04/07/2026
آج میں اپنی تین سال کی بیٹی کو ساتھ لے کر دکان گئی تھی۔
بس ایک چھوٹا سا کام تھا۔ دس منٹ کا۔ سوچا تھا جلدی سے جائیں گے، جلدی واپس آئیں گے۔
لیکن جیسے ہی ہم اندر گئے، اس کی نظر ایک گڑیا پر پڑی۔
گلابی فراک، سنہری بال، چمکتی آنکھیں۔ وہ گڑیا واقعی خوبصورت تھی۔ میں مانتی ہوں۔
اس نے اٹھائی۔ سینے سے لگائی۔ اور مجھے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو، یہ میری ہے۔ بس۔ فیصلہ ہو گیا۔
میں نے کہا، بیٹا آج نہیں۔
اور پھر وہ وہیں فرش پر بیٹھ گئی۔ گڑیا سینے سے لگائے۔ اور رونا شروع ہو گیا۔ وہ رونا نہیں جو بچے تکلیف میں روتے ہیں۔ وہ رونا جو پوری دکان کو ہلا دے۔
لوگ مڑ کر دیکھنے لگے۔ ایک انکل نے ہمدردی سے سر ہلایا۔ ایک آنٹی نے مجھے وہ نظر دی جو کہہ رہی تھی، بچے کو سنبھالو۔
میرے اندر ایک آواز آئی، بس خرید دو۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ جھنجھٹ ختم ہو۔
لیکن میں رکی رہی۔
وہ پندرہ منٹ روتی رہی۔ میں اس کے پاس بیٹھی رہی۔ نہ چیخی، نہ گھسیٹا، نہ لوگوں کی شرمندگی سے ڈر کر گڑیا اٹھا دی۔ بس وہاں رہی۔
اندر سے میں خود ٹوٹ رہی تھی۔
سچ یہ ہے کہ اس وقت سب سے آسان کام یہ تھا کہ گڑیا خرید دیتی اور معاملہ ختم کر دیتی۔ اور سب سے مشکل کام وہی تھا جو میں کر رہی تھی، بیٹھے رہنا، دیکھتے رہنا، اسے اپنے جذبات سے گزرنے دینا۔
کسی نے مجھے پہلے نہیں بتایا تھا کہ ماں بننے میں سب سے بڑا امتحان یہ نہیں ہوتا کہ آپ بچے کے لیے کیا کریں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کیا نہ کریں۔
تھوڑی دیر بعد رونا کم ہوا۔ میں نے اسے گود میں لیا۔ آہستہ سے کہا، تجھے وہ گڑیا بہت پسند آئی، ہے نا؟ واقعی خوبصورت تھی۔
اس نے سر ہلایا۔ ہاں میں۔
میں نے کہا، امی سمجھتی ہے۔ لیکن آج ہم نہیں لے سکتے۔
وہ پھر رونے لگی، لیکن اس بار آہستہ سے۔ وہ پہلے والا طوفان نہیں تھا۔
اور پھر اس نے کچھ ایسا کیا جو میں بھول نہیں سکتی۔ اس نے گڑیا واپس اپنی جگہ رکھ دی۔ خود سے۔ اپنے چھوٹے ہاتھوں سے۔ اور میرا ہاتھ پکڑ لیا۔
میری آنکھیں بھر آئیں۔
گھر آ کر میں دیر تک سوچتی رہی۔
ہم ماؤں کو ہمیشہ یہی بتایا جاتا ہے کہ بچے کو خوش رکھو۔ روئے تو چپ کراؤ۔ ضد کرے تو منا لو۔ ہر آنسو کو فوری طور پر پونچھ دو۔
لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہر آنسو پونچھنا ضروری نہیں ہوتا۔
بعض دفعہ بچے کو رونے دینا، محسوس کرنے دینا، اس تکلیف سے خود گزرنے دینا، یہی اصل تربیت ہے۔ ہم جب ہر بار فوری حل دیتے ہیں، ہر بار ضد پوری کر دیتے ہیں، ہر بار تکلیف سے بچا لیتے ہیں تو ہم انہیں آرام دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ہم انہیں یہ نہیں سکھا رہے ہوتے کہ جب کوئی چیز نہ ملے تب کیا کریں۔
اور یہ زندگی کا سب سے ضروری سبق ہے۔
کیونکہ زندگی ہر بار وہ نہیں دیتی جو ہم چاہتے ہیں۔ نہ بچوں کو، نہ ہمیں۔
میری بیٹی تین سال کی ہے۔ وہ ابھی سے نہیں سمجھتی کہ صبر کیا ہوتا ہے، قناعت کیا ہوتی ہے، انتظار کیا ہوتا ہے۔ یہ سب آہستہ آہستہ سیکھے گی۔ لیکن سیکھے گی تبھی جب میں اسے سیکھنے کا موقع دوں گی۔ اور وہ موقع تبھی ملے گا جب میں ہر مرتبہ ڈھال نہ بنوں۔
ماں کا کام بچے کو ہر تکلیف سے بچانا نہیں ہے۔ ماں کا کام یہ ہے کہ جب بچہ تکلیف میں ہو تب اس کے پاس رہے۔ اسے اکیلا نہ چھوڑے۔ یہ بتائے کہ یہ احساس گزر جائے گا۔
بس اتنا کافی ہے۔
آج دکان سے خالی ہاتھ نکلی میری بیٹی۔ لیکن شاید آج اس نے زندگی کا ایک چھوٹا سا سبق سیکھا کہ ہر چاہت پوری نہیں ہوتی، اور یہ دنیا کا آخر نہیں ہوتا۔
اور میں نے بھی ایک سبق سیکھا کہ اچھی ماں وہ نہیں جو بچے کو کبھی رونے نہ دے۔ اچھی ماں وہ ہے جو بچے کے آنسوؤں سے نہ گھبرائے۔
آج کا دن مشکل تھا۔ لیکن شاید ضروری بھی تھا۔
جن ماؤں نے آج کچھ ایسا ہی جھیلا ہو، آپ نے بہت اچھا کیا۔ ڈٹی رہیں۔ آپ بری ماں نہیں، آپ مضبوط ماں ہیں۔