24/05/2025
The BEST - Basic Educational Skill-Development Training
Aim of this page is to train the teachers and parents regarding How to develop the basic skills of the children in early ages...
Our Training focuses on the skill-Development of teachers and makes them able to develop the basic skills of students. Teacher are guided to treat the students according to individual differences that found the students. our training makes the teacher able to provide the competitive and effective environment to student, is very necessary to the cognitive development of the student at early ages.
24/05/2025
اپنے بچوں کو مختلف عنوانات دیں اور ان سے کہیں کہ وہ بیان کریں، پچھلے سال کی سائنس اور معاشرتی علوم کی کتاب سے جو کچھ وہ سمجھ چکے ہیں، ان سے کہیں کہ وہ بیان کریں...
..... بچے اور خوف.....
اپنے بچوں میں کسی بھی قسم کا خوف پیدا نہ کریں، یہ ان کی شخصیت کے لئے نقصان دہ ہے...
بچہ جب پیدائش سے پہلے نو ماہ اپنی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو وہاں کی دنیا الگ ہوتی ہے، پیدائش کے بعد جب وہ دنیا میں آتا ہے تو یہ دنیا بالکل الگ ہوتی ہے، یہاں وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے، یہاں اس کا جسم کسی محدود جگہ پر نہیں ہوتا، وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ حرکت کر سکتا ہے، پلٹ سکتا ہے، اس لئے بچہ ڈرتا ہے، یہاں تک کہ آواز سے، روشنی سے اور ہوا سے بھی، اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں کوئی چیز آ کر اسے لگ نہ جائے، وہ گر نہ جائے اور اسی طرح کے بہت سے خوف اس میں موجود ہوتے ہیں،
ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ بچوں میں سے اِس خوف کو بھی ختم کیا جائے، کیونکہ یہ خوف بھی بچوں کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے، مگر ہوتا یہ ہے کہ یہ خوف ہی ختم نہیں ہوا ہوتا کہ والدین بچوں میں مزید نئے خوف پیدا کر دیتے ہیں، مثلاً : بڈھا بابا کا خوف(کھانا کھا لو ورنہ بڈھا بابا آ جائے گا)، کسی جانور کا خوف (اب اگر شرارت کی تو بلی/کتے سے کٹوا دوں گی)، ماچس کا خوف (اب اگر دوبارہ یہ لفظ بولا تو ماچس سے منہ جلا دوں گی)، واش روم/ اندھیرے کمرے میں بند کر دینے کا خوف وغیرہ وغیرہ...
بچوں میں خوف موجود ہو تو وہ کسی بھی چیز، صورتحال یا واقعہ کے ساتھ منسلک ہو جاتا ہے، جو کہ پھر بڑی مشکل سے ختم ہوتا ہے یا اکثر ختم ہی نہیں ہوتا، جسکی وجہ سے بچے نئے لوگ، نئی صورتحال، نئے راستے اور نئے عمل سے ڈرتے ہیں، ابتدائی عمر میں بچے اپنے خوف کا شور مچا کر یا مختلف قسم کی حرکت کے ذریعے اظہار کر دیتے ہیں، مگر جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے جاتے ہیں، خوف کا اظہار کم سے کم کرتے جاتے ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ خوف اندر موجود رہتا ہے مگر اس کا اظہار نہیں کرتے، مگر وہ خوف کسی نہ کسی چیز کے ساتھ منسلک ہوتا رہتا ہے، اور بچوں کو آگے بڑھنے سے یا کامیاب ہونے سے روکتا رہتا ہے، مثلا: بہت سے بچے سائیکل چلانا اس لئے نہیں سیکھ پاتے کہ ان میں گر جانے کا خوف پیدا ہو جاتا ہے، بچپن میں شیشے کا گلاس اٹھاتے وقت ڈانٹ سُنی ہوتی ہے، اس لئے ہر نازک شئے کو اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں، کسی کام کو کرنے سے پہلے ہی ناکامی کا خوف، امتحان میں فیل ہو جانے کا خوف، اور اِسی طرح ہر کام میں اور ہر قدم پر ڈرتے رہتے ہیں، اور اس ڈر کی وجہ سے جتنی کارکردگی پیش کر سکتے ہیں وہ بھی نہیں کر پاتے، مثلاً : امتحان میں جو کچھ یاد بھی ہوتا ہے وہ فیل ہوجانے کے خوف سے بھول جاتے ہیں...
یاد رکھیں! جن بچوں میں خوف موجود ہوتا ہے، ان میں اعتماد کی ہمیشہ کمی رہتی ہے، وہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک حد تک ہی ترقی کرتے ہیں، زیادہ تر ناکام رہتے ہیں،. ناکامی کے خوف کی وجہ سے ذمہ داری نہیں لینا چاہتے، احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں اور ان کی شخصیت کبھی مثالی نہیں بنتی...
خوف انسان کو اندر سے ایسے ہی کھوکھلا کر دیتا ہے، جیسے دیمک کسی لکڑی کو کھوکھلا کر دیتی ہے... لہذا اپنے بچوں میں سے ہر طرح کے خوف کو ختم کریں نہ کہ پیدا کریں...
فراز احمد نجمی....
( تحریر کو پڑھ کر آگے شیئر کریں تاکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے)
بچوں کی شخصیت کی خرابی کی ایک وجہ...
جس طرح بچوں میں صلاحیت، قابلیت اور مہارت وغیرہ کا فرق ہوتا ہے، اسی طرح مزاج کا بھی فرق ہوتا ہے، ایک ہی والدین کے سارے بچے ایک ہی مزاج کے ہوں، یہ ضروری نہیں ہے، چار بچوں میں سے تین کا مزاج ایک جیسا اور چوتھے کا الگ ہو سکتا ہے، یا دو کا مزاج ایک جیسا ہو اور دو کا ایک جیسا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چاروں کے مزاج ایک سے ہوں یا سب کے مختلف ہوں...
اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے تمام بچوں کے مزاج کو سمجھیں اور ان سے اسی کے مطابق پیش آئیں، ورنہ بچوں کی شخصیت خراب ہو جاتی ہے...
ہوتا یہ ہے کہ اگر کسی والدین کے چار بچے ہیں اور ان میں سے تین کا مزاج ایک جیسا ہے جبکہ چوتھے کا الگ ہے، تو والدین چاروں کے ساتھ ایک سا ہی برتاؤ کرتے ہیں، اس طرح تین بچوں کا حق ادا ہو جاتا ہے، تینوں کی تشفی و تسکین ہو جاتی ہے، مگر چوتھے کے ساتھ مسلسل ناانصافی ہوتی رہتی ہے، اس لئے ردِعمل میں چوتھا بچہ اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے الگ تھلگ رہنے لگتا ہے، چڑچڑا ہو جاتا ہے، ضدی ہو جاتا ہے، لڑتا ہے وغیرہ وغیرہ... الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے والدین کی توجہ آہستہ آہستہ چوتھے بچے پر کم ہوتی جاتی ہے، والدین کے رویے کو دیکھتے ہوئے بچے بھی چوتھے بچے کے ساتھ بے توجہی والا رویہ اختیار کر لیتے ہیں، اور پھر اس بے توجہی والے رویے کے سب کے سب ذہنی طور پر بھی عادی ہو جاتے ہیں، اس طرح ہمیشہ چوتھے بچے کے حصے میں بے توجہی والا رویہ ہی آتا ہے...
یہاں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ جو محبت، توجہ، ہمدردی یا وقت بچوں کو والدین سے درکار ہوتے ہیں، وہ کوئی دوسرا مہیا نہیں کر سکتا، اور بچوں کو بھلے ہی دوسرے لوگوں سے جتنی بھی محبت، توجہ، ہمدردی یا وقت مل جائے، وہ والدین کی طرف سے کی گئی کمی کو پورا نہیں کر سکتے...
اب وہ چوتھا بچہ الگ تھلگ اور دور تو ہو رہا ہوتا ہے، مگر والدین سے اُس کی (محبت، توجہ، ہمدردی یا وقت کی) طلب، نہ کم ہوتی ہے نہ ختم ہوتی ہے، اور چونکہ والدین اس طلب کو سمجھ نہیں پاتے ہیں، سو وہ (محبت، توجہ، ہمدردی یا وقت) نہیں دیتے، اس طرح بچوں میں احساسِ کمتری پیدا ہوتی ہے، جو کہ نفرت، غصہ، چڑاچڑا پن وغیرہ کا باعث بنتی ہے، اور اُس چوتھے بچے کی شخصیت کو خراب کر دیتی ہے، جسکی وجہ سے نہ وہ بچہ گھر میں اپنی جگہ بنا پاتا ہے نہ باہر، اسکی شخصیت کی خرابی اُسے ہمیشہ پریشان کرتی رہتی ہے،
لہذا، اپنے بچوں کو سمجھیں اور اُن کے ساتھ اُسی کے مطابق رویے اختیار کریں...
فراز احمد نجمی
04/05/2017
Exercise for Eye-Hand Coordination Development...
جب آپ کا بچہ 18 ماہ سے زیادہ کا ہو جائے تو اس کو خود سے 6 یا 7 فٹ کی دوری پر کھڑا کر کے، اس کی جانب بال پھینکیں، بال بچے کے جسم پر ہی پھینکیں، دائیں یا بائیں نہ پھینکیں ...
ابتداء میں بچہ بال پکڑ نہیں پائے گا، بال اسے جا کر لگے گی اور گر جائے گی، پھر آہستہ آہستہ بچہ بال کی سمت میں ہاتھ بڑھانے لگے گا، اور پھر ایک وقت آئے گا کہ وہ بال کو پکڑ لے گا، اور بار بار پکڑ لے گا...
پھر جب بچے کی مشق اچھی ہو جائے تو اس کے جسم سے دائیں اور بائیں جانب بال پھینک کر یہی مشق کروائیں...
اور اس کے بعد بچے سے کہیں کہ وہ اب بال آپ کی جانب پھینکے...
شروع میں بڑے سائز کی بال استعمال کریں، پھر درمیانی اور پھر چھوٹی...
13/01/2017
اپنے بچوں سے کہانی کے انداز میں ایسی گفتگو کریں کہ وہ سوچ کر اُس کا جواب دیں، اس طرح آپ کو یہ بھی پتہ چلے گا کہ آپ کا بچہ سوچتا کیسا ہے؟ آپ درست زاویہ بتا سکیں گے سوچنے کا، اور یہ مشق اسے خود سے سوچ کر سمجھ کر اپنی رائے قائم کرنے میں مددگار بنے گی...
This is a right way to teach the correct formation of letter....
Follow it,
15/09/2016
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Karachi