08/03/2026
Ubaid Ur Rahman Rabbani
الحمدللہ استاذ محترم شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم، کے درسِ قرآن کی مجلس میں شریک ہونے کی توفیق ہوئی، درس کے بعد ایک صاحب نے حضرت والا کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت ہماری مسجد میں اتنے (تعداد میں) افراد کو ہم اعتکاف کرواتے ہیں، جس پر حضرت والا نے تنبیہی لہجے میں فرمایا کہ اعتکاف کرنا تو مسنون عمل ہے، اعتکاف کروانا کیا ہوتا ہے، اعتکاف کا مقصود تو مخلوق سے تعلق ختم کرکے تعلق مع اللہ اور رجوع الی اللہ کرنا ہے، اللہ بچائے اب تو جو ماحول بن گیا ہے مجھے ڈر لگتا ہے یہ حبِّ جاہ اور حبِ مال اور تکبر کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے، پہلے سے اشتہار لگ جاتے ہیں فلاں پیر صاحب یا بزرگ اعتکاف کریں گے، یا بیان کریں گے، پھر میلہ سا لگ جاتا ہے، دیگیں پکائی جاتی ہیں، خوش گپیاں ہوتی ہیں، الغرض لمبے چوڑے انتظام ہوتے ہیں، مقصد تو اعتکاف کا یہ تھا کہ اس وقت کو خالص اللہ کے لئے کرتے ذکر کرتے عبادت کرتے، یہ انتظامات ہو رہے ہوتے ہیں۔
اللہ پاک عبادت کو اس کی روح کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
عبیدالرحمٰن ربّانی