19/02/2026
روزہ عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لیے نیت شرط ہےنیت کے بغیر روزہ درست نہیں ہوتا،اور حدیث شریف میں ہے "انماالاعمال بالنیات " اور قرآن مجید میں ہے:
(وَمَآ أُ مِرُوْا إِلَّا لِيَعْبُدُوْا اللّٰهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ)
ترجمہ :"حالانکہ ان لوگوں کو کتب سابقہ میں یہی حکم ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کریں کہ عبادت اس کے لئے خاص رکھیں ( ادیان باطلہ شرکیہ سے ) یک سو ہو کر ۔"(ازبیان القرآن)
البتہ نیت دل سے ارادہ کرنے کانا م ہے زبان سے نیت کا اظہار کرنا ضروری نہیں بلکہ مستحب ہے؛ تاکہ دل وزبان دونوں ایک ہو جائیں اگر کسی نے روزے کی نیت محض دل سے کی تو اس کاروزہ ہوجائے گا ،اور الفاظ نیت کے لیے جو بھی استعمال کر ے درست ہے ،کوئی مخصوص الفاظ احادیث سے ثابت نہیں ہیں ،اگر کوئی آدمی رات کو دل میں یہ ارادہ کرے کہ کل میرا روزہ ہے یازبان سے یہ کہہ دے کہ میں کل روزہ رکھوں گا تو بھی درست ہے ،البتہ صورت مسئولہ میں ذکر کردہ الفاظ نیت کی تعلیم دینے کے لیے فقہاء سے منقول ہیں تاکہ معلوم ہو کہ روزہ کی نیت دل میں کیسے کریں "نويت أصوم غدا"یا اس کے علاوہ اپنی زبان کے دوسرے الفاظ سے کرےسب درست ہیں ،نیز یہ روزہ کی نیت کے الفاظ ہیں،لہٰذا ان الفاظ کو بدعت کہنا درست نہیں ہے کیوں کہ جس طرح اور الفاظ سے نیت کرنا بدعت نہیں ہے تو "وبصوم غد نویت من شہر رمضان " سے بھی بدعت نہیں ہے۔
البتہ اِن ہی الفاظ کو ضروری سمجھنادرست نہیں ہے۔