24/11/2022
دعا نہ کرنے والے دو طرح کے لوگ.
١ : ہم میں سے بہت سے لوگ شعوری یا لاشعوری طور پر دعا کرنے سے گریزاں رہتے ہیں ۔ ان میں دو قسم کے افراد شامل ہیں ۔ ایک قسم تو ہمارے ان دوستوں کی ہے جنہیں اللہ رب العالمین نے دنیا میں مال و دولت صحت ، اولاد اور عزت و آبرو عطا کی ہے۔ وہ بہت کم مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مشکل آتی بھی ہے تو انہیں اپنے دنیاوی وسائل پر بھروسا ہوتا ہے۔ دولت کے بل بوتے پر وہ زیادہ تر مشکلات پر قابو پالیتے ہیں اسی لیے انہیں اللہ سے رابطہ کرنے کی کوئی خاص ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی ۔ حالانکہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کو پکارنا ، اپنے مالک کو یاد کرنا ، رب کریم کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا زیادہ ہی ضروری تھا کیونکہ دنیا کا مال چلتی پھرتی چھاؤں ہے اور صحت سے بیماری اور بیماری سے اگلے جہان تک پہنچنے کا سفر صرف ایک خردبینی مخلوق کے جسم میں داخل ہونے یا دوران خون میں ایک نھی سی گٹھلی بننے کی وجہ سے چند ہی منٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔
٢ : دعا نہ کرنے والوں کی دوسری قسم ایسے افراد کی ہے جو مسائل و مشکلات کے باوجود اس وجہ سے اللہ کو نہیں پکارتے کہ اللہ تو علیم و خیبر ہے، وہ خود ہی ہمارے لیے کوئی راستہ نکالے گا۔ دعا کرنے سے کیا حاصل ۔ اللہ وہی کرتا ہے جو وہ پسند کرتا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اللہ بے نیاز ہے ۔ وہ کرتا تو وہی ہے جو پسند کرتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ دعا کرنے والے بندوں کو پسند کرتا ہے۔ جو لوگ اس سے دعا نہیں کرتے وہ اسے سخت نا پسند ہیں۔
(اے رسول) تم کہہ دو کہ اگرتم (لوگ) دعا نہیں کرتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا ۔“ (سورہ شعراء: آیت ۷۷ )
سورہ مومن میں اللہ نے ایسے بندوں کو اس طرح متنبہ کیا ہے۔
اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ تم مجھ سے دعائیں مانگو۔ میں (تمہاری دعا) قبول کروں گا۔ (البتہ ) جو لوگ عبادت میں اکڑتے ہیں وہ جلد ہی ذلیل و خوار ہو کر یقینا جہنم میں داخل ہوں گے۔ (آبت ۶۰)
بندے کی تقدیر آن مٹ ہوتی تو اللہ تعالیٰ ہم کو دعا کرنے کے سلسلے میں بار بار تاکید کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اللہ رب العالمین کی ذات اس سے بالا تر ہے کہ اس سے کسی بے سود عمل کی توقع رکھی جائے۔ اس نے دعا کرنے کا حکم ہی اس لیے دیا کہ بندے کی توجہ لوح محفوظ تک ہی محدود نہ رہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی ساری توجہ لوح محفوظ کے خالق و مالک کی جانب مبذول رکھے جو اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ لوح محفوظ کی تمام تحریریں مٹا کر ساری مخلوقات کی تقدیریں نئے سرے سے تحریر کر دے۔
امام جعفر صادق نے فرمایا: ” دعا کرو اور یہ نہ کہو کہ جو تقدیر میں ہے وہی ہوگا اس لیے کہ وہ قادر مطلق ہے اور دعا، تقدیر کو بدل دینے والی ہے۔“
مفاتح الجناں میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی تعلیم کردہ ایک دعا موجود ہے اور اسے صبح و شام پڑھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یعنی فجر اور مغرب کے بعد ۔
"اے دلوں اور آنکھوں کو پلٹانے والے اللہ ! میرے دل کو اپنے دین پر جمادے۔ میرے دل کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر مجھ پر اپنی طرف سے رحمت نازل فرما۔ اس میں شک نہیں کہ تو بہت ہی عطا کرنے والا ہے اور اپنی رحمت سے مجھے (جہنم) کی آگ سے بچا اور محفوظ رکھ۔ اے اللہ! میری عمر میں اضافہ کر دے، میرے رزق میں وسعت عطا کر اور مجھ پر اپنی رحمت کا سایہ فرما دے اور اگر میں لوح محفوظ میں تیرے نزدیک بد بخت ہوں تو مجھے نیک بخت بنا دے۔ کہ بہ تحقیق تو جو چاہے مٹاتا ہے (اور جو چاہے ) لکھتا ہے اور لوح محفوظ تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔ ( مفاتیح الجناں - صفحہ ٦٦)
التماس دعا : Mustafa Sadiq