28/11/2025
لوگ اپنی خطاؤں سے بیدار نہیں ہوتے
دل اشک بہا نے کو تیار نہیں ہوتے
اکتائے ہوئے بندے بندش کے قفس میں ہیں
عملِ فسوں کے تابع خوددار نہیں ہوتے
دھاگوں کے شکنجوں میں کیوں قید ہے اے مومن
مومن کے لیے فتنے شہکار نہیں ہوتے
ہر روز نیا سورج انساں کو سکھا تا ہے
چڑھتے ہوئے گِر کر بھی لاچار نہیں ہوتے
یہ کیسی ترقی ہیں منزل تو یہاں سب کی
مرقد ہے جہاں رستے ہموار نہیں ہوتے
ایمان کی شمع سے روشن جو چمن ہیں وہ
فتنوں کی فضائوں سے بیکار نہیں ہوتے
مت ڈھونڈ کسی شر میں موضوع مَسرت کی
دیرینہ غموں سے دل دوچار نہیں ہوتے
عدنان سلیم
06/10/2025
جہاں دل خوب ملتے ہیں وہاں قسمت نہیں ملتی
کتابِ حسن میں اکثر وفا کی شے نہیں ملتی
جو خواب آنکھوں میں سجتے ہیں، حقیقت کیوں نہیں بنتے
کبھی سب کچھ تو ملتا ہے مگر الفت نہیں ملتی
میسر مفت ہو جائے اگر بے قدرلوگوں کو
زمانے میں کبھی پھر خود کی قیمت ہی نہیں ملتی
وفا کی دھوپ میں جلتے رہے ہیں خشک صحرا میں
یہاں راحت کی چھاؤں ہر کسی کو کیوں نہیں ملتی
مگر جب ہجر گزرا تو ہوا اِک ظلم مجھ پر یوں
کہا اُس نے کہ مجھ سے تو طبیعت ہی نہیں ملتی
عدنان سلیم
17/09/2025
آزاد ہم نہیں ہیں وہ خاک کے بستر تک
آغازِ سفر ہوگا پلکوں کے اترنے تک
بے موج سفر مت کر ٹھہری ہوئی کشتی میں
دریا کی ہواؤں کا سمندر سے یوں ملنے تک
دیکھوکسی صحرا میں سرابوں کا سمندر تو
ہرگز نہ اچھلنا تم برسات کے آنے تک
خاموش نہیں رہتے فطرت کے فسادی لوگ
لفظوں میں بھٹکتے ہیں، لہجے سے نکلنے تک
کیا خوب سنبھالا ہے بزرگوں کی نصیحت کو
بوسیدہ کتابوں کے اوراق نکلنے تک
عہد وفا ہوتا ہیں اکثر دمِ آخر تک
کوئی نہیں ہے تیرا،محرم تیرا ہونے تک
مخلص پنا، سادہ دلی کافی نہیں ہوتی
کچھ رشتے طے ہوتے ہیں مفادات کی حد تک
ایک داغ سمجھ بیٹھا مسموم(زہرآلود)زخم کو
بس نام کے اپنوں کا آستین سے نکلنے تک
عدنان سلیم
27/08/2025
جملہ ہے اہلِ فکر کا لوگ کیا کہیں گے
تعبیر ہے ہر گماں کا لوگ کیا کہیں گے
نظریں ٹکی تھیں میری منزل کے اس دیوار پر
دیوار نے گر کے بولا لوگ کیا کہیں گے
اجڑا ہوا تھا مکتب راہ میں ۔کسی بڑےکا
تختی پہ درج تھا یہ لوگ کیا کہیں گے
اک باپ پریشاں تھا بیٹے کے جنازے پر
کھانے کا کیا کروں گا لوگ کیا کہیں گے
کرتا نہیں ہے حقدار سوال اپنے حق کا
اس کا خیال ہے کہ لوگ کیا کہیں گے
خوابوں کے اس سفر میں تھک جاتا ہے مسافر
کہتا نہیں ہے کچھ بھی لوگ کیا کہیں گے
اک ربط ہے دلوں کا یہاں بھی اور وہاں بھی
ڈر ہے کہ اگر پھر ملے تو لوگ کیا کہیں گے
لوگ کیا کہیں گے کہنے دو جو کہیں وہ
سوچوں اگر یہ سوچ تو لوگ کیا کہیں گے ؟
عدنان مختصر کر لوگوں کے فلسفے کو
سب کچھ اگر کہو گے تو لوگ کیا کہیں گے
کلام۔عدنان سلیم
22/08/2025
یوں ہی نہیں زمانے میں بدنام مولوی
لادینیوں کا بوجھ ہے کردار مولوی
دنیا کے ہر فساد کا الزام اس پہ ہے
تعلیم و تربیت کا معمار ہے مولوی
ہوتی نہیں ترقی ریاست کے ان گروہ سے
اپنے مفاد میں ہے مغرب کی دسترس سے
رونق ہے انجمن بھی قوم کے دیے سے
لکھتے ہے سر زمین میں رکاوٹ ہے مولوی
مجھ کو گلا ہے اس پر ہم آہنگ نہیں کوئی بھی
اے کاش منظم کریں عدلیہ کو مولوی
خطرہ ہے داستان کوبھی بے دین کا نظامِ دین سے
پرکھوں تو چراغوں کا سمندر ہے مولوی
عدنان فکر نہ کر یوں غمزدہ بھی نہ ہو
قوسِ قزح کی مانند یوں مختصر بھی نہ ہو
مادہ پرست وطن میں ہے مٹھی میں ریت کی مانند
مذہب پسند فریق کا مشعل ہے مولوی
کلام-عدنان سلیم
21/07/2025
یہ پگڑیاں ملی ہے وراثت میں یعنی تم
سردار اس لیے ہو کہ سردار مر گئے