Khadman-E-Ghaffaria Karachi & Hyderabad

Khadman-E-Ghaffaria Karachi & Hyderabad

Share

Ye Page Peer Abdul Ghaffar Shaad Naqshbandi, Qadri, Nizami Datamt-e-Barkatahom Aliya Ki Taraf Se Logo Tak Shariat, Tareeqat, Marfat, Haqeet Ko Pochana Ha

10/02/2025

🍁 _*بسم الله الرحمن الرحيم*_

السلام علیکم ورحـــــــمةالله وبركآته

کل حمدوثنا رب کریم غفور الرحیم کی بابرکت ذات پاک پر اور بے شمار درود پاک اس ہستئ پاک پر جن کو سب کائنات کے لئے رحمتہ اللعالمین﷽

‏ اور راہ نجات بنا کر بھیجا



ہمارے پیر طریقت رہبر شریعت حضرت پروفیسر علامہ مولانہ عبدالغفارشاد نقشبندی الأرحام کے استاد محترم ولی کامل والی کراچی آل رسول عزت مآب ھمارے سر کا تاج جناب محترم *سید اختر حسین شاہ تاجی الارحام* کے عرس مبارک کے موقع پر آپ کے مزار پرنور پر۔ قرآن خوانی اور ذکر الہی کا اہتمام کیا گیا ہے۔
جو کہ
*بتاریخ 14 شعبان المعظم*
*12 فروری بروز بدھ* 2025

اپنے مقررہ وقت پر ادا کیا جاے گا

_ترتیب انتطامات محفل_
*بعد نماز ظہر*۔ *غسل تربت شریف و درود سلام*

*بعد نماز عصر*
*قرآن خوانی*

*بعد اذان مغرب*
*فاطحہ ، مختصر بیان اور زکر اللہ*
*بعد اذان عشاء*

*طعام*

آپ تمام بھائیوں سے شرکت کی درخواست ہے وقت کی پابندی کے ساتھ اپنے دوست احباب کے تشریف لائے اور اس پرنور محفل سے اپنے روح و دل کو منور کیجیۓ۔ منجانب خدام مزار مبارک اور جماعت غفاریہ کراجی و حیدراباد
--------------**********---------------
یاالله پاک! ہم سب پر رحم و کرم فرما آسانياں عطا فرما اور تمام ناگہانی آفات، بیماریوں، نقصانات، رنج فکر اور پریشانیوں سے محفوظ فرما. سکون قلب اور راحت عطاء فرما۔🪷
*آمین ثم آمین یارب العالٰمین*

20/07/2023
20/07/2023

دریاۓ نیل کی داستان، خونی دریا

دریائے نیل خشک ہو چکا تھا۔
وہ دریائے نیل جس کا پانی ٹھاٹھیں مارتا تھا اور مصر کے کھیتوں کو سیراب کرتا تھا وہ دریا خشک ہو چکا تھا مصر کے لوگ یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے ایسا پہلی بار نہیں ہو اتھا۔ ہر سال دریائے نیل خشک ہو جاتا تھا مصر کے لوگوں کا کہنا تھا:
”دریائے ہر سال انسانی قربانی مانگتا ہے“۔
جب وہ یہ قربانی دے دیتے تو دریائے نیل پھر سے ٹھاٹھیں مارنے لگتا اور لوگ خوش ہو جاتے ان کی کھیتیاں پھر سے لہلہانے لگتیں۔
اب ایک بار پھر دریائے نیل خشک ہو چکا تھا لوگوں کے چہرے پریشانی سے مرجھا گئے تھے۔ دریا اس بار پھر ان سے ایک انسان کی قربانی مانگ رہا تھا وہ سب مجبور تھے۔
انہی دنوں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے مصر فتح کیا تھا مصر میں فوجیں موجود تھیں امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ نے مصر میں حضرت عمرو بن العاض رضی اللہ عنہ کو گورنر مقرر کیا تھا۔ اور اس کے چند دن بعد ہی دریائے نیل خشک ہو گیا تھا لوگوں کی پریشانی دیکھنے کے قابل تھی۔
لوگ دریانے نیل میں انسانی قربانی کی تیاریاں کرنے لگے اب لوگ خوش تھے کہ دریا انسان کی قربانی کے بعد پھر سے بہنا شروع کر دے گا۔ اور خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی۔
آخر وہ دن بھی آگیا جس دن ایک انسان کی قربانی دریائے نیل کو بھینٹ چڑھ جانا تھی۔ لوگ صبح ہی صبح یوں تیار ہوکر باہر نکل آئے جیسے عید کا سماں ہو ہر شخص کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ دریائے نیل کے خشک ہونے کی وجہ سے سخت پریشان تھے جب انہوں نے یہ سنا کہ لوگ دریائے نیل کی بھیٹ چڑھانے کے لیے ایک انسان کو قربان کرنے لگے ہیں تو وہ تڑپ اٹھے کہ یہ تو سراسر ظلم ہے دریا کے لئے ایک انسان کو قتل کر دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے چند آدمیوں کے ساتھ دریائے نیل کی طرف چل پڑے وہ اس قربانی کو ہرحال میں رکوانا چاہتے تھے۔ جب وہ دریائے نیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے وہاں عجیب سماں دیکھا لوگ زرق برق کپڑے پہنے وہاں موجود تھے ہر شخص کے چہرے پر خوشی تھی۔
جب ان لوگوں نے گورنر کو دیکھا تو حیران رہ گئے اور سوچنے لگے:
”شاہد گورنر بھی اس قربانی کو دیکھنے کے لیے آئے ہیں“۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ ایک پندرہ سالہ لڑکی کو لے کر وہاں آئے ہیں اُس لڑکی نے زرق برق لباس پہنا ہوا تھا وہ زیورات سے لدی پھندی تھی، لڑکی خوف سے کانپ رہی تھی اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد ہو رہا تھا۔ لڑکی لڑکھڑاتے قدموں سے آگے بڑھ رہی تھی وہ لرزتی کانپتی ہوئی لوگوں کے ہمراہ دریا کے کنارے پر پہنچ کر رک گئی اس نے مڑ کر اپنے بوڑھے باپ کی طرف دیکھا باپ کی آنکھوں میں آنسوں تھے وہ مجبور تھا لوگ اس کی بیٹی کو گھسیٹ کر موت کے منہ میں دھکیل رہے تھے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی بوڑھی آنکھوں سے بیٹی کو موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ لڑکی کی ماں تو غم سے نڈھال ہوئی جارہی تھی۔
لڑکی ہاتھ چھڑا کر اپنے باپ کی طرف دوڑی لوگ اس کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے اور لڑکی کو لیکر پھر دریا کے کنارے پر لے آئے لڑکی روکر لوگوں سے التجا کرنے لگی۔
”مجھے چھوڑ دو میں مرنا نہیں چاہتی“۔
لوگوں نے اسے مضبوطی سے پکڑ لیا اب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا وہ جلدی سے آگے بڑھے اور لڑکی کو ان لوگوں کی قید سے چھڑاتے ہوئے بولے:
”یہ سب کیا ہے تم اس لڑکی کو کیوں ہلاک کرنا چاہتے ہو؟“
لوگ گورنر کی بات سن کر پریشان ہو گئے لڑکی بھاگ کر اپنے باپ کے پاس چلی گئی لڑکی کی ماں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔ لڑکی سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اور ماں اسے چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوئے خود بھی رو رہی تھی۔
لوگوں نے کہا:
”اے امیر! دریائے نیل خشک ہو چکا ہے وہ ہرسال ایک انسان کی قربانی مانگتا ہے“
یہ سن کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ناگواری سے لوگوں کی طرف دیکھا پھر پوچھا:
”کیا ہر سال یہ دریا اس طرح خشک ہو جاتا ہے؟“
لوگوں نے جواب دیا:
”ہاں! ہر سال دریانیل اس طرح خشک ہو جاتا ہے۔ اور یہ دریا جب خشک ہوتا ہے تو ہم ایک انسانی جان کی قربانی دیتے ہیں اس کے ساتھ ہی دریا کا پانی بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے دریا میں طغیانی آجاتی ہے“۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:
”یہ تو ظلم ہے“۔
لوگوں نے کہا:
”اے امیر! ہم ہر سال چاند کی گیارہ تاریخ کو ایک نوجوان لڑکی کا انتخاب کرکے اس کے والدین کو رضامندی سے اس لڑکی کو زیورات اور خوبصورت لباس پہنا کر دریائے نیل کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں پھر دریا کا پانی بڑھنے لگتا ہے“۔
یہ سن کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:
”اسلام ان باتوں کو پسند نہیں کرتا۔ تم ہر سال ایک انسان کو قتل کرکے دریا کی بھینٹ چڑھا دیتے ہو یہ تو سراسر ظلم ہے اسلام ان فضول باتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے آئندہ تم ایسا نہیں کرو گے“

یہ سن کر لوگ بولے:
”پھر تو دریا خشک رہے گا ہماری کھیتیاں برباد ہو جائیں گی ہم بھوک سے مر جائیں گے ہمارے جانور ہلاک ہو جائیں گے“
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا:
”تم پریشان نہ ہو ایسا کچھ نہیں ہوگا“۔
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ رسم ادا کرنے کی اجازت نہ دی اب لوگ بڑے پریشان دریانے نیل بالکل خشک ہو گیا اس میں ایک بوند بھی پانی نہ آیا لوگ بوکھلا گئے انکی کھیتی باڑی دریائے نیل کے پانی سے قائم تھی۔ اب تو دریا خشک ہو چکا تھا زمین بنجر ہو گئیں، لوگ فاقوں سے مرنے لگے جانور چارہ نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر جانیں دے رہے تھے یہ دیکھ کر لوگوں نے مصر سے نکل کر دوسرے علاقوں کا رخ کیا ہر طرف ویرانی ہی ویرانی تھی۔
حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا تو وہ بھی پریشان ہو گئے آخر انہوں نے امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھا اور اس میں ساری صورت حال واضح کر دی۔
امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ نے جب یہ خط پڑھا تو آپ نے حضرت عمر بن العاص رضی اللہ عنہ کو جواب میں لکھا:
”تم نے مصریوں کو بہت اچھا جواب دیا اسلام ایسی باتوں کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ ایسی فضول باتوں کو مٹانے کے لیے آیا ہے میں اس خط کے ساتھ ایک رقعہ بھیج رہا ہوں تم یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دینا“۔
جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس امیر المومنین حضرت عمر الفاروق رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا تو انہوں نے خط کے بعد وہ رقعہ بھی پڑھا جو دریائے نیل میں ڈالنے کے لیے تھا اس میں لکھا تھا:
”یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے دریائے نیل کے نام تھا
اے دریا ! اگر تو اللہ کے حکم سے بہتا تھا تو ہم بھی اللہ ہی سے تیرا جاری ہونا مانگتے ہیں اور تو اللہ کے حکم سے جاری ہوجا اور اگر تو خود اپنی مرضی سے بہتا ہے اور اپنی ہی مرضی سے رک جاتا ہے تو پھر تیری کوئی پرواہ اور ضرورت نہیں ہے“۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ رقعہ دریائے نیل میں ڈال دیا اور واپس چلے آئے جب صبح مصر کے لوگ بیدار ہوئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اللہ نے دریائے نیل کو اس طرح جاری کر دیا ہے بلکہ اب تو دریا میں پانی سے چڑھ گیا تھا اور دریا میں طغیانی آئی ہوئی تھی لوگ یہ دیکھ کر خوشی سے چلا اٹھے:
دریا جاری ہو گیا“
اس دن سے اب تک دریائے نیل اسی طرح جاری وساری ہے ایک لمحے کے لیے بھی اس کا پانی خشک نہیں ہوا ۔۔

زینت کے خزانے کو الماس کہتے ہیں ..

لگے تڑپ پانی کی تو اسے پیاس کہتے ہیں ..

یوں تو سب کی پیاس بجھاتا ہے دریا ..

جو دریا کی پیاس بجھاۓ اسے عمر بن خطابؓ کہتے ہیں .

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ. وَ سَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ. وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ

03/05/2023

5th May Baroz Jummah 2sra URS Mubarak

05/03/2023

Tamam he zarori kam mukamal alhumdulillah...

05/03/2023

Alhumdulillah kam apna ikhtatami marahil ma.....

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Karachi