*(با ادب با نصیب..)*
اسٹوڈنٹس نے ٹیچر سے کہا سر آپ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلیں 5 گیندوں پر ٹیچر نے 2 رن بنائے چھٹی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے...😕
اسٹوڈنٹس نے شور مچا کر بھرپور خوشی ظاہر کی،
کلاس میں ٹیچر نے پوچھا کون کون چاہتا تھا کہ میں اسکی گیند پر آوٹ ہو جاٶں۔۔۔۔۔۔۔؟
سب باؤلرز نے ہاتھ کھڑے کر دیئے..
ٹیچر ہنس دیئے پوچھا میں کرکٹر کیسا ہوں۔۔۔۔۔۔۔؟
*سب نے کہا بہت برے*
پوچھا میں ٹیچر کیسا ہوں جواب ملا بہت اچھے..
*ٹیچر پھر ہنس دیئے..*
صرف آپ نہیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے میرے ہزارہا اسٹوڈنٹس جن میں کئی میرے نظریاتی مخالف ہیں گواہی دیتے ہیں کہ میں اچھا ٹیچر ہوں راز کی بات بتاؤں میں جتنا اچھا ٹیچر ہوں اتنا اچھا اسٹوڈنٹ نہیں تھا مجھے ہمیشہ سبق یاد کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا اور بات سمجھنے میں وقت لگا لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں اسکے باوجود مجھے اچھا ٹیچر کیوں مانا جاتا ہے........؟
*سب نے کہا سر آپ بتائیں کیوں..* ٹیچر نے کہا ادب،
مجھے اچھی طرح یاد ہے اپنے ٹیچر کے یہاں دعوت کی تیاری میں انکی مدد کر رہا تھا فریزر سے برف نکالی جسے توڑنے کیلئے کمرے میں کوئی شے نہیں تھی استاد کام کیلئے کمرے سے نکلے تو میں نے مُکا مار کر برف توڑ دی اور استاد کے آنے سے پہلے جلدی سے ٹوٹی ہوئی برف دیوار پر بھی دے ماری...☺
استاد کمرے میں آئے تو دیکھا کہ میں نے برف دیوار پر مار کر توڑی ہے انہوں نے مجھے ڈانٹا کہ تمہیں عقل کب آئیگی یوں برف توڑی جاتی ہے میں نے انکی ڈانٹ خاموشی سے سنی بعد میں انہوں نے اس بیوقوفی کا ذکر کئی جگہ کیا میں ہمیشہ بیوقوفوں کی طرح سر ہلا کر انکی ڈانٹ سنتا،
انہیں آج بھی نہیں معلوم کہ برف میں نے مکا مار کر توڑی تھی...☺
یہ بات میں نے انہیں اسلئے نہیں بتائی کہ وہ ایک ہاتھ سے معذور تھے انکی غیر موجودگی میں میں نے جوانی کے جوش میں مکا مار کر برف توڑ دی لیکن جب انکی معذوری کا خیال آیا تو سوچا کہ میرے طاقت کے مظاہرے سے انہیں احساس کمتری نہ ہو اس لئے میں نے برف دیوار پر مارنے کی احمقانہ حرکت کی اور لمبے عرصے تک انکی ڈانٹ سنتا رہا...😕
اور ایک آپ لوگ ہیں کہ ایک دوسرے کو چیخ چیخ کر ہدایات دے رہے تھے کہ سر کو یَارکَرْ مار کر آوٹ کرو،
*جیتنا سب کچھ نہیں ہوتا کبھی ہارنے سے زندگی میں جیت کے رستے کھلتے ہیں آپ طاقت میں اپنے ٹیچرز اور والدین سے بے شک بڑھ جاتے ہیں لیکن زندگی میں سب سے جیتنا چاہتے ہیں تو اپنے ٹیچرز اور والدین سے جیتنے کی کوشش نہ کریں آپ کبھی نہیں ہاریں گے...*
اللہ پاک آپکو ہر میدان میں سرخرو کرے گا۔۔
Jamia Ayesha Siddiqa
Our aim is to provide an excellent environment to our students and an opportunity to develop the sk The Ayesha Siddiqa Academy was founded in 2006.
Within its first few years it had established itself as a leading school in Lyari Karachi because of it's quality education,At Ayesha Academy we try to provide an excellent environment to our students where they have an opportunity to develop the skills alongside Islamic values which are needed to a become a good Muslim along with a Good citizen .
*(میں ہی کیوں ۔۔۔؟*)
آرتھر آشے امریکہ کا نمبر ون ٹینس پلیئر تھا، یہ عوام میں بے حد مقبول تھا اس کی ایک ہی وجہ تھی کہ یہ ایک بہترین کھلاڑی تھا، جب آپ متعلقہ فیلڈ میں عروج کی حد تک ماہر ہو جاتے ہیں تو آپ ہردلعزیز بن جاتے ہیں،
آرتھر کو ایک حادثے کے بعد انتہائی غفلت کے ساتھ ایڈز کے مریض کا خون لگا دیا گیا اور آرتھر کو بھی ایڈز ہو گیا،
جب وہ بسترِ مرگ پر تھا اسے دنیا بھر سے اس کے فینز کے خطوط آتے تھے، ایک فین نے خط بھیجا جس میں لکھا ہوا تھا “ *خدا نے اس خوفناک بیماری کے لیے تمہیں ہی کیوں چنا۔۔۔۔۔؟*
آرتھر نے صرف اُس ایک خط کا جواب دیا جو کہ یہ تھا “ دنیا بھر میں پانچ کروڑ سے زائد بچے ٹینس کھیلنا شروع کرتے ہیں اور ان میں سے پچاس لاکھ ہی ٹینس کھیلنا سیکھ پاتے ہیں، ان پچاس لاکھ میں سے پچاس ہزار ہی ٹینس کے سرکل میں داخل ہوتے ہیں جہاں ڈومیسٹک سے انٹرنیشنل لیول تک کھیل پاتے ہیں، ان پچاس ہزار میں سے پانچ ہزار ہیں جو گرینڈ سلام تک پہنچ پاتے ہیں، ان پچاس ہزار میں سے پچاس ہی ہیں جو ومبلڈن تک پہنچتے ہیں اور ان پچاس میں سے محض چار ہوتے ہیں جو ومبلڈن کے سیمی فائنل تک پہنچ پاتے ہیں ان چار میں سے صرف دوہی فائنل تک جاتے ہیں اور ان دو میں سے محض ایک ہی ٹرافی اٹھاتا ہے اور وہ ٹرافی اٹھانے والا پانچ کروڑ میں سے چُنا جاتا ہے۔ *جب میں وہ ٹرافی اٹھائے تھا تو کبھی خدا سے نہیں پوچھا کہ “میں ہی کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟*
لہذا آج اگر درد مل رہا ہے تو میں خدا سے شکوے شروع کر دوں کہ میں ہی کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟
جب ہم نے اپنے اچھے وقتوں میں خدا کو نہیں پوچھا کہ “وائے می( میں ہی کیوں)۔۔۔۔؟
تو ہم برے وقتوں میں کیوں پوچھیں وائے می (میں ہی کیوں)
30/09/2021
#جاگتے رہنا بھائیو
#ختم #نبوت
گاؤں میں چوری کی واردات کا ایک طریقہ چور یہ اپناتے ہیں۔ وہ جس گھر کو ٹارگٹ بناتے ہیں اس گھر میں دو تین پتھر پھینکتے ہیں۔ ایسا وہ چوری کرنے سے پہلے دو تین راتیں کرتے ہیں۔ اگر گھر والوں کی طرف سے کوئی ری ایکشن ہو۔ مثلاً گھر والوں میں سے کوئی کہے کہ "باہر کون ہے۔۔۔۔۔۔۔؟
یا لائٹ آن ہو جائے یا کوئی چلتا پھرتا محسوس ہو تو چور اس گھر میں چوری کا ارادہ ملتوی کر دیتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ان کے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے جواب میں کوئی ردِ عمل نہ ہو تو چور پوری تیاری کے ساتھ آتے ہیں اور گھر کا صفایا کر کے چلے جاتے ہیں،
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ختم نبوت کی شق ہٹانے نا ہٹانے یا پھر معمولی الفاظ کی رد و بدل کو معمولی نہ سمجھیں۔ یہ وہ پتھر ہیں جس سے چور آپ کی بیداری کا اندازہ لگا رہا ہے، ہر آنے والے دن کوئ نا کوئ اسلام پر حملہ ہوتا ہے اور ایسا وہ ہر دو تین ماہ بعد کرتا ہے۔ اگر آپ جاگتے رہیں گے تو چور چوری نہیں کر پائے گا۔ بس پہرہ دینا ہے۔ اس لئے ختم نبوت پر کوئی مصلحت برداشت نہ کی جائے۔ نا قرآن کی چند آیات ہٹائ جائیں گی،
قادیانی اور اس کے ساتھی کل بھی کافر تھے آج بھی کافر ہیں،
جو بھی شریعت کا مزاق اڑائے گا، جو بھی شریعت پر حملہ کرے گا، اسکو نہ کل چھوڑا تھا، نہ آج چھوڑا جائے گا،
#سورہ #اعراف
#یہ #وقت بھی گزر جائے گا __!!
میں ایک ضروری کام سے سفر میں تھا کہ راستے میں نماز عصر کا وقت ہوا تو میں ایک مسجد میں نماز کیلئے رک گیا۔۔
وضو خانہ میں رش تھا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ مسجد کے بیسمنیٹ میں بھی وضو کی جگہ ہے وہاں چلے جائیں۔ میں اس طرف گیا تو وہ مسجد کا مدرسہ تھا۔ جہاں بچوں کی رہائش تھی انکا سامان پڑا ہوا تھا اور انہی کیلئے وضو کی جگہ بھی بنی ہوئی تھی۔ نماز میں چونکہ ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ سو میں نے وضو کیا اور ان چھوٹے چھوٹے فرشتہ نما صاف ستھرے مدرسہ کے بچوں کے قریب بیٹھ کر انکی معصومانہ گپ شپ سے مستفیض ہونے لگ گیا۔
میرے بالکل سامنے ان کے چھوٹے چھوٹے ٹرنک پڑے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک پرانا سا جستی چادر کے ایک ٹرنک پہ ایک جملہ دیکھ کر نجانے کیوں میں چونک گیا۔ اس ٹرنک پہ لکھا تھا کہ۔۔
یہ وقت بھی گزر جائے گا۔😟😰😭
میں بے ساختہ کھڑا ہوا۔۔اس ٹرنک کے پاس گیا اور اس لکھائی پہ ہاتھ پھیرنے لگ گیا۔
میری یہ حرکت بے ساختہ تھی۔
اور میرے گرد پتہ نہیں کیوں دکھ، درد اور کرب کا ایک ہالا سا بن گیا تھا۔ میں نے اس بچے کے بارے میں پوچھا کہ اس ٹرنک کا مالک بچہ کون ہے۔؟ پتہ چلا وہ اوپر مسجد میں نماز کیلئے چلا گیا ہے۔ باقی بچے بھی جارہے تھے میں بھی انہی کیساتھ اوپر آگیا۔
میں بظاہر نماز میں کھڑا تھا مگر دوران نماز بھی ٹرنک پہ لکھا وہ جملہ کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا "میرے حواس پہ چھایا رہا۔ نماز سے فارغ ہو کر میں دوبارہ نیچے آگیا اور اس بچے سے ملا۔ میں نے اسکی انگلی پکڑی اور اسکو ٹرنک کے پاس لے گیا۔ یہ آٹھ سال کا ایک خوبصورت بچہ تھا جس کا نام عبدالشکور تھا۔ میں نے اس ننھے فرشتے سے حال احوال پوچھا اور اس جملے کے معانی پوچھنے لگ گیا۔
وہ ٹال مٹول سے کام لینے لگ گیا۔ میں اصرار کرنے لگا کہ آپ نے اس جملے کو کہاں سے لیا اور اپنے ٹرنک کیلئے اسی جملے کا انتخاب کیوں کیا۔۔وہ مسکرایا۔۔
اور یوں مسکرایا کہ اسکی آنکھیں نم ہو گئیں۔۔آنسوؤوں کی ایک لکیر اسکی آنکھوں سے نمودار ہوئی اور گالوں سے ہوتی مسجد کی صفوں پہ جزب ہو گئی۔۔وہ کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر کہہ نہیں پا رہا تھا۔۔۔
میں نے اسکو تسلی دی، ایک بچے کو پانی لانے کا کہا اور اسکے پاس بیٹھ گیا۔ زرا سی دیر بعد وہ کچھ بحال ہوا اور بتایا کہ میں تین سال کا تھا کہ میرے والد محترم ایک حادثہ میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔۔ایک بہن ہے جو مجھ سے دو سال بڑی ہے۔ والدہ محترمہ اور بہن گھر میں ہیں۔ والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں عالم بنوں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار امی سے کیا تھا۔ وہ فوت ہوئے تو امی نے انکی خواہش پوری کرنے کا ارادہ کر لیا۔ رشتہ دار ہیں نہیں۔ بس چھوٹا سا کنبہ یے۔ امی اور بہن لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور مجھے یہاں داخل کروا گئیں ہیں۔ میں ایک سال سے یہاں پڑھ رہا ہوں۔ مہینہ بعد وہ آتی ہیں اور مجھے دو دن کیلئے گھر لے جاتی ہیں۔۔اس دوران ابو کی قبر پہ بھی جاتے ہیں اور بتا کر آتے ہیں کہ انکی خواہش پہ میں عالم بن رہا ہوں۔ میں گھر، امی جی اور بہن کو دیکھ کر پریشان ہوتا ہوں تو امی کہتی ہیں شکورے یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔مجھے یہ بات بہت اچھی لگی اور ایک دن ایک پینٹر انکل مسجد کا کام کرنے آئے تو میں نے ان سے اپنے ٹرنک پہ یہی جملہ لکھوا لیا۔
رات کبھی کبھی مجھے دیر تک نیند نہیں آتی۔۔ابو یاد آتے ہیں۔۔امی اور بہن کا کام کرنا یاد آتا ہے۔۔بے چین ہوتا ہوں تو میں اٹھ کر اس جملے کو دہرا لیتا ہوں۔۔احساس کا کوئی لمحہ آئے یا بچوں کے پاس کوئی ایسی چیز دیکھوں جو باوجود خواہش کے میں حاصل نہیں کرپاتا تو میں اپنے اس ٹرنک کے سامنے آ کر کھڑا ہوتا ہوں اور پوری توجہ سے امی جی کے اس قول کو پڑھ لیتا ہوں۔۔۔!
اس کے بعد اس نے کیا کہا۔۔اور میں نے کیا سنا۔۔یہ میں نہ تو لکھ سکتا ہوں اور نہ بتا پاوں گا۔۔بس اتنا عرض ہے کہ ملک بھر میں اس طرح کے بچے بھی ہمارے بچے ہیں۔ان پر زبانیں اچھالی جاتی ہیں یہ معلوم نہیں کہ یہ معصوم کن کن حالات سے گزر کر ہمارے امام وپیشوا بنتے ہیں کچھ نادان ان پر زباندرازی کرتے ہیں انہیں کیا معلوم کہ ان کی حفاظت اللہ کے نورانی فرشتے کرتےہیں ان کے پاؤں تلے فرشتے پر بچھاتے ہیں آخر کوئی وجہ توہے کہ زبان درازی کرنے والے مصلیٰ رسول کے قابل نہیں ہوتے بلکہ یہ ہی معصوم پھول مصلیٰ رسول پر ہمارے امام بنتے ہیں. اس لیے ان کے خلاف نہ بولا کریں کیوں کہ سورج پر تھوکنے سے اسکی شان کم نہیں ہو جاتی اور نہ سورج پر بھونکنے سے بےنور ہوتا ہے...
اور جب کبھی آپکا چکر لگے ان کا حال احوال پوچھ لیا کریں۔
اہل محلہ ان کے احوال سے باخبر رہا کریں۔ اللہ تعالی کے یہ ننھے منے مہمان فرشتے ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔۔ ہمارا فرض ہے کہ انکا خیال رکھیں۔۔یہ ہماری عاقبت کیلئے مفید ہوگا۔۔باقی وقت تو انکا بھی گزر ہی جائے گا۔۔
#بچوں کی تعلیم و تربییت __؟؟
ایک مجرم کو لایا گیا جو بہت بڑا ڈکیت تھا اور کئی قتل بھی کر چکا تھا۔ لیکن جب پکڑا گیا تو عدالت میں کیس چلا اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزاۓ موت سنا دی گئی۔
پھانسی سے پہلے اس سے اسکی آخری خواہش پوچھی گئی۔؟ تو اسنے کہا: مجھے اپنی ماں سے ملنا ہے۔
تو اسکی خواہش کے مطابق اسکی ماں کو بلوایا گیا۔ جب ماں اپنے بیٹے سے ملنے گئی تو بیٹے کے گلے لگ کر رونے لگی،
اس دوران ایک عجیب واقعہ ہوا
بیٹے نے ماں کے کان کو دانتوں سے زور سے کاٹنا شروع کردیا ماں چلانے لگی
بڑی مشکل سے ماں کو چھڑایا گیا
وہاں موجود تمام لوگ بیٹے کی اس حرکت پر حیران تھے۔
اور اس ڈاکو سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی؟ تو اس ڈاکو نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ سنایا۔
میں جب چھوٹا تھا تو بہت شرارتی تھا اکثر لوگوں کو تنگ کیا کرتا تھا مگر میری ماں مجھے کچھ بھی نا کہتی ۔
ایک بار میں نے ایک پڑوسی کی کوئی چیز چرالی اس پڑوسی کو پتہ چل گیا وہ شکایت لیکر میرے گھر آگئے تو میری ماں نے بجاۓ مجھے ڈانٹنے سمجھانے کے مجھے اپنے پیچھے چھپا لیا اور اس پڑوسی سے لڑنے لگی اسے برا بھلا کہنے لگی پڑوسی بیچارہ اپنی عزت بچا کے چلا گیا۔
حالانکہ میری ماں اچھی طرح جانتی تھی کہ میں نے چوری کی ہے مگر ماں نے مجھے ایک لفظ نا کہا اور میرا منہ ہاتھ دھلا کے مجھے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگی۔
بس اس دن سے میرا حوصلہ بڑھ گیا پہلے میں چور بنا پھر ڈکیت پھر قاتل اور آج میں اس پھانسی کے پھندے تک پہنچ گیا۔ اور مجھے یہاں تک پہنچانے والی میری ماں ہے۔
اگر اس وقت مجھے سمجھایا جاتا کہ یہ کام غلط ہے تو میں آج اس انجام کو نا پہنچتا۔ اور پھر اس ڈکیت کو پھانسی دے دی گئی۔
اور آج جب میں اپنے ارد گرد دیکھتا ہوں تو مجھے اسی قسم کی ہی مائیں نظر آتی ہیں۔
حد تو یہ کہ اسکول میں استاد بھی اگر کسی غلط حرکت پر ڈانٹ دے تو فوراً گھر سے شکایت آجاتی ہے اور اسکول انتظامیہ کو تو فیسوں کی فکر بچوں کی تعلیم و تربییت سے زیادہ ہوتی ہے تو وہ بھی بچوں کو منہ پر انگلی رکھنے کے بجاۓ ٹیچرز کو منہ پر انگلی رکھنے کا کہہ دیتے ہیں۔
اور مجھے یہ سب دیکھ کر خوف آتا ہے کہ آگے چل کر ہمیں کس قسم کا معاشرہ دیکھنے کو ملے گا۔
اللہ تعالی سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی رہنمائی فرماۓ آمین
03/07/2021
#(ایک چور کی توبہ کا عجیب واقعہ _!!*)
عربی حکایت ہے کہ ایک بادشاہ اپنی جوان سالہ بیٹی کی شادی کو لیکر بہت فکر مند رہتا تھا ۔ وہ برسوں سے نیک اور عبادت گزار داماد کی تلاش میں تھا،
ایک دن اس نے وزیر کو بلایا اور کہا کہ کسی طرح میری بیٹی کیلئے میری رعایا میں سے عبادت گزار انسان کو تلاش کرکے سامنے پیش کرو ۔
وزیر نے اپنی فوج کو شہر کی جامع مسجد کے گرد تعینات کر دیا اور کہا چھپ کر دیکھتے رہو جو شخص آدھی رات مسجد میں داخل ہوگا اسے نکلنے مت دینا جب تک میں نا آجاؤں۔
عین اسی وقت ایک چور چوری کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا اور دل ہی دل میں سوچا کیوں نہ آج شہر کی جامع مسجد میں جا کر چوری کی جائے وہاں مسجد کا قیمتی سامان چرایا جائے۔
چور جیسے ہی جامع مسجد میں داخل ہوا مسجد کی انتظامیہ نے چور سے بے خبر مسجد کو باہر سے تالا لگایا اور اپنے گھروں کو چلے گئے۔
فوجی دستوں نے وزیر کو اطلاع دی کہ لگتا ہے کوئی عبادت گزار آیا ہے مگر مسجد کو تالا لگ چکا اب صبح کی اذان پر ہی مسجد کھلے گی تو پتہ چلے گا کون ہے،
وزیر جلدی سے مسجد پہنچا اور صبح کی اذان کا شدت سے انتظار کرنے لگا تاکہ اندر موجود نیک انسان کو بادشاہ کے سامنے حاضر کیا جا سکے۔
جیسے ہی مسجد کھلی وزیر دستے سمیت اندر داخل ہوا ۔ چور یہ دیکھ کر گھبرایا کہ آج تو پکڑا گیا اور جلدی سے نماز کی نیت باندھ لی۔ جوں ہی سلام پھیرتا فورا کھڑا ہوکر دوبارہ نیت باندھ لیتا۔ وزیر کو اسکی عبادت گزاری پر یقین آگیا، جوں ہی سلام پھیرا فوجی دستے نے اس چور کو پکڑا اور بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ وزیر نے کہا بادشاہ سلامت یہ ہے آپکا مطلوبہ شخص اسے مسجد سے گرفتار کیا ہے رات بھر مسجد میں عبادت کرتا رہا۔
چور کی حالت غیر ہو رہی ہے ۔ بادشاہ چور سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔ کیا خیال ہے اگر میں اپنی بیٹی کی شادی تمہارے ساتھ کر کے تمہیں اپنی سلطنت کا ولی عہد مقرر کر دوں۔ کیا تمہیں منظور ہے۔۔۔۔۔؟
چور ہکا بکا ہو کر دیکھنے لگا ۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔
عالی جاہ ۔ یہ کرم نوازی کس وجہ سے ہے ۔۔۔۔۔؟
بادشاہ نے کہا تم عبادت گزار ہو ۔ رات بھر مسجد میں رہے صبح اذان ہونے پر باہر آئے ۔
چور دل ہی دل میں سوچنے لگا
" اے اللہ ۔ میں چوری کی نیت سے ہی سہی مگر تیرے گھر گیا ، دکھلاوے کی نیت سے ہی سہی نماز ادا کی اور بدلے میں تو نے دنیا میرے قدموں میں ڈال دی۔
اگر میں سچ مچ عبادت گزار ہوتا اور راتوں کو تہجد پڑھا کرتا تو پھر تیرا انعام کیا ہوتا !!!
وہیں کھڑے کھڑے نادم ہوکر تائب ہوا ۔
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنکا دل عبادت میں لگتا ہے۔ اپنے مالک کے سامنے گڑگڑا کر ذکر کرتے ہیں ۔ آرام دہ بستروں کو چھوڑ کر مصلی پر کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا مقام ہوگا ان کا آپ کے سامنے۔ ایک انسان اسکا تصور بھی نہیں کر سکتا،
*اللہ پاک ہم سب کو پکا سچا عبادت گزار بنا دے امین.
🌱سبق آموز واقعات (21)🌱 WhatsApp Group Invite
*(ایک #شیعہ کا سوال اور اسکا جواب۔۔۔۔۔)*
ایک شیعہ اپنے مسلک کے اعتبار سے بڑے #علمی گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے پاس کافی معلومات بھی تھیں۔ اس کے بقول میرے ان سوالات کا جواب کسی مولوی کے پاس نہیں ہے۔
میں نے اس سے جب ملاقات کی تو اس کی ہر ہر ادا سے گویا علماء سے حتیٰ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی نفرت و حقارت کی جھلک واضح تھی۔
میں نے میزبان ہونے کی حیثیت سے بڑے اخلاق سے بٹھایا۔تھوڑی دیر حال احوال دریافت کرنے کے بعد گفتگو شروع ہو گئی۔
اس کا پہلا سوال ہی بڑا جاندار تھا اور وہ یہ کہ تم ابوبکر کو نبی کا خلیفہ کیوں مانتے ہو........؟
ہم تو ابوبکر کو خلیفہ رسول اسلیئے نہیں مانتے کہ انہوں نے سیَّدہ کائنات، خاتونِ جنت کو ان کاحق نہیں دیا تھا۔بلکہ ان کا حق غصب کر لیا تھا۔
میں نے کہا ذرا کھل کر بولیں جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ اور اس حق کی وضاحت کر دیں کہ وہ حق کیا تھا۔۔۔۔۔؟
کہنے لگا وہ، باغ فدک؛ جو حضور ﷺ نے وراثت میں چھوڑا تھا۔ وہ حضور ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ کو ملنا تھا۔لیکن وہ باغ انہیں #ابوبکر نے نہیں دیا تھا۔
یہ صرف میرا دعویٰ ہی نہیں بلکہ میرے پاس اس دعوے پر ہر مسلک کی کتابوں سے ایسے وزنی دلائل موجود ہیں جنہیں آپ کا کوئی عالم جھٹلا نہیں سکتا ،یہ بات اس نے بڑے پر اعتماد اور مضبوط انداز میں کہی۔
مزید اس نے کہا کہ میری بات کے ثبوت کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ باغ فدک؛ آج بھی سعودی حکومت کے زیر تصرف ہے۔ اور وہ حکومتی مصارف کیلئے وقف ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج تک آل رسول کو ان کا حق نہیں ملا ہے۔
اب آپ ہی بتائیں جنہوں نے آل رسول کے ساتھ یہ کیا ہو ہم انہیں کیسےخلیفہ رسول تسلیم کر لیں۔۔۔؟
میں نے اس کی گفتگو بڑے تحمل سے سنی۔ اور اس کا اعتراض سن کر میں نے پوچھا کہ آپ کا سوال مکمل ہو گیا یا کچھ باقی ہے۔۔۔۔۔۔؟
وہ کہنے لگا میرا سوال مکمل ہو گیا ہے اب آپ جواب دیں۔
میں نے عرض کیا کہ آپ #نبی کریم ﷺ کے بعد پہلا خلیفہ کن کو مانتے ہو۔۔۔۔۔۔؟
وہ کہنے لگا ہم مولیٰ علی کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں۔
میں نے کہا کہ عوام و خواص کے جان و مال اور ان کے حقوق کا تحفظ #خلیفة المسلمین کی ذمہ داری ہوتی ہے کسی اور کی نہیں۔مجھے آپ پر تعجب ہو رہا ہے کہ آپ خلیفہ بلا فصل تو سیَّدنا علی رضی اللہ عنہ کو مان رہے ہیں اور اعتراض #سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر کر رہے ہیں۔ یا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلا خلیفہ مانو پھر آپ کا ان پر اعتراض کرنے کا کسی حد تک جواز بھی بنتا ہے ورنہ جن کو آپ پہلا خلیفہ مانتے ہو یہ اعتراض بھی انہی پر کر سکتے ہو کہ آپ کی خلافت کے زمانے میں خاتون جنت رضی اللہ عنہا کا حق کیوں مارا گیا۔۔۔۔۔؟
میری بات سن کر اسے حیرت کا ایک جھٹکا لگا مگر ساتھ ہی اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں مولیٰ علی کی خلافت ظاہری آپ کے خلفاء ثلاثہ کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے تو ہم ان کی خلافت کو غصب مانتے ہیں یعنی آپ کے خلفائے ثلاثہ نے مولیٰ علی کی خلافت کو ظاہری طور پر غصب کیا ہوا تھا۔ اسلیئے مولیٰ علی تو اس وقت مجبور تھے وہ یہ حق کیسے دے سکتے تھے۔۔۔؟
اس کی یہ تاویل سن کر میں نے کہا عزیزم ! میرے تعجب میں آپ نے مزید اضافہ کر دیا ہے ایک طرف تو آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ مولیٰ علی مشکل کشا ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انہیں کے گھر کی ایک کے بعد دوسری مشکل آپ نے ذکر کر دی یعنی ان کی زوجہ محترمہ کاحق مارا گیا لیکن وہ مجبور تھے اور وہ مشکل کشا ہونے کے باوجود ان کی مشکل کشائی نہ کر سکے۔ پھر ان کا اپنا حق (خلافت) غصب ہوا لیکن وہ خود اپنی مشکل کشائی بھی نہ کر سکے۔ یا تو ان کی مشکل کشائی کا انکار کر دو اور اگر انہیں مشکل کشا مانتے ہو تو یہ من گھڑت باتیں کہنا چھوڑ دو کہ طاقتوروں نے ان کے حقوق غصب کر لیئے تھے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر بالفرض و المحال آپ کی یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ اصحاب ثلاثہ نے ان کی خلافت غصب کر لی تھی، اب سوال یہ ہے کہ خلفاء ثلاثہ کے بعد جب أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ کو ظاہری خلافت مل گئی اور ان کی شہادت کے بعد انہی کے صاحبزادے سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو کیا اس وقت انہوں نے باغ فدک لے لیا تھا۔۔۔۔۔۔؟
جب آپ کےبقول وہ خلفاء ثلاثہ کے زمانے میں غصب کیا گیا تھا، اب تو انہی کی حکومت تھی جن کا حق غصب کیا گیا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکومت ہونے کے باوجود اس حق کو کیوں چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔؟
آج بھی آپ کے بقول وہ سعودی حکومت کے زیر اثر ہے تو بھائی وہ باغ جن کا حق تھا جب انہوں نے چھوڑ دیا ہے تو آپ بھی اب مہربانی کر کے ان قِصُّوں کو چھوڑ دیں اور اگر آپ کا اعتراض سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر ہے کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا۔۔۔۔۔؟
تو یہی اعتراض آپ کا أمیر المؤمنين علی رضی اللہ عنہ پر بھی ہو گا کہ ان کی ظاہری خلافت میں آل رسول کو باغ فدک کیوں نہیں ملا؟؟؟
میری بات سن کہ وہ کچھ سوچنے لگا مگر میں نے اسی لمحہ اس پر ایک اور سوال کر دیا کہ آپ یہ بتائیں کہ وراثت صرف اولاد کو ہی ملتی ہے یا بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔۔۔۔۔؟
کہنے لگا۔۔۔ بیویوں اور دوسرے ورثاء کو بھی ملتی ہے۔
میں نے کہا پھر آپ کا اعتراض صرف سیَّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے کیوں ہے۔۔۔۔۔۔؟
حضور ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے آپ نے کیوں نہیں کہا کہ انہیں بھی وراثت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ازواج مطہرات میں سیَّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور أمیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیَّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ نے خلفاء رسول پر یہ الزام دھرنے سے پہلے کبھی نہیں سوچا کہ اگر انہوں نے نبی ﷺ کی صاحبزادی کو حضور ﷺ کی وراثت نہیں دی تو اپنی صاحبزادیوں کو بھی تو اس سے محروم رکھا ہے۔
میری گفتگو سن کر اب وہ مکمل خاموش تھا۔ ساتھ ہی وہ گہری سوچ میں ڈوبا ہوا بھی معلوم ہوا۔
میں نے اسے پھر متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ عزیزم ! کب تک ان پاک ہستیوں کے بارے بدگمانی پیدا کرنے والی بے سر و پا جھوٹی باتوں کی وجہ سے حقائق سے آنکھیں بند کر کے رکھو گے۔۔۔۔۔۔؟
اب میں تمہیں وہ حقیقت ہی بتا دوں جس کی وجہ سے حضور اقدس ﷺ کی وراثت آپ ﷺ کے کسی وارث کو نہیں دی گئی۔ وہ خود جناب رسالت مآب ﷺ کا فرمان ہے؛ *{نحن معشر الانبیاء لانرث ولا نورث، ما ترکنا صدقة؛}* یعنی ہم انبیاء دنیا کی وراثت میں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث بنتا ہے۔ ہم جو مال و جائیداد چھوڑتے ہیں وہ امت پر صدقہ ہوتا ہے۔
میں نے اسے کہا عزیزم! یہ وہ مجبوری تھی جس کی وجہ سے أمیر المؤمنین ابوبکر سے لے کر سیَّدنا علی اور سیَّدنا حسن رضی اللہ عنہم تک کسی بھی خلیفہ نے؛ باغ فدک؛ آل رسول کاحق نہیں سمجھا جسے لے کر آج آپ ان کےدرمیان نفرتیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
نوجوان اب میری گفتگو سن کر پریشان اور نادم محسوس ہونے لگا۔ پھر انتہائی عاجزی سے اس نے مجھے دیکھا اور گویا ہوا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے میری آنکھیں کھول دیں۔ آج سے میں اس طرح کے اعتراضات کرنے سے توبہ کرتا ہوں۔ اب میں رب تعالیٰ سے بھی وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اپنی سوچ کو مثبت بناوں گا۔
میں نے اس نوجوان کو مبارک دی اور ایک محبت سے بھرپور معانقہ و مصافحہ ہوا۔
پھر وہ نوجوان شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
والسلام ۔۔۔۔
*یہ جو تحریر آپ نے پڑھ لی ہے میرے دوستو اور بہن بھاٸیوں، یہ ایک لاجواب اور ہزاروں کتابوں سے زیادہ پُر مغز مدلل مضمون ہے براہ کرم اس کو اتنا پھیلا دیجٸے کہ حق وسچ ہر ایرے غیرے پر بھی واضح ہو جاٸیں۔ لہذا آپ کی ایک کوشش دوسرے کی رہنمائی کا باعث بن سکتی .
پاکسانی پروڈکٹ...............
پاکستانی چائے:
1. ٹپال دانے دار
2. وائیٹل چائی
3. میزان چائے
پاکستانی موٹرسائیکل :
1. یونائیٹڈ
2. پاور
3. سپر پاور
4. راوی
5. روڑ پرنس
پاکستانی الیکٹرونکس مصنوعات:
1. اورینٹ
2. پیل
3. ہائیر
4. اورنج
5. ڈوالینس
6. ویوز
پاکستانی سوپ(صابن):
1. کیپری
2. تبت
3. انگلش نیم
4. وائٹل
پاکستانی مشروبات
1. گورمے کولا
2. پاک کولا
3. کولا نیکسٹ
پاکستانی ٹوٹھ پیسٹ:
1. میڈی کیم
2. انگلش
3. سوڈا وائیٹ
پاکستانی ملک پروڈکٹس:
1. ڈے فریش
2. حلیب
3. Adam
4. Nurpur
5. Good milk
پاکستانی چاکلیٹس:
1. Novella
2. Jubilee
3. Now
4. Sonnet
پاکستانی موبائل فون:
1. کیو موبائل
2. Rivo Mobile
3. کلب موبائل
پاکستانی شیونگ پروڈکٹس:
1. Treet
2. Tibet
پاکستانی کاسمیٹکس:
1. سیمسول
2. Tibet
3. Olivia
4. English
5. Medora
6. بائیو آملہ
7. Osem
پاکستانی بیکری پروڈکٹس:
1. نیشنل
2. Young's
3. Shangrilla/Fruiti-O
4. Fruitien
5. English
6. Mayfair
7. پاپولر/مازا
پاکستانی شہد:
1. Al Asal
2. ہاشمی
3. Young's
پاکستانی پیٹرول/ ڈیزل کمپنیز:
1. PSO
2. HASCOL
3. ATTOCK
افتتاح بخاری کے موقع پر فاضلہ جامعہ عائشہ صدیقہ کی طالبہ کے دلی جذبات کا اظہار
#جامعہ #عائشہ #صدیقہ
02/06/2021
از قلم فاضلہ جامعہ عائشہ صدیقہ رمیصاء بنت اسلم
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Area Shah Faisal Mola Maddad Lyari Karachi
Karachi
75660
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 18:00 |
| Tuesday | 09:00 - 18:00 |
| Wednesday | 09:00 - 18:00 |
| Thursday | 09:00 - 18:00 |
| Friday | 09:00 - 18:00 |
| Saturday | 09:00 - 18:00 |