Pakistan Academy of Letters Regional Office Sindh

Pakistan Academy of Letters Regional Office Sindh

Share

Pakistan Academy of Letters (PAL) preserves,promots heritage..literature by projecting it on vario

Photos from Pakistan Academy of Letters Regional Office Sindh's post 22/02/2024
22/02/2024
Photos from Pakistan Academy of Letters Regional Office Sindh's post 05/10/2023

بتاریخ 3-10-2023 روپورٹ اقبال احمد ڈہراج انچارج برانچ اکادمی ادبیات پاکستان
اکادمی ادبیا ت پاکستان کراچی کے زیراہتمام بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی یاد میں سیمینارو مشاعرہ‘‘کا انعقادکیا گیا ۔ جس کی صدارت معروف شاعر ڈاکٹر محمد رضا کاظمی نے کی ۔ مہمان خاص سندھی زبان کے نامور شاعر ڈاکٹر ذوالفقار سیال تھے۔اس موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر محمد رضا کاظمی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح (25 دسمبر 1876ء247 ء ۔ 11ستمبر1948ء)ایک پاکستانی سیاستدان اور آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر تھے جن کی قیادت میں مسلمانوں نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی، یوں پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے سرکاری طور پر پاکستان میں آپ کو قائدِ اعظم یعنی سب سے عظیم رہبر اور بابائے قوم کا باپ‘‘ بھی کہا جاتاہ ۔ جناح کا یوم پیدائش پاکستان میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے، اس دن پاکستان میں عام تعطیل ہوتی ہے ۔ آغاز میں آپ انڈین نیشنل کانگرس میں شامل ہوئے اور مسلم ہندو اتحاد کے حامی تھے ۔ آپ ہی کی کوششوں سے 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس میں معاہدہ ہوا ۔ کانگرس سے اختلافات کی وجہ سے آ پ نے کانگرس پارٹی چھوڑ دی اور مسلم لیگ کی قیادت میں شامل ہوگئے ۔ آپ نے خود مختار ہندوستان می مسلمانو ں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کئے ۔ مسلم لیڈروں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے آپ انڈیا چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے ۔ بہت سے مسلمان رہنماؤں خصوصا علامہ اقبال کی کوششوں کی وجہ سے آپ واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی ۔ جناح عقائد کی نقطۃ نظر سے ایک معتدل مزاج شیعہ مسلمان تھے ۔ ڈاکٹر ذوالفقارسیال نے کہاکہ 1896ء میں جناح نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی جوکہ اُس وقت ہندوستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی لیکن اُس وقت کے دیگر کانگریسی رہنماؤں کی طرح جناح نے یکسر آزادی کی حمایت کرنے کی بجائے اُنہوں نے ہندوستان کی تعلیم، قانون، ثقافت اور صنعت پر برطانوی اثرات کو ہندوستان کے لئے موثر قراردیا ۔ جناح ساٹھ رکنی مرکزی مشاورتی کونسل (امپیریل لیگسلیٹوکونسل) کے ممبر بن گئے لیکن اس کو نسل کی اپنی کوئی حیثیت یا طاقت نہیں تھی اور اس میں شامل زیادہ تر افراد غیر منتخب ، سلطنتِ برطانیہ کی زبان بولنے والے یورپی تھے ۔ اس کے باوجود جناح متحرک رہے اور کم عمری کی شادی کےلئے قانون اور مسلمانوں کے وقف کے حق کو قانونی شکل دینے کے لئے کام کرتے رہے، انہیں کاوشوں کے نتیجے میں سندھرسٹ کمیٹی بنائی گئی ، جس نے ڈھیراڈن میں انڈین ملٹری اکیڈمی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ شہنشا اور انگزیب کے بعد ہندوستاننے انتا بڑا مسلمان لیڈر پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ شکست خوردہ مسلمانوں کا کامرانیوں میں بدل دیا ہو‘‘۔ صغیر احمد جعفری نے کہا کہ قائد اعظم کی رحلت عالم اسلام ، پوری دنیا کیلئے ایک عظیم سانحہ تھی قائداعظم کی رحلت نہ صرف عالم اسلام کیلئے بلکہ پوری دنیاکیلئے ایک عظیم سانحہ تھی جس کا ثبوت ان اخباری بیانوں سے ملتاہے جو آپ کی رحلت کے بعد پوری دنیا کے رہنماؤں نے جاری کیے 13-12ستمبر1948ء کے اخباروں سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں نے نہ صرف آپ کی وفات کا سوگ منایا بلکہ غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھی 11ستمبر1948ء کو لیاقت علی خان نے نشری پیغام جاری کیا کہ اللہ پاک نے قائداعظم محمد علی جناح کو اس وقت ہم سے جدا کردیا جب کہ ہ میں اپنی قومی بقاء کے دشوار ترین راستوں پر ان کی رہنمائی کی ضرورت تھی برطانیہ کے کنگ جارج نے محترمہ فاطمہ جناح کے نام تعزیتی ٹیلی گرام بھیجا جس میں لکھا تھا مجھے اور ملکہ کو آپ کے بھائی اور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی وفات کا سن کر شدید صدمہ پہنچا یہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہے آپ کیلئے بھی اور پاکستا ن کیلئے بھی جس کے وہ رنما تھے ۔ برطانیہ کے وزیراعظم کلیمنٹ آرنے کہا آج پاکستان اپنے ایک عظیم ترین شہری سے محروم ہوگیا ۔ اے بی لاشاری نے کہا کہ قائداعظم کے بعد کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے کہاعظیم لوگ مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ۔ قائداعظم کے دوست پی جی گھیر نے کہا قائداعظم محمد علی جناح تاریخ ساز شخصیت تھے انکی قوت ، فیصلہ اور خودا عتمادی کی بے مثال وکالت نے ان کو ایک قابل رشک رنمابنادیا انکی موت ہم سب کا اجتمائی نقصان ہے ۔ قائداعظم پکے اور سچے مسلمان تھے اور ان کا نصب العین ایک ایسی آزاد مسلم ریاست کا قیام تھاجس میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہوا ور جہاں وہ اپنے مذہب کے احکامات کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کر سکیں اور اسلامی معیشت اور سماجی دستور کے مطابق اسلامی تہذیب و ثقافت کوپر وان چڑھایا جاسکے ، علاقائی قومیتوں اور کسی غیر اسلامی نظریے ک لے پاکستان میں کوئی جگہ نہ ہوگی ۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے انچارج اقبال احمدنے کہاکہ قائداعظم اپنے عزم کے پکے اور قول کے سچے تھے ۔ انہوں نے جوکہا اُسے کر دکھایا ۔ یہی ان کے کر دار کا وہ عظیم پہلوجس نے برصغیر کے حصے میں پاکستان کی تشکیل کے نظر یے کو عملی صورت بخشی ۔ اس موقع پر جن شعراء کرام صبیحہ صبا جعفری ، سید علی اوسط جعفری، سعد الدین سعد، ، نصیر سومرو، ریحانہ احسان ،محمد رفیق مغل، شہناز رضوی، ، روبینہ تحسین بینا ،اختر شاہ ہاشمی، ظفر بلوچ، سخاوت علی جوہر،افضل ہزاروی، یاسر قاضی، الحاج نجمی، سید شائق شہاب ، تاج علی رعنا ، یوسف چشتی، عبدالستار رستمانی، وحید محسن، غوث پیرزادہ ، امتیا ز دانش، سکندر رندنے اپنا کلام پیش کیا ۔ نظامت کے فرائض یاسر قاضی نے انجام دیے۔ انچارج اقبال احمد نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


PAL Sindh Office, Behind Liaquat Memorial Library, Stadium Road
Karachi
023624