے اور حسنِ اخلاق اپنانے کی کوشش کی جائے۔
7۔ وقت کی قدر:
نئے سال میں وقت کو ضائع کرنے کے بجائے مفید اور نیک کاموں میں لگانے کا منصوبہ بنایا جائے۔✔️
8۔ نیک صحبت اختیار کرنا:
اچھے اور دیندار لوگوں کی صحبت اپنائی جائے اور برے ماحول سے بچا جائے۔✔️
9۔ علمِ دین سیکھنا:
دینی کتابوں کا مطالعہ ، دروس میں شرکت اور سوال کر کے دین سمجھنے کی کوشش کی جائے۔✔️
10۔ نیکی کی دعوت پہلے اپنی ذات کو پھر
اپنے گھر اور معاشرے میں نیکی پھیلانے اور برائی سے روکنے کی کوشش کی جائے۔✔️
👈نیا سال ہمارے لیے نیا عہد و پیمان ہونا چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق گزاریں گے۔
🤲🏻دعاؤں میں یاد رکھئیے گا!
والسلام *مولانا مفتی میجر محمد عادل مکی عفی عنہ (ریٹائرڈ)*
“صالح اور مصلح میں فرق”
میرے عزیزو!
یہ دنیا صالحین سے کبھی خالی نہیں رہی، لیکن قومیں اس وقت تباہ ہوتی ہیں جب ان کے اندر صالحین تو رہ جاتے ہیں مگر مصلحین ختم ہو جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ
(سورۃ ھود: 117)
ترجمہ: “اور آپ کا رب کسی بستی کو ظلم کے ساتھ ہلاک نہیں کرتا، جب تک کہ اس کے لوگ مصلح ہوں۔”
اللہ نے یہاں صالحین نہیں فرمایا بلکہ مصلحین فرمایا۔
یعنی وہ لوگ جو صرف اپنی ذات کی نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کی فکر رکھتے ہیں۔
صالح اور مصلح کا فرق سمجھئے!
صالح وہ ہے جو اپنی ذات کو سنوارتا ہے، گناہ سے بچتا، عبادت میں مشغول رہتا ہے۔
لیکن مصلح وہ ہے جو قوم کے بگڑے ہوئے راستوں کو سیدھا کرتا ہے،
باطل کے سامنے سینہ سپر ہوتا ہے،
حق کی آواز بلند کرتا ہے چاہے دنیا مخالفت کرے۔
مکہ مکرمہ کی مثال لیجیے:
رسول اللہ ﷺ جب بعثت سے پہلے تھے تو مکہ والے آپ سے محبت کرتے تھے،
آپ کو الصادق اور الامین کہتے تھے۔
کیونکہ آپ ﷺ صالح تھے — نیک، دیانتدار، پاکیزہ۔
مگر جب آپ ﷺ کو اللہ نے مصلح بنا کر بھیجا،
جب آپ ﷺ نے شرک کے نظام کو للکارا،
ظلم و جاہلیت کے ستون گرانے شروع کیے،
تو وہی لوگ جو کل محبت کرتے تھے،
آج کہنے لگے: “یہ جادوگر ہے، یہ جھوٹا ہے، یہ دیوانہ ہے!”
کیوں؟
کیونکہ مصلح ان کی خواہشات اور مفادات کی چٹان سے ٹکرا گیا۔
اہلِ علم نے فرمایا:
> “اللہ کے نزدیک ایک مصلح، ہزار صالحین سے زیادہ محبوب ہے۔”
کیونکہ صالح صرف اپنی نجات کی فکر کرتا ہے،
جبکہ مصلح پوری امت کے بچاؤ کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
صالح اپنی ذات کی قندیل ہے،
مصلح امت کا چراغ ہے۔
صالح اپنی نجات کے لیے روتا ہے،
مصلح دوسروں کی نجات کے لیے تڑپتا ہے۔
لیکن افسوس!
آج امت کا بڑا حصہ صالح بننے پر تو راضی ہے، مگر مصلح بننے سے گھبراتا ہے۔
آج لوگ اصلاحِ امت کے بجائے وظائف، پیری مریدی، خوابوں، کرامات اور فضائل کی باتوں میں کھو گئے ہیں۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ دین صرف تسبیحات اور ذکر کی محفلوں کا نام ہے،
حالانکہ اصل دین ظلم کے خاتمے،
حق کی سربلندی،
اور معاشرے کی اصلاح کا نام ہے۔
آج ہمارے ہاں ایسے صالحین موجود ہیں جو راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے ہیں،
لیکن دن کے وقت ظلم، جھوٹ، سود، فریب اور باطل نظام کو دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔
یہی وہ خاموشی ہے جو امتوں کو ہلاک کر دیتی ہے۔
یاد رکھو!
وظائف سے دل صاف ہوتا ہے،
لیکن اصلاحِ معاشرہ سے زمین صاف ہوتی ہے۔
پیری مریدی سے تعلق بنتا ہے،
لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے نظام بدلتا ہے۔
صالح ہونا ضروری ہے —
لیکن اگر ہر صالح اپنی نجات کی فکر میں خاموش ہو جائے
تو باطل کے ہاتھوں امت تباہ ہو جاتی ہے۔
صالح اپنے زمانے میں عزت پاتا ہے،
مصلح تاریخ میں امر ہوتا ہے۔
صالح کو لوگ سلام کرتے ہیں،
مصلح کو فرشتے سلام کرتے ہیں۔
اور اللہ کی نگاہ میں سب سے محبوب بندہ وہ ہے
جو صرف اپنے لیے نہیں، امت کے لیے جیتا ہے۔
اے اہلِ ایمان!
اٹھو! صرف صالح نہ بنو — مصلح بنو!
ذکر کے ساتھ فکر بھی کرو،
وظائف کے ساتھ جہد بھی کرو،
اور نیکی کو اپنی ذات سے نکال کر سماج میں پھیلاؤ۔
کیونکہ اللہ کی زمین کو صالحین نہیں، مصلحین بچاتے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Teri Road
Karak
27200
Opening Hours
| Monday | 14:00 - 23:00 |
| Tuesday | 14:00 - 23:00 |
| Wednesday | 14:00 - 23:00 |
| Thursday | 14:00 - 23:00 |
| Friday | 02:00 - 23:00 |