Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran" Academy online teacher

Hafiz Muhammad Ahmad  "Noor-e-Quran"
 Academy online teacher Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran"
Academy online teacher, Educational consultant, Karachi.

Hafiz Muhammad Ahmad | Quran Teacher
Online Quran Classes with Tajweed for children & adults
• One-to-one teaching
• Flexible timings
• Urdu & English medium
• Male teacher only
• Free trial class available
Contact: +923326024550

تجوید کورس کے لیے ہم سے رابطہ کریں لنک نیچے کمنٹ میں ہے۔ 👇                    #تجویدکورس    #تجوید  #قراآت  #قراءات  #قر...
12/07/2026

تجوید کورس کے لیے ہم سے رابطہ کریں
لنک نیچے کمنٹ میں ہے۔ 👇




#تجویدکورس #تجوید #قراآت #قراءات #قراآتِ_عشرہ #قراءاتِ_عشرہ #اسلام #قرآن

آج کی باتسلسلہ نمبر: 1وہ کون سی چیز ہے جو کم ہوتی ہے، بڑھتی نہیں؟آپ کا جواب ہوگا: "وقت"۔جی ہاں! وقت ایک ایسی نعمت ہے جو ...
15/06/2026

آج کی بات

سلسلہ نمبر: 1

وہ کون سی چیز ہے جو کم ہوتی ہے، بڑھتی نہیں؟

آپ کا جواب ہوگا: "وقت"۔

جی ہاں! وقت ایک ایسی نعمت ہے جو لمحہ بہ لمحہ کم ہوتی جاتی ہے، مگر کبھی بڑھتی نہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔

"کل کر لیں گے" ہمارا ایک عام جملہ ہے۔ آج کا کام کل پر ڈال دیتے ہیں، کل کا کام پرسوں پر، اور پرسوں کا کسی اور دن پر۔ یوں دن گزرتے رہتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ زندگی کا ایک قیمتی حصہ ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے۔

ایک دن ایک برف فروش گلی میں آوازیں لگا رہا تھا:

"برف خرید لو! برف خرید لو!"

وہ بار بار پکار رہا تھا۔ ایک شخص نے اس سے پوچھا:

"بھائی! اتنا شور کیوں مچا رہے ہو؟"

برف فروش نے فکر مندی سے جواب دیا:

"اگر میری برف نہ بکی تو پگھل جائے گی۔ پھر نہ برف رہے گی اور نہ میری کمائی۔"

برف فروش کو اپنی برف کے پگھلنے کی فکر تھی، مگر ہمیں اپنی عمر کے پگھلنے کی کتنی فکر ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ہماری عمر بھی برف کی مانند آہستہ آہستہ پگھل رہی ہے۔ جو لمحہ گزر گیا، وہ دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔ اگر ہم نے وقت کی قدر کر لی تو کامیابی ہمارا مقدر بن سکتی ہے، اور اگر اسے غفلت میں ضائع کر دیا تو بعد میں صرف افسوس باقی رہ جائے گا۔

لہٰذا آج کا کام آج ہی کیجیے، اور روزانہ تھوڑا سا سہی مگر کسی مفید کام میں ضرور وقت صرف کیجیے۔

وقت کی گھڑی کبھی رکتی نہیں، سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ چل رہے ہیں یا اسے ضائع کر رہے ہیں۔

والسلام

Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran"
Academy online teacher


السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🌹نور القرآن اکیڈمی کے آن لائن تجوید القرآن کورس بیچ  #04 میں خوش آمدید۔اگر آپ یا آپ کے ب...
10/06/2026

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ 🌹

نور القرآن اکیڈمی کے آن لائن تجوید القرآن کورس بیچ #04 میں خوش آمدید۔

اگر آپ یا آپ کے بچے قرآنِ کریم کو صحیح مخارج اور تجوید کے ساتھ پڑھنا سیکھنا چاہتے ہیں، تو یہ کورس آپ کے لیے بہترین موقع ہے۔

✨ کورس کی جھلک:
📚 مدت: 4 ماہ
📱 واٹس ایپ کے ذریعے کلاسز
🎙️ وائس کال پر عملی مشق
📝 تصویری نوٹس
🎓 سرٹیفکیٹ

📌 مختصراً یہ کورس تجوید کی مکمل تربیت کے لیے ہے۔ اس کے ساتھ ضرورت کے مطابق ناظرہ کی اصلاح، روانی کی بہتری، اور منتخب سورتوں کی مشق بھی کروائی جاتی ہے۔

اگر آپ کورس کرنا چاہتے ہیں تو صرف یہ لکھ کر جواب دیں:

"ان شاء اللہ تجوید کورس کرنا ہے"

اور ساتھ یہ بھی بتا دیں کہ طالب علم:
بچہ ہے یا بڑا۔

اس کے بعد آپ کو داخلہ فارم اور اگلے مراحل کی مکمل رہنمائی بھیج دی جائے گی۔

جزاکم اللہ خیراً
قاری محمد احمد صدیقی
نور القرآن اکیڈمی
📲 03326024550

کیا دین کو اقتدار دلانا مقصود ہے؟درس قرآن: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم🖋: محمد فائق (فاضل و متخصص ...
08/06/2026

کیا دین کو اقتدار دلانا مقصود ہے؟

درس قرآن: حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
🖋: محمد فائق (فاضل و متخصص جامعہ دار العلوم کراچی)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اللہ تبارک و تعالی نے ان مومنین کا ذکر فرمایا ہے جو واقعة اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں ان سے ایک وعدہ فرمایا ہے۔ پہلے میں اس کا ترجمہ کر دیتا ہوں پھر اس کے بارے میں انشاءاللہ تفصیل عرض کروں گا۔
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاؕ-یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْــٴًـاؕ-وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ( سورة النور 55)
ترجمہ یہ ہے کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لے ائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا, جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا. بس وہ میری عبادت کرے میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا۔

یہاں اللہ تبارک و تعالی نے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوں گے تو اللہ تعالی ان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا اور اس کے دین کو اقتدار بخشے گا. یہاں دو تین باتیں سمجھنے کی ہیں: پہلی بات یہ ہے کہ یہ وعدہ کیا جا رہا ہے اس وقت جب مسلمانوں کے تعداد زیادہ نہیں ہے اور اس وقت ان کا جو دائرہ اختیار ہے وہ محدود ہے اس وقت میں اللہ تعالی نے یہ وعدہ کیا کہ تم میں سے جو لوگ ایمان اور عمل صالح عمل کریں گے تو ان کو ہم خلیفہ بنا کر زمین پر اقتدار بخشیں گے. حضرات مفسرین فرماتے ہیں کہ مراد اس سے خلفائے راشدین ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت فاروق اعظم، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین ان کے زمانے میں اللہ تعالی کا یہ وعدہ پورا ہوا۔ کیونکہ یہ سب سچے مومن تھے عمل صالح کے پیکر تھے لہذا اللہ تبارک و تعالی نے ان کو خلافت عطا فرمائی۔ رسول کریم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہوئے اور ان کے خلافت کے زمانے میں نہ صرف یہ کہ ان کی حکومت قائم ہوئی، بلکہ زمین کے بیشتر حصے پر دین کو اقتدار حاصل ہوا۔ صدیق اکبر کے زمانے میں فتنے اٹھے لیکن وہ فتنوں کو حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالی عنہ نے دبا دیا۔ فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں قیصر و کسری کے ممالک فتح ہوئے، اور سب سے زیادہ فتوحات عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں ہوئیں کہ اس کے نتیجے میں اسلام آدھی دنیا تک پہنچا اور مسلمانوں کی حکومت قائم ہو گئی۔ تو اللہ تبارک و تعالی نے ان خلفائے راشدین کواپنے وعدے کے مطابق اقتدار عطا فرمایا ۔
تو بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ خاص طور پر یہ جو وعدہ ہے یہ خلفائے راشدین سے متعلق ہے، اور بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ: نہیں، یہ ہر اس دور کے مسلمانوں کے لیے ہے کہ امت جب بھی بحیثیت مجموعی ایمان اور عمل صالح پر کاربند ہوگی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے وعدہ کر لیا ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار عطا فرمائے گا۔ اب اس کا مظاہرہ ایک تو خلفائے راشدین کے زمانے میں ہوا اور آئندہ انشاءاللہ آخری زمانہ میں حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کے تشریف آوری ، امام مہدی کا آنا، اس وقت کے بارے میں پہلے سے بتا دیا گیا ہے کہ ایک مرتبہ پھرپورے روئے زمین پر اسلام کا اقتدار قائم ہوجائے گا انشاء اللہ۔ درمیان کا جو حصہ ہے جیسے بنو امیہ کی حکومت بنو عباس کی حکومت اور اندلس کی اور دوسرے ممالک کی اس میں صورتحال یہ تھی، کہ جس کو صحیح معنی میں خلافت کہا جائے وہ خلافت جو اعلی منہاج النبوۃ ہو وہ تو بہت کم رہی، سوائے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کے اور پھر بعد میں نور الدین زنگی اور ان کے وغیرہ یہ حضرات جو تھے خاص خاص عادل بادشاہ جنہوں نے ایک طرح سے خلافت ہی کے طریقوں کو اختیار کیا وہ تو گنے چنے ہیں۔ لیکن زیادہ عرصہ جو گزرا وہ تقریبا بادشاہت جیسا گزرا، نام خلیفہ ہوتا تھا لیکن عملا بادشاہ ہوتے تھے اور خلافت کا جو خاص تصور ہے شوری کے ذریعہ قائم ہونا اور پھر بیت المال کا ایک تحفظ، بیت المال کا ایک نظم، اس میں خلل آگیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود کیونکہ مجموعی امت کا عمل مجموعی طور سے اچھائی کی طرف تھا، اکثریت ایمان عمل صالح کرنے والوں کی تھی، لہذا دین کا اقتدار قائم رہا۔ یعنی قانون اسلام ہی کا تھا، شریعت نافذ تھی، قاضی شریعت کے مطابق فیصلے کرتے تھے، اور خود مسلمانوں کی فتوحات بھی مسلسل جاری رہیں۔ وہ زمانہ اگرچہ مکمل مثالی خلافت کا تو نہیں تھا لیکن وہ پھر بھی بحیثیت مجموعی چونکہ مسلمانوں کی اکثریت ایمان عمل صالح سے متصف تھی اس لیے اللہ تبارک و تعالی نے اس کی گویا سربراہی عطا فرمائی، اقتدار بھی عطا فرمایا تھا جو مدتوں قائم رہا، صدیوں قائم رہا، لیکن پھر بعد میں جب مسلمان کمزور پڑے اور اپنے دین کے اوپر عمل کرنا چھوڑ دیا تو اس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ اقتدار ان کے ہاتھوں سے نکلتا چلا گیا۔ اقبال مرحوم نے کہا ہے کہ:
آ ، تجھ کو بتاؤں میں تقدیر اُمم کیا ہے
شمشیر و سنان اول ، طاوٴس و رباب آخر
شروع میں اٹھتے ہیں تو جہاد کرتے ہوئے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں اور جب حکومت مل جاتی ہے اور اقتدار مل جاتا ہے تو اللہ کو بھول کر"طاؤس و رباب" یعنی عیش و عشرت پہ پڑ جاتے ہیں اس کے نتیجے میں زوال آجاتا ہے اور وہی زوال ہم آج تک دیکھ رہے ہیں۔ ایک دور پھر آئے گا انشاءاللہ اوراس وقت پھر دوبارہ اقتدار حاصل ہوگا۔ تومیں نے دو تفسیریں عرض کیں: ایک یہ کہ بعض حضرات اس کو محدود کرتے ہیں خلافت راشدہ کی حد تک اور بعض حضرات کہتے ہیں نہیں اس کا مطلب ہے جب بھی ایمان و عمل صالح امت کے اندر بحیثیت مجموعی آجائے گا تو اللہ تعالی کا وعدہ انشاءاللہ اس وقت پورا ہوگا۔ جس درجے کا ایمان اور عمل صالح ہوگا اسی درجے کا وعدہ بھی پورا ہوگا اور اس کے مطابق حضرت امام مہدی کے زمانے میں انشاءاللہ پوری روئے زمین پر اسلام ہی کا اقتدار ہوگا۔
ایک بات تو یہ عرض کرنی تھی؛ دوسری بات یہ عرض کرنی ہے کہ اس آیت نے مسلمانوں کے اقتدار کی بنیادی شرط بیان فرمائی ہے۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ بحیثیت مجموعی ایمان اور عمل صالح سے متصف ہوں تو ان کو اقتدار بھی دیا جائے۔ اس آیت کی روشنی میں بعض حضرات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسلام کا اصل مقصود اقتدار قائم کرنا ہے۔ سارے دین کا مقصود اصلی یہ ہے کہ پورے زمین پر اللہ کا اقتدار ہو، اللہ کے دین کا اقتدار ہو، اور ساری باتیں جو ہیں وہ اس کے تابع ہیں۔ چونکہ اصل مقصود تھا اقتدار قائم کرنا جس کا اس میں ذکر ہے، تو اس کے لیے مسلمانوں کی تربیت بھی کی گئی نماز باجماعت کی ترغیب دی گئی ہے یہ اجتماعیت پیدا کرنے کے لیے ہو رہا ہے، صف بندی یہ اس لیے ہو رہی ہے تاکہ جب جہاد کے لیے جائیں تو منظم اور مرتب ہوں۔ روزہ رکھوایا جا رہا ہے تو اس لیے رکھوایا جا رہا ہے تاکہ جہاد کے دوران اگر کھانا نہ ملے تو انسان فاقہ کرنے کے لیے بھی تیار ہو اور زکوٰۃ اسی دلوائی جا رہی ہے تاکہ انسان اللہ کے راستے میں پیسہ خرچ کرنے کا عادی بنے اور حج اس لیے کروایا جا رہا ہے تاکہ اجتماعیت پیدا ہو جائے مسلمانوں کے اندر۔ لہذا ایک اچھی خاصی تعداد ہمارے ہاں ایسے مفکرین کہہ لو یا ایسے قائدین کہہ لو ان کی یہ رہی ہے کہ دین کا جو اصل مقصود ہے وہ اقتدار فی الارض ہے (وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ)۔ اصل مقصود یہ ہے کہ سارے دین کی تعلیمات اس محور پر گھومتی ہیں کہ اللہ کے حاکمیت قائم ہوجائے (إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ) اور باقی سارے احکام اس کے تابع ہیں۔ لہذا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اگر اس اصل مقصد کو حاصل کرنے میں کبھی ان ذرائع اور وسائل کی قربانی دینی پڑے تو کوئی حرج نہیں۔ فرض کرو اصل مقصود پہ آدمی جا رہا ہے اور جہاد کر رہا ہے، دین کا اقتدار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس میں کوئی نماز قضا ہو رہی ہے تو ہوجائے دو، کوئی بات نہیں، کیونکہ وہ تو ایک ذریعہ تھا، اصل مقصود تواقتدار قائم کرنا تھا۔ دوسرے الفاظ میں اس کو یوں کہا جا سکتا ہے کہ پورے دین کی فکر اور دین کی تشریح یہ کی گئی ہے دین درحقیقت ایک سیاسی دین ہے جو سیاست میں مسلمانوں کو غالب کرنے کے لیے آیا ہے، وہ مقصد حاصل کرنے کے لیے بہت سے راستے بھی تجویز کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ کہنے والوں نے یہ کہا کہ: بعض نے اس کو اس طرح تعبیر کیا کہ اصل مقصود دین کا حاکمیت الہیہ قائم کرنا ہے، بعض نے کہا اصل مقصد اقامت دین ہے۔ اقامت دین کا مطلب یہ ہے کہ دین کا نظام پوری دنیا میں نافذ کرنا یہ اصل مقصود ہے، جن لوگوں نے یہ بات کہی ان کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ جتنے دوسرے احکام ہیں وہ سارے تابع ہو گئے اس اصل مقصود کے: جیسے ہم نے ابھی عرض کیا نماز بھی تابع ہو گئی، روزہ بھی تابع ہو گیا، ہر چیز تابع ہو گئی اس کے۔ تو اگر کوئی شخص اپنی اصلاح کے اندر مشغول ہے، دعوت میں مشغول ہے، تو دعوت تنہا کافی نہیں ہے بلکہ جہاد ضروری ہے اور اقتدار قائم کرنا ضروری ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بھئی جتنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام دنیا میں تشریف لائے ان میں اقتدار کس کا قائم ہوا؟ سلیمان علیہ السلام کا، داؤد علیہ السلام کا، یوسف علیہ السلام کا، یوشع علیہ السلام کا، ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام میں سے گنے چنے حضرات ہیں جن کی حکومت دنیا پر قائم ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ باقی سارے انبیاء اصل مقصودِ دین میں ناکام رہے؟۔ تو انہوں نے کہا : ہاں ناکام رہے تو کیا ہے انبیاء کرام اگر ناکام رہے، تو کیا ہے انہوں نے اپنی سی کوشش کی ناکام ہو گئے، تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ تو بات یہاں سے چلی تھی کہ اصل مقصود اقتدار حاصل کرنا ہے، اصل مقصود سیاست ہے اور سیاسی اقتدار حاصل کرنا ہے، باقی سب اس کے توابع ہیں، یہاں سے چلی تھی کہاں تک پہنچ گئی کہ انبیاء کرام ناکام ہو گئے!۔ تو یہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ ایت کہہ رہی ہے کہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا تمہارے دین کو اقتدار بخشے گا۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب - قدس سرہٗ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے - انہوں نے اس استدلال کا ایک مختصر جملے میں جواب دیا کہ یہاں اقتدار موعود ہے مقصود نہیں!۔ مقصود تو ایمان اورعمل صالح ہے۔ جب ایمان عمل صالح مقصود ہے تو اس پر اقتدار مرتب کرنے کا وعدہ فرمایا (وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا)۔ اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ تم اگر ہمارے اصل مقصود پر عمل کروگے تو ہم اس کی جزا دنیا کے اندر تمہیں یہ دیں گے کہ اقتدار بھی بخش دیں گے اور تمہاری خلافت بھی قائم ہو جائے گی، تو یہ موعود ہے مقصود نہیں ہے۔ مقصود کیا ہے؟ ایمان اور عمل صالح۔ تو اگر ایمان اور عمل صالح کسی داعی کے دعوت سے اگر دس آدمی بھی ایمان اور صالح کے زیور سے آراستہ ہو گئے اس کا مقصود حاصل ہو گیا۔ لہذا انبیاء کرام سب اپنے مقصد میں کامیاب ہیں، کیونکہ انہوں نے ایمان عمل اور صالح کی دعوت دی اور اگر ایک نے بھی اس کو قبول کرتو مقصود حاصل ہوگیا۔ تو یہ بہت بڑا زبردست فکری امتیاز ہے یا فکری فرق ہے جس نے پٹڑی بدل دی ہے۔ جب کہیں راستے ریلوے لائن کے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں تو وہاں جہاں سے جدا ہو رہے ہوتے ہیں بالکل ایک انچ کا فرق ہوتا ہے، لیکن ایک انچ کا فرق وہ آگے جا کر میلوں اور سینکڑوں میل تک پہنچ جاتا ہے۔ تو اس کو موعود کے بجائے مقصود سمجھنے سے پٹڑی بدل گئی۔ سیاست مقصود ہو گئی اور باقی تمام اعمال اس کے تابع ہو گئے، لہذا اگر کوئی ایمان اور عمل صالح پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے وہ کچھ نہیں ہے جب تک کہ وہ جہاد کا علم بلند نہ کرے جب تک کہ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ بے شک سیاست بھی دین کا ایک شعبہ ہے اور اہم شعبہ ہے وہ عمل صالح کے اندر داخل ہے ، بشرطیکہ اسلامی شرائط کے مطابق وہ سیاست کی جائے تو وہ اسلام ہی کا شعبہ ہے، دین کا شعبہ ہے، لیکن مقصود اصلی اس کو قرار دینا یہ ہے غلط بات جس سے پٹڑی بدل جاتی ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھیے کہ اسلام کے جو احکام ہیں وہ جہاں عبادات سے متعلق ہیں، وہاں معاشیات سے بھی متعلق ہیں۔ تجارت ایسے کرو اور تجارت کے اصول یہ ہوتے ہیں اور تجارت کے اندر حلال یہ ہوتا ہے حرام یہ ہوتا ہے، تفصیل بیان فرمائی۔ معاشیات دین کا ایک شعبہ ہے، لیکن کوئی اگر یہ کہے کہ معاشیات مقصود ہے، یا دین کا مقصود ہی یہ کہ معاشی خوشحالی پیدا کی جائے؟ تو وہ گمراہی کی طرف چلا جائے گا۔ شعبہ ہونے کی بات اور ہے اور مقصود اصلی ہونے کی بات اور ہے۔ تو اسی طرح سیاست اور اقتدار یہ دین کا ایک شعبہ ہے، اور اہم شعبہ ہے، میں نے اس پر کتاب بھی لکھی ہے "اسلام اور سیاسی نظریات" ۔ اسلام کے جو سیاسی احکام ہیں وہ وہ اس میں بیان کیا ہیں اور اس میں جو کوئی شخص اس میں کام کر رہا ہے نیک نیتی کے ساتھ وہ قابل تعریف بھی ہے، لیکن اس کو دین کا مقصود اصلی قرار دے کر باقی ساری چیزوں کو اس کے تابع کر دینا یہ گمراہی ہے۔ اس کو میں نے دو لفظوں میں ایک جگہ تعبیر کیا ہے : اسلامی سیاست مطلوب ہے، سیاسی اسلام مطلوب نہیں!۔ تو یہ جومیں نے بات کہی ہے درحقیقت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب قدس سرہٗ کے اس جملے سے نکالا ہے کہ خلافت اور اقتدار موعود ہے مقصود نہیں ہے۔ یہ بات اگر ذہن میں رہے تو ہر چیز اپنی جگہ پر بیٹھ جاتی ہے، اور جو غلطیاں لگتی ہیں وہ غلو سے لگتی ہیں۔ سیاست بے شک ایک شعبہ ہے لیکن اس کو غلو کر کے اس کو ایک مقصود اصلی قرار دے دینا اس سے پٹڑی بدل جاتی ہے، پٹڑی بدل جانے سے آدمی کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔
آپ دیکھیں ہماری ہندوستان کے تاریخ میں کتنی تحریکیں اٹھیں اور ان تحریکوں میں یہ فکر سمائی ہوئی تھی کہ مقصود اصلی دین کا اقتدار حاصل کرنا ہے، کسی نے اس کو کسی عنوان سے پیش کیا، کسی نے کسی اور عنوان سے پیش کیا۔ بعض لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ سیاست سے اسلام کا کیا تعلق، یہ بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ سیاست بھی ایک شعبہ ہے دین کا، اور اس شعبے کے کچھ احکام ہیں، ان احکام کو جاری کرنا اسی طرح ضروری ہے جیسے کہ معاشیات کے احکام کو جاری کرنا ضروری ہے، جیسے عبادات اور معاملات کے احکام کو جاری کرنا ضروری ہے، لیکن اس کو مقصود اصلی قرار دے دینا یہ انسان کو غلط راستے پر ڈال دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تفسیروں میں غلطیاں پیدا ہو گئی اور اس کے اوپر حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ لکھا ہے التقصیر فی التفسیر۔ مولانا عبداللہ سندھی مرحوم اور ان کے جو متبعین تھے ان کا موقف یہی تھا کہ جو میں بتا رہا ہوں کہ مقصود اصلی سیاسی اقتدار۔ اس کے نتیجے میں تفسیر کے اندر بھی جگہ جگہ انہوں نے اس بات کو ذکر کیا۔ مودودی صاحب - اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے - ان کی تفسیر میں بھی یہ بات آپ کو جگہ جگہ نظر آئے گی، اور بھی اس طرح ایک بہت بڑی بہت بڑی تعداد ہے۔ تو اس کی حقیقت کوسمجھ لینا اس لیے ضروری تھا کہ یہ موعود ہے مقصود نہیں ہے۔ اس بارے میں
آپ کی کیا رائے ہے؟
کمنٹ میں لازمی بتائیے!

#دین #اسلام #اقتدار ۔



Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran"
Academy online teacher

📢 اطلاعالسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہمطالعہ، تدریس اور روزمرہ زندگی کے دوران بہت سی ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جو انسان ک...
05/06/2026

📢 اطلاع

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مطالعہ، تدریس اور روزمرہ زندگی کے دوران بہت سی ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جو انسان کے علم، فکر اور عمل میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اکثر یہ باتیں مختصر ہوتی ہیں، مگر ان کا فائدہ دیرپا ہوتا ہے۔

اسی خیال کے پیشِ نظر ان شاء اللہ آج سے "آج کی بات" کے عنوان سے ایک مختصر سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں قرآنِ مجید، حدیثِ نبوی ﷺ، تجوید، طلبِ علم، اصلاحِ نفس، اخلاق، مطالعہ اور زندگی کے مختلف پہلوؤں سے متعلق مختصر مگر مفید تحریریں پیش کی جائیں گی۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس معمولی کوشش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اخلاص نصیب فرمائے اور اسے نفعِ عام کا ذریعہ بنائے۔

طالبِ دعا
محمد احمد صدیقی

Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran"
Academy online teacher


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔عید مبارک 🙂 تقبل اللہ منا ومنکم      #عید  #عیدالاضحی  #مبارک Hafiz Muhammad Ahmad  "Noo...
27/05/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
عید مبارک 🙂
تقبل اللہ منا ومنکم
#عید #عیدالاضحی #مبارک
Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran"
Academy online teacher

10/05/2026

📖 قرآنِ پاک تجوید کورس
🏠 گھر بیٹھے آسان طریقے سے سیکھیں
الحمدللہ نور القرآن اکیڈمی کی جانب سے آن لائن تجوید کورس شروع ہے۔
✨ خصوصیات:
• مکمل آن لائن کلاسز (واٹس ایپ کے ذریعے)
• ہر سبق تصویری نوٹس کی صورت میں
• وائس کال پر عملی مشق اور اصلاح
• ہر عمر کے افراد کے لیے دستیاب
• کورس کا ہر پندرہ روز بعد امتحان ہوتا ہے
📚 کورس کا دورانیہ: 4 ماہ
🎓 شامل مضامین:
• نورانی قاعدہ
• مکمل تجوید کورس
• قراءت کی بنیادی مشق
👤 معلم: قاری محمد احمد صدیقی (حفظہ اللہ)
📲 داخلے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں:
+923326024550
🌿 نشستیں محدود ہیں، ابھی رجسٹریشن کرائیں






Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran"
Academy online teacher

09/05/2026

📖 قرآنِ پاک تجوید کورس
🏠 گھر بیٹھے آسان طریقے سے سیکھیں
الحمدللہ نور القرآن اکیڈمی کی جانب سے آن لائن تجوید کورس شروع ہے۔
✨ خصوصیات:
• مکمل آن لائن کلاسز (واٹس ایپ کے ذریعے)
• ہر سبق تصویری نوٹس کی صورت میں
• وائس کال پر عملی مشق اور اصلاح
• ہر عمر کے افراد کے لیے دستیاب
• کورس کا ہر پندرہ روز بعد امتحان ہوتا ہے
📚 کورس کا دورانیہ: 4 ماہ
🎓 شامل مضامین:
• نورانی قاعدہ
• مکمل تجوید کورس
• قراءت کی بنیادی مشق
👤 معلم: قاری محمد احمد صدیقی (حفظہ اللہ)
📲 داخلے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کریں:
+923326024550
🌿 نشستیں محدود ہیں، جلد داخلہ لیں

09/05/2026

دوستو تیار ہو پھر تجوید کورس کے لیے

08/05/2026

نور القرآن اکیڈمی – تجوید کورس کا تعارف
نور القرآن اکیڈمی میں خالصتاً قرآنِ کریم کی صحیح تجوید سکھانے کے لیے ایک منظم آن لائن کورس پیش کیا جا رہا ہے۔
اس کورس کا بنیادی مقصد ہر طالب علم کو قرآنِ پاک کی درست ادائیگی، مخارج کی اصلاح اور قواعدِ تجوید کی مکمل سمجھ فراہم کرنا ہے تاکہ تلاوت سنت کے مطابق خوبصورت اور درست ہو سکے۔
یہ کورس بالکل سادہ اور عملی انداز میں پڑھایا جاتا ہے، جس میں ہر طالب علم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ابتدا سے لے کر اعلیٰ سطح تک تجوید کی تربیت دی جاتی ہے اور عملی تلاوت کی مسلسل اصلاح کی جاتی ہے۔
کورس کے اختتام پر طلبہ کی مشق (Practice) کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ ان کی تلاوت مزید مضبوط ہو سکے، اور کامیاب تکمیل پر اجرا (Certificate) بھی دیا جاتا ہے۔
یہ کورس ہر عمر کے افراد کے لیے موزوں ہے، خواہ بچے ہوں یا بڑے، ہر کوئی گھر بیٹھے آسانی کے ساتھ قرآنِ کریم کی صحیح تلاوت سیکھ سکتا ہے۔
مزید معلومات اور داخلے کے لیے واٹس ایپ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran"
Academy online teacher
#تجوید #قرآن #قرآنِ_پاک

Address

Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 10:30
Tuesday 09:00 - 10:30
Wednesday 09:00 - 10:30
Thursday 09:00 - 10:30
Saturday 09:00 - 10:30

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Muhammad Ahmad "Noor-e-Quran" Academy online teacher posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share