16/04/2024
کچھ دنوں پہلے بارشوں کے دوران ملک کے بالائی علاقوں کی طرح کراچی میں بھی مختلف مقامات پر آسمانی بجلی کے گرنے کے کئی واقعات رونما ہوئے جس میں املاک کے ساتھ ساتھ اکثر کئی قیمتی جانوں کا بھی ضیاع دیکھنے میں آتا ہے۔
جب زمین پر موجود پانی حرارت جذب کرتی ہے تو یہ بخارات میں تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ بخارات کم کثافت کی وجہ سے فضاء میں اوپر محوِ سفر ہوجاتے ہیں۔
جیسے جیسے بخارات اونچائی طے کرتے ہیں تو اوپری فضاء میں کم درجہ حرارت کے باعث واپس مائع حالت میں تبدیل ہوکر ایک بادل کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ ان بادلوں کے اندر بخارات مسلسل حرکت کرتے ہیں اور دورانِ حرکت یہ نہ صرف ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں بلکہ پانی کے قطروں سے بھی رگڑتے رہتے ہیں۔
فزکس کی سمجھ بوجھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ رگڑ کیوجہ سے الیکٹران ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوجاتے ہیں اور یوں کچھ بخارات الیکٹران پا کر منفی چارج جبکہ کچھ الیکٹران کھو کر مثبت چارج حاصل کرلیتے ہیں۔
اب بادل کے اندر منفی اور مثبت دونوں قسم کے چارج رکھنے والے مالیکیولز موجود ہیں ، منفی چارج رکھنے والے مالیکیولز بھاری ہونے کے باعث نیچے جبکہ مثبت چارج رکھنے والے مالیکیولز اوپر موجود رہتے ہیں، یوں بادل کا نچلا حصہ منفی جبکہ اوپری حصہ مثبت چارج حاصل کرلیتا ہے۔
ہمیشہ چارج رکھنے والے اجسام خود کو نیوٹرل کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں یعنی جنہوں نے الیکٹران حاصل کیا تھا وہ الیکٹران کھونا چاہتے ہیں اور جنہوں نے الیکٹران کھویا تھا وہ الیکٹران پانا چاہتے ہیں اس عمل کو ہم ڈسچارجنگ کا نام دیتے ہیں۔
ڈسچارجنگ ایک ہی بادل کے اندر بھی ہوسکتی ہے، ایک بادل سے دوسرے بادل کے درمیان بھی ہو سکتی ہے اور بادل و زمین کے درمیان بھی ہوسکتی ہے۔
ہمارا موضوع چونکہ بادل اور زمین کے درمیان بجلی ہے لہذا ہم بادل سے بادل ڈسچارجنگ کو نظرانداز کر کے اپنی توجہ بادل سے زمین ڈسچارجنگ پر مرکوز رکھتے ہیں۔
تو جناب بادل کا نچلے حصے پر منفی چارج بہت بڑی مقدار میں جمع ہو جانے کے باعث یہ زمین کے الیکٹرانوں کو دھکیل کر زمین پر مثبت چارج انڈیوس کروا دیتی ہے یعنی زمین کی سطح سے الیکٹران نیچے بھاگ کر زمین کی سطح کو مثبت چارج کردیتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بادل اور زمین پر چارج کی مقدار بڑھتی رہتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ یہ اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ بادل اور زمین کے درمیان موجود ہوا کو بھی آئنز میں توڑ دیتی ہے اور بادل کے نچلے حصے پر موجود منفی چارج (یعنی الیکٹرانوں) کو زمین تک پہنچنے کیلئے راستہ مل جاتا ہے اور یوں بہت تیزی سے بہت زیادہ الیکٹرانز بادل سے زمین میں ڈسچارج ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ الیکٹران کے کسی خاص سمت میں بہاؤ کو کرنٹ کہا جاتا ہے تو آسان الفاظ میں بجلی بادلوں سے زمین پہ گرتی ہے اور جس راستے سے یہ الیکٹرانز گزرتے ہیں تو اس کے آس پاس کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوجاتا ہے اور آپ کو یوں لگتا ہے جیسے آسمان سے آگ چند سیکنڈ میں زمین کی طرف لپکی ہو، اسی لئے اگر یہ بجلی کسی ایسی جگہ پہ گرتی ہے جہاں جاندار موجود ہو تو ان جانداروں کو نقصان پہنچنے کا شدید خطرہ موجود رہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں خود کو کیسے بچایا جائے۔
تو بہتر یہ ہے کہ اگر کہیں لوہے کا اسٹرکچر موجود ہو تو آپ اس کے عین نیچے پناہ لے سکتے ہیں مگر خیال رہے کہ دھاتی اسٹرکچر اتنا وسیع ہو کہ آپ کے اور دھاتی اسٹرکچر کے درمیان مناسب فاصلہ ہو اور آپ کا دھاتی اسٹرکچر سے کسی صورت کانٹیکٹ نہ ہو۔
دوسرا آپ نے کوشش کرنی ہے کہ کسی ایسی جگہ یا چیز کے نیچے پناہ لی جائے جس کی اونچائی زیادہ نہ ہو۔ کیونکہ اونچی جگہ پر بجلی کے گرنے کے چانسز کہیں زیادہ ہوتے ہیں اسی لئے درختوں کے آس پاس پناہ لینے کی غلطی کسی صورت مت کیجئے گا۔
ساجد احمد یوسفزئی