15/07/2025
سیرت النبی
*قسط نمبر 02*
عبدالمطلب کو یہ حکم اسوقت دیا گیا جب وہ اپنی منّت بھول چکے تھے - پہلے خواب میں ان سے کہا گیا " منّت پوری کرو " انھوں نے ایک مینڈھا ذبح کرکے غریبوں کو کھلادیا " پھر خواب آیا " اس سے بڑی پیش کرو " اس مرتبہ انھوں نے ایک بیل ذبح کردیا - خواب میں پھر یہی کہا گیا اس سے بھی بڑی پیش کرو - اب انھوں نے اونٹ ذبح کیا - پھر خواب آیا اس سے بھی بڑی چیز پیش کرو - انھوں نے پوچھا " اس سے بھی بڑی چیز کیا ہے " تب کہا گیا :
" اپنے بیٹوں میں سے کسی کو ذبح کرو جیسا کہ تم نے منّت مانی تھی "
اب انھیں اپنی منّت یاد آئی - اپنے بیٹوں کو جمع کیا - ان سے منّت کا ذکر کیا - سب کے سر جھُک گئے " کون خود کو ذبح کرواتا " آخر عبداللہ بولے
" ابّاجان آپ مجھے ذبح کردیں "
یہ سب سے چھوٹے تھے - سب سے خوبصورت تھے - سب سے ذیادہ محبّت بھی عبدالمطلِّب کو انہیں سے تھی لہٰذا انھوں نے قرعہ اندازی کرنے کا ارادہ کیا - تمام بیٹوں کے نام لکھکر قرعہ ڈالا گیا - عبداللہ کا نام نکلا اب انھوں نے چُھری لی " عبداللہ کو بازو سے پکڑا اور انھیں ذبح کرنے کے لیے نیچے لٹادیا۔
جونہی باپ نے بیٹے کو لٹایا " عبّاس سے ضبط نہ ہوسکا, فوراً آگے بڑھے اور بھائی کو کھینچ لیا " اس وقت یہ خود بھی چھوٹے سے تھے " ادھر باپ نے عبداللہ کو کھینچا " اس کھینچا تانی میں عبداللہ کے چہرے پر خراشیں بھی آئیں " ان خراشوں کے نشانات مرتے دم تک باقی رہے -
اسی دوران بنو مخزوم کے لوگ آگئے انھوں نے کہا :
آپ اس طرح بیٹے کو ذبح نہ کریں , اس کی ماں کی زندگی خراب ہوجائے گی, "اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے بیٹے کا فدیہ دے دیں "
اب سوال یہ تھا کہ فدیہ کیا دیا جائے, اس کی ترکیب یہ بتائی گئی کہ کاغذ کے ایک کاغذ پر دس اونٹ لکھے جائیں , دوسرے پر عبداللہ کا نام لکھا جائے, اگر دس اونٹ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ قربان کردئے جائیں , اگر عبداللہ والی پرچی نکلے تو دس اونٹ کا اضافہ کردیا جائے - پھر بیِس اونٹ والی پرچی اور عبداللہ والی پرچی ڈالی جائے - اب اگر بیِس اونٹ والی پرچی نکلے تو بیِس اونٹ قربان کردئے جائیں , ورنہ دس اونٹ اور بڑھادئیے جائیں , اس طرح دس دس کرکے اونٹ بڑھاتے جائیں -
عبدالمطلب نے ایسا ہی کیا ہے " دس دس اونٹ بڑھاتے چلے گئے " ہر بار عبداللہ کا نام نکلتا چلا گیا , یہاں تک اونٹوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی - تب کہیں جاکر اونٹوں والی پرچی نکلی - اس طرح ان کی جان کے بدلے سو اونٹ قربان کئیے گئے - عبدالمطلب کو اب پورا اطمینان ہوگیا کہ اللہ تعالٰی نے عبداللہ کے بدلہ سو اونٹوں کی قربانی منظور کرلی ہے - انھوں نے کعبے کے پاس سو اونٹ قربان کئیے اور کسی کو کھانے سے نہ روکا " سب انسانوں , جانوروں اور پرندوں نے ان کو کھایا -
امام زہری کہتے ہیں کہ عبدالمطلِّب پہلے آدمی ہے جنہوں نے آدمی کی جان کی قیمت سو اونٹ دینے کا طریقہ شروع کیا - اس سے پہلے دس اونٹ دیے جاتے تھے - اس کے بعد یہ طریقہ سارے عرب میں جاری ہوگیا - گویا قانون بن گیا کہ آدمی کا فدیہ سو اونٹ ہے - نبی کریم ﷺ کے سامنے جب یہ ذکر آیا تو آپ نے اس فدیہ کی تصدیق فرمائی، یعنی فرمایا کہ یہ درست ہے
اور اسی بنیاد پر نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں :
میں دو ذبیحوں یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت عبداللہ کی اولاد ہوں
حضرت عبداللہ قریش میں سب سے زیادہ حسین تھے ان کا چہرہ روشن ستارہ کی ماند تھا قریش کی بہت سی لڑکیاں ان سے شادی کرنا چاہتی تھیں مگر حضرت عبداللہ کی حضرت آمنہ سے شادی ہوئ۔
حضرت آمنہ وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی بیٹی تھیں شادی کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
یہ شادی کے لیئے اپنے والد کے ساتھ جارہے تھے راستہ میں ایک عورت کعبہ کے پاس بیٹھی نظر آئ، یہ عورت ورقہ بن نوفل کی بہن تھی۔ورقہ بن نوفل قریش کے ایک بڑے عالم تھے۔ورقہ بن نوفل سے ان کی بہن نے سن رکھا تھا کہ وقت کے آخری نبی کا ظہور ہونے والا ہےاور انکی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہوگی کہ ان کے والد کے چہرے میں نبوت کا نور چمکتا ہوگا۔جونہی اس نے عبداللہ کو دیکھا فوراﹰ اس کے ذہن میں یہ بات آئ، اس نے سوچا ہونہ ہو یہ وہ وہ شخص ہے جو پیدا ہونے والے نبی کے باپ ہوں گے ۔چنانچہ اس نے کہا:
"اگر تم مجھ سے شادی کرلو تو میں بدلہ میں تمہیں اتنے ہی اونٹ دوں گی جتنے تمہاری جان کے بدلے میں ذبح کئے گئے تھے۔"
اس پر انہوں نے جواب دیا:
"میں اپنے باپ کے ساتھ ہوں ۔ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرسکتا۔نہ ان سے الگ ہوسکتا ہوں اور میرے والد باعزت آدمی ہیں ، اپنی قوم کے سردار ہیں ۔"
بہر حال انک شادی حضرت آمنہ سے ہوگئ۔اپ قریش کی عورتوں میں نسب اور مقام کے اعتبار سے افضل تھیں -
حضرت آمنہ، حضرت عبداللٰہ کے گھر آگئیں - آپ فرماتی ہیں :
"جب میں ماں بننے والی ہوئی تو میرے پاس ایک شخص آیا، یعنی ایک فرشتہ انسانی شکل میں آیا - اس وقت میں جاگنے اور سونے کے درمیانی حالت میں تھی(عام طور پر اس حالت کو غنودگی کہاجاتاہے) - اس نے مجھ سے کہا:
"کہا تمہیں معلوم ہے، تم اس امت کی سردار اور نبی کی ماں بننے والی ہو۔"
اس کے بعد وہ پھر اس وقت آیا جب نبی صلی اللٰہ علیہ وسلم پیدا ہونے والے تھے - اس مرتبہ اس نے کہا:
"جب تمہارے ہاں پیدائش ہو تو کہنا:
"میں اس بچے کے لیے اللٰہ کی پناہ چاہتی ہوں ، ہر حسد کرنے والے کے شر اور برائی سے - پھر تم اس بچے کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ ان کا نام تورات میں احمد ہے اور زمین اور آسمان والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، جب کہ قرآن میں ان کا نام محمد ہے، اور قرآن ان کی کتاب ہے - "(البدایہ والنہایہ)
ایک روایت کے مطابق فرشتے نے ان سے یہ کہا:
"تم وقت کے سردار کی ماں بننے والی ہو، اس بچے کی نشانی یہ ہوگی کہ اس کے ساتھ ایک نور ظاہر ہوگا، جس سے ملک شام اور بصرٰی کے محلات بھر جائیں گے - جب وہ بچہ پیدا ہوجائے گا تو اس کا نام محمد رکھنا، کیوں کہ تورات میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں ، اور انجیل میں ان کا نام احمد ہے کہ آسمان اور زمین والے ان کی تعریف کرتے ہیں اور قرآن میں ان کا نام محمد ہے -"(البدایہ والنہایہ)
حضرت عبداللٰہ کے چہرے میں جو نورچمکتا تھا، شادی کے بعد وہ حضرت آمنہ کے چہرے میں آگیا تھا -
امام زہری فرماتے ہیں ، حاکم نے یہ روایت بیان کی ہےاوراس کوصحیح قراردیا ہے کہ صحابہ رضی اللّٰہ عنہم نے حضور نبی کریم صلی اللٰہ علیہ وسلم سے عرض کیا:
"اے اللٰہ کے رسول! ہمیں اپنے بارے میں کچھ بتایئے-"
آپ صلی اللٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں ، اپنے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور خوشخبری ہوں ، جب میں اپنی والدہ کے شکم میں آیا تو انہوں نے دیکھا، گویا ان سے ایک نور ظاہر ہوا ہے جس سے ملک شام میں بصرٰی کے محلات روشن ہوگئے - "
حضرت آمنہ نے حضرت حلیمہ سعدیہ سے فرمایا تھا:
"میرے اس بچے کی شان نرالی ہے، یہ میرے پیٹ میں تھے تو مجھے کوئی بوجھ اور تھکن محسوس نہیں ہوئی۔"
حضرت عیسیٰ علیہ السلام وہ آخری پیغمبر ہیں جنہوں نے آپ صلی اللّٰہ علیہ
وسلم کی آمد کی خوشخبری سنائی ہے - اس بشارت کا ذکر قرآن میں بھی ہے، سورہ صف میں اللّٰہ تعالٰی فرماتے ہیں :
"اور اسی طرح وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے فرمایا کہ: اے بنی اسرائیل! میں تمہارے پاس اللّٰہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو تورات آچکی ہے، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والا ہیں ، ان کا نامِ مبارک احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں ۔"
اب چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہ بشارت سناچکے تھے، اس لیے ہر دور کے لوگ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آمد کا بےچینی سے انتظار کررہے تھے، ادھرآپ کی پیدائش سے پہلے ہی حضرت عبداللّٰہ انتقال کرگئے - سابقہ کتب میں آپ کی نبوت کی ایک علامت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ آپ کے والد کا انتقال آپ کی ولادت سے پہلے ہوجائے گا - حضرت عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لیے گئے تھے، اس دوران بیمار ہوگئے اور کمزور ہوکر واپس لوٹے - قافلہ مدینہ منورہ سے گزرا تو حضرت عبداللہ اپنی ننھیال یعنی بنو نجار کے ہاں ٹھہرے - ان کی والدہ بنو نجار سے تھیں ، ایک ماہ تک بیمار رہے اور انتقال کرگئے - انہیں یہیں دفن کردیا گیا -
تجارتی قافلہ جب حضرت عبداللہ کے بغیر مکہ مکرمہ پہنچا اور عبدالمطلب کو پتا چلا کہ ان کے بیٹے عبداللہ بیمار ہوگئے ہیں اور مدینہ منورہ میں اپنی ننھیال میں ہیں تو انہیں لانے کے لیے عبدالمطلب نے اپنے بیٹے زبیر کو بھیجا - جب یہ وہاں پہنچے تو عبداللہ کا انتقال ہوچکا تھا - مطلب یہ کہ آپ ﷺ اس دنیا میں اپنے والد کی وفات کے چند ماہ بعد تشریف لائے -
☆☆☆
جاری ہے ۔۔۔۔۔!
*مصنف : عبداللہ فارانی*
*کتاب : سیرت النبی ﷺ قدم بہ قدم*
*ترتیب: سید ابراہیم شاہ ( سبق آموز کہانیاں گروپ ایڈمن)*
*سیرت النبیﷺ اور اسلامی پوسٹ کے لئے نیچے دے گے لنک پر کلک کر کے گروپ کو جوائن کریں * ❤️
#واقعات
#اسلام
#اسلامی #تاریخ
#محمدﷺ
*🕋✨ ندائے مغفرت ✨🕋*
WhatsApp Group Invite
10/07/2025
*حضرت خباب بن ارتؓ پر ظلم اور نبی کریم ﷺ کی تسلی*
*پس منظر:*
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ اسلام کے ابتدائی دور میں ایمان لانے والے ایک غریب اور کمزور صحابی تھے۔ وہ ایک لوہار تھے اور مکہ میں ان کا کوئی قبیلہ یا محافظ نہ تھا۔ ان کی مالکن ام انمار انہیں اسلام چھوڑنے کے لیے انتہائی اذیت ناک سزائیں دیتی تھی۔
تفصیلی واقعہ:
ام انمار روزانہ دہکتے ہوئے کوئلے لاتی اور حضرت خبابؓ کو ان انگاروں پر ننگی پیٹھ لٹا دیتی۔ پھر ایک بھاری پتھر ان کے سینے پر رکھ دیتی تاکہ وہ ہل نہ سکیں۔ کوئلوں کی آگ سے ان کی کمر کی چربی اور گوشت پگھلتا اور اسی سے کوئلے بجھتے۔ یہ اذیت روزانہ برداشت کرتے کرتے ان کی کمر میں گہرے گڑھے پڑ گئے تھے۔
ایک دن، جب ظلم و ستم ناقابلِ برداشت ہو گیا، حضرت خبابؓ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر مبارک کا تکیہ بنائے لیٹے تھے۔ حضرت خبابؓ نے روتے ہوئے عرض کیا، "یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں فرماتے؟
ایک دن، جب ظلم و ستم ناقابلِ برداشت ہو گیا، حضرت خبابؓ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر مبارک کا تکیہ بنائے لیٹے تھے۔ حضرت خبابؓ نے روتے ہوئے عرض کیا، "یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں فرماتے؟"
یہ سن کر نبی کریم ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا:
"خباب! تم سے پہلی امتوں میں تو ایسے لوگ بھی گزرے ہیں کہ ان کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا، پھر انہیں اس میں کھڑا کر دیا جاتا۔ پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر ان کے جسم کو دو ٹکڑوں میں چیر دیا جاتا، لیکن یہ آزمائش بھی انہیں ان کے دین سے نہ پھیر سکی۔ لوہے کی کنگھیوں سے ان کا گوشت اور ہڈیاں نوچ لی جاتیں، لیکن وہ پھر بھی اپنا دین نہ چھوڑتے۔
خدا کی قسم! اللہ اس دین کو ضرور مکمل کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء (یمن) سے حضرموت (عرب کا دوسرا کونا) تک تنہا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا، یا صرف اپنی بکریوں کے لیے بھیڑیے کا ڈر ہو گا۔ لیکن تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو۔"
یہ الفاظ صرف تسلی نہ تھے، بلکہ ایک کمزور، بے بس اور اذیت کے مارے ہوئے صحابی کے ایمان کو پہاڑ جیسی مضبوطی عطا کرنے کا ذریعہ تھے۔ یہ اس بات کا یقین تھا کہ آج کی تکلیف کل کی عظیم فتح کا پیش خیمہ ہے۔
*حوالہ: (صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب: علامات النبوۃ فی الإسلام، حدیث: 3612)*
18/06/2025
*🌹🕋بسْــــــــــــــمِ اللّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🕋🌹*
یہ جو رقص ہے میرا فرش پر
یہی لے اڑا مجھے عرش پر
میری ذات میں جو دھمال ہے
تیرے عشق کا کمال ہے
*اَللّٰهُمَّ رَبَّ الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَ رَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرَامِ إِقْرِأْ مُحَمَّداً مِّنِّي السَّلَامَ*
#مــــــــــــکتبِ #عشـــــــــــق
For More Please Click Link Below And Join The Group
*🌙 ندائے مغفرت 🕊️💔✨*
WhatsApp Group Invite
03/12/2024
Share more and more
*قرآن کا ایک حیرت انگیز معجزہ دیکھیے!!!*
"اور اس بات پر حیران یا تعجب نہ کیجیے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔"
- *قرآن کے الفاظ اور ان کے ذکر کی تعداد قرآن میں:*
دنیا: *115* آخرت: *115*
ملائکہ: *88* شیاطین: *88*
محمد: *4* شریعت: *4*
لوگ: *50* انبیاء: *50*
صلاح: *50* فساد: *50*
ابلیس: *11* اس سے پناہ: *11*
مرد: *24* عورت: *24*
زندگی: *145* موت: *145*
نیکیاں: *167* گناہ: *167*
اظہار: *16* اعلان: *16*
مصیبت: *75* شکر: *75*
ہدایت: *79* رحمت: *79*
*یہ تناسب بتاتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور انسان اس کی مثل نہیں لاسکتے۔*
کچھ الفاظ کی تعداد میں حکمت ہے، مثلاً:
- جزا: *117* مغفرت: *234*
(یعنی دگنی، کیوں؟ کیونکہ اللہ کی رحمت اور مغفرت ہر چیز پر غالب ہے)
- تنگی: *12* آسانی: *36*
(یعنی تین گنا، کیوں؟ کیونکہ اللہ فرماتا ہے کہ تنگی کے بعد آسانی ہے)
*مزید قابلِ غور باتیں:*
- لفظ *نماز* 5 بار ذکر ہوا ہے، اور نمازیں بھی 5 وقت کی ہیں۔
- لفظ *دن* 365 بار ذکر ہوا ہے، اور سال میں 365 دن ہوتے ہیں۔
*قرآنی معجزات:*
- لفظ *زمین* 13 بار ذکر ہوا ہے، اور *سمندر* 32 بار۔
اگر ہم اس کا تناسب نکالیں تو سمندر 71 فیصد اور زمین 29 فیصد بنتی ہے، جو کہ زمین پر سمندر اور خشکی کے تناسب کے مطابق ہے۔
*سبحانک ربی ما اعظمک*
*اگر آپ نے یہ پڑھ لیا ہو تو دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں*
*سبحان اللہ*
**وہ نمبر جس نے سائنس دانوں کو حیران کیا: 7!**
کیا آپ جانتے ہیں کہ نمبر *7* کا ایک معنی ہے، اور اس کا مکمل فہم قیامت تک نہیں ہوسکتا؟
یہ اللہ کی حکمت ہے!
آئیے اس نمبر سے جڑی چند معلومات دیکھیں:
- آسمان کی 7 پرتیں
- زمین کی 7 پرتیں
- ہفتے کے 7 دن
- جہنم کے 7 دروازے
- دنیا کی 7 عجائبات
- کعبہ کا طواف 7 چکر
- صفا اور مروہ کے درمیان 7 چکر
- 7 سال کی عمر میں نماز کا حکم
- قوسِ قزح کے 7 رنگ
- سورۃ الفاتحہ کی 7 آیات
- سمندر 7
- حج میں 7 کنکریاں
- زمین کی 7 بنیادی معدنیات
- 7 اقسام کے ستارے
- الیکٹران کے مدار کے 7 درجات
- روشنی کے 7 رنگ
- غیر مرئی شعاعوں کی 7 اقسام
- پرندے "V" کی شکل میں 7 کی طرح اُڑتے ہیں
- عیدین کی نماز میں 7 تکبیریں
- دنیا کی 7 براعظمیں
- قیامت کے دن 7 لوگ اللہ کے سائے میں ہوں گے
*آخری بات:*
شہادتِ توحید کے 7 الفاظ ہیں:
*لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ*
*اگر آپ نے یہ معلومات پڑھ لی ہیں، تو دوسروں کو بھی نفع پہنچائیں۔*
*سبحان اللہ*
*(وضو کے فوائد)*
جو شخص سونے سے پہلے وضو کرتا ہے، اللہ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے کپڑوں اور جلد کے درمیان رہتا ہے اور اس کے لیے صبح تک استغفار کرتا ہے، اور اگر وہ شخص مر جائے تو وہ فطرت پر مرتا ہے۔
*ابلیس نے کہا: میں نے آدم کی اولاد کو گناہوں سے تباہ کیا اور انہوں نے مجھے استغفار اور "لا الہ الا اللہ" سے تباہ کردیا۔*
*نو چیزیں جو آپ کی روزمرہ زندگی میں فائدہ مند ہیں:*
- خوشی چاہتے ہیں؟ نماز وقت پر پڑھیں۔
- چہرے کا نور چاہتے ہیں؟ رات کو قیام کریں۔
- سکون چاہتے ہیں؟ قرآن کی تلاوت کریں۔
- صحت چاہتے ہیں؟ روزے رکھیں۔
- آسانی چاہتے ہیں؟ استغفار کریں۔
- مشکلات سے نجات چاہتے ہیں؟ دعا کریں۔
- تنگی سے چھٹکارا چاہتے ہیں؟ لاحول ولا قوة الا باللہ کہیں۔
- برکت چاہتے ہیں؟ نبی ﷺ پر درود بھیجیں
02/09/2024
السلام علیکم احباب گرامی
آج سیدنا امام حسن علیہ السلام کے لیئے نیاز اور ایصال ثواب کا تحفہ پیش کرنا ہے آپ بھی درود پاک قرآن پاک اذکار جمع کروا دیجئے
25/08/2024
*🌹🕋بسْــــــــــــــمِ اللّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🕋🌹*
📚🖊️ #تاریخ #الخلفاء* 📚🖊️
*قسط نمبر 1*
*خلافت حضرت ابو بكر صدق رضی اللہ تعالی عنہ*
الله حضرت صدیق کمانی بالا را برایتان صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے ، آ ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن كعب بن سعد بن تیم بن مرة بن كعب اور آپ کا نسب گرامی امن کوئی بن نال القرش التیمی تھا آپکا نسب عمرو بن کعب پر رسول خدا صلی اللہ علی وسلم سے مل جاتا ہے۔
امام نووی نے اپنی کتاب تہذیب میں لکھا ہے کہ حضرت صدیق اکبر کا اسم گرامی عبد اللہ ہی صحیح ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپکا نام علیق تھا لیکن تمام علما کا اس پر اتفاق ہے کہ علیق آپ کا لقب ہے اسیم گرامی نہیں ہے۔ عقیق کے معنی ہیں آگ سے آزاد کیا ہوا۔ حدیث شریف میں آیا ہے جسے ترندی نے بیان کیا ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ آتش دوزخ سے آزاد ھمیں بعض کہتے ہیں کہ حسن و جمال کی وجہ سے عقیق کیے جاتے تھے رقیق کے معنی صاحب جمال کے بھی ہیں، بعض مورخین کا خیال ہے کہ چونکہ آپ کے نسب میں کوئی عیب نہیں تھا اس لئے آپ کو تعلیق کہا گیا مصعب ابن زبیر وغیرہ لکھتے ہیں کہ اس امر پر تمام اقت کا اتفاق ہے کہ آپ کا لقب صدیق ہے کیونکہ آپ نے بے خون اور نڈر ہو کر حضور صلی اللہ علیہ سلم کی نبوت کی تصدیق کی اور کسی قسم کی تر شہرونی یا جھجک اس تصدیق میں سرزد نہیں ہوئی۔
*حضرت ابو بکر صدیق کا مقام رفیع*
اسلام میں آپ درجہ اور رتبہ بہت ہی بلند ہے، صدیق کا لقب پانے میں واقعہ معراج بھی مشہور ہے کہ آپ نے کافروں کے سوال کے جواب میں کا مقام کے فتح ! واق معراج کی فور تصدیق فرمائی۔ اہل عیا کو چھوڑ کر سول اللّه صلی اللّه علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت فرمائی غار ثور اور تمام راستے آپ کی خدمت میں رہے، یہ نیز یوم بدر میں آ کر کفار کے مقابلہ میں کلام کرنا، حدیہ میں کہ شریف میں داخل ہونے کے باعث لوگوں کے دلوں میں جو شکوک پیدا دلوں ہو گئے تھے ان کا ارتفاع (دور کرنا) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی منکر کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو دنیا میں ہنے یا آخرت قبول کر لینے کا اختیار دے دیا ہے آپ کا آہ و زاری کرنا ، سر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت صحابہ کرام کی تسکین خاط کے لئے آپ کی استقامت اور خطبہ کے ذریعہ ان میں تسکین قلب پیدا کرنا اور مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر بار خلافت کو قبول فرما لینا، مرتدین سے جنگ کے لئے حضرت اسامہ بن زید کی قیادت میں شام کی جانب لشکر کو روانہ کرنا اور اس عزم پر ثابت قدم رہنا ، صحابہ کرام کو اللہ شرح درد سری به ثبوت دلائل ان کو حق سے آگاہ کرنا اور مرتدین کی جنگ میں ان کو اپنا ہمنوا بنانا ، مملکت شام کی جانب فوجوں کو روانہ کرنا اور پھر ان کو کمک پہنچانا اور پھر مملکت شام کی تینیز حضرت صدیق اکبر میں اللہ تعالی عنہ کے اہم فضائل ہیں ، نیز آپ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کرانا بھی بہت بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ یوں حضرت یوں حضرت صدیق اکبر کے فضائل و کمالات بیشمار ولا تعداد ہیں ۔(ارشاد امام نووی)
میرا ارادہ ہے کہ میں اپنی معلومات کے مطابق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حالات قدرے شرح وبسط کے ساتھ تحریر کروں، چنانچہ میں اس سلسلہ میں کئی عنوانات قائم کر رہا ہوں (جن کے تحت آپ
کے حالات قدرے تفصیل سے تحریر کروں گا ) ۔
*حضرت صدیق اکبر کا اسم گرامی*
علامہ ابن کثیر کہتےہیں کہ تمام علم ک اس پر اتفاق ہے کہ آپ کا آپ کا لقب جیسا کہ مذکور ہو یا مرام عبدللہ بن ماہی ہے مگر اب عمران سیرین سے سے روایت کرتے ہیں کہ آپ کا ہم شریف علیق ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ علیق آپ ا لقب تھا، نام نہیں تھا بان اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ لقب کب اور کس جہ سے ہوا ، بعض کہتے ہیں کہ آپ کے حسن و جمال کی وجہ سے یہ آپ کا لقب ہوار اس کو لیث بن سعد احمد بن حنبل اور ابن معین وغیرہ نے روایت کیا ہے ۔ ابن نعیم کہتے ہیں کہ امور خیر میں آپ کے سبقت کرنے کی وجہ سے آپ کا یہ لقب ہوا۔ بعض اصحاب کا خیال ہے کہ پاک صاف اور اعلی نسب ہونے کی وجہ سے (کہ آپ کے نسب میں ایسا کوئی شخص نہیں گزرا جس پر کوئی عیب لگایا گیا ہو)
آپ یہ لقب ہوا۔ بعض کا خیال ہے کہ آپ کا نام علیق ہی تھا پھر بعد میں عبد اللہ ہو گیا ۔ مبارک ریافت کیا تو حضرت عات صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ عبد اللہ عرض کیا گیا کہ لوگ تو آپ کو علیق کہتے ہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابو قحافہ کی تین اولا دیں تھیں جن کو ، عتیق معتق اور معتیق کہا جاتا تھا۔
ابن مندہ کا بیان ہے کہ ابن ملکہ نے اپنے والد سے دریافت کیا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام عتیق کیوں ہے ؟ انھوں نے جواب یا کہ ان کی والدہ ماجدہ کی اولاد چونکہ زندہ پیدا نہیں ہوتی تھی تو جس وقت آپ پیدا ہوئے تو تو آپکی والدہ ماجدہ آپ آپ کو خانہ کہیں کی میں لے لے گئیں اور اور بارگاہ الہی میں عرض کیا الہی یہ بچہ موت کے چنگل سے آزاد رہا ہے اب سے مجھے عنایت فرمادے۔ طبرانی نے لکھا ہے کہ آپ کو آپ کے حسن و جمال کے باعث عتیق کہا جاتا تھا۔ ابن عساکر کا بیان ہے انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام نامی گھر کے لوگوں نے تو عبد اللہ ہی رکھا تھا مگر عتیق زیادہ مشہور ہوگیا۔ یہ بھی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علی وسلم نے آکے عتیق سے موسوم فر مایا تھا۔ ابو لعلی نے اپنی مسند میں اور ابن سعد اور حاکم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ
انھوں نے فرمایا میں ایک ان کا شانہ نبوت کے دالان میں تھی اور دالان پر پردہ پڑا ہوا تھا صحن میں سول اللہ صلی الہ علیہ علم مع صحابہ اکرام تشریف فرما تھے اتنے میں والد ماجد تشریف لائے ان کو دیکھ کر سرور عالم نے فرمایا جو کوئی دوزخ سے بری اور آزاد شخص کو دکھنا چاہتا ہو وہ ابوبکر کو دیکھ لے ا چونکہ زبان وحی ترجمان سے عتیق من النار فرمایاگیا ، پس آپکا نام گھر والوں نے تو عبد اللہ ہی رکھتا تھا لیکن عتیق مشہور ہو گیا ۔
*بحوالہ کتب*
**تاريخ الخلفاء كتاب في تاريخ خلفاء المسلمين*
*امام علامہ عصر مفسر و محدث عظیم مورخ بیگانه الامام الحافظ جلال الدين عبد الرحمن بن ابى بكر السيوطي کی مشہور زمانہ تاریخ*
*جو خلافت را شده عہد بنی امیہ اور بنی عباس کی ایک مستند اور جامع تاریخ ہے*
25/08/2024
*🕋بسْــــــــــــــمِ اللّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🕋*
📜📚🤲 *مسنون دعائیں* 🤲📜📚
*انسان کو لباس پہنتے وقت کیا کہنا چاہیے*
مستحب یہ ہے کہ آدمی لباس زیب تن کرتے وقت بسم اللہ پڑھ لے (1) اسی طرح تمام اعمال میں بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے
ابن السنی کی کتاب میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( ان کا نام حضرت سعد بن مالک تھا) کہ حضور اکرم ہیں ہم جب قمیص ، چادر یا عمامہ کو اپنے جسم مبارک پر سجنے کا شرف بخشتے تو یوں کہتے :
*اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلْكَ مِنْ خَيْرِهِ وَخَيْرِ مَا هُوَ لَهُ، وَاعْوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّمَا هُوَ لَهُ*
*ترجمہ*
مولا میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کے لیے دو ہے اور میں تجھ سے اس کے شر اور اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اس کے لیے ہے۔ ابن السنی کی کتاب میں حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مکرم مالی نے فرمایا " جس نے نیا کپڑاپہنا اور یوں کہا:
*الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيْهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مَتِي وَلَا قُوَّةٍ*
*ترجمہ*
تمام تعریفیں اللہ رب العزت کیلئے ہیں جس نے مجھے یہ پہنایا، میری قدرت اور طاقت کے بغیر مجھے عطا کیا۔
اللہ رب العزت اس کی سابقہ تمام خطائیں معاف فرما دیتا ہے۔
*جب آدمی نیا کپڑایا جو تا وغیر ہ پینے تو کیسے تسبیح خواں ہو*
نیا لباس پہنتے وقت وہ دعا میں مانگنا مستحب ہیں جو سابقہ باب میں گزر چکی ہیں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم میں ایک نیا کپڑا زیب تن فرماتے اسے اس کےنام عمامہ یا قمیص یا چادر سے یا فرماتے پھر یوں دعا گو ہوتے :
*اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أنتَ كسوتيه اسْتَلْكَ خَيْرَة وَخَيْرَ مَا صُبعَ لَهُ، وَأَعْوذُ بِكَ مِنْ
شره و شر ما صنع لہ*
*ترجمہ*
مولا احمد وثناء تیرے لیے ہے مجھے یہ تو نے ہی پہنایا ہے میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس خیر کا متمس ہوں جسکے لیے اسے بنایا گیا ہے میں تجھ سے اس کے شر کی اور اس شر کی پناہ مانگتا ہوں جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے۔
حضرت امام ترندی نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے انہوں نے فرمایا: میں نے حضور کو یوں فرماتے ہوئے سنا: جس نے نیا کپڑا پہنا اور یوں کہا:
*الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَالْجَمَلُ بِهِ فِي حَيَاتِي*
*ترجمہ*
تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ پہنایا جس سے میں نے اپنی شرم گاہ چھپائی اور اپنی زندگی میں حسن حاصل کرتا ہوں۔
*بحوالہ کتب*
*کتاب الأذكار المنتخب من كلام سيد الأبرار*
*مصنف حضرت امام محی الدین ابو زکریا یحی بن شرف النووی*
#روحانی
#قرانی
#ایات
#علاج
24/08/2024
*🌹🕋بسْــــــــــــــمِ اللّه الرَّحْمَنِ الرَّحِيم🕋🌹*
📚🖊️ #قرانی #ایات #سے #علاج علاج 📚🖊️
*حضور اکرم ﷺ کی زیارت کے لئے*
*انَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواصلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْلِيمًا )*
پاره ۲۲ سوره احزاب کی آیت ۵۶ کو رات سوتے وقت ۱۰۱ مرتبہ اور ۳۱۳ مرتبہ درود شریف پڑھے جب تک زیارت سے مشرف نہ ہو جاری رکھے۔
*پابندی نماز کے لئے*
وَأَقِمِ الصَّلوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ الَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاتِ ، ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّكِرِينَ وَاصْبِرُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ
پاره ۱۲ سورہ ھود کی آیت ۱۱۴، ۱۱۵ کو ہر نماز کے بعد تین مرتبہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کریں اور پانی پر دم کر کے پی لیں۔
*استخارہ کے لئے*
وَ أَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ اَلا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ، وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
عشاء کی نماز کے بعد سوتے وقت دو رکعت نفل استخارہ کی نیت سے پڑھیں سلام کے بعد پارہ ۲۹ سورہ ملک کی آیت ۱۳ ۱۴ کواہ مرتبہ پڑھیں اور بغیر کلام کئے سوجائیں۔
*ذوجین میں محبت کا روحانی علاج*
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبّاً لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُو
إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً، وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ
پاره ۲ سورۂ بقرة کی آیت ۱۶۵ کوز وجین میں سے کوئی بھی ناراض ہو تو شیرنی پردم کر کے کھلا دیں انشاء اللہ مہربان ہو جائے گا مگر اس آیت کو نا جائز کاموں میں استعمال نہ کریں۔
*جوآزمائش میں مبتلا ہو*
سَلَّمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ
پارہ ۱۳ سورہ رعد کی آیت ۲۴ کو ہر نماز کے بعد تین تین مرتبہ پڑھ لے انشاء اللہ آسانی اور نجات نصیب ہوگی اور دین و دنیا کی کامیابی نصیب ہوگی۔
*پریشانی میں مبتلا ہو تو*
إِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ، إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًاO
پارہ ۱۵ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۸۷ کو ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ پڑھیں اور صدق دل سے دعاء کریں۔
*گھر یلولڑائی ، جھگڑے، ناچاقی کا علاج*
وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِّنْ غِلَّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍمتَقَبِلِينَ
پارہ ۱۴ سورہ حجر کی آیت ۴۷ کو ہر نماز کے بعد گیارہ (۱۱) مرتبہ پڑھ کر تصور میں سب جھگڑنے والوں پر دم کریں
*بحوالہ کتب*
*اردو وظائف*
*بفیضان
*حضرت مولانا محمد بشیر فاروقی صاحب*
#روحانی
14/07/2024
کسی کا بھروسہ توڑنے کے بعد مانگی جانے والی معافی کچھ اس طرح کی لگتی ہے،،
14/07/2024
#حضور #غوث #الاعظم #کی #سیرت #مبارکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی پیدائش یکم رمضان 470 ھ بمطابق 17 مارچ 1078عیسوی میں ایران کے صوبہ کرمانشاہ کے مغربی شہر گیلان میں ہوئی،
اپ کا انتقال 1166ء کو ہفتہ کی شب (8 ربیع الاوّل561 ہجری) کو نواسی (89) سال کی عمر میں ہوا اور آپ کی تدفین، آپ کے مدرسے کے احاطہ میں ہوئی۔
شیخ سیدنا عبد القادر جیلانی گیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کو غوث اعظم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، آپ سْنّی حنبلی طریقہ کے نہایت اہم صوفی، شیخ اور سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں۔
آپ کی پیدائش یکم رمضان 470 ھ بمطابق 17 مارچ 1078عیسوی میں ایران کے صوبہ کرمانشاہ کے مغربی شہر گیلان میں ہوئی، جس کو کیلان بھی کہا جاتاہے اور اسی لئے آپ کا ایک اورنام شیخ عبدالقادر کیلانی بھی ماخوذ ہے۔
سلسلہ ،شیخ عبدالقادر جیلانی کاتعلق حضرت جنید بغدادی رضی اللہ عنہ کے روحانی سلسلے سے ملتا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کی خدمات و افکارکی وجہ سے شیخ عبدالقادر جیلانی کو مسلم دنیا میں غوثِ اعظم دستگیر کاخطاب دیا گیا ہے۔
اکابرینِ اسلام کی عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے بارے پیشین گوئی
شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی ولادت سے چھ سال قبل حضرت شیخ ابواحمد عبداللہ بن علی بن موسیٰ نے فرمایا کہ میں گواہی دیتاہوں کہ عنقریب ایک ایسی ہستی آنے والی ہے کہ جس کا فرمان ہوگا کہ
قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله.
کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
حضرت شیخ عقیل سنجی سے پوچھا گیا کہ اس زمانے کے قطب کون ہیں؟ فرمایا، اس زمانے کا قطب مدینہ منورہ میں پوشیدہ ہے۔ سوائے اولیاء اللہ کے اْسے کوئی نہیں جانتا۔ پھر عراق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اس طرف سے ایک عجمی نوجوان ظاہر ہوگا۔ وہ بغداد میں وعظ کرے گا۔ اس کی کرامتوں کو ہر خاص و عام جان لے گا اور وہ فرمائے گا کہ قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله. میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
سالک السالکین میں ہے کہ جب سیدنا عبدالقادر جیلانی کو مرتبہء غوثیت و مقام محبوبیت سے نوازا گیا تو ایک دن جمعہ کی نماز میں خطبہ دیتے وقت اچانک آپ پر استغراقی کیفیت طاری ہو گئی اور اسی وقت زبانِ فیض سے یہ کلمات جاری ہوئے: قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله کہ میرا قدم تمام اولیاء اللہ کی گردن پر ہے۔
منادئ غیب نے تمام عالم میں ندا کردی کہ جمیع اولیاء اللہ اطاعتِ غوثِ پاک کریں۔ یہ سنتے ہی جملہ اولیاء اللہ جو زندہ تھے یا پردہ کر چکے تھے سب نے گردنیں جھکا دیں۔
(تلخيص بهجة الاسرار)
ایامِ طفولیت
تمام علماء و اولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عبدالقادر جیلانی مادرزاد یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی یہ کرامت بہت مشہور ہے کہ آپ ماہِ رمضان المبارک میں طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک کبھی بھی دودھ نہیں پیتے تھے اور یہ بات گیلان میں بہت مشہور تھی کہ ’’سادات کے گھر انے میں ایک بچہ پیدا ہوا ہے جو رمضان میں دن بھر دودھ نہیں پیتا‘‘۔
بچپن میں عام طور سے بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ بچپن ہی سے لہو و لہب سے دور رہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ
جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کرتا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھا اے برکت والے، میری طرف آ جا‘‘۔
ولایت کا علم
ایک مرتبہ بعض لوگوں نے سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کو ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ دس برس کی عمر میں جب میں مکتب میں پڑھنے کے لئے جاتا تو ایک غیبی آواز آیا کرتی تھی جس کو تمام اہلِ مکتب بھی سْنا کرتے تھے کہ ’’اللہ کے ولی کے لئے جگہ کشادہ کر دو‘‘۔
پرورش وتحصیلِ علم
آپ کے والد کے انتقال کے بعد ،آپ کی پرورش آپ کی والدہ اور آپ کے نانا نے کی۔ شیخ عبدالقادر جیلانی کا شجرہء نسب والد کی طرف سے حضرت امام حسن اور والدہ کی طرف سے حضرت امام حسین سے ملتا ہے اور یوں آپ کا شجرہء نسب حضرت محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ اٹھارہ ( 18) سال کی عمر میں شیخ عبدالقادر جیلانی تحصیل ِ علم کے لئے بغداد (1095ء) تشریف لے گئے۔ جہاں آپ کو فقہ کے علم میں ابوسید علی مخرمی، علم حدیث میں ابوبکر بن مظفر اور تفسیرکے لئے ابومحمد جعفر جیسے اساتذہ میسر آئے۔
ریاضت و مجاہدات
تحصیل ِ علم کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے بغدادشہر کو چھوڑا اور عراق کے صحراؤں اور جنگلوں میں 25 سال تک سخت عبادت و ریاضت کی۔
1127ء میں آپ نے دوبارہ بغداد میں سکونت اختیار کی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ جلد ہی آپ کی شہرت و نیک نامی بغداد اور پھر دور دور تک پھیل گئی۔ 40 سال تک آپ نے اسلا م کی تبلیغی سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لیا۔ نتیجتاً ہزاروں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ اس سلسلہ تبلیغ کو مزید وسیع کرنے کے لئے دور دراز وفود کو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا۔ خود سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے تبلیغِ اسلام کے لئے دور دراز کے سفر کئے اور برِصغیر تک تشریف لے گئے اور ملتان (پاکستان) میں بھی قیام پذیر ہوئے۔
حلیہ مبارک
جسم نحیف، قد متوسط، رنگ گندمی، آواز بلند، سینہ کشادہ، ڈاڑھی لمبی چوڑی، چہرہ خوبصورت، سر بڑا، بھنوئیں ملی ہوئی تھیں۔
فرموداتِ غوثِ اعظم
اے انسان! اگر تجھے محد سے لے کر لحد تک کی زندگی دی جائے اور تجھ سے کہا جائے کہ اپنی محنت، عبادت و ریاضت سے اس دل میں اللہ کا نام بسا لے تو ربِ تعالٰی کی عزت و جلال کی قسم یہ ممکن نہیں، اْس وقت تک کہ جب تک تجھے اللہ کے کسی کامل بندے کی نسبت وصحبت میسر نہ آجائے۔
اہلِ دل کی صحبت اختیار کر تاکہ تو بھی صاحبِ دل ہو جائے۔
میرا مرید وہ ہے جو اللہ کا ذاکر ہے اور ذاکر میں اْس کو مانتا ہوں، جس کا دل اللہ کا ذکر کرے۔
القاباتِ غوثِ اعظم
١/ غوثِ اعظم
٢/ پیران ِ پیر دستگیر
٣/ محی الدین
٤/ شیخ الشیوخ
٥/ سلطان الاولیاء
٦/ سردارِ اولیاء
٧/ قطب ِ ربانی
٨/ محبوبِ سبحانی
٩/ قندیل ِ لامکانی
١٠/ میر محی الدین
١١/ امام الاولیاء
١٢/ السید السند
١٣/ قطب اوحد
١٤/ شیخ الاسلام
١٥/ زعیم العلماء
١٦ سلطان الاولیاء
١٧/ قطب بغداد
١٨/ بازِ اشہب
١٩/ ابوصالح
٢٠/ حسنی اَباً
٢١/ حسینی اْماً
٢٢/ حنبلی مذہبا ً
علمی خدمات
شیخ عبدالقادر جیلانی نے طالبین ِ حق کے لئے گرانقدر کتابیں تحریرکیں، ان میں سے کچھ کے نام درج ذیل ہیں
١/ الفتح الربانی والفیض ِ
٢/ الرحمانی
٣/ ملفوظات
٤/ فتوح الغیب
٥/ جلاء الخاطر
٦/ ورد الشیخ عبدالقادر الجیلانی
٧/ بہجۃ الاسرار
٨/ آدابِ سلوک و التوصل الی ٰ ٩/ منازل ِ سلوک
وصال
شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا انتقال 1166ء کو ہفتہ کی شب (8 ربیع الاوّل561 ہجری) کو نواسی (89) سال کی عمر میں ہوا اور آپ کی تدفین، آپ کے مدرسے کے احاطہ میں ہوئی۔
سیرت غوثِ اعظم
بیشک خالقِ کائنات اللہ رب العالمین نے اِنس وجن کی رشدوہدایت کے لئے مختلف وقتوں اور خطوں میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا و مرسلین کو مبعوث فرمایا۔ہرنبی ورسول اللہ تعالی کی علیحدہ علیحدہ صفتوں کے مظہر بن کر آئے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اپنی کْل صفات ہی نہیں بلکہ ذات کا بھی مظہر بناکر اپنے محبوب نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعْوث فرمایا تو مظہر ذات کے بعد کسی نبی کی ضرورت نہ رہی باب نبوت ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا تو رْشدوہدایت اور احیا دین و ملت کے لئے مظہر ذات خدامحبوب رب العلیٰ نے غیبی خبر دی کہ’’ ہر صدی کے اختتام پر ایک مجدد پیداہوگا‘‘ (مشکوٰۃشریف) نیز فرمایاکہ ’’ اللہ کے نیک بندے دین کی محافظت کرتے رہیں گے‘‘ (ابوداود) حضور نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارکہ ہے کہ’’ علمائے دین بارش نبوت کا تالاب ہیں‘‘ (مشکوٰۃ شریف) نیز فرمایا کہ ’’چالیس ابدال (اولیا) کی برکت سے بارش اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوگی اور اِنہیں کے طفیل اہلِ شام سے عذاب دور رہے گا(مشکوۃشریف) آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ’’علماء کی زندگی کے لئے مچھلیاں دْعاکرتی ہیں‘‘ (مشکوٰۃ شریف) نیز فرمایا کہ ’’میری اْمت میں ہمیشہ تین سو اولیاء حضرت آدم علیہ السالم کے نقش ِ قدم پر رہیں گے اور چالیس حضرت موسیٰ علیہ السلام و سات حضرت اِبراہیم علیہ السلام کے نقشِ قدم پر ہونگے اور پانچ وہ رہیں گے کہ جن کا قلب حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرح ہوگا اور تین حضرت میکائیل علیہ السلام کے قلب پر اور ایک حضرت اِسرافیل کے قلب پر رہے گا جب اِس ایک کا انتقال ہوگا تو اِن تین میں سے کوئی قائم ہوگا اور اِن تین کی کمی پانچ میں سے اور پانچ کی کمی سات میں سے اور سات کی کمی چالیس میں سے اور چالیس کی کمی سات میں سے اور سات کی کمی چالیس میں سے اور چالیس کی کمی تین سو سے اور تین سو کی کمی عالم مسلمانوں سے پوری کردی جاتی ہے‘‘۔ (مرقاۃملاعلی قاری)
علما حق فرماتے ہیں کہ’’ اللہ تعالیٰ رحمتیں دینے والا، سیدالانبیا رحمت عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم فرمانے والے اور اْولیا و علما اِس کا ذریعہ ہیں ‘‘اللہ تعالیٰ کی معرفت کے لئے ملت مصطفویہ کے سامنے علما و مشائخ نے ایک خوبصورت اور زریں اْصول یہ پیش کردیاہے بارگاہِ ربوبیت تک رسائی آقائے دوجہاں سیدعالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے اور بارگاہِ سرور ِ کائنات تک رسائی اْولیا اللہ کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے اِن اولیا اللہ کی صف ِ اول میں صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار رضوان اللہ علیھم اجمعین شامل ہیں اِن کے بعد تابعین، ائمہ مجتھدین، ائمہ شریعت وطریقت کے علاوہ صوفیاء اتقیاء اور دیگر اولیاء بھی شامل ہیں۔ اولیا کرام تو بہت ہوئے اور قیامت تک ہوتے رہیں گے لیکن اِس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ علم و فضل، کشف و کرامات، مجاہدات وتصرفات اور حسب ونسب کی بعض خصوصیات کی وجہ سے حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو اولیاء کی جماعت میں جو خصوصی امتیاز حاصل ہے وہ کسی اور کو نہیں۔ یہ واضح رہے کہ حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو جب ہم ولیوں کا تاجدار کہتے ہیں تو یہاں ولیوں کے عموم میں صحابہ کی جماعت کو شامل نہیں کرناچاہئے خالقِ کائنات اللہ رب العزت جن خوش نصیب بندوں کو مقام ولایت عطافرماتا ہے اْن کی ولایت کو کبھی زائل نہیں فرماتا۔آپ غوث اعظم، غوث الثقلین، امام الطرفین، رئیس الاتقیائ، تاج الاصفیائ، قطبِ ربانی، شہبازلامکانی، محی الملت والدین، فخرشریعت وطریقت، ناصرسْنت، عماد حقیقت، قاطع بدعت، سیدوالزاہدین، رھبرِ عابدین، کاشف الحائق، قطب الاقطاب، غوث صمدانی، سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی۔
آپ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ اْم الخیر بیان فرماتی ہیں کہ ولادت کے ساتھ احکامِ شریعت کا اِس قدر احترام تھا کہ حضرت غوث اعظم رمضان میں دن بھر میں کبھی دودھ نہیں پیتے تھے۔ ایک مرتبہ اَبر کے باعث 29شعبان کو چاند کی رؤیت نہ ہوسکی لوگ تردوّمیں تھے لیکن اِس مادر زادولی حضرت غوث اعظم نے صبح کو دودھ نہیں پیا۔ بالآخر تحقیق کے بعد معلوم ہواکہ آج یکم رمضان المبارک ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ کے پورے عہدِ رضاعت میں آپ کا یہ حال رہا کہ سال کے تمام مہینوں میں آپ دودہ پیتے رہتے تھے لیکن جوں ہی رمضان شریف کا مبارک مہینہ آپ کایہ معمول رہتاتھا کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک قطعاََ دودہ نہیں پیتے تھے۔خواہ کتنی ہی دودہ پلانیکی کوشش کی جاتی یعنی رمضان شریف کے پورے مہینہ آپ دن میں روزہ سے رہتے تھے اور جب مغرب کے وقت اذان ہوتی اور لوگ افطارکرتے توآپ بھی دودہ پینے لگتے تھے۔ ابتدا ہی سے خالقِ کائنات اللہ رب العزت کی نوازشات سرکارغوث اعظم کی جانب متوجہ تھیں پھر کیوں کوئی آپ کے مرتبہ فلک کو چھوسکتا یا اِس کااندازہ کرسکے چنانچہ سرکارِ غوث اعظم اپنے لڑکپن سے متعلق خود ارشاد فرماتے ہیں کہ عمر کے ابتدائی دور میںجب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتاتو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہوولعب سے بازرہو۔جِسے سْن کر میں رْک جایاکرتاتھا اور اپنے گردوپیش جو نظرڈالتاتومجھے کوئی آوازدینے والا نہ دِکھائی دیتاتھاجس سے مجھے دہشت سی معلوم ہوتی اور میں جلدی سے بھاگتاہواگھرآتااور والدہ محترمہ کی آغوش محبت میں چھپ جاتاتھا۔
اَب وہی آواز میں اپنی تنہائیوں میں سْناکرتاہوں اگر مجھ کو کبھی نیند آتی ہے تو وہ آواز فوراََ میرے کانوں میں آکرکے مجھے متنبہ کردیتی ہے کہ تم کو اِس لئے نہیں پیداکیاہے کہ تم سویاکرو۔ حضرت غوث اعظم فرماتے ہیں کہ بچپن کے زمانے میں غیر آبادی میں کھیل رہاتھا کہ ایک گائے کی دم پکڑ کر کھینچ لی فوراََاِس نے کلام کیا اے عبدالقادر! تم اِس غرض سے دنیا میں نہیں بھیجے گئے ہو تو میںنے اِسے چھوڑ دیا اور دل کے اْوپرایک ہیبت سی طاری ہوگئی۔ مشہور روایت ہے کہ جب سیدناسرکار غوث اعظم کی عمر شریف چارسال کی ہوئی تو رسم ورواج ِاسلامی کے مطابق والد محترم سیدناشیخ ابوصالح جن کا لقب’’ جنگی دوست ‘‘ ہے اِس کی وجہ سے ’’قلائدالجواہر‘‘میں بتائی گئی ہے کہ آپ جنگ کو دوست رکھتے تھے ریاض الحیات میں اِس لقب کی تشریح یہ بتائی گئی ہے کہ آپ اپنے نفس سے ہمیشہ جہادفرماتے تھے اور نفس کشی کوتزکیہ نفس کا مدار سمجھتے تھے۔ وہ آپ کو رسم بسم اللہ خوانی کی ادائیگی اور مکتب میں داخل کرنے کی غرض سے لے گئے اور اْستاد کے سامنے آپ دوزانوں ہوکر بیٹھ گئے اْستاد نے کہا! پڑھو بیٹے بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ آپ نے بسم اللہ شریف پڑھنے کے ساتھ ساتھ الم سے لے کر مکمل اٹھارہ 18 پارے زبانی پڑھ ڈالے۔ استاد نے حیرت کے ساتھ دریافت کیا کہ یہ تم نے کب پڑھا....؟ اور کیسے پڑھا...؟ تو آپ نے فرمایا کہ والدہ ماجدہ اٹھارہ سِپاروں کی حافظہ ہیں جن کا وہ اکثر وردکیاکرتی تھیں جب میں شکمِ مادر میں تھا تو یہ اٹھارہ سپارے سْنتے سْنتے مجھے بھی یاد ہوگئے تھے (یہ شان ہوتی ہے اللہ کے ولیوں کی حضور غوث اعظم آج سے کئی صدیوں قبل ہی اِس حقیقت کومن وعن سچ ثابت کرچکے ہیں کہ دورانِ حمل ماں جوکچھ بھی سوچ رہی ہوتی ہے اورپڑھ رہی ہوتی ہے تو اْس کااثر دونوں ہی صورتوں میں شکمِ مادر میں رہنے (پلنے) والے بچے پر ضرور پڑ رہا ہوتاہے اور آج چاند کو چھولینے اور اِس پر چہل قدمی کرنے کی دعویدار 21ویں صدی کی جدید سائنسی دنیا کے یورپ اور امریکا کے سائنسدان اپنی تحقیقوں سے یہ بتاتے پھر رہے ہیں کہ سائنس نے یہ ایک نئی تحقیق کرلی ہے کہ دورانِ حمل ماں جو کچھ بھی منفی یامثبت سوچ رکھتی ہے اِس کا اَثر آئندہ آنے والے بچے کی زندگی پر پڑتا ہے یہ بات سائنس نے آج دریافت کی ہے، جبکہ حضور غوث اعظم نے صدیوں قبل اِسکا عملی ثبوت دنیاکے سامنے خود پیش کردیاتھا اِس سے ہم اْمت مسلمہ کو فخرہوناچاہئے کہ موجودہ دنیا کی کوئی ترقی قرآن و سنت اور تعلیمات اسلامی کے دائرہ کار سے باہرنہیں ہوسکتی)۔
اور یوں آپ نے اپنے وطن جیلان ہی میں باضابطہ طور پر قرآن کریم ختم کیااور چند دوسری دینی کتابیں پڑھ ڈالیں تھیں۔ حضرت غوث اعظم نے حضرت شیخ حماد بن مسلم ہی سے قرآن مجید فرقانِ حمید حفظ کیا اور برسوں خدمتِ حمادیہ میں رہ کر آپ فیوض وبرکات حاصل فرماتے رہے۔ سرکارغوث اعظم نے528سنہ ھ میں درس گاہ کی تعمیر جدید سے فراغت پائی اور مختلف اطراف وجوانب کے لوگ آپ سے شرف تلمذ حاصل کرکے علوم دینیہ سے مالامال ہونے لگے آپ کی بزرگی وولادیت اِسقدر مشہور اور مسلم الثبوت ہے کہ آپ کے غوث اعظم ہونے پر تمام اْمت کا اتفاق ہے حضرت کے سوانح نگار فرماتے ہیں کہ’’کسی ولی کی کرامتیں اِسقدار تواتر اور تفاصیل کے ساتھ ہم تک نہیں پہنچی ہیں کہ جس قدر حضرت غوث الثقلین کی کرامتیں تواتر سے منقول ہیں(نزہۃ الخاطر)۔خلق خدامیں آپ کی مقبولیت ایسی رہی ہے کہ اکبرواصاغرسب ہی عالم استعجاب میں مبتلاہوجاتے ہیں۔ مشرق یا مغرب ہرایک غوث اعظم کا مداح اور آپ کے فیض کا حاجت مند نظرآتاہے۔ مقبولیت وہردلعزیزی کے ساتھ ساتھ آپ کی زبان شیریں بیانی اور کلام و وعظ میں اَثر آفرینی بھی حیران کن تھی۔اِسے آپ یوںبھی کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی حیات مقدس کاایک ایک لمحہ کرامت ہے اور آپ کے علمی کمال کا تویہ حال تھاکہ جب بغدادمیں آپ کی مجالس وعظ میں ستر، ستر (70,70) ہزار سامعین کا مجمع ہونے لگا تو بعض عالموں کو حسدہونے لگاکہ ایک عجمی گیلان کا رہنے والا اِسقدر مقبولیت حاصل کرگیاہے۔
چنانچہ حافظ ابوالعباس احمدبن احمدبغدادی اور علامہ حافظ عبدالرحمن بن الجوزی جو دونوں اپنے وقت میں علم کے سمندر اور حدیثوں کے پہاڑ شمار کئے جاتے تھے آپ کی مجلس وعظ میں بغرض امتحان حاضرہوئے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھ گئے جب حضور غوث اعظم نے وعظ شروع فرمایا تو ایک آیت کی تفسیر مختلف طریقوں سے بیان فرمانے لگے۔ پہلی تفسیر بیان فرمائی تو اِن دونوں عالموں نے ایک دوسرے کودیکھتے ہوئے تصدیق کرتے ہوئے اپنی اپنی گردنیں ہلادیں۔ اِسی طرح گیارہ تفسیروں تک تو دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کراپنی اپنی گردنیں ہلاتے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے رہے مگر جب حضور غوث اعظم نے بارہویں تفسیر بیان فرمائی تو اِس تفسیر سے دونوں عالم ہی لاعلم تھے اِس لئے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دونوں آپ کا منہ مبارک تکنے لگے اِسی طرح چالیس تفسیریں اِس آیت مبارکہ کی آپ بیان فرماتے چلے گئے اور یہ دونوں عالم استعجاب میں تصویر حیرت بنے سنتے اور سردھنتے رہے پھر آخر میں آپ نے فرمایاکہ اب ہم قال سے حال کی طرف پلٹتے ہیں پھر بلند آواز سے کلمہ طیبہ کا نعرہ بلند فرمایا تو ساری مجلس میں ایک جوش کی کیفیت اور اضطراب پیداہوگیا اور علامہ ابن الجوشی نے جوش حال میں اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے (بہجتہ الاسرار) بغیر کسی مادی وسیلہ (یعنی ساؤنڈ سسٹم کے بغیر) ستر ہزار کے مجمع تک اپنی آواز پہنچانااور سب کا یکساں انداز میں سماعت کرنا آپ کی ایسی کرامت ہے جو روزانہ ظاہرہوتی رہتی تھی۔
سیدناعوث اعظم کے سوانح وحالات رقم کرنے والے تمام مصنفین وتذکرہ نگاروں کا اِس پر اتفاق ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ نے ایک مرتبہ بہت بڑی مجلس میں (کہ جس میں اپنے دور کے اقطاب وابدال اور بہت بڑی تعداد میں اولیاء وصلحاء بھی موجودتھے جبکہ عام لوگوں کی بھی ایک اچھی خاصی ہزاروں میں تعدادموجودتھی)دورانِ وعظ اپنی غوثیت کبریٰ کی شان کا اِس طرح اظہار فرمایاکہ (قدمی هذا علی رقبة کل ولی الله) ترجمہ:-میرایہ قدم تمام ولیوں کی گردنوں پر ہے‘‘تو مجلس میں موجود تمام اولیاء نے اپنی گردنوں کو جھکادیااور دنیا کے دوسرے علاقوں کے اولیاء نے کشف کے ذریعے آپ کے اعلان کو سنااور اپنے اپنے مقام پر اپنی گردنیں خم کردیں۔ حضرت خواجہ شیخ معین الدین اجمیری نے گردن خم کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آقا آپ کا قدم میری گرن پر بھی اور میرے سر پر بھی‘‘
(حوالاجات ،اخبار الاخيار،، سفينة اوليا، قلائدالجواهرِ، نزهته الخاطر، فتاویٰ افريقه کرامات غوثية اعلی حضرت)
حضور غوث اعظم کی حیات مبارکہ کا اکثر و بیشتر حصہ بغداد مقدس میں گزرا اور وہیں پر آپ کا وصال ہوااور وہیں پر ہی آپ کا مزار مبارک ہے جس کے گرد عام لوگوں کے علاوہ بڑے بڑے مشائخ اور اقطاب آج بھی کمالِ عقیدت کے ساتھ طوافِ زیارت کیاکرتے ہیںاور فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔
(ماخوذ از سنی ماہنامہ دخترانِ اسلام، )
والله ورسوله أعلم بالصواب