28/07/2026
🌹السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُاللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ🌹
💐حدیث کا عنوان💐
🌹اسلام کی بنیادیں، نوافل کی فضیلت اور زبان کی حفاظت نجات کا ذریعہ🌹
٢٦١٧ ـ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِي عَنِ النَّارِ. قَالَ: «لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ».
ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ»، ثُمَّ تَلَا: ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ حَتَّى بَلَغَ: ﴿يَعْمَلُونَ﴾.
ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ كُلِّهِ، وَعَمُودِهِ، وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ».
ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ. فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ، قَالَ: «كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا». فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ: «ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ، وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ـ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ ـ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟»
ترجمہ
حضرت معاذ بن جبلؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا۔ ایک دن چلتے ہوئے میں آپ ﷺ کے قریب ہوگیا اور عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے۔
آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے بہت عظیم بات پوچھی ہے، لیکن جس پر اللہ تعالیٰ آسان فرما دے اس کے لیے یہ آسان ہے: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔
پھر فرمایا: کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اور رات کے آخری حصے میں آدمی کی نماز (بہت بڑی نیکی ہے)، پھر آپ ﷺ نے سورۂ سجدہ کی آیت ﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ...﴾ تلاوت فرمائی۔
پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کے پورے معاملے کا سر، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: دین کی بنیاد اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی بلند ترین چوٹی جہاد ہے۔
پھر فرمایا: کیا میں تمہیں ان سب کی حفاظت کرنے والی چیز نہ بتاؤں؟ پھر آپ ﷺ نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: اسے قابو میں رکھو۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا ہماری باتوں پر بھی ہماری گرفت ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! تمہاری ماں تمہیں گم پائے، لوگوں کو ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل (یعنی زبان کے گناہ) ہی تو ہے۔
🌹 حدیثِ مبارک کی تشریح 🌹
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے نجات کا جامع اور مکمل راستہ بیان فرمایا ہے۔ ابتدا میں اسلام کے بنیادی ارکان بیان کیے، پھر نفل عبادات جیسے روزہ، صدقہ اور تہجد کی فضیلت واضح فرمائی۔ اس کے بعد بتایا کہ دین کا ستون نماز ہے اور اس کی سربلندی اللہ کی راہ میں جہاد سے ہے۔
حدیث کا سب سے اہم سبق زبان کی حفاظت ہے۔ انسان اکثر اپنی زبان کی وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے، جیسے جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان اور بے مقصد گفتگو۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے زبان پر قابو رکھنے کو تمام اعمال کی حفاظت کا ذریعہ قرار دیا۔ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے، وہ اپنے دین اور آخرت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
🌹مشکل الفاظ کا معنیٰ🌹
جُنَّةٌ: ڈھال، بچاؤ کا ذریعہ۔
تُطْفِئُ: بجھا دیتی ہے۔
جَوْفُ اللَّيْلِ: رات کا آخری حصہ۔
ذِرْوَةُ السَّنَامِ: اونٹ کے کوہان کی چوٹی، بلند ترین مقام۔
مِلَاكُ: اصل، بنیاد، قابو میں رکھنے والی چیز۔
ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ: عربی محاورہ، تنبیہ اور تاکید کے لیے۔
حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ: زبان کے برے اعمال اور گناہ۔
حدیث نمبر 2617
سنن ترمذی
تحریر:
ابو عمار عبد المالک
نائب رئیس
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
27/07/2026
🌹السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُاللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ🌹
🌹(١٦) بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَخْذِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدَعِ🌹
🌹 باب: سنت کو مضبوطی سے اختیار کرنے اور بدعات سے اجتناب کرنے کے بارے میں وارد ہونے والی احادیث 🌹
ترجمۃ الباب کی مختصر تشریح
اس باب میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے ان احادیث کو جمع کیا ہے جن میں نبی کریم ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے، خلفائے راشدین کے طریقے کی پیروی کرنے اور دین میں نئی نئی باتیں (بدعات) ایجاد کرنے سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ امت کی نجات کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی اتباع میں ہے، جبکہ بدعات اختلاف، گمراہی اور امت کے انتشار کا سبب بنتی ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دین کو اسی شکل میں اختیار کرے جس طرح رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر عمل کیا۔
💐عنوان:💐
سنتِ نبوی اور سنتِ خلفائے راشدین کو مضبوطی سے تھامنے اور بدعات سے بچنے کی وصیت
٢٦٧٦ ـ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَجَرٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمًا بَعْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَوْعِظَةً بَلِيغَةً ذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، وَوَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَذِهِ مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ، فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِنْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّهَا ضَلَالَةٌ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَعَلَيْهِ بِسُنَّتِي، وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ».
قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
وَقَدْ رَوَى ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ هَذَا، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرٍو السُّلَمِيِّ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ، وَالْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ يُكْنَى: أَبَا نَجِيحٍ.
وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ حُجْرِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ.
ترجمہ
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فجر کی نماز کے بعد ہمیں ایسا مؤثر وعظ فرمایا کہ اس سے آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور دل کانپ اٹھے۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو رخصت ہونے والے شخص کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں کوئی وصیت فرمائیے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
"میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے، (حاکم کی) بات سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام ہی امیر بنا دیا جائے۔ کیونکہ تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیکھے گا، اس وقت میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا، اسے اپنے داڑھوں سے مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھنا، اور دین میں نئی نئی باتوں سے بچنا، کیونکہ ہر نئی ایجاد کردہ دینی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔"
🌹 حدیثِ مبارک کی تشریح 🌹
یہ حدیث دین اسلام کے جامع ترین اصولوں میں سے ایک ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کو مستقبل میں پیدا ہونے والے اختلافات کا علاج پہلے ہی بتا دیا کہ ایسے وقت میں نجات صرف سنت رسول ﷺ اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامنے میں ہے۔
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا تقویٰ ہر خیر کی بنیاد ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی اجتماعی وحدت برقرار رکھنے کے لیے جائز امور میں حکمران کی اطاعت ضروری ہے، خواہ وہ حسب و نسب کے اعتبار سے کم تر ہی کیوں نہ ہو۔
اس حدیث کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے، اس لیے عبادات اور عقائد میں نئی چیزیں ایجاد کرنا درست نہیں۔ ہر وہ دینی عمل جس کی بنیاد قرآن و سنت میں نہ ہو، بدعت ہے اور وہ انسان کو صراطِ مستقیم سے دور لے جاتی ہے۔
"داڑھوں سے مضبوطی سے پکڑنے" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ سنت پر معمولی نہیں بلکہ انتہائی مضبوطی اور استقامت کے ساتھ قائم رہنا چاہیے، خواہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
جامع الترمذي (2676).
🌹 مشکل الفاظ کا معنیٰ🌹
مَوْعِظَةٌ بَلِيغَةٌ: نہایت مؤثر نصیحت۔
وَجِلَتْ: خوف زدہ ہوگئے، لرز اٹھے۔
مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ: رخصت ہونے والے کی نصیحت۔
عَبْدٌ حَبَشِيٌّ: حبشہ کا غلام۔
اخْتِلَافًا كَثِيرًا: بہت زیادہ اختلاف۔
عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ: اسے انتہائی مضبوطی سے پکڑ لو۔
مُحْدَثَاتُ الْأُمُورِ: دین میں نئی ایجاد کی گئی باتیں۔
بِدْعَةٌ: دین میں ایسی نئی بات جس کی اصل شریعت میں نہ ہو۔
🌹 تحریر 🌹
مفتی ابو عمار عبد المالک
نائب رئیس
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
24/07/2026
متکبروں کی قیامت کے دن ذلت و رسوائی اور ان کا دردناک انجام
٢٤٩٢ ـ حَدَّثَنَا سُوَيْدُ ۔۔۔۔۔۔۔، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
«يُحْشَرُ الْمُتَكَبِّرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْثَالَ الذَّرِّ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ، يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ، فَيُسَاقُونَ إِلَى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمَّى بُولَسَ، تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ، يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ».
ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“تکبر کرنے والوں کو قیامت کے دن آدمیوں کی صورت میں نہایت چھوٹی چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا۔ ہر جانب سے ذلت و رسوائی انہیں گھیرے ہوئے ہوگی۔ پھر انہیں ہانک کر جہنم کے ایک قید خانے کی طرف لے جایا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔ ان کے اوپر بھڑکتی ہوئی آگ چھائی ہوگی اور انہیں اہلِ جہنم کے جسموں سے نکلنے والا نچوڑ، یعنی طینۃ الخبال پلایا جائے گا۔”
شرح حدیث
یہ حدیث تکبر کی قباحت اور اس کے نہایت ہولناک اخروی انجام کو بیان کرتی ہے۔ تکبر صرف ظاہری بڑائی کا نام نہیں، بلکہ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھے۔ نبی کریم ﷺ نے دوسری حدیث میں تکبر کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے:
«الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ»
یعنی تکبر حق بات کو ٹھکرانا اور لوگوں کو حقیر جاننا ہے۔
۱۔ متکبروں کا چیونٹیوں جیسا ہونا
دنیا میں متکبر شخص اپنے آپ کو بڑا، باعزت اور دوسروں سے برتر سمجھتا ہے، لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے انتہائی حقیر اور ذلیل حالت میں اٹھائیں گے۔ وہ انسانی شکل میں ہوگا، مگر جسامت اور حقارت میں چھوٹی چیونٹیوں یا باریک ذرات کی مانند ہوگا۔
یہ سزا اس کے عمل کے عین موافق ہوگی؛ کیونکہ اس نے دنیا میں بڑائی چاہی تھی، لہٰذا آخرت میں اسے چھوٹا اور حقیر بنا دیا جائے گا۔
بعض شارحین نے اسے حقیقی معنی پر محمول کیا ہے کہ ان کی جسامت چیونٹیوں جیسی ہوگی، جبکہ بعض نے اسے انتہائی ذلت، بے قدری اور حقارت سے تعبیر کیا ہے۔ دونوں صورتوں میں اصل مقصد متکبرین کی انتہائی رسوائی بیان کرنا ہے۔
۲۔ ہر طرف سے ذلت کا گھیر لینا
فرمایا:
«يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ»
یعنی ہر جانب سے ذلت و رسوائی انہیں ڈھانپ لے گی۔ نہ ان کا کوئی احترام ہوگا، نہ کوئی عزت، نہ کوئی مددگار۔ دنیا میں جن لوگوں کو وہ حقیر سمجھتے تھے، قیامت کے دن انہی مخلوقات کے درمیان وہ خود انتہائی بے وقعت ہوں گے۔
۳۔ سزا عمل کی جنس سے ہوتی ہے
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی عدل پر مبنی سنت نمایاں ہے کہ انسان کو اس کے عمل کی جنس کے مطابق بدلہ ملتا ہے۔ متکبر دنیا میں اپنے آپ کو بلند اور دوسروں کو پست سمجھتا تھا، لہٰذا آخرت میں اسے پست، ذلیل اور حقیر کر دیا جائے گا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا﴾
“یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے مقرر کرتے ہیں جو زمین میں نہ بڑائی چاہتے ہیں اور نہ فساد۔”
۴۔ جہنم کا قید خانہ “بولس”
حدیث میں بتایا گیا ہے کہ متکبروں کو جہنم کے ایک خاص قید خانے میں ہانکا جائے گا جس کا نام بولس ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں بعض گناہوں کے مرتکبین کے لیے مخصوص مقامات اور مخصوص سزائیں ہوں گی۔
انہیں عزت کے ساتھ نہیں بلکہ مجرموں کی طرح دھکیلتے اور ہانکتے ہوئے وہاں لے جایا جائے گا۔
۵۔ نارُ الأنيار
نار الأنيار سے مراد نہایت سخت، بلند اور بھڑکتی ہوئی آگ ہے جو ان کے اوپر چھا جائے گی۔ دنیا میں تکبر کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بالا سمجھتے تھے، مگر آخرت میں ان کے اوپر آگ مسلط ہوگی۔
۶۔ طینۃ الخبال
متکبروں کو پینے کے لیے صاف پانی نہیں ملے گا، بلکہ اہلِ جہنم کے جسموں سے نکلنے والا پیپ، خون اور بدبودار گندا مادہ دیا جائے گا۔ اسے طینۃ الخبال کہا گیا ہے۔
یہ انتہائی نفرت انگیز مشروب اس بات کی علامت ہے کہ تکبر باطن کی ایک گندی بیماری ہے، لہٰذا اس کی سزا بھی نہایت گھناؤنی اور اذیت ناک ہوگی۔
۷۔ تکبر کی مختلف صورتیں
تکبر کی چند نمایاں صورتیں یہ ہیں:
علم یا عبادت کی وجہ سے دوسروں کو حقیر سمجھنا۔
مال، خاندان، منصب یا شہرت پر غرور کرنا۔
صحیح بات واضح ہوجانے کے باوجود اسے قبول نہ کرنا۔
غریبوں اور کمزوروں سے حقارت کے ساتھ پیش آنا۔
دوسروں سے سلام، ملاقات یا حسنِ سلوک کو اپنی شان کے خلاف سمجھنا۔
اپنی رائے کو ہمیشہ درست اور دوسروں کی رائے کو بے وقعت سمجھنا۔
۸۔ جائز وقار اور تکبر میں فرق
اچھا لباس پہننا، پاکیزگی اختیار کرنا یا باوقار رہنا بذاتِ خود تکبر نہیں۔ تکبر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنے لباس، علم، مال یا مرتبے کی وجہ سے دوسروں کو حقیر سمجھے یا حق بات قبول کرنے سے انکار کرے۔
۹۔ تکبر کا علاج
تکبر سے بچنے کے لیے انسان کو اپنی حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ اس کی ابتدا ایک نطفے سے ہوئی، اس کا جسم بیماری اور کمزوری کا شکار ہے اور آخرکار اسے مٹی میں دفن ہونا ہے۔ علم، دولت، قوت اور عزت سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں؛ وہ جب چاہیں واپس لے سکتے ہیں۔
تواضع اختیار کرنا، غریبوں کے ساتھ بیٹھنا، سلام میں پہل کرنا، اپنی غلطی تسلیم کرنا اور دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف کرنا تکبر کے مؤثر علاج ہیں۔
حاصلِ حدیث
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دنیا میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے لوگ قیامت کے دن انتہائی چھوٹے، ذلیل اور حقیر بنا دیے جائیں گے۔ انہیں جہنم کے مخصوص قید خانے میں لے جایا جائے گا اور سخت ترین آگ اور گندے مشروب کا عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا مسلمان کو حق کے سامنے جھکنے، مخلوقِ خدا کے ساتھ تواضع اختیار کرنے اور ہر قسم کے غرور سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تَخْرِيجُ الْحَدِيثِ
أَخْرَجَهُ الْإِمَامُ التِّرْمِذِيُّ فِي «جَامِعِهِ»، كِتَابِ صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ، رَقْمَ (٢٤٩٢)، وَاللَّفْظُ لَهُ،
وَقَالَ: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ».
وَأَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي «الْمُسْنَدِ»، رَقْمَ (٦٦٧٧)،
وَالْحُمَيْدِيُّ فِي «مُسْنَدِهِ»، رَقْمَ (٦٠٩)۔
تحریر:
مفتی ابو عمار عبد المالک
نائب رئیس
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
14/07/2026
🌹السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُاللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ🌹
💐عنوان:💐
🌹آیت الکرسی کی فضیلت اور شیطان سے حفاظت کا عظیم نسخہ🌹
صحيح بخارى حدیث: 2311
وَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو عَمْرٍو: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" وَكَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ، فَأَتَانِي آتٍ فَجَعَلَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، وَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي مُحْتَاجٌ، وَعَلَيَّ عِيَالٌ، وَلِي حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، قَالَ: فَخَلَّيْتُ عَنْهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا، فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ سَيَعُودُ فَرَصَدْتُهُ، فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: دَعْنِي فَإِنِّي مُحْتَاجٌ وَعَلَيَّ عِيَالٌ لَا أَعُودُ، فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ فَرَصَدْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ أَنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ، قَالَ: دَعْنِي أُعَلِّمْكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا، قُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ: اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255، حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ، فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلَا يَقْرَبَنَّكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ، فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، قَالَ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: قَالَ لِي: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ، فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ مِنْ أَوَّلِهَا حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ: اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255، وَقَالَ لِي: لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ، وَلَا يَقْرَبَكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ، وَكَانُوا أَحْرَصَ شَيْءٍ عَلَى الْخَيْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ، تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَا، قَالَ: ذَاكَ شَيْطَانٌ".
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے رمضان کی زکوٰۃ (صدقۂ فطر کے غلے) کی حفاظت پر مقرر فرمایا۔ رات کے وقت ایک آنے والا شخص غلے میں سے مٹھیاں بھرنے لگا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: میں ضرور تمہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤں گا۔ اس نے اپنی سخت محتاجی اور اہل و عیال کا عذر پیش کیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا۔
صبح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اے ابوہریرہ! تمہارے قیدی نے کیا کیا؟" میں نے سارا واقعہ عرض کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اس نے تم سے جھوٹ کہا ہے اور وہ پھر آئے گا۔"
اسی طرح وہ دوسری اور تیسری رات بھی آیا۔ تیسری رات جب میں نے اسے پکڑا تو اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں ایسی بات سکھاتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ تمہیں فائدہ دے گا۔ اس نے کہا: "جب اپنے بستر پر جاؤ تو شروع سے آخر تک آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک محافظ تم پر مقرر رہے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔"
صبح میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو بتائی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اس نے یہ بات سچ کہی، حالانکہ وہ بہت جھوٹا ہے۔ کیا تم جانتے ہو کہ تین راتوں سے تم کس سے بات کر رہے تھے؟" میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ شیطان تھا۔"
٫٫٫حدیث کی تشریح،،،
یہ حدیث صحیح بخاری کی نہایت مشہور اور عظیم فضائل والی احادیث میں سے ہے۔ اس میں متعدد دینی، تربیتی اور اعتقادی مسائل بیان ہوئے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رمضان کے صدقات کی حفاظت پر مقرر فرمایا، جس سے معلوم ہوا کہ بیت المال اور امانت کی حفاظت کے لیے ذمہ دار مقرر کرنا مشروع ہے۔
شیطان انسانی شکل اختیار کرکے آیا اور بار بار غربت کا بہانہ بنا کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دھوکا دیتا رہا، لیکن رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اس کی حقیقت سے آگاہ فرما دیا۔ اس سے نبی کریم ﷺ کے علمِ وحی اور صدقِ نبوت کا واضح ثبوت ملتا ہے۔
اس حدیث میں آیت الکرسی کی غیر معمولی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ بات شیطان نے کہی، لیکن چونکہ اس کی تصدیق خود رسول اللہ ﷺ نے فرما دی، اس لیے یہ بات حق اور قابلِ عمل ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان "صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ" (اس نے سچ کہا، حالانکہ وہ بہت جھوٹا ہے) یہ اصول بھی سکھاتا ہے کہ کسی جھوٹے شخص کی ہر بات جھوٹ نہیں ہوتی، بلکہ اگر کسی بات کی شرعی دلیل سے تصدیق ہو جائے تو وہ قابلِ قبول ہوتی ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنا شیطانی اثرات، وسوسوں اور ایذا سے حفاظت کا عظیم مسنون عمل ہے۔
حدیث مبارک سے حاصل ہونے والے فوائد و مسائل
1. آیت الکرسی قرآن کریم کی سب سے عظیم آیت ہے اور سونے سے پہلے اس کی تلاوت مسنون عمل ہے۔
2. آیت الکرسی پڑھنے والے کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ ایک محافظ فرشتہ مقرر فرماتا ہے۔
3. رات بھر شیطان اس شخص کے قریب نہیں آ سکتا جو سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ لے۔
4. رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے غیب کی وہ خبریں عطا فرماتے تھے جن سے اللہ چاہتا تھا۔
5. شیطان بعض اوقات انسانی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
6. جھوٹا شخص کبھی سچی بات بھی کہہ سکتا ہے، لیکن اس کی بات دلیل کے بغیر قبول نہیں کی جاتی۔
7. امانت اور بیت المال کی حفاظت اسلامی ذمہ داری ہے۔
8. محتاجوں کے ساتھ ہمدردی اچھی صفت ہے، لیکن قانون اور امانت کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
9. صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم خیر کی ہر بات سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں سب سے آگے تھے۔
10. اس حدیث سے سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھنے کی مشروعیت اور اس کی عظیم فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
تحریر:
مفتی ابو عمار عبدالمالک
جامعہ عثمانیہ شیر شاہ کراچی
09/07/2026
"یتیموں کے حقوق کا تحفظ اور ان پر ظلم کی ہولناک سزا"
سورۃ النساء، آیت 9 اور 10 کی مختصر تفسیر، فوائد و مسائل، اور عبرت آموز واقعہ
آیت نمبر 9
> ﴿وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾
ترجمہ: اور لوگوں کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے بعد کمزور اولاد چھوڑ جاتے تو انہیں ان کے بارے میں فکر ہوتی، پس انہیں چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی، درست اور انصاف کی بات کریں۔
مختصر تفسیر
یہ آیت خاص طور پر یتیموں کے سرپرستوں، وراثت تقسیم کرنے والوں اور وصیت کے وقت موجود لوگوں کو نصیحت کرتی ہے کہ جس طرح وہ اپنی اولاد کے لیے خیر چاہتے ہیں، اسی طرح دوسروں کی یتیم اولاد کے ساتھ بھی ہمدردی اور انصاف کریں۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:
> جو شخص کسی مرنے والے کے پاس ہو اور دیکھے کہ وہ ظلم والی وصیت کر رہا ہے تو اسے چاہیے کہ اسے اللہ سے ڈرائے اور انصاف کی تلقین کرے۔
(تفسیر ابن کثیر)
آیت نمبر 10
> ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾
ترجمہ: بے شک جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کا مال کھاتے ہیں، وہ حقیقت میں اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، اور عنقریب وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کیے جائیں گے۔
مختصر تفسیر
اللہ تعالیٰ نے یتیم کا مال ہڑپ کرنے کو انتہائی سنگین جرم قرار دیا ہے۔ اگرچہ دنیا میں وہ مال کھایا جا رہا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ جہنم کی آگ ہے جس کا اثر آخرت میں ظاہر ہوگا۔
امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
> اس آیت میں یتیم کا مال ناحق کھانے والوں کے لیے نہایت سخت وعید ہے، اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
فوائد و مسائل
1. یتیموں کے حقوق کی حفاظت اسلام کا اہم حکم ہے۔
2. دوسروں کے بچوں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو اپنی اولاد کے لیے پسند ہو۔
3. وراثت اور وصیت میں انصاف کرنا واجب ہے۔
4. ظلم پر مبنی وصیت کو روکنے کی کوشش کرنا مستحب بلکہ بعض صورتوں میں ضروری ہے۔
5. یتیم کا مال کھانا کبیرہ گناہ ہے۔
6. اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور اور بے سہارا افراد کے حقوق بہت اہم ہیں۔
7. والدین کو اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے حلال مال چھوڑنے کی فکر کرنی چاہیے۔
8. ہر معاملے میں "قولِ سدید" یعنی سچی، درست اور عدل والی بات اختیار کرنی چاہیے۔
عبرت آموز واقعہ
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ»
"سات ہلاک کرنے والے گناہوں سے بچو۔"
صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کون سے ہیں؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
> «... وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ...»
"... اور یتیم کا مال کھانا (بھی انہی سات ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے ہے)۔"
(صحیح البخاری: 2766، صحیح مسلم: 89)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ یتیم کا مال کھانا شرک، جادو اور ناحق قتل جیسے عظیم گناہوں کے ساتھ شمار کیا گیا ہے۔
٫٫ایک سبق آموز واقعہ،،
حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ نے معارف القرآن میں لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ اس قدر خوف زدہ ہوئے کہ یتیموں کا کھانا، پانی اور برتن بھی الگ کر دیے۔ اگر کچھ کھانا بچ جاتا تو ضائع ہو جاتا، لیکن وہ یتیم کے مال میں تصرف کرنے سے ڈرتے تھے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت:
> ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ﴾ (البقرۃ: 220)
نازل فرمائی، جس سے ضرورت کے مطابق حسنِ نیت کے ساتھ ان کے مال میں اختلاط کی اجازت دی گئی۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ صحابۂ کرامؓ اللہ تعالیٰ کے احکام پر کس قدر حساس تھے اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی میں معمولی شبہ سے بھی بچتے تھے۔
تحریر:
مفتی ابو عمار عبدالمالک
نائب رئیس
جامعہ شیر شاہ کراچی