21/08/2025
آج گوجرخان سے یہ بچہ نوویں کلاس میں نمبر کم آنے پر زہر کھا کے ابدی نیند سو گیا۔
اگر یہ زندہ ہوتا تو میں اسے بتاتا کہ بچے میٹرک میں ٹاپ کرکے بھی کیریئر میں وہی کچھ ہوتا ہے، جو کچھ کم نمبر آنے پر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں ٹاپر کو صرف رزلٹ والے دن عزت ملتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ مارکیٹ میں اترتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ نمبروں کا جہاں اور ہے، زندگی کا جہاں اور۔۔۔۔۔
حقیقت یہ ہے کہ گورنمنٹ جابز ختم ہیں، اور پرائیویٹ سیکٹر میں جس بندہ نے کروڑ یا دو کروڑ کی فیکٹری لگائی ہے، وہ ایک ٹاپر لیلے کو جاب دے کر کیا کرے گا؟ انڈسٹری میں ایسے نوجوان کی ڈیمانڈ ہے جس کے پاس اکیسویں صدی کی صلاحیتیں اور مہارتیں ہوں، جس کے ہاتھ میں تجربہ ہو۔ جو آج کرسی پر بیٹھے تو کل کمپنی کو کچھ کما کر دے۔ اب انڈسٹری میں کوئی یہ افورڈ نہیں کرے گا کہ آپ کسی کی انویسٹمنٹ پر دو سال سیکھنے کیلئے بیٹھے رہیں۔
لہذا میں نوجوانوں سے کہوں گا کہ اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے اپنی فیلڈ کا تجربہ حاصل کریں، نمبرز سیکنڈری چیز ہیں، اس کا کیرئیر سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ لہذا ایسےچھوٹے موٹے معاملات پر خودکشیاں کرکے دنیا اور آخرت کا کیرئیر خراب نہ کریں