Online Deeni Taleem

Online Deeni Taleem

Share

I deal with Online Islamic Education including teaching of Nazra, Memorizing of Holy Quran, Dars-e-Nizami, Spiritual Cures (Rohani ilaaj), and many more.

Those who are interested in learning Holy Quran, Masnoon Duain and Namaz (Salah), Dars-e-Nizami, Rohani Ilaj, they should contact me, I teach on Skype. Skype = onlinedeenitaleem. I am (Alhamdulillah) Hafiz-ul-Quran and Alim-ud-din.

18/02/2023

ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﯽ ﻣﮕﺮ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻧﺎ ﻋﻮﺭﺕ
ﺭﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ
ﺗﮭﺎ۔
ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍُﺳﮑﺎ ﺧﺎﻭﻧﺪ
ﺍُﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﻌﺮ
ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﻋﻤﺮ ﺟﺘﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﺎﮨﻤﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ
ﺍُﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮍﮪ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺟﺐ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﺑﮭﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺭﺍﺯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ
ﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﮨﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﮯ؟
ﯾﺎ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺣﺴﯿﻦ ﻭ ﺟﻤﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ؟
ﯾﺎ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﯿﺎﻝ ﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ
ﻋﻮﺭﺕ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ؟
ﯾﺎ ﺍﺱ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ؟
ﺗﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﯾﻮﮞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﺑﮭﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ
ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻮﺩ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﮔﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺅﮞ
ﺑﻨﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﮔﺮ ﯾﮩﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ
ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺩﮨﮑﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﮒ ﺳﮯﺑﮭﯽ ﺑﮭﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔
ﻣﺖ ﺳﻮﭼﯿﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﺐ
ﮨﮯ۔ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺎﻟﺪﺍﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ
ﭘﮍﯼ ﮨﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺍُﻧﮑﮯ ﻣﺎﻝ ﻣﺘﺎﺏ ﺳﻤﯿﺖ
ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﻨﺎﺭﮦ ﮐﺶ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﮨﯽ ﻋﯿﺎﻟﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ
ﻋﻮﺭﺕ ﮨﻮﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﺌﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺱ ﺩﺱ
ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﻧﺎ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺍُﻧﮑﮯ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ
ﮨﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﺍﻟﺘﻔﺎﺕ ﺍﻭﺭ
ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺎ ﺳﮑﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻃﻼﻕ ﺗﮏ ﻧﻮﺑﺘﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯿﮟ۔
ﺍﭼﮭﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺑﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ
ﮐﭽﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮦ ﮐﺮﻣﺰﮮ ﻣﺰﮮ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﮑﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﻏﻠﻂ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﻧﻈﺮ
ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺰﺕ
ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎ ﭘﺎﺗﯿﮟ۔
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮨﯽ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﮟ ﺍﺱ ﭘُﺮﺳﻌﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ
ﺑﮭﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺭﺍﺯ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﺭﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ
ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﯿﺶ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺎﮐﻞ ﺳﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ
ﻧﭙﭩﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ؟
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ
ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻼ ﺷﺒﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﻏﺼﯿﻼ ﺁﺩﻣﯽ
ﺗﮭﺎ، ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﻟﻤﺤﺎﺕ ﻣﯿﮟ ( ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ )
ﻣﮑﻤﻞ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ
ﻭﺍﺿﺢ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ ﮐﮧ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﮯﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ
ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺮﺕ ﻧﺎ ﺟﮭﻠﮏ
ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﮨﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺮﯾﮧ ﭘﻦ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ
ﮨﻮ۔ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮩﺖ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺍﻭﺭ
ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﻧﭗ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯿﻮﮞ
ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ؟
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺮﮐﺖ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮ
ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺗﻢ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻓﺮﺍﺭ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﮑﺎ ﻧﻘﻄﮧ
ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ، ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮨﯽ،
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﮐﮩﮯ ﺍُﺳﮯ ﻧﺎ ﺻﺮﻑ
ﯾﮧ ﮐﮧ ﺳُﻨﻨﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮐﮩﮯ ﺳﮯ ﺍﺗﻔﺎﻕ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺍُﺗﻨﺎ
ﮨﯽ ﺍﺷﺪ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ
ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ،
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﺎﺭﯼ ﭼﯿﺦ ﻭ ﭘﮑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﺭ ﻭ ﺷﺮﺍﺑﮯ ﻭﺍﻟﯽ
ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍُﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﯽ
ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ
ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﮐﺎﻡ ﮐﺎﺝ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ،
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﯽ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﮑﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ
ﺑﮭﮕﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ
ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ؟ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ
ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻻ ﺗﻌﻠﻘﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﮨﻔﺘﮧ ﺩﺱ
ﺩﻥ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻮﻝ ﭼﺎﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ ﻭﻏﯿﺮﮦ؟
ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻧﮩﯿﮟ، ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻮﻝ ﭼﺎﻝ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ
ﻋﺎﺩﺕ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﮔﮭﭩﯿﺎ ﻓﻌﻞ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ
ﮐﻮ ﺑﮕﺎﮌﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻭ ﺭُﺧﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ
ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ
ﺷﺮﻭﻉ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﯾﮧ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﮦ
ﻋﻤﻞ ﮨﻮ۔ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﻨﮯ
ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﻥ ﮔﺰﺭﺗﮯ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺍِﺱ ﮐﺎ ﻋﺎﺩﯼ ﮨﻮﺗﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺗﻢ ﺍﯾﮏ
ﮨﻔﺘﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻮﻟﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌﻭ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭ
ﮨﻔﺘﻮﮞ ﺗﮏ ﻧﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺳﺘﻌﺪﺍﺩ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮ
ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﻨﺎ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﮯ۔ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﻮ
ﺍﯾﺴﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮈﺍﻝ ﺩﻭ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻡ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﭩﺘﺎ
ﮨﻮﺍ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﮮ ﮔﻮﯾﺎ ﺗﻢ ﺍُﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﮐﯽ
ﻣﺎﻧﻨﺪ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺟﺲ ﮐﻮ ﭘﯽ ﮐﺮ ﻭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮦ
ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ﺍﮔﺮ ﮨﻮﺍ ﺑﻨﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺍﻭﺭ ﻟﻄﯿﻒ ﮨﻮﺍ ﺑﻨﻮ ﻧﺎ ﮐﮧ
ﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰ ﺁﻧﺪﮬﯽ۔
ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ؟
ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﺎ ﺩﻭ ﺳﮯ
ﮐﭽﮫ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮﺱ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﮔﻼﺱ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ
ﮔﺮﻡ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﯾﮏ ﮐﭗ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﺗﯽ، ﺍﻭﺭ
ﺍُﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺳﻠﯿﻘﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﯽ، ﻟﯿﺠﯿﺌﮯ ﭼﺎﺋﮯ ﭘﯿﺠﯿﺌﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﺱ ﭼﺎﺋﮯ ﯾﺎ
ﺟﻮﺱ ﮐﺎ ﻣﺘﻤﻨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮔﻮﯾﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ
ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﺼﮯ ﯾﺎ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔
ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ
ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔
ﺟﺒﮑﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ
ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺷﺖ ﺭﻭﯾﺌﮯ ﮐﯽ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮭﺮﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮭﺮﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ
ﻟﯿﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ؟
ﮨﺎﮞ، ﺑﺎﻟﮑﻞ، ﻣﯿﮟ ﺍُﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮨﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ۔
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﮐﯽ ﺍُﻥ
ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ ﺟﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﮧ ﮈﺍﻟﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﺎ ﮐﺮﻭﮞ ﺟﻮ ﻭﮦ
ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ؟
ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺁﭘﮑﯽ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﺌﯽ؟
ﮐﺎﮨﮯ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻧﺴﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ؟ ﮐﯿﺎ ﻋﺰﺕ ﺍﺳﯽ
ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺗﻠﺦ ﻭ
ﺗﺮﺵ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﮐﮯ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ ﻧﻔﺲ ﮐﺎ
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻨﺎ ﻟﻮﻣﮕﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍُﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻧﺎ
ﺩﻭ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﺑﮭﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ !
ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﯽ ﺍُﻥ ﻏﺼﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺎﻟﯿﻮﮞ
ﺍﻭﺭ ﺗﻠﺦ ﻭ ﺗﺮﺵ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻼ ﮐﺮ ﺍُﻧﮑﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﯼ
ﺍﻭﺭ ﻣﻔﯿﺪ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻨﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺟﯽ ﮨﺎﮞ، ﺧﻮﺷﮕﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺭﺍﺯ
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻋﻘﻞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺭﺍﺯ
ﺍُﺳﮑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ

Photos from Online Deeni Taleem's post 18/02/2023

حرمین شریفین، ہماری حالت اور ویٹی کن سٹی

اٹلی کے شہر روم کے وسط میں واقع ویٹی کن سٹی ایک مضبوط خودمختار ریاست ہے جس کا سربراہ پاپائے روم ہوا کرتا ہے۔ میں اکتوبر کے مہینے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ اس کے وزٹ پر گیا تھا۔ یہاں ایک مقدس ہال ہے جہاں آرٹسٹوں نے اپنی بائبل کی روشنی میں نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اس کی چھت پر حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا عیسی علیہ السلام تک کی تاریخ کا عکس دکھایا ہے۔
ہم اس ہال میں داخل ہوئے تو یہ کھچاکھچ بھرا ہوا تھا لیکن پورے ہال پر سناٹا طاری تھا۔ یہاں گفتگو کی اجازت تھی اور نہ ہی تصویرکشی کی۔ گویا یہ اس مقدس ہال کا احترام تھا۔
اب ذرا اس کے مقابلے میں ہم حرمین شریفین میں ہونے والی بےاحترامی اور بےادبی کو دیکھ لیں۔ وہ مدینہ جہاں ہمارے بزرگان دین کسی سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے اور چلتے وقت قدموں کی آہٹ سے بھی خود کو بچایا کرتے تھے، میں نے بعض بزرگوں کے حوالے سے سنا ہے کہ وہ کسی قسم کی بےادبی کے خوف سے مدینہ میں زیادہ دیر تک رکتے بھی نہیں تھے لیکن اب تو وہاں عین روضہ رسول پر کیمرے چل رہے ہوتے ہیں، ویڈیو کالوں پر باتیں ہو رہی ہوتی ہیں، عین بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر اپنی تصویریں بنوائی جاتی ہیں، حالت احرام میں اس سے دریغ نہیں کیا جاتا۔ یقین جانیے اس طرح کی ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھ کر میرا تو خون کھولتا ہے۔ کیا مولوی اور کیا عامی، سب ہی اس لعنت میں مبتلا ہیں۔ کوئی احساس ہی نہیں کہ ہم کدھر کھڑے ہیں۔

10/02/2023

شاہد آفریدی کی بیٹی کی شادی اور حضرت عمرؓ

میں نے جس وقت فیس بک کے مختلف گروپس میں لکھنا شروع کیا تھا تب مختلف ویب سائیٹس پہ اکثر لبرل خیالات کے حامل افراد کو شرم و حیا کے لفظ کا ٹھٹّھہ اڑاتے دیکھنا بہت عجیب لگتا تھا۔ کبھی کالج کی لڑکیوں کے کالج اور یونیورسٹیز میں آلودہ سینیٹری پیڈز سرِ عام لٹکانے کی مہم کو فخر سے اجاگر کیا جاتا اور کبھی تحاریر اور ویڈیوز کے ذریعے اس بات کو پروموٹ کیا جاتا کہ بیٹیاں اور بہنیں اپنی بالکل ذاتی نوعیّت کی اشیاء اپنے باپ یا بھائی سے براہِ راست کہہ کے کیوں نہیں منگوا سکتیں۔ اس میں کیا ہرج ہے۔ پھر اس پہ واویلا ہوتا کہ دکاندار خواتین کی ذاتی استعمال کی اشیاء کالے رنگ کے شاپر یا خاکی لفافے میں کیوں پیک کر کے دیتا ہے۔ یعنی عجیب و غریب اعتراضات اور عجیب تر ترغیبات۔۔

لیکن اس وقت تک معاشرے کی آنکھ کی حیا شاید زندہ تھی۔ زیادہ تر لوگ کوومنٹس سیکشن میں اس طرح کی بیہودگیوں پہ معترض ہی نظر آتے۔ لیکن گزرتے وقت، سوشل میڈیا کے ،exposure اور مین سٹریم میڈیا پہ بڑھتی بےراہ روی اور بےحیائی نے رفتہ رفتہ سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہاں تک کہ شاہد خان آفریدی جیسے وضع دار انسان کی بیٹی اور داماد کی وائرل تصویر پہ جس کسی نے شرم وحیا اور وضعداری کی بات کی، اسی کو سینگوں پہ اٹھا لیا گیا کہ میّاں بیوی ہیں تو اس میں کیا ہرج ہے۔ اس میں کیا ہرج ہے، آئیے میں آپ کو بتاتی ہوں۔

جنابِ عمرِ فاروقؓ کا دورِ حکومت ہے اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار ایک جوڑے کو پکڑ کے لاتے ییں کہ یہ باہر چوک میں نامناسب اور قابلِ اعتراض حرکات و سکنات کرتے پکڑے گئے ہیں۔ جنابِ فاروقِ اعظمؓ انہیں قاعدے کے مطابق سزا سناتے ہیں۔ جس پہ وہ دونوں انکشاف کرتے ہیں کہ ہم میّاں بیوی ہیں، ہمیں کیوں سزا دی جا رہی ہے۔ جنابِ فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا کہ اگر یہ دونوں واقعتاً میّاں بیوی ہیں تو انہیں دوگنا سزا دی جائے۔ کیا ان پہ پاس گھر میں خلوت میسّر نہیں؟؟ یہ ہے اسلام کا تصوّرِ حیا۔ اور اسی میں معاشرے کی بھلائی ہے۔

کل ایک نوجوان ہوتی کم سن بیٹی اور اس کے جوان العمر باپ کا کسی گھٹیا گانے پہ ہیرو ہیروئن والے ڈانس کو گلیمرائز کر کے پیش کیا جا رہا تھا۔ آج شادیوں پہ دلہا دلہن کے ڈانس اور اب دلہا کے عین بارات کے فنکشن میں دلہن کے ماتھے پہ بوسہ دینے کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔۔!!

02/02/2023

اس لڑکی کا کیا بنے گا؟

حضرت مولانا پیر ذوالفقاراحمد نقشبندی نے ایک واقعہ سنایا کہ 1994ء میں سمرقند جانے کا موقع ملا تو جامع مسجد سمرقند میں خطبہ جمعہ دیا ۔ نماز جمعہ کے بعد چند نوجوان میرے پاس آئے اور کہنے لگے حضرت! آپ ہمارے گھر میں تشریف لے چلیں ہماری والدہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔ میں نے معذرت کر دی۔ مفتی اعظم سمرقند میرے ساتھ ہی کھڑے تھے وہ کہنے لگے حضرت! آپ ان کو انکار نہ کریں میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا، ان کے ہاں جانا ضروری ہے
میں نے کہا بہت اچھا
چنانچہ ہم دوستوں سے ملاقات کر کے چل پڑے۔
راستے میں مفتی اعظم بتانے لگے کہ ان نوجوان لڑکوں کی والدہ ایک مجاہدہ اور پکی مومنہ ہے، جب کمیونزم کا انقلاب آیا تو اس وقت وہ بیس سال کی نوجوان لڑکی تھی، اس کے بعد ستر سال گزر چکے ہیں اس طرح اس کی عمر نوے سال ہو چکی ہے، اللہ تعالیٰ نے کمیونزم کے دور میں اتنا مضبوط ایمان دیا تھا کہ ادھر دہریت کا سیلاب آیا اور ادھر یہ نوجوان لڑکیوں کو دین پر جمے رہنے کی تبلیغ کرتی تھی، ہم پریشان ہوتے کہ اس نوجوان لڑکی کی جان بھی خطرے میں ہے اور یہ دہریے قسم کے فوجی اس کی عزت خراب کر دیں گے اور اسے سولی پر لٹکا دیں گے، مگر وہ کہتی کہ میری عزت و آبرو اور جان اسلام سے زیادہ قیمتی نہیں ہےلہٰذا یہ عورتوں کو کھلے عام تبلیغ کرتی رہتی حتیٰ کہ سینکڑوں کی تعداد میں عورتیں دہریت سے توبہ کر کے دوبارہ مسلمان ہوگئیں۔اب وہ بیمار ہے بوڑھی ہے اور چارپائی پر لیٹی ہوئی ہے اس عورت کو آپ کے بارے میں کسی نے بتایا کہ پاکستان سے ایک عالم آئے ہیں اس کا جی چاہا کہ وہ آپ سے گفتگو کرے، اس لئے میں نے کہا کہ آپ انکار نہ کریں۔
اس عاجز نے جب یہ سنا تو دل میں بہت خوش ہوا کہ جب وہ ایسی اللہ کی نیک بندی ہے تو ہم بھی ان سے دعا کروائیں گے۔ جب ہم ان کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ صحن میں ان کی چارپائی پڑی ہوئی تھی او وہ اس پر لیٹی ہوئی تھیں۔ لڑکوں نے اس کے اوپر ایک پتلی سی چادر ڈال دی، ہم چارپائی سے تقریباً ایک میٹر دور جا کر کھڑے ہو گئے۔ اس عاجز نے جاتے ہی سلام کیا۔ سلام کرنے کے بعد میں نے عرض کیا اماں! ہمارے لئے دعا مانگئے، ہم آپ کی دعائیں لینے کیلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ جب میں نے عرض کیا تو انہوں نے چادر کے اندر ہی اپنے ہاتھ اٹھائے اور بوڑھی آواز میں سب سے پہلے یہ دعا مانگی: خدایا! ایمان سلامت رکھنا۔ یقین کیجئے کہ ہماری آنکھوں سے آنسو آ گئے
اس دن احساس ہوا کہ ایمان کتنی بڑی نعمت ہے کہ ستر سال تک ایمان پر محنت کرنے والی عورت اب بھی جب دعا مانگتی ہے تو پہلی بات کہتی ہے خدایا ایمان سلامت رکھنا۔

30/01/2023

شادی کو اٹھارہ سال ہوچکے مگر .....

پچھلے سال ایک خاتون خانہ نے ہم سے انباکس میں اپنے دل کی باتیں کیں ۔۔۔۔ بتانے لگیں: میری شادی کو اٹھارہ انیس سال ہوچکے ہیں، بچے بھی ہیں اور ان سالوں میں اپنے مرد کی صرف عزت ہی دیکھی ہے، محبت نہیں دیکھی۔ لگتا ہے میرا کام صرف بچے پالنا اور گھر سنبھالنا ہے،اگرچہ شوہر ایک ذمہ دار مرد ہیں، نوکری پیشہ ہیں، لیکن وہ جو دل کی آسودگی اور محبت والا خانہ ہے وہ خالی ہے۔ ان کو پہلے والی محبت اب نہیں رہی۔
ان سے کچھ دیر بات ہوتی رہی، وہی زیادہ بولتی رہیں، جب خوب دل ہلکا کر چکیں تو پوچھا: اچھا آپ کے دل کا خانہ تو خالی ہے، کیا آپ کے ہمسفر کا پُر ہے؟ آپ خود مزاجاً کیسی ہیں؟ کیا ایسا ہے کہ آپ نے اظہار محبت کیا ہو اور رسپانس نہ ملا ہو؟ آپ نے اٹھارہ سالوں میں ان کی کوئی سالگرہ خود سے منائی؟؟ کوئی سرپرائز گفٹ دیا ؟
سارے سوالوں کا ایک ہی جواب تھا
نہیں
پھر پوچھا آپ آخری بار کب دل سے تیار ہوئیں تھیں؟ ساری مصروفیات کو ایک طرف رکھ کر ان کے لیے کب نکھرے رنگ کا جوڑا پہن کر کوئی مہکتا سا اسپرے کیا تھا؟ بولیں شادی کے اولین ہفتوں میں شاید کیا ہو، اس سوال کا جواب بھی نفی میں تھا۔
تو ان کو دھیرج سے سمجھایا کہ اسی طرح گلے تو آپ کے شریک سفر کو بھی ہوں گے،آپ نے تو مجھ سے شئیر کر لیا، سہیلیوں سے کر لیتی ہوں گی، وہ کس سے کہیں ؟ مرد تو کبھی غیر سے بیوی کی بات نہیں کرتا، ارمان تو اس کے بھی ہوتے ہیں کہ دل کا لوتھڑا تو وہ بھی سینے میں رکھتا ہے جو دھڑکتا بھی ہے اور ہمکتا بھی ہے۔
عورت کے پاس تو محبت کے دھاگوں میں باندھ لینے کی سب سے بڑی طاقت ہے،مرد ماں کی محبت میں فطری طور پر بندھ جاتا ہے، بیٹی سے محبت اس کے خون میں شامل ہوتی ہے،لیکن بیوی کو کوشش کرنی پڑتی ہے۔ مرد تجدید چاہتا ہے، حسن پرست بھی ہے،توجہ بھی مانگتا ہے،اور ہم ہربار اس کے ہاتھ میں بجلی کے بل اور سودے کی لسٹ تھما دیتے ہیں ۔کبھی اپنا آپ تھما کر دیکھیے، ہاں کوشش ناکام ہوجائے تو پھر گلہ بنتا ہے۔ آپ زیادہ نہیں بیس فیصد پہل کرکے دیکھیے، سو فیصد نہ بھی ملا تو دو گنا ہو کر ضرور ملے گا، محبت میں بھی پارٹنرشپ چلتی ہے، جتنا انویسٹ کریں گے اتنا نفع ہوگا، ہاں کبھی گھاٹا بھی ہوجائے تو گھٹانے کی بجائے انویسٹمنٹ اور بڑھا دیجیے۔
ذرا سی دیر بعد مسکرا اٹھیں اور بولیں:
وہ سرمایہ جو سنبھال کے رکھا تھا، اب لگانا پڑے گا!
میں نے کہا وہ سرمایہ نہیں ادھار تھا۔ آپ ہی لوٹانا شروع کردیجیے اور ایسے لوٹائیے کہ ان کو مقروض کردیجیے ۔ اور خود کو سنوارنا سیکھیے۔ دوسروں کی محبت کے انتظار میں۔۔۔۔ ہم خود سے محبت کرنا کیوں چھوڑ دیں؟

30/01/2023

اُلو نے بتایا بستیاں کیوں ویران ہوتی ہیں؟

کہتے ہیں کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ہوا، ویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے کہا: کس قدر ویران گاؤں ہے؟
طوطے نے کہا: لگتا ہے یہاں کسی الو کا گزر ہوا ہے!
جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھے، عین اسی وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھا، اس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ہوکر بولا:
تم لوگ اس گاؤں میں مسافر لگتے ہو
آج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤ
میرے ساتھ کھانا کھاؤ
اُلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نہ کرسکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کرلی ، کھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ہونے کی اجازت چاہی،
تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا:
تم کہاں جا رہی ہو ؟
طوطی پریشان ہوکر بولی: یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا رہی ہوں ۔
الو یہ سن کر ہنسا ۔
اور کہا :
یہ تم کیا کہہ رہی ہو تم تو میری بیوی ہو
اس پہ طوطا طوطی الو پر جھپٹ پڑے اور گرما گرمی شروع ہو گئی ، دونوں میں جب بحث و تکرار زیادہ بڑھی تو اُلو نے طوطے کے سامنے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا:
ایسا کرتے ہیں ہم تینوں عدالت چلتے ہیں اور اپنا مقدمہ قاضی کے سامنے پیش کرتے ہیں
قاضی جو فیصلہ کرے وہ ہمیں قبول ہوگا
اُلو کی تجویز پر طوطا اور طوطی مان گئے اور تینوں قاضی کی عدالت میں پیش ہوئے
،قاضی نے دلائل کی روشنی میں اُلو کے حق میں فیصلہ دے کر عدالت برخاست کردی
طوطا اس بے انصافی پر روتا ہوا چل دیا تو اُلو نے اسے آواز دی:
بھائی اکیلئے کہاں جاتے ہو؟ اپنی بیوی کو تو ساتھ لیتے جاؤ!
طوطے نے حیرانی سے اُلو کی طرف دیکھا اور بولا: اب کیوں میرے زخموں پر نمک چھڑکتے ہو؟! .......... یہ اب میری بیوی کہاں ہے؟ ۔۔۔۔ عدالت نے تو اسےتمہاری بیوی قرار دے دیا ہے!
اُلو طوطے کی بات سن کر نرمی سے بولا: نہیں دوست، طوطی میری نہیں تمہاری ہی بیوی ہے۔ میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الو ویران نہیں کرتے۔ بستیاں تب ویران ہوتی ہیں جب ان سے انصاف اٹھ جاتا ہے۔

30/01/2023

اَعْمَارُ اُمَّتِیْ مَا بَيْنَ السِّتِّينَ اِلَی السَّبْعِينَ،‌‌‌‏ وَاَقَلُّهُمْ مَنْ يَجُوزُ ذٰلِكَ.

میری امت کی عمریں ساٹھ سال سے ستر سال تک ہیں اور کم ہی لوگ اس سے آگے بڑھتے ہیں

मेरी उम्मत की उमरें 60 साल से 70 साल तक हैं, और कम ही लोग इस से आगे बढ़ते हैं।

The ages of (the people in) my nation will be between sixty and seventy, and few of them will exceed that

Meri ummat ki umren 60 sal se 70 sal tak hain, Aur kam hi log is se aage bardhte hain.

سنن ابن ماجه: 4236

29/01/2023

ماں کے نام بیٹی کا عجیب و غریب خط

اتنی صبح سویرے بیٹی کے کمرے کو خالی پا کر ماں کا دل ویسے ہی دھڑک اٹھا تھا اور اوپر سے پلنگ پر رکھا ہوا خط کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اٹھایا
لکھا تھا: پیاری امی! میں آپ کو یہ بتاتے ہوئے بہت ہی ندامت اور شرمندگی محسوس کر رہی ہوں، مگر کیا کروں میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو گئی ہوں، میں اپنے ہم جماعت دوست جگنو کے ساتھ جا رہی ہوں،
اس نے مجھے حقیقی محبت سے آشنا کیا ہے، سچ تو یہ ہے کے ہم نے تین مہینے پہلے ہی کورٹ میرج کر لی تھی
اور خیر سے امید کے ساتھ بھی ہوں، جگنو نے مجھے یقین دلایا ہے کے وہ مجھے ہمیشہ خوش رکھے گا، ہم دونوں اکھٹے رہیں گے، جگنو نے مجھے یقین دلایا ہے کے چرس کوئی خاص نقصان نہیں پہنچاتی اور نہ ہی یہ پکی عادت بن جاتی ہے، فی الحال تو ہم لطف و سرور کے لیے پیتے ہیں اور اگر دل کیا تو بآسانی ترک بھی کر دیں گے، بس پولیس کا دھڑکا لگا رہتا ہے کیوں کے جب سے جگنو جیل سے فرار ہو کر آیا ہے تب سے گھر پر روپوش ہے، اور کوشش کر رہا ہے کے کسی طرح وہ مقتول کے ورثاء سے صلح کر لے تا کہ پولیس کا یہ دھڑکا بند ہو۔
پیاری امی بس چند سال میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو میں آپ سے آپ کے نواسے نواسیوں کو ملوانے لاؤں گی، مجھے آپ کی ہر دم یاد آتی رہے گی۔

نوٹ: امی جان میں آپ سے مزاق کر رہی تھی، میں گھر کی چھت پر ہی ہوں، میں بس آپ کو یہ بتانا چاہتی تھی کہ ہماری زندگی میں اس سے بھی برے واقعات پیش آ سکتے ہیں، بس امتحانوں کا رزلٹ ہی سب سے برا اور بڑا سانحہ نہیں ہوا کرتا۔
امی جان رزلٹ آ گیا ہے اور میں فیل ہو گئی ہوں
اگر کہیں تو چھت سے نیچے آ جاؤں؟؟
ماں نے الحمداللہ پڑھتے ہوئے خط بند کیا اور باہر نکل کر چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: اتر آ ۔۔۔۔ کی بچی!
اللہ کرے تو ساری عمر اور کسی امتحان میں پاس نہ ہو،۔…

29/01/2023

اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
کوھاٹ تاندہ ڈیم میں کشتی الٹنے سے شہید ہونے والے جنتی بچے الله تعالیٰ ان کے والدین کو صبرجمیل عطافرمائے۔

28/01/2023

کوریا کے لوگوں کی عجیب و غریب عادات

کوریا میں ایک خاتون پراپرٹی ڈیلر سے میری اچھی سلام دعا تھی۔۔۔۔اس نے ہمیں دو مرتبہ گھر تبدیل کرنے میں مدد دی۔۔۔۔جب گھر تبدیل کیا تو وہ مجھ سے ملنے آئی اور ساتھ ایک دو کلو کا سرف کا پیکٹ لے کر آئی ۔۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا کہ یہ سرف کس لیے لائی ہو؟؟؟
تو اسنے کہا کہ جب ہمارے ہاں کوئی گھر تبدیل کرتا ہے تو ہم اسے سرف کا پیکٹ دیتے ہیں اور ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جتنے سرف کے جھاگ بنیں گے اتنی آپ کے گھر میں خوشیاں اور پیسے آئیں گے۔
آٹو میٹک مشین میں جھاگوں کا تو مجھے اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ کتنے بن رہے ہیں۔
لیکن اسکا دیا سرف میں نے بہت عقیدت سے استعمال کیا کیونکہ وہ استعمال کرتے ہوئے مجھے ہمیشہ لگتا کہ یہ جھاگ نہیں پیسے بنا رہا ہے 😁
اچھا وہ جو بھی گھر مجھے دکھاتی اسکا اس بات پر زور ہوتا کہ ک یہ ویسٹ اوپن ہے یا نہیں ہے
ایک مرتبہ میں نے اس سے پوچھا کہ ویسٹ اوپن سے کیا ہوگا؟
اس نے بتایا کہ اگر گھر ویسٹ اوپن ہو تو ہوا زیادہ آتی ہے اور جتنی ہوا آتی ہے اتنے پیسے بھی آتے ہیں 😁
اس کے علاوہ کوریا کی کئی عمارتوں میں چوتھی منزل نہیں ہوتی تھی.کیونکہ وہ لوگ نمبر چار کو منحوس سمجھتے ہیں .......... تیسری منزل کے بعد پانچویں منزل آ جاتی ہے۔، یا پھر ایلیویٹر میں نمبرز اس طرح ہوتے ہیں:

1,2,3,F, 5,6

یعنی نمبر 4 کی جگہ ایف لکھ دیتے ہیں۔۔۔۔چار نمبر کو موت کا نمبر سمجھتے ہیں
انکی سوچ پر ہنسی آتی تھی کہ بے شک آپ نے چار نمبر نہیں لکھا لیکن عمارت کو تو معلوم ہے کہ یہ چار نمبر منزل ہے 😁
ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ تحفے میں جوتے دینا برا سمجھا جاتا تھا۔۔انکا خیال تھا کہ جسے جوتے دئیے جائیں گے وہ اس تعلق سے بھاگ جائے گا
کسی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ سے بریک اپ کرنا ہوتا تو اسے جوتے تحفے میں دے دیتے
وہ مہذب قوم ہے جوتا دے کر اشارہ دیتی ہے کہ میری زندگی سے چلے جاؤ
ہماری قوم ہو تو کہہ دے: چل دوڑ جا! 😄
کورین قوم کی ترقی کے باوجود ان لوگوں کا ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر توہم پرستی کرنا دلچسپ تھا

28/01/2023

اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ

بیشک نماز بےحیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔

बेशक नमाज़ बेहयाई और बुरे कामों से रोकती है

Surely Salah restrains one from shameful and evil acts.

Beshak namaz behayai Aur bure kamon se rokti hai

سورۃ العنکبوت: 45

27/01/2023

واٹس ایپ، نوجوان اور بوڑھا

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تْو تکار ہوگئی۔ تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا
بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں افواہ ل پھیلانی شروع کردی کہ وہ چور ہے۔ وہ ہر رہ گزر سے یہی بات کرتا۔۔۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا، لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی
رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے۔۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا
بوڑھا سردار کا حکم بجا لایا۔۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی، سبھی لوگ جمع ہوئے، بوڑھے نے رحم کی استدعا کی، سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ یہ تو ناممکن سی بات ہے
سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں افواہ پھیلائی۔۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ افواہ کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی۔۔۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ افواہ کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا
یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔
کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں افواہیں پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ بنا سوچے سمجھے کی گئی ہماری چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں..... اسکے بارے میں ہمارے پیارے آقا نبی کریم ﷺ اور اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی وعید سنائی ہے۔ ویسے بھی آجکل سوشل میڈیا: واٹس ایپ اور فیس بک کا دور ہے جہاں بنا کسی تحقیق اور ثبوت کے عزت دار لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں جو کہ بہت بڑا گناہ اور ظلم ہے

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi