کراچی (29 جولائی):
محکمہ تعلیم کی طرف سے کل (30 جولائی) کو صوبے میں بارشوں کے پیش نظر تمام سرکاری و پرائیوٹ اسکولوں میں عام تعطیل کا اعلان
سیکریٹری تعلیم قاضی شاہد پرویز نے نوٹیفکیشن جاری کردیا.
ماسٹرمائنڈاسکول
Master Mind Secondary School System
Quality Education
؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ڈاکٹر عبدالقدیر خان،،؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛
ڈاکٹر عبدالقدیر خان یکم اپریل 1936 کو بھوپال ( انڈیا) کے ایک پشتون گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ والدہ صاحبہ گھر پر بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھاتی رہتی، یوں ڈاکٹر صاحب نے ہوش سنبھالا تو انہوں نے خود کو مذہبی ماحول میں پایا،تقسیم ہند کے بعد آپ پاکستان آئے اور کراچی یونیورسٹی سے بی ایس سی کیا، اس کے بعد برلن میں ٹیکنیکل یونیورسٹی سے ایم۔ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ 1967 میں ٹیکنالوجی یونیورسٹی ھالینڈ سے ماسٹر ڈگری حاصل کی، آپ نے پی ایچ ڈی بلجیئم کی یونیورسٹی آف لیون سے کی ۔ڈاکٹر صاحب نے physical metallurgy میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ بچپن میں ماہی گیری اور تیراکی کے شوقین تھے، شعر و شاعری سے بھی بڑا لگاؤ تھا، غالب، اقبال اور اس زمانے کے دوسرے شعراء کے ہزاروں اشعار زبانی یاد تھے، آپ اردو ادب کا پروفیسر بننا چاہتے تھے لیکن قدرت نے انہیں سائنسدان بنا دیا ۔ کراچی میں دوران طالب علمی آپ پروفیسر خورشید سے۔ 1971 میں سانحہ مشرقی پاکستان واقع ہوا تو آپ ھالینڈ میں ایک پرکشش عہدہ ملازمت پر فائز تھے، آپ سوچتے رہتے کہ کیوں نہ میں پاکستان جاکر اس کی خدمت کروں، 1974 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو آپ سے رہا نہ گیا آپ نے پرکشش ملازمت چھوڑ دی اور اس عزم کے ساتھ پاکستان آئے کہ اس ملک کو ناقابل تسخیر بنائیں گے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے ہر قسم تعاون کا وعدہ کیا اور اس وعدہ کو نبھایا بھی، صدر پاکستان غلام اسحق خان نے یقین دلایا تھا کہ جتنا پیسہ لگتا ہے انکار نہیں کیا جائے گا ۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی اس میں غیرمعمولی دلچسپی دکھائی اور آخر کار ضیاء الحق ہی کے دور میں پاکستان ایٹمی صلاحیت والا ملک بن گیا تھا ۔ جب ہندوستان نے 1998 میں دوبارہ دھماکے کئے تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وزیر اعظم نواز شریف سے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن نوازشریف چونکہ، چنانچہ سے کام لے کر اس کو ڈھیل دیتے رہے، ولی خان نوازشریف کے ہمنوا تھے، ساجد میر نے مختلف اخبارات میں ایٹمی دھماکے نہ کرانے کا عمل قرآن و حدیث سے ثابت کرنے کی خوب کوشش کی تھی، جن کے ایک مضمون کا جواب راقم الحروف نے روزنامہ مشرق میں دیا تھا ( غالباً 22.23 مئ) ادھر عوام میں ایک زبردست جوش و جذبہ تھا، اے این پی کے ورکرز نے ولی خان اور مسلم لیگ کے عوام نے نواز شریف کی پرواہ کئے بغیر احتجاجی جلسوں اور جلوسوں میں بھرپور حصہ لیا۔ سخت گرمی کے باوجود عوام مظاہرے کرتے رہے اور مطالبہ کرتے رہے کہ ایٹمی دھماکے کرائے جائیں ۔ فوج بھی ایٹمی دھماکوں کے حق میں تھی، تاکہ بھارت جارحیت کی حماقت نہ کرسکے ۔آخر کار عوام کی بے پناہ قربانیوں اور فوج کے دباؤ نے نواز شریف کو دھماکے کرنے کی اجازت پر راضی کر لیا اور 28 مئی 1998 کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، عوام اور افواج پاکستان کی خواہش کے مطابق ایٹمی دھماکے کرائے گئے اور پاکستان دنیا کے ایٹمی ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ۔ فللہ الحمد۔
ایک معصوم بچی اپنے گردوپیش سے بے خبر پوری توجہ سے اپنے کام میں مصروف تھی۔ ہنڈیا پکا کر اب وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے آٹا گوندھنے میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی‘ کون ہے؟ بچی نے دروازہ کھولنے سے پہلے سوال کیا۔ دروازہ کھولو۔۔۔ باہر سے ایک کرخت آواز آئی۔ تین چار آدمی باہر تلواریں تانے کھڑے تھے۔ جی کیا بات ہے؟ بچی نے شائستہ لہجے میں پوچھا۔ اے لڑکی! تیرا باپ کہاں ہے؟ ایک آدمی نے بڑے غصے سے پوچھا۔ مجھے نہیں پتہ کہ میرا باپ کہاں ہے؟ تجھے پتہ ہے تو جھوٹ بکتی ہے‘ اس آدمی نے چلاتے ہوئے کہا۔ میں نے کہا نا مجھے نہیں پتہ۔۔۔ بچی بھی اپنی بات پر ڈٹی رہی‘ بچی بڑی ہمت والی تھی‘ اس کی جگہ اگر کوئی اور ہوتی تو خوف سے اُس کی آواز سن کر کانپ جاتی۔ دیکھا اُس کا جادو بچوں پر بھی چل گیا ہےاس آدمی نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور کہا دیکھو لڑکی سچ سچ بتادو ورنہ ہم تیرے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔ دوسرے آدمی نے بچی سے مخاطب ہوکر خونخوار لہجے میں کہا۔ میں آپ کو دو دفعہ کہہ چکی ہوں کہ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ ابو کہاں گئے ہیں؟ تڑاخ۔۔۔۔ تڑاخ۔۔۔۔ بچی کے سیب جیسے رخسار پر ظالم نے پوری قوت سے دو تھپڑ رسید کردیئے۔ بچی اچھل کر گھر کی دہلیز پر آگئی اور اس کے کان کی لو سے خون بہنے لگا۔ جب وہ آدمی جاچکے تو بچی کوئی تاثر لیے بغیر اٹھی اور جاکر ننھے منے ہاتھوں سے روٹیاں پکانے لگی۔ اس نے روٹیاں پکا کر ایک رومال میں باندھ لیں اور اسے اپنے دوپٹے کے پیچھے چھپا لیا اور گھر سے باہر نکل کر اس نے چاروں طرف دیکھا اور ایک سمت چل پڑی۔ بچی کا سانس پھول رہا تھا لیکن وہ اپنی جسمانی حالت کی پروا کیے بغیر تیزی سے قدم بڑھا رہی تھی جہاں کہیں اسے پاؤں کی آہٹ سنائی دیتی تو فوراً اپنی رفتار آہستہ کرلیتی۔ ایک سمت مڑتے ہوئے اسے اپنے سامنے ایک غار دکھائی دی۔ غار کو دیکھ کر اس نے ایک مرتبہ پھر چاروں سمت دیکھا اور غار میں داخل ہوگئی۔
اس غار میں دو معزز ترین ہستیاں تشریف فرما تھیں‘ بچی کو دیکھتے ہی ایک آدمی اٹھ کھڑے ہوئے اوربڑے پیار سے فرمایا کہ بیٹی! تجھے آتے کسی نے دیکھا تو نہیں۔ نہیں اباجان۔۔۔! میں بڑی احتیاط سے آئی ہوں۔ شاباش۔۔۔ میری بیٹی بڑی بہادر ہے۔ لیں آپ کھانا کھالیں۔ بیٹی نے دوپٹہ سے کھانا نکال کر اُن کی طرف بڑھادیا اور خود چل پڑی۔
پیارے بچو! یہ بچی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بیٹی ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں اور ان کو مارنے والا آدمی ابوجہل تھا اور غار میں تشریف فرما دو معزز ترین ہستیوں میں سے ایک حضور نبی اکرم ﷺ اور دوسرے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ تھے۔
اس لیے پیارے بچو! ہمیں بھی اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں بھی ایسا پختہ ایمان عطافرمائے اور اپنے عقائد پر ڈٹے رہنے کی توفیق عطا فرمائے......
کافر ہو تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ،
مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔
سترہ رمضان المبارک سن ۲ ھجری، بدر کی گھاٹی جو سنسان پڑی ہے، یقیناً یہ کسی طوفان کی آمد سے پہلے کا سناٹا ہے۔
بالکل یہ ایک طوفان ( جنگ) سے پہلے کا سناٹا تھا، کیوں کہ اب وہاں ایک جانب حق، باطل کو دبوچ لینے کو تیار کھڑا ہے تو دوسری طرف باطل بھی پوری تیاری کے ساتھ نبرد آزما ہونے اور حق کو شکست فاش دینے کو تیار ہے۔ عجیب کشمکش سی ہے کہ کون کس کو شکست دے کر فاتحِ بدر کہلائے گا؟ مسلمانوں کا جذبہ دیدنی ہے تو کفار کی افرادی قوت زیادہ ہے۔
پس منظر:
یہ وہ وقت ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ سے مدینہ ہجرت کیے ہوئے طویل عرصہ نہیں ہوا تھا، کفار جو آپ کو معاذ اللہ قتل کرنے کے منصوبے بنا رہے تھے، آپ کی ہجرت کی باعث ناکام ہوئے۔
میدان بدر:
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کے بعد اب وہ صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ اسلام (جو مکمل ضابطہ حیات) کو ختم کرنے کی سازشیں کرنے لگے۔ اسی سلسلے میں کفار نے مسلمانوں کے ہجرت کرجانے کے بعد اُن پر چڑھائی کا منصوبہ ترتیب دیا اور ۱۰۰۰ جنگجو، جنگی گھوڑے، جنگی ہاتھی اور اونٹوں کے لشکر کے ہمراہ مدینہ کی راہ اختیار کی ”معاذا للہ آج مسلمانوں اور ان کے نبی کا خاتمہ کردیں گے۔“اُ دھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر پہنچتی ہے ”کفار مکہ مسلمانوں سے جنگ کی نیت سے مدینہ کی طرف آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“ آپ فوراً ہی اپنے ساتھیوں کو حکم دیتے ہیں”کفارِ مکہ سے جنگ کی تیاریاں شروع کی جائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے، تیاریاں شروع کردی جاتی ہیں اور بلآخر جنگ کی تیاریاں مکمل پاتی ہیں۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قیادت میں شوقِ شہادت، جذبہِ ایمانی سے سرشار لشکرِ اسلام یہ کہتا ہوا کفار کی جانب چل پڑتا ہے ”آج تو کفار کی خیر نہیں“ اور دوسری طرف کفّار بھی اسی سوچ میں ہوتے ہیں ”آج مسلمانوں کا خاتمہ کردیں گے۔“ بدر کی گھاٹی پر آمنا سامنا ہوتا ہے اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی مسلمان لشکر کی تعداد کم ہے صرف ۳۱۳ جہادی ہیں، اس کے علاوہ مسلمانوں کے پاس جنگی سامان بھی کفار کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ شیطان لشکرِ اسلام کے سپاہیوں کو بہکانا شروع کرتا ہے، مسلمان افسردہ ہوجاتے، افسردگی کی حالت نیند غالب آجاتی ہے۔ جب بیدار ہوتے ہیں تو بالکل ہشاش بشاش محسوس کرتے ہیں۔ اب اپنی قوت کفار کی قوت سے زیادہ نظر آرہی ہے۔ بیشک میٹھی نیند اللہ کی طرف سے تحفہ تھی۔
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔
مسلمانوں کو اپنی افرادی قوت میں اضافہ لگنے لگا، وہ دراصل خدا تعالیٰ کی غیبی مدد تھی فرشتوں کی صورت میں۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی۔
کہ مسلمان آگے بڑھتے ہیں جنگ شروع ہوتی ہے نتیجتاً حق باطل پر غالب آجاتا ہے۔ باطل جس نیت کے ساتھ آیا ہوتا ”اب مسلمانوں کی خیر نہیں اُس کو اپنے منصوبے میں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ “ مسلمان کافی حد تک کفارِ مکہ کو مالی اور جانی نقصان پہنچا چکے ہوتے ہیں اس کے مقابل مسلمانوں کو کافی کم نقصان ہوتا ہے۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
اور یہاں دوبارہ یہ بات سے واضح ہوجاتی ہے کہ غالب تو ہمیشہ حق ہی کو آنا ہے۔ ”چاہے کوئی عزت کے ساتھ قبول کرے کا ذلت کے ساتھ۔“
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو،
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی۔
کون کون سے سجادہ نشین اورچوہدری انگریزوں کے مخبر تھے؟
اصطبل میں ترے اجداد ہوا کرتے تھے
تیری جاگیر سے بو آتی ہے غداری کی
ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﺮﺍﺏ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮬﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﮬﮯ ...
"Punjab and the War of Independence 1857"
ﺍﺱ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ ﮬﮯ . ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ، ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﺟﺎﮔﯿﺮﯾﮟ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺎﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭﻧﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺌﮯ.
۔
ﺍﺱ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﮦ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﮯ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻧﻮﺍﺯﺷﺎﺕ ﺳﮯ ﻓﯿﻀﯿﺎﺏ ﮬﻮﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮬﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔
Griffin punjab chifs Lahore ;1909
ﺳﮯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺩﮦ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﯿﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﯿﺪ ﻧﻮﺭ ﺷﺎﮦ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ 300 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔
Proceeding of the Punjab Political department no 47, june 1858
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﮩﺎﺅﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 20 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﻓﺮﺍﮬﻢ ﮐﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ 25 ﺁﺩﻣﯽ ﻟﯿﮑﺮﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺋﮯ۔
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺭﮬﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ 1750 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻍ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻥ 150 ﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ۔
ﺟﻮ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﺎ ﮬﮯ ﻭﮬﯽ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﻧﺜﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﮬﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺨﺒﺮﯼ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺭﯾﻮﻧﯿﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺍﻭﺭ 500 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ۔
Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab .
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﺎﻣﺪ ﻧﺎﺻﺮ ﭼﭩﮭﮧ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺶ ﭼﭩﮭﮧ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮑﻠﺴﻦ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔
ﻗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﺧﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﺎﻥ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺷﯿﺪ ﻗﺼﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ 100 ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﺘﯿﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺍ۔ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ 2500 ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﭘﻨﺸﻦ ﺩﯼ۔
" ۔ ’’ ﺍﺣﻤﺪ ﺧﺎﮞ ﮐﮭﺮﻝ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺟﻠﺪ ﯾﺎ ﺑﺪﯾﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﯾﺎ ﮐﮭﺮﻝ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻣﻠﮯ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ 10 ﺟﻮﻥ 1857 ﺀ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﺎﻥ ﭼﮭﺎﺅﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ 69 ﮐﻮ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﮯ ﺷﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﮐﻤﺎ ﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﻣﻊ ﺩﺱ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮﭖ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﮌﺍﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺟﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﻘﯿﮧ ﻧﮩﺘﮯ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﮐﻮ ﺷﺒﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭨﻮﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭﺗﮧ ﺗﯿﻎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ۔
ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺎﺅﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﻞ ﺷﻮﺍﻟﮧ ﭘﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺑﮩﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻧﮩﺘﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﯾﮧ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﻟﮑﮍ ﺩﺍﺩﺍ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻥ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻏﯽ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺷﯿﺮ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻋﻠﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ ۔ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺩﯼ ﮐﭽﮫ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﺟﺎﻥ ﺑﺤﻖ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔ ﭘﺎﺭ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺪﺳﻠﻄﺎﻥ ﻗﺘﺎﻝ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﺁﻑ ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﻋﻠﯽ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﯽ ﺁﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭨﻮﻟﯽ ﺷﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮ ﻧﮕﺎﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺟﺴﮯ ﭘﯿﺮ ﻣﮩﺮ ﭼﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭﻟﻨﮕﺮﯾﺎﻝ، ﮨﺮﺍﺝ، ﺳﺮﮔﺎﻧﮧ ﺗﺮﮔﮍ ﺳﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻦ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﻣﮩﺮ ﺷﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﺳﯿﺪ ﻓﺨﺮﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﮍﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺳﮕﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﺎ ۔ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻓﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﻣﺮﺑﻊ ﺍﺭﺍﺿﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﻮ 1857 ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﭽﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﺒﻠﻎ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺟﺎﮔﯿﺮﺳﺎﻻﻧﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻣﺒﻠﻎ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮﺍﺳﯽ ﺭﻭﭘﮯ ﺁﭨﮫ ﭼﺎﮨﺎﺕ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺩﻭﺍﻡ ﻋﻄﺎﮨﻮﺋﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﯾﮧ ﮐﮧ 1860 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺴﺮﺍﺋﮯ ﮨﻨﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﮕﯽ ﻭﺍﻻ ﺑﺎﻍ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻋﻠﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﺳﯿﻊ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ
ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﮐﻞ ﮐﮯ ﻣﺨﺒﺮ
آج کے رہبر
منقول
مکہّ میں ابوسفیان بہت بے چین تھا ،
" آج کچھ ھونے والا ھے " ( وہ بڑبڑایا ) اسکی نظر آسمان کی طرف باربار اٹھ رھی تھی ۔
اسکی بیوی " ھند " جس نے حضرت امیر حمزہ کا کلیجہ چبایا تھا اسکی پریشانی دیکھ کر اسکے پاس آگئ تھی
" کیا بات ھے ؟ کیوں پریشان ھو ؟ "
" ھُوں ؟ " ابوُ سُفیان چونکا ۔ کُچھ نہیں ۔۔ " طبیعت گھبرا رھی ھے میں ذرا گھوُم کر آتا ھوُں " وہ یہ کہہ کر گھر کے بیرونی دروازے سے باھر نکل گیا
مکہّ کی گلیوں میں سے گھومتے گھومتے وہ اسکی حد تک پہنچ گیا تھا
اچانک اسکی نظر شہر سے باھر ایک وسیع میدان پر پڑی ،
ھزاروں مشعلیں روشن تھیں ، لوگوں کی چہل پہل انکی روشنی میں نظر آرھی تھی
اور بھنبھناھٹ کی آواز تھی جیسے سینکڑوں لوگ دھیمی آواز میں کچھ پڑھ رھے ھوں
اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔۔۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ قریب جاکر دیکھے گا کہ یہ کون لوگ ھیں
اتنا تو وہ سمجھ ھی چکا تھا کہ مکہّ کے لوگ تو غافلوں کی نیند سو رھے ھیں اور یہ لشکر یقیناً مکہّ پر چڑھائ کیلیئے ھی آیا ھے
وہ جاننا چاھتا تھا کہ یہ کون ھیں ؟
وہ آھستہ آھستہ اوٹ لیتا اس لشکر کے کافی قریب پہنچ چکا تھا
کچھ لوگوں کو اس نے پہچان لیا تھا
یہ اسکے اپنے ھی لوگ تھے جو مسلمان ھوچکے تھے اور مدینہ ھجرت کرچکے تھے
اس کا دل ڈوب رھا تھا ، وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا ھے
اور یقیناً " مُحمّد ﷺ اپنے جانثاروں کیساتھ مکہّ آپہنچے تھے "
وہ چھپ کر حالات کا جائزہ لے ھی رھا تھا کہ عقب سے کسی نے اسکی گردن پر تلوار رکھ دی
اسکا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا تھا
لشکر کے پہرے داروں نے اسے پکڑ لیا تھا
اور اب اسے " بارگاہ محمّد ﷺ میں لیجا رھے تھے "
اسکا ایک ایک قدم کئ کئ من کا ھوچکا تھا
ھر قدم پر اسے اپنے کرتوت یاد آرھے تھے
جنگ بدّر ، احد ، خندق ، خیبر سب اسکی آنکھوں کے سامنے ناچ رھی تھیں
اسے یاد آرھا تھا کہ اس کیسے سرداران مکہّ کو اکٹھا کیا تھا " محمّد کو قتل کرنے کیلیئے "
کیسے نجاشی کے دربار میں جاکر تقریر کی تھی کہ ۔۔۔۔
" یہ مسلمان ھمارے غلام اور باغی ھیں انکو ھمیں واپس دو "
کیسے اسکی بیوی ھندہ نے امیر حمزہ کو اپنے غلام حبشی کے ذریعے شہید کروا کر انکا سینہؑ چاک کرکے انکا کلیجہ نکال کر چبایا اور ناک اور کان کاٹ کر گلے میں ھار بنا کر ڈالے تھے
اور اب اسے اسی محمّد ﷺ کے سامنے پیش کیا جارھا تھا
اسے یقین تھا کہ ۔۔۔
اسکی روایات کے مطابق اُس جیسے " دھشت گرد " کو فوراً تہہ تیغ کردیا جاۓ گا ۔
اُدھر ۔۔۔۔
" بارگاہ رحمت للعالمین ﷺ میں اصحاب رض جمع تھے اور صبح کے اقدامات کے بارے میں مشاورت چل رھی تھی کہ کسی نے آکر ابوسفیان کی گرفتاری کی خبر دے دی
" اللہ اکبر " خیمہؑ میں نعرہ تکبیر بلند ھوا
ابوسفیان کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر اور کامیابی تھی
خیمہؑ میں موجود عمر ابن الخطاب اٹھ کر کھڑے ھوۓ اور تلوار کو میان سے نکال کر انتہائ جوش کے عالم میں بولے ۔۔
" اس بدبخت کو قتل کردینا چاھیئے شروع سے سارے فساد کی جڑ یہی رھا ھے "
چہرہ مبارک رحمت للعالمین ﷺ پر تبسّم نمودار ھوا
اور انکی دلوں میں اترتی ھوئ آواز گونجی
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔ اسے آنے دو "
عمر ابن خطاب آنکھوں میں غیض لیئے حکم رسول ﷺ کی اطاعت میں بیٹھ تو گۓ لیکن ان کے چہرے کی سرخی بتا رھی تھی کہ انکا بس چلتا تو ابوسفیان کے ٹکڑے کرڈالتے
اتنے میں پہرے داروں نے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ھونے کی اجازت چاھی
اجازت ملنے پر ابوسفیان کو رحمت للعالمین کے سامنے اس حال میں پیش کیا گیا کہ اسکے ھاتھ اسی کے عمامے سے اسکی پشت پر بندھے ھوۓ تھے
چہرے کی رنگت پیلی پڑ چکی تھی
اور اسکی آنکھوں میں موت کے ساۓ لہرا رھے تھے
لب ھاۓ رسالت مآب ﷺ وا ھوۓ ۔۔۔
اور اصحاب رض نے ایک عجیب جملہؑ سنا
" اسکے ھاتھ کھول دو اور اسکو پانی پلاؤ ، بیٹھ جاؤ ابوسفیان ۔۔ !! "
ابوسفیان ھارے ھوۓ جواری کی طرح گرنے کے انداز میں خیمہؑ کے فرش پر بچھے قالین پر بیٹھ گیا ۔
پانی پی کر اسکو کچھ حوصلہ ھوا تو نظر اٹھا کر خیمہؑ میں موجود لوگوں کی طرف دیکھا
عمر ابن خطاب کی آنکھیں غصّہ سے سرخ تھیں
ابوبکر ابن قحافہ کی آنکھوں میں اسکے لیئے افسوس کا تاثر تھا
عثمان بن عفان کے چہرے پر عزیزداری کی ھمدردی اور افسوس کا ملا جلا تاثر تھا
علیؑ ابن ابوطالبؑ کا چہرہ سپاٹ تھا
اسی طرح باقی تما اصحاب کے چہروں کو دیکھتا دیکھتا آخر اسکی نظر محمّد ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر ٹھر گئ
جہاں جلالت و رحمت کے خوبصورت امتزاج کیساتھ کائنات کی خوبصورت ترین مسکراھٹ تھی
" کہو ابوسفیان ؟ کیسے آنا ھوا ؟؟ "
ابوسفیان کے گلے میں جیسے آواز ھی نہیں رھی تھی
بہت ھمّت کرکے بولا ۔۔ " مم ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں ؟؟ "
عمر ابن خطاب ایک بار پھر اٹھ کھڑے ھوۓ
" یارسول اللہ ﷺ یہ شخص مکّاری کررھا ھے ، جان بچانے کیلیئے اسلام قبول کرنا چاھتا ھے ، مجھے اجازت دیجیئے ، میں آج اس دشمن ازلی کا خاتمہؑ کر ھی دوں " انکے مونہہ سے کف جاری تھا ۔۔۔
" بیٹھ جاؤ عمر ۔۔۔ " رسالت مآب ﷺ نے نرمی سے پھر فرمایا
" بولو ابوسفیان ۔۔ کیا تم واقعی اسلام قبول کرنا چاھتے ھو ؟ "
" جج ۔۔ جی یا رسول اللہ ﷺ ۔۔ میں اسلام قبول کرنا چاھتا ھوں میں سمجھ گیا ھوں کہ آپؐ اور آپکا دین بھی سچّا ھے اور آپ کا خدا بھی سچّا ھے ، اسکا وعدہ پورا ھوا ۔ میں جان گیا ھوں کہ صبح مکہّ کو فتح ھونے سے کوئ نہیں بچا سکے گا "
چہرہؑ رسالت مآب ﷺ پر مسکراھٹ پھیلی ۔۔
" ٹھیک ھے ابوسفیان ۔۔
تو میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ھوں اور تمہاری درخواست قبول کرتا ھوں جاؤ تم آزاد ھو ، صبح ھم مکہّ میں داخل ھونگے انشاء اللہ
میں تمہارے گھر کو جہاں آج تک اسلام اور ھمارے خلاف سازشیں ھوتی رھیں ، جاۓ امن قرار دیتا ھوں ، جو تمہارے گھر میں پناہ لےلے گا وہ محفوظ ھے ، "
۔
ابوسفیان کی آنکھیں حیرت سے پھٹتی جا رھی تھیں
۔
" اور مکہّ والوں سے کہنا ۔۔ جو بیت اللہ میں داخل ھوگیا اسکو امان ھے ، جو اپنی کسی عبادت گاہ میں چلا گیا ، اسکو امان ھے ، یہاں تک کہ جو اپنے گھروں میں بیٹھ رھا اسکو امان ھے ،
جاؤ ابوسفیان ۔۔۔ جاؤ اور جاکر صبح ھماری آمد کا انتظار کرو
اور کہنا مکہّ والوں سے کہ ھماری کوئ تلوار میان سے باھر نہیں ھوگی ، ھمارا کوئ تیر ترکش سے باھر نہیں ھوگا
ھمارا کوئ نیزہ کسی کی طرف سیدھا نہیں ھوگا جب تک کہ کوئ ھمارے ساتھ لڑنا نہ چاھے "
۔
ابوسفیان نے حیرت سے محمّد ﷺ کی طرف دیکھا اور کانپتے ھوۓ ھونٹوں سے بولنا شروع کیا ۔۔
" اشھد ان لاالہٰ الا اللہ و اشھد ان محمّد عبدہُ و رسولہُ "
۔
سب سے پہلے عمر ابن خطاب آگے بڑھے ۔۔ اور ابوسفیان کو گلے سے لگایا
" مرحبا اے ابوسفیان ، اب سے تم ھمارے دینی بھائ ھوگۓ ، تمہاری جان ، مال ھمارے اوپر ویسے ھی حرام ھوگیا جیسا کہ ھر مسلمان کا دوسرے پر حرام ھے ، تم کو مبارک ھو کہ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کردی گئیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ تمہارے پچھلے گناہ معاف فرماۓ "
ابوسفیان حیرت سے خطاب کے بیٹے کو دیکھ رھا تھا
یہ وھی تھا کہ چند لمحے پہلے جسکی آنکھوں میں اس کیلیئے شدید نفرت اور غصّہ تھا اور جو اسکی جان لینا چاھتا تھا
اب وھی اسکو گلے سے لگا کر بھائ بول رھا تھا ؟
یہ کیسا دین ھے ؟
یہ کیسے لوگ ھیں ؟
سب سے گلے مل کر اور رسول اللہ ﷺ کے ھاتھوں پر بوسہ دے کر ابوسفیان خیمہؑ سے باھر نکل گیا
" وہ دھشت گرد ابوسفیان کہ جس کے شر سے مسلمان آج تک تنگ تھے انہی کے درمیان سے سلامتی سے گزرتا ھوا جارھا تھا ، جہاں سے گزرتا ، اس اسلامی لشکر کا ھر فرد ، ھر جنگجو ، ھر سپاھی جو تھوڑی دیر پہلے اسکی جان کے دشمن تھے اب آگے بڑھ بڑھ کر اس سے مصافحہ کررھے تھے ، اسے مبارکباد دے رھے تھے ، خوش آمدید کہہ رھے تھے ۔۔ "
اگلے دن ۔۔۔
مکہّ شہر کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابوسفیان تھا
مسلمانوں کا لشکر مکہّ میں داخل ھوچکا تھا
کسی ایک تلوار ، کسی ایک نیزے کی انی ، کسی ایک تیر کی نوک پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا
لشکر اسلام کو ھدایات مل چکی تھیں
کسی کے گھر میں داخل مت ھونا
کسی کی عبادت گاہ کو نقصان مت پہنچانا
کسی کا پیچھا مت کرنا
عورتوں اور بچوں پر ھاتھ نہ اٹھانا
کسی کا مال نہ لوٹنا
بلال حبشئ آگے آگے اعلان کرتا جارھا تھا
" مکہّ والو ۔۔۔ رسول خدا ﷺ کی طرف سے ۔۔۔
آج تم سب کیلیئے عام معافی کا اعلان ھے ۔۔
کسی سے اسکے سابقہ اعمال کی بازپرس نہیں کی جاۓ گی ،
جو اسلام قبول کرنا چاھے وہ کرسکتا ھے
جو نہ کرنا چاھے وہ اپنے سابقہ دین پر رہ سکتا ھے
سب کو انکے مذھب کے مطابق عبادت کی کھلی اجازت ھوگی
صرف مسجد الحرام اور اسکی حدود کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ھوگی
کسی کا ذریعہ معاش چھینا نہیں جاۓ گا
کسی کو اسکی ارضی و جائیداد سے محروم نہیں کیا جاۓ گا
غیر مسلموں کے جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گے
اے مکہّ کے لوگو ۔۔۔۔ !! "
۔
ھندہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑی لشکر اسلام کو گزرتے دیکھ رھی تھی
اسکا دل گواھی نہیں دے رھا تھا کہ " حضرت حمزہ " کا قتل اسکو معاف کردیا جاۓ گا
لیکن ابوسفیان نے تو رات یہی کہا تھا کہ ۔۔۔
" اسلام قبول کرلو ۔۔ سب غلطیاں معاف ھوجائیں گی "
مکہّ فتح ھوچکا تھا
بنا ظلم و تشدد ، بنا خون بہاۓ ، بنا تیر و تلوار چلاۓ ،
لو گ جوق در جوق اس آفاقی مذھب کو اختیار کرنے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے مسجد حرام کے صحن میں جمع ھورھے تھے
اور تبھی مکہّ والوں نے دیکھا ۔۔۔
" اس ھجوم میں ھندہ بھی شامل تھی "
۔
یہ ھوا کرتا تھا اسلام ۔۔ یہ تھی اسکی تعلیمات ۔۔ یہ سکھایا تھا رحمت للعالمین ﷺ نے...
03/03/2019
امتحان میں دعا کیوں؟ ۔
اکثر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جب ہم نے محنت کر لی تو پھر اللہ سے دعا کی کیا ضرورت ہے۔ جب ہم نے دن رات جاگ کر محنت کی، سبجیکٹ پر عبور حاصل کر لیا، اس کے ہر ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لے لیا تو پھر دعا نے کیا کرنا ہے؟ دوسری جانب ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ ہم تو دعاؤں سے کامیاب ہوجائیں گے۔ اور جب ایسا ہونا ہے تو پھر محنت کی کیا ضرورت ہے۔ یہ دراصل دو انتہائیں ہیں۔ حقیقت ان دونوں کے بیچ میں ہے۔
اللہ نے یہ دنیا جس اصول پر بنائی ہے اس میں کچھ کام انسان کے ذمے ہے تو کچھ کام اللہ نے اپنے ذمے لیا ہوا ہے۔ اگر ایک کسان بیج بوئے بغیر فصل کی دعا کرے تو وہ بے وقوف ہے کیونکہ اس نے اپنے حصے کا کام ہی نہیں کیا۔ اللہ کی مدد کا اظہار جو اس کی محنت سے مشروط تھا وہ نظر نہیں آئے گا۔ دوسری جانب ایک کسان جب بیج بولیتا ہے تو اب بھی دعا کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے اپنے حصے کا کام تو کرلیا لیکن بے شمار منفی عوامل اس کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ مثال کے طور پر بارش ہی نہ ہو تو فصل نہیں ہو گی، کوئی وبا پھیل جائے تو فصل تباہ ہو جائے گی۔ کوئی سیلاب آجائے تو سب کچھ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا۔
اسی طرح وہ طلباء جو محنت کئے بغیر دعا پر ہی اکتفا کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ انہوں نے اپنے حصے کا کام پورا نہ کر کے کوتاہی کی ہے اور اس شرط کو پورا ہی نہیں کیا جو دعا کے لیے ضروری تھی۔ چنانچہ ان کی دعا ایسی ہی ہے جیسے گاڑی میں فیول ڈالے بغیر اس کو چلانے کی کوشش کرنا یا کسان کا بیج بوئے بنا فصل کی توقع کرنا۔
دوسری جانب وہ طلباء جو محنت کر چکے ہیں، انہوں نے ابھی کامیابی کی ایک شرط پوری کی ہے۔ اس محنت کے علاوہ بے شمار ناقابل کنٹرول عوامل انکی محنت کو اکارت کر سکتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک طالبہ نے بہت اچھی تیاری کر لی، سب کچھ پریکٹس کر لیا لیکن اس کے باوجود کئی عوامل اس کی محنت پر حاوی آکر اسے ناکامی کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔ عین امتحان کے وقت اس کی طبیعت خراب ہو سکتی ہے، اس کے ذہن سے بات نکل سکتی ہے، پرچہ خلاف توقع آسکتا ہے، مارکنگ میں غلطی ہو سکتی ہے، کوئی حادثہ ہو سکتا ہے وغیرہ۔ چنانچہ اللہ سے استدعا کی جاتی ہے کہ اے میرے رب جو میرے بس میں تھا وہ میں نے کر لیا، اب آپ کا کام ہے کہ مجھے ناقابل کنٹرول عوامل کے اثر سے محفوظ رکھ کر نتیجہ میرے حق میں برآمد کر دیجے۔ اسی لئے جب کامیابی ملتی ہے تو ایک بندہ مومن سارا کریڈٹ اللہ کو دے دیتا ہے اور اسکا شکر گذار ہوتا ہے کیونکہ ہماری محنت کا پھل دینے والا وہی ہے مجرد ہماری محنت نہیں۔
اپنے حصے کا کام کئے بنا دعا پر بھروسہ کرنا حماقت ہے اور اپنی محنت پر بھروسہ کر کے دعا سے گریز کرنا تکبر۔
دکان کا بورڈ....!!
ﺍﯾﮏ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺤﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﺭﮈ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ..
" ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ"
ﺍﯾﮏ ﺍﺩﯾﺐ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔزﺭ ﮨﻮﺍ .. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ .. " ﻣﯿﺎﮞ ! ﺍﺗﻨﺎ ﻟﻤﺒﺎ ﺟﻤﻠﮧ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﺭﻭﺕ ﺗﮭﯽ .. ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ " ﺗﺎﺯﮦ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ "ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﻟﻔﻆ " ﯾﮩﺎﮞ " ﻣﭩﺎ ﺩﯾﺎ ..
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺍٓﺋﮯ .. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﺑﮭﺌﯽ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ " ﺗﺎﺯﮦ " ﻟﮑﮭﻨﮯﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ .. ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﯽ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ".. ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﻟﻔﻆ " ﺗﺎﺯﮦ " ﻣﺤﻮ ﮐﺮﺩﯾﺎ ..
ﺍﺏ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻧﻈﺮ ﺍٓ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ .. "ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ"
"ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺍٓﺋﮯ .. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﯿﻨﮏ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﺑﻮﺭﮈ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﮯ " ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﺟﺖ ﭘﯿﺶ ﺍٓﮔﺌﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ؟.. ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﺩﺳﺘﯿﺎﺏ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺒﮭﯽ ﺗﻮ ﺑﮑﺘﯽ ﮨﮯ .. ﺑﺲ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﺗﮭﺎ .. " ﻣﭽﮭﻠﯽ .."
ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺏ ﺑﻮﺭﮈ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ.. "ﻣﭽﮭﻠﯽ "
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮮ ﺍﺩﯾﺐ , ﺑﮭﺎﺭﯼ ﻣﯿﻨﮉﯾﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍٓﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺗﺒﺼﺮﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ .. " ﺑﮭﺌﯽ ﯾﮧ ﺑﻮﺭﮈ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺗﮑﻠﻒ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯿﺎ .. ﻣﭽﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﭼﯿﺰ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ "..ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﻮﺭﮈ ﮨﭩﺎ ﮐﺮ ﺳﺎﺋﯿﮉ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺎ ....
ﺍﺏ ﺫﺭﺍ ﮨﻨﺴﯽ ﺭﻭﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﮔﮯ ﭘﮍﮬﯿﮟ ..
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻣﻠﮏ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻮﺭﮈ ﭘﺮ ﺑﮍﺍ ﺑﮍﺍ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ..
" ﻻ ﺍﻟٰﮧ ﺍﻻ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ "
ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﻣﻔﮑﺮﯾﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ .. ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﮑﻠﻒﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ ؟..
ﺟﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ , ﺷﻠﻮﺍﺭ ﻗﻤﯿﺾ ﺍﻭﺭ ﭘﮕﮍﯼ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ , ﻟﻮﮒ ﻧﻤﺎﺯ ﺭﻭﺯﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﻨﮕﺎ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ..
ﻟﮩٰﺬﺍ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﭽﮭﻠﯽ ﻓﺮﻭﺷﻮﮞ ﻧﮯ ﻭﮦ ﮐﻠﻤﮧ ﮨﯽ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﺮ ﺗﮭﮏ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ..
ﮐﮩﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓ ﺭﮨﺎ ..
ﻧﮧ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﻮﺍﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ___
ﻧﮧ ﻣﻌﯿﺸﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ___
ﻧﮧ ﻋﻠﻤﯽ ﺩﺭﺳﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ___
ﻧﮧ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ !!
ﮨﻢ ﻣﻨﺰﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﭩﮏ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ مصروفِ ﺳﻔﺮ ﮨﯿﮟ.
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی،نوکری کی طلب لئےحاضر ھوا،
قابلیت پوچھی گئ، کہا ،سیاسی ہوں ۔۔
(عربی میں سیاسی،افہام و تفہیم سے مسئلہ حل کرنے والے معاملہ فہم کو کہتے ھیں)
بادشاہ کے پاس سیاست دانوں کی بھر مار تھی،
اسے خاص " گھوڑوں کے اصطبل کا انچارج " بنا لیا
جو حال ہی میں فوت ھو چکا تھا.
چند دن بعد ،بادشاہ نے اس سے اپنے سب سے مہنگے اور عزیز گھوڑے کے متعلق دریافت کیا،
اس نے کہا "نسلی نہیں ھے"
بادشاہ کو تعجب ھوا، اس نے جنگل سے سائیس کو بلاکر دریافت کیا،،،،
اس نے بتایا، گھوڑا نسلی ھے لیکن اس کی پیدائش پر اس کی ماں مرگئ تھی، یہ ایک گائے کا دودھ پی کر اس کے ساتھ پلا ھے.
مسئول کو بلایا گیا،
تم کو کیسے پتا چلا، اصیل نہیں ھے؟؟؟
اس نے کہا،
جب یہ گھاس کھاتا ھےتو گائیوں کی طرح سر نیچے کر کے
جبکہ نسلی گھوڑا گھاس منہ میں لےکر سر اٹھا لیتا ھے.
بادشاہ اس کی فراست سے بہت متاثر ھوا،
مسئول کے گھر اناج،گھی،بھنے دنبے،اور پرندوں کا اعلی گوشت بطور انعام بھجوایا.
اس کے ساتھ ساتھ اسے ملکہ کے محل میں تعینات کر دیا،
چند دنوں بعد، بادشاہ نے مصاحب سے بیگم کے بارے رائے مانگی،
اس نے کہا.
طور و اطوار تو ملکہ جیسے ھیں لیکن "شہزادی نہیں ھے،"
بادشاہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، حواس بحال کئے، ساس کو بلا بیجھا،
معاملہ اس کے گوش گذار کیا. اس نے کہا ، حقیقت یہ ھے تمہارے باپ نے، میرے خاوند سے ھماری بیٹی کی پیدائش پر ھی رشتہ مانگ لیا تھا، لیکن ھماری بیٹی 6 ماہ ہی میں فوت ھو گئ تھی،
چنانچہ ھم نے تمہاری بادشاہت سے قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے کسی کی بچی کو اپنی بیٹی بنالیا.
بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا، "تم کو کیسے علم ھوا،"
اس نے کہا، اس کا "خادموں کے ساتھ سلوک" جاہلوں سے بدتر ھے،
بادشاہ اس کی فراست سے خاصا متاثر ھوا، "بہت سا اناج، بھیڑ بکریاں" بطور انعام دیں.
ساتھ ہی اسے اپنے دربار میں متعین کر دیا.
کچھ وقت گزرا،
"مصاحب کو بلایا،"
"اپنے بارے دریافت کیا،" مصاحب نے کہا، جان کی امان،
بادشاہ نے وعدہ کیا، اس نے کہا:
"نہ تو تم بادشاہ زادے ھو نہ تمہارا چلن بادشاہوں والا ھے"
بادشاہ کو تاؤ آیا، مگر جان کی امان دے چکا تھا،
سیدھا والدہ کے محل پہنچا، "والدہ نے کہا یہ سچ ھے"
تم ایک چرواہے کے بیٹے ھو،ہماری اولاد نہیں تھی تو تمہیں لے کر پالا ۔
بادشاہ نے مصاحب کو بلایا پوچھا، بتا،
"تجھے کیسے علم ھوا" ؟؟؟
اس نے کہا،
"بادشاہ" جب کسی کو "انعام و اکرام" دیا کرتے ھیں تو "ہیرے موتی، جواہرات" کی شکل میں دیتے ھیں،،،،
لیکن آپ "بھیڑ ، بکریاں، کھانے پینے کی چیزیں" عنایت کرتے ھیں
"یہ اسلوب بادشاہ زادے کا نہیں "
کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ھو سکتا ھے.
عادتیں نسلوں کا پتہ دیتی ہیں ۔۔۔
عادات، اخلاق اور طرز عمل ۔۔۔ خون اور نسل دونوں کی پہچان کرا دیتے ھیں...
Alert...!!!
School will re open on 1st August
2018
تحریر: سر عبدالله خان۔
وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نہیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ،
ہاں بول کیا کہنا ہے ؟
وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال پوچھا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ فائدہ مند ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت۔
جبکہ میں نےکہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ۔
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاش کرنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ، کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا ، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا ، بادشاہ نے میری جانب دیکھا
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے میں 2 دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے،
فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جائو اور بادشاہ سے کہو کہ 30 ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے ،
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا ۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آئوں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا
وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا
مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا ، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے، تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا ، دربار کے دروازہ سے 10 بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں ، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا ، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا ، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا،
فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا آپ کسی کی جتنی بھی اچھی تربیت کر لیں، اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے ، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔
ہمارے ہاں ساری ذمہ داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے گھروں کاکیاماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی.
جبکہ تربیت ایک ایساعمل ہے جو بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی شروع ہوجانا چاہیئے، مگر یہاں توانتظار کیاجاتاہےکہ بچہ اسکول جاناشروع کرےاورپھر وہیں ساری تربیت کا سلسلہ شروع ہو، تو سوال یہ ہے کہ گھرکیا صرف کھانے، پینے اور سونے جاگنےکےلئے ہی ہے؟؟؟
گھر کو اسلام نے ایک ایسا ادارہ قراردیاہے جہاں تربیت کا پہلا مرحلہ شروع ہوتا ہے، مگر آج اس چیز کاعوام کو علم ہےاورنہ ہی احساس۔
زراسوچیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
A-327 Sector 5-E, Surjani Town Karachi R-30 Sector 7-A Surjani Town
Karachi
75850