17/05/2026
قوم لوط❇️
آج کل تو یہ معمول کی بات ہے 😢
سب سے زیادہ بےحیا قوم لوط علیہ سلام کی قوم تھی یہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں میں دلچسپی رکھتے تھے خاص کر مسافروں میں سے کوئی خوبصورت لڑکا ہوتا تو یہ لوگ اسے اپنا شکار بنا لیتے طلموت میں لکھا ہے
کہ اہل سدوم اپنی روز مرہ کی زندگی میں سخت ظالم دھوکہ باز اور بد معاملہ تھے
کوئی مسافر ان کے علاقے سے بخیریت نہیں گزر سکتا تھا
کوئی غریب ان کی بستیوں سے روٹی کا ایک ٹکڑا نہ پا سکتا تھا۔
کئی مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے علاقے میں پہنچ کر فاقوں سے مر جاتا تھا اور یہ لوگ اس کے کپڑے اتار کر اس کی لاش کو برہنہ دفن کر دیتے۔ اپنی وادی کو انہوں نے ایک باغ بنا رکھا تھا
۔ جس کا سلسلہ میلوں تک پھیلا ہوا تھا اس باغ میں وہ انتہائی بے حیائی کے ساتھ اعلانیہ بد کاریاں کرتے تھے۔
حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں توحید کی دعوت دی اور بدکاری کے اس گھناونے عمل سے توبہ کرنے کا حکم دیا۔
حضرت لوط نے کہا تم یہ کیوں کرتے ہو کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت حاصل کرنے کے لیے مرد کی طرف مائل ہوتے ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔ تو پھر حضرت لوط اہل سدوم کو دن رات وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے۔ لیکن اس قوم پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔
بلکہ وہ بدنصیب بہت فخریہ انداز میں یہ کام کرتے تھے انہیں حضرت لوط کا سمجھانا بھی برا لگتا تھا
لہذا انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اگر تم ہمیں اسی طرح بھلا کہتے رہے اور ہمارے کاموں میں مداخلت کرتے رہے
تو ہم تمہیں اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ حضرت لوط نے نصیحت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا۔
لہذا ایک دن اہل سدوم نے خود ہی عذاب الہی کا مطالبہ کر دیا۔
اللہ تعالی نے اب تک ان کے اس بدترین عمل فحاشی اور بدکاری کے باوجود ڈھیل دے رکھی تھی۔
لیکن جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے ایک دن کہا
کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
لہذا ان پر عذاب الہی کا فیصلہ ہوگیا۔
اللہ نے اپنے خاص فرشتوں کو دنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ یہ فرشتے دراصل حضرت میکائیل، اور جبرائل علیہ السلام تھے
پھر یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت لوط نے جب ان خوبصورت نوعمر لڑکوں کو دیکھا تو سخت گھبراہٹ اور پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔
انہیں یہ خطرہ محسوس ہونے لگا کہ اگر ان کی قوم کے لوگوں نے انہیں دیکھ لیا۔
تو نہ جانے وہ انکے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ حضرت لوط کی بیوی کا نام وائلہ تھا
اس نے آپ پر ایمان نہیں لایا تھا
اور وہ دراصل منافقہ تھی۔ وہ کافروں کے ساتھ تھی لہذا اس نے جاکر اہل سدوم کو یہ خبر دے دی۔
کہ لوط کے گھر دو نوجوان لڑکے مہمان ٹھہرے ہوئے ہیں
یہ سن کر بستی والے دوڑتے ہوئے۔ حضرت لوط کے گھر پہنچے
حضرت لوط نے کہا کہ یہ جو میری قوم کی لڑکیاں ہیں
یہ تمہارے لیے جائز اور پاک ہیں اللہ سے ڈرو مجھے میرے مہمانوں کے سامنے رسوا نہ کرو۔
کیا تم میں سے کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں،؟
حضرت لوط علیہ السلام کی بات سن کر وہ لوگ بولے
تم بخوبی واقف ہو کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی حاجت نہیں
اور جو ہماری اصل چاہت ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔
قوم لوط کے اس شرم سار جواب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے
کہ وہ فعل بد میں کس حد تک مبتلا ہو چکے تھے
جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ان کے گھر کی طرف دوڑتی ہوئی آئی تو حضرت لوط نے گھر کے دروازے بند کر دیے اور ان نوجوانوں کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔
ان بدکار لوگوں نے آپ کے گھر کا گھیراؤ کیا ہوا تھا
اور ان میں سے کچھ گھر کے دیوار پر بھی چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے
حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کی عزت کے خیال سے بہت زیادہ گھبرائے ہوئے تھے فرشتے یہ سب منظر دیکھ رہے تھے جب انہوں نے حضرت لوط علیہ السلام کی بے بسی اور پریشانی کا یہ عالم دیکھا۔ تو حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہوئے یوں فرمایا۔
اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں
یہ لوگ ہرگز تم تک نہیں پہنچ سکیں گے
۔ ابھی کچھ رات باقی ہے تو آپ اپنے گھر والوں کو لے کر چل دو
اور تم میں سے کوئی شخص پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔
اہل سدوم حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا دروازہ توڑنے پر بضد تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے گھر سے باہر نکل کر اپنے پر کا ایک کونا انہیں مارا۔
جس سے ان کی آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکل آئے
اور بصارت ظاہر ہوگئی
یہ خاص عذاب ان لوگوں کو پہنچا۔ جو حضرت لوط کے پاس بدنیتی سے آئے تھے۔ حضرت لوط علیہ السلام حقیقت حال جان کر مطمئن ہو گئے
اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رات کو ہی نکل کھڑے ہوئے۔
لیکن پھر بھی ان کی بیوی ان کے ساتھ تھی لیکن کچھ دور جا کر وہ واپس اپنے قوم کی طرف پلٹ گئی اور قوم کے ساتھ جہنم واصل ہو گئی۔
صبح کا آغاز ہوا تو اللہ کے حکم سے حضرت جبرئیل نے بستی کو اوپر سے اکھاڑ دیا اور پھر اپنے بازو پر رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے یہاں تک کہ آسمان والوں نے بستی۔۔۔
کے کتے کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں
۔ پھر اس بستی کو زمین پر دے مارا جس کے بعد ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔
ہر پتھر پر مرنے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔
جب یہ پتھر ان کو لگتے تو ان کے سر پاش پاش ہوجاتے۔
صبح سویرے شروع ہونے والا
یہ عذاب اشراک تک پوری بستی کو نیست و نابود کر چکا تھا
قوم لوط کی ان خوبصورت بستیوں کو اللہ نے ایک انتہائی بد بو دار
اور سیاہ جیل میں تبدیل کردیا۔ جس کے پانی سے رہتی دنیا تک کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔
سمندر کے اس حصے میں کوئی جاندار مچھلی، مینڈک وغیرہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس لیے اسے ڈیڈ سی یعنی بحرے مردار کہا جاتا ہے
جو اسرائیل اور اردن کے درمیان واقع ہے۔ ماہرین آثار نے دس سالوں کی تحقیق و جستجو کے بعد اس تباہ شدہ شہر کو دریافت کیا تھا۔
تحقیقات سے پتہ چلا تھا کہ اس شہر میں زندگی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
شہر کے راستے اور کھنڈرات کو دیکھ کر ارکلوجسٹ نے یہ اندازہ لگایا
کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت لوگ روزمرہ کے معاملات اور کاموں میں مشغول تھے
اور یہاں زندگی اچانک ختم ہو گئی تھی
اہل سدوم جنہیں پتھر بنا دیا گیا تھا۔ ان کے بت ابھی تک بحیرہ مردار کے پاس موجود ہیں جو لوگوں کے لیے ایک عبرت ہے
آج یورپی ممالک میں انسانی آزادی کے نام پر اس بدکاری کی اجازت دی جاتی ہے
اور اس فحش عمل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے
روایتوں کے مطابق ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیطان سے پوچھا کہ اللہ کے نزدیک سب سے بدترین عمل کیا ہے ابلیس بولا جب مرد مرد سے بدفعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے!
اور مجھے شرم آتی ھے یہ کہتے ھوئے کہ
آج ھمارے معاشرے میں یہی سب چل رہا ہے بلکہ اس قبیح کام کو قانون کی سر پرستی حاصل ہے ۔۔۔
اللہ ھماری دنیاوی اور اخروی زندگی کو بہتر بنانے کی عقل و عمل عطاء فرمائے ۔۔۔!
آمین
یہ تحریر کاپی پسٹ ہے
28/04/2026
*مولانا رومیؒ بازار سے گزر رہےتھے، مولانا صاحب کے سامنےکریانے کی ایک دکان تھی ایک درمیانی عمر کی خاتون دکان پر کھڑی تھی اور دکاندار وارفتگی کے عالم میں اس خاتون کو دیکھ رہا تھا۔۔۔*
وہ جس چیز کی طرف اشارہ کرتی دکاندار ہاتھ سے اس بوری سے وہ چیز نکالنے لگتا اور اس وقت تک وہ چیز تھیلے میں ڈالتا جاتا جب تک خاتون کی انگلی کسی دوسری بوری کی طرف نہیں جاتی اور دکاندار دوسری بوری سے بھی اندھا دھند چیز نکال کر تھیلے میں ڈالنے لگتا۔۔۔
یہ عجیب منظر تھا دکاندار وارفتگی کے ساتھ گاہک کو دیکھ رہا تھا اور گاہک انگلی کے اشارے سے دکاندار کو پوری دکان میں گھما رہا تھا اور دکاندار اٰلہ دین کے جن کی طرح چپ چاپ اس کے حکم پر عمل کر رہا تھا۔۔۔
خاتون نے آخر میں لمبی سانس لی اور دکاندار کو حکم دیا "چلو بس کرو آج کی خریداری مکمل ہو گئی۔۔۔۔"
دکاندار نے چھوٹی چھوٹی تھیلیوں کے منہ بند کئے یہ تھیلیاں بڑی بوری میں ڈالیں بوری کندھے پر رکھی اور خاتون سے بولا "چلو زبیدہ میں سامان تمہارے گھر چھوڑ آتا ہوں۔۔۔۔"
خاتون نے نخوت سے گردن ہلائی اور پوچھا "کتنا حساب ہوا۔۔۔۔؟"
دکاندار نے جواب دیا "زبیدہ عشق میں حساب نہیں ہوتا۔۔۔۔"
خاتون نے غصے سے اس کی طرف دیکھا واپس مڑی اور گھر کی طرف چل پڑی دکاندار بھی بوری اٹھا کر چپ چاپ اس کے پیچھے چل پڑا۔
مولانا صاحب یہ منظر دیکھ رہے تھے دکاندار خاتون کے ساتھ چلا گیا تو مولانا صاحب دکان کے تھڑے پر بیٹھ گئے اور شاگرد گلی میں کھڑے ہو گئے ۔۔۔ دکاندار تھوڑی دیر بعد واپس آگیا، مولانا صاحب نے دکاندار کو قریب بلایا اور پوچھا "یہ خاتون کون تھی۔۔۔۔؟"
دکاندار نے ادب سے ہاتھ چومے اور بولا "جناب یہ فلاں امیر خاندان کی نوکرانی ہے۔"
مولانا صاحب نے پوچھا "تم نے اسے بغیر تولے سامان باندھ دیا پھر اس سے رقم بھی نہیں لی کیوں۔۔؟"
دکاندار نے عرض کیا "مولانا صاحب میں اس کا عاشق ہوں اور انسان جب کسی کے عشق میں مبتلا ہوتا ہے تو پھر اس سے حساب نہیں کر سکتا"
دکاندار کی یہ بات سیدھی مولانا صاحب کے دل پر لگی ۔۔۔ وہ چکرائے اور بیہوش ہو کر گر پڑے، شاگرد دوڑے مولانا صاحب کو اٹھایا ان کے چہرے پر عرقِ گلاب چھڑکا، ان کی ہتھیلیاں اور پاؤں رگڑے مولانا صاحب نے بڑی مشکل سے آنکھیں کھولیں۔
دکاندار گھبرایا ہوا تھا وہ مولانا صاحب پر جھکا اور ادب سے عرض کیا "جناب اگر مجھ سے غلطی ہو گئی ہو تو معافی چاہتا ہوں۔۔۔"
مولانا صاحب نے فرمایا "تم میرے محسن ہو میرے مرشد ہو کیونکہ تم نے آج مجھے زندگی میں عشق کا سب سے بڑا سبق دیا"
دکاندار نے حیرت سے پوچھا "جناب وہ کیسے۔۔۔؟"
مولانا صاحب نے فرمایا "میں نے جانا تم ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہو کر حساب سے بیگانے ہو جبکہ میں اللہ کی تسبیح بھی گن گن کر کرتا ہوں، نفل بھی گن کر پڑھتا ہوں اور قرآن مجید کی تلاوت بھی اوراق گن کر کرتا ہوں، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالٰی سے عشق کا دعوٰی کرتا ہوں تم کتنے سچے اور میں کس قدر جھوٹا عاشق ہوں۔"
مولانا صاحب وہاں سے اٹھے ۔۔۔ اپنی درگاہ پر واپس آئے اور اپنے استاد حضرت شمس تبریز کے ساتھ مل کر عشق کے چالیس اصول لکھے۔ ان اصولوں میں ایک اصول "بے حساب اطاعت" بھی تھا۔
یہ مولانا صاحب مولانا روم تھے، اور یہ پوری زندگی اپنے شاگردوں کو بتاتے رہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمیں نعمتیں دیتے ہوئے حساب نہیں کیا، چنانچہ تم بھی اس کا شکر ادا کرتے ہوئے حساب نہ کیا کرو اپنی ہر سانس کی تار اللہ کے شکر سے جوڑ دو اس کا ذکر کرتے وقت کبھی حساب نہ کرو یہ بھی تم سے حساب نہیں مانگے گا اور یہ کُل عشقِ الٰہی ہے۔
02/02/2025
باولا پن ۔ rabies
بے شک اسکا کوئی علاج نہیں اور انجام موت ہے بلکہ ڈاکٹر حضرات لواحقین سے دستخط لے کے خود مریض کو زہر کا انجیکشن لگا دیتے ہیں کیونکہ مریض ہر کسی کو کاٹنا شروع کر دیتا ہے اور جسکو کاٹ لے اس میں بھی Rabies virus منتقل ہو جاتا ہے. اگر آپ کے علم میں کوئی ایسا مریض آئے تو برائے مہربانی اس کے گھر والوں کو بولیں کہ جو علاج میں ابھی بتانے لگا ہوں یہ ضرور آزما کے دیکھ لیں انشااللہ ضرور شفاء نصیب ہو گی.
عللاج نمبر 1 اگیوامریکانہ Agave Americana یہ قبرستانوں میں عام پایا جاتا ہے ..
پنجابی میں اس کو لپھڑا کیتے ھیں..کشمیر میں اس کو ,, کمال گندل ,, بولتے ہیں اس لیے کہ یہ کمال کی چیز ہے اور بہت سی بیماریوں میں استمال ہوتی ہے ۔۔اسے کیوڑہ بھی کہتے ہیں ۔
پہچان کیلیے اسکی تصویر لگا دی ہے. اس پودے کا ایک پتا مریض کے آگے پھینک دیں وہ خود ہی اسکو کھانا شروع کر دے گا. جوں جوں کھاتا جائے گا اسکا پاگل پن اور Rabies جاتا جائے گا.
عللاج نمبر 2: ہومیوپیتھی کی ایک دوائی ہے Lysin 1M اس کے 5 قطرے مریض کے منہ میں ڈال دیں اور ہر 3 گھنٹے بعد دہراتے رہیں جب تک مریض کے حواس نہ بحال ہو جائیں. آپ اس میسج کو اپنی وال پر بھی post کر دیں کسی ایک کی بھی جان بچ جائے تو سمجھیں ساری انسانیت کو بچا لیا.
🌹جس کو کوئی شک ہو وہ خود تحقیق کر لے ۔۔۔۔
ڈاکٹر شیخ متین
یہ کاپی پیسٹ ہے رہنمائی کے لیے ڈاکٹر یا کسی حکیم سے ضرور مشورہ کریں
🌹🌹🌹 Mera Faisla میرا فیصلہ
01/02/2025
ٹک ٹوکر دارو کوئین کسی تعارف کی محتاج نہیں شاید ہی اسکی کوئی ایسی ویڈو نظر سے گزرے جو اس نے دوپٹے
کے بغیر بنائی ہو ! اپنے شوہر اور دو معصوم بچوں کیساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی تھی
مگر غیر مردوں کے سامنے لائیو آنے کا چسکے نے اسکے بچےکچھے کردار کو بھی مسل دیا مادیت پرستی دولت کی ہوس شیروں کے لالچ نے اسکی خوشگوار ازدواجی زندگی میں زیر گھول دیا اور یوں وہ اپنے محبوب شوھر کو چھوڑ چھاڑ کر ایک گفٹر کی گود میں جا بیٹھی۔۔ اور بلآخر اس گفٹر نے بھی طلاق دے دی
ہنستی بستی مسکراتی زندگی برباد ہوگئی ۔۔ تعلیم یافتہ عورتوں میں شرح طلاق زیادہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔۔۔ کہ وہ ڈگری ہولڈر تو ہوتی ہیں مگر تربیت میں دیمک
زدہ لکڑی کی طرح اور آفاقی تعلیمات سے بالکل نابلد ، کیونکہ جس لڑکی کا ایمان مضبوط دل میں خوف خدا اور حيا شرم پردے کا حقیقی تصور موجود ہوتا ہے ۔ وہ ویلکم پارٹیوں میں نہ ہوٹنگ کرتی ہیں نہ یونیورسٹیز میں ہونے
والے مجروں میں رنگ برنگے عبایا پہن کر اچھل اچھل کر داد دیتی ہیں اور نہ غیر محرم لڑکوں سے یار یار کرتی ہیں آج دارو کوئین کی لائف ان لڑکیوں کے لئے ایک سبق ہے جو
اپنے شوھر کے چند کڑوے کسیلے جملوں سے تنگ آکر یہ سمجھتی ہیں کہ باھر کے مرد بہت با اخلاق اور ریسپکیٹ ایبل ہیں لیکن انہیں نہیں پتہ کہ دور کے ڈھول سہانے ہوتے
ہیں جب نزدیک جائیں تو ڈھم ڈھم ہی ہے
کوپی پسٹ
Mera Faisla میرا فیصلہ
31/01/2025
تصویر کہانی
یہ جاپان کا بس سٹاپ ہے ، دو کرسیاں ہیں ، مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ بس کے انتظار میں یہاں بیٹھیں تو فارغ نہ ہوں ، بس کے انتظار کے ساتھ تین کام کر سکیں ۔
پہلا : بس کا انتظار ۔
دوسرا : پیڈلز کے ذریعے جسمانی ورزش ۔
تیسرا : پیڈلز سے سٹریٹ لائٹس کے لئے بجلی کی پیداوار میں شرکت ۔
انتظار اپنے لئے ،
ورزش وجود کے لئے اور بجلی کی پیداوار میں شرکت ملک کے لئے ۔۔
حاضر دماغ رہنما یونہی قوم اور ملک کے لئے بہتری سوچتے ہیں ایسے ہی جاپان نے ترقی نہیں کی ، اس کامیابی کے پیچھے عالی دماغ ذہنوں کےاعلیٰ ترین آئیڈیاز کی کار فرمائی ہے جو قوم کو ترقی کی جانب لے جاتی ہے ۔
Follow👇
Mera Faisla میرا فیصلہ
31/01/2025
سور کیوں پیدا کیا گیا
ہر مسلمان کے لئے یہ پڑھنا بہت ضروری ہے
یورپ سمیت تقریبا تمام امریکی ممالک میں گوشت کے لئے بنیادی انتخاب سور ہے۔ اس جانور کو پالنے کے لئے ان ممالک میں بہت سے فارم ہیں۔ صرف فرانس میں ، پگ فارمز کا حصہ 42،000 سے زیادہ ہے۔
کسی بھی جانور کے مقابلے میں سور میں زیادہ مقدار میں FAT ہوتی ہے۔ لیکن یورپی و امریکی اس مہلک چربی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس چربی کو ٹھکانے لگانا ان ممالک کے محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس چربی کو ختم کرنا محکمہ خوراک کا بہت بڑا سردرد تھا۔
اسے ختم کرنے کے لیئے باضابطہ طور پر اسے جلایا گیا، لگ بھگ 60 سال بعد انہوں نے پھر اس کے استعمال کے بارے میں سوچا تاکہ پیسے بھی کمائے جا سکیں۔ صابن بنانے میں اس کا تجربہ کامیاب رہا۔
شروع میں سور کی چربی سے بنی مصنوعات پر contents کی تفصیل میں pig fat واضح طور پر لیبل پر درج کیا جاتا تھا۔
چونکہ ان کی مصنوعات کے بڑے خرہدار مسلمان ممالک ہیں اور ان ممالک کی طرف سے ان مصنوعات پر پابندی عائد کر دی گئی، جس سے ان کو تجارتی خسارہ ہوا۔ 1857 میں اس وقت رائفل کی یورپ میں بنی گولیوں کو برصغیر میں سمندر کے راستے پہنچایا گیا۔ سمندر کی نمی کی وجہ سے اس میں موجود گن پاؤڈر خراب ہوگیا اور گولیاں ضایع ہو گئیں۔
اس کے بعد وہ سور کی چربی کی پرت گولیاں پر لگانے لگے۔ گولیوں کو استعمال کرنے سے پہلے دانتوں سے اس چربی کی پرت کو نوچنا پڑتا تھا۔ جب یہ بات پھیل گئی کہ ان گولیوں میں سور کی چربی کا استعمال ہوا ہے تو فوجیوں نے جن میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سبزی خور ہندو تھے نے لڑنے سے انکار کردیا ، جو آخر کار خانہ جنگی کا باعث بنا۔ یورپی باشندوں نے ان *حقائق کو پہچان لیا اور PIG FAT لکھنے کے بجائےانہوں نے FIM لکھنا شروع کر دیا
P
1970کے بعد سے یورپ میں رہنے والے تمام لوگ حقیقت کو جانتے ہیں کہ جب ان کمپنیوں سے مسلمان ممالک نے پوچھا کہ یہ کیا ان اشیا کی تیاری میں جانوروں کی چربی استعمال کی گئی ھے اور اگر ھے تو کون سی ہے...؟تو انہیں بتایا گیا کہ ان میں گائے اور بھیڑ کی چربی ہے۔ یہاں پھر ایک اور سوال اٹھایا گیا ، کہ اگر یہ گائے یا بھیڑ کی چربی ہے تو پھر بھی یہ مسلمانوں کے لئے حرام ہے، کیونکہ ان جانوروں کو اسلامی حلال طریقے سے ذبح نہیں کیا گیا تھا۔
اس طرح ان پر دوبارہ پابندی عائد کردی گئی۔ اب ان کثیر القومی کمپنیوں کو ایک بار پھر کا نقصان کاسامنا کرنا پڑا۔۔۔!
آخر کار انہوں نے کوڈڈ زبان استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، تاکہ صرف ان کے اپنےمحکمہ فوڈ کی ایڈمنسٹریشن کو ہی پتہ چل سکے کہ وہ کیااستعمال کر رہے ہیں اور عام آدمی اندھیرے میں ہی رہے۔ اس طرح انہوں نے ای کوڈز کا آغاز کیا۔ یوں اجکل یہ E-INGREDIENTS کی شکل میں کثیر القومی کمپنیوں کی مصنوعات پر لیبل کے اوپر لکھی جاتی ہیں،
ان مصنوعات میں
دانتوں کی پیسٹ، ببل گم، چاکلیٹ، ہر قسم کی سوئٹس ، بسکٹ،کارن فلاکس،ٹافیاں
کینڈیڈ فوڈز ملٹی وٹامنز اور بہت سی ادویات شامل ہیں چونکہ یہ سارا سامان تمام مسلمان ممالک میں اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے۔
سور کے اجزاء کے استعمال سے ہمارے معاشرے میں بے شرمی، بے رحمی اور جنسی استحصال کے رحجان میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ھے۔
لہذا تمام مسلمانوں اور سور کے گوشت سے اجتناب کرنے والوں سے درخواست ھے کہ وہ روزانہ استعمال ہونے والے ITEMS کی خریداری کرتے وقت ان کے content کی فہرست کو لازمی چیک کرلیا کریں اور ای کوڈز کی مندرجہ ذیل فہرست کے ساتھ ملائیں۔ اگر نیچے دیئے گئے اجزاء میں سے کوئی بھی پایا جاتا ہو تو پھر اس سے یقینی طور پر بچیں،کیونکہ اس میں سور کی چربی کسی نہ کسی حالت میں شامل ہے۔
E100 ، E110 ، E120 ، E140 ، E141 ، E153 ، E210 ، E213 ، E214 ، E216 ، E234 ، E252 ، E270 ، E280 ، E325 ، E326 ، E 327 ، E334 ، E335 ، E336 ، E337 ، E422 ، E41 ، E431 ، E432 ، E433 ، E434 ، E435 ، E436 ، E440 ، E470 ، E471 ، E472 ، E473 ، E474 ، E475 ، E476 ، E477 ، E478 ، E481 ، E482 ، E483 ، E491 ، E492 ، E493 ، E494 ، E549 ، E542 E572 ، E621 ، E631 ، E635 ، E905
ڈاکٹر ایم امجد خان
میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ریاستہائے متحدہ امریکہ
👈براہ کرم اس وقت تک شیئر کرتے رہیں جب تک کہ وہ بلائنس آف مسملز ورلڈ وائڈ پر نہ آجائیں
یاد رھے کہ شیئرنگ صدقة جاريه میں گردانی جا سکتی ھے
کوپی پسٹ
21/01/2025
کیا آپ جانتے ہیں چارکول کیسے بنتا ہے.؟ وہ دہکتا ہوا کوئلہ جس پر باربی کیو بنتا ہے. یہ قدرتی کوئلہ نہیں ہوتا بلکہ اسے انسان بناتے ہیں. لکڑیاں ایک ترتیب سے رکھ کر اس پر مٹی کی لیپائی کر دیتے ہیں. ایک سوراخ سے آگ لگا لیتے ہیں اور پھر اس سوراخ کو بھی بند کر دیتے ہیں.
آگ کیلئے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے. لیکن اس بھٹی میں آکسیجن نہیں ہوتی. لکڑی جل کر بھی جل نہیں پاتی. بس اس کی شکل بدل جاتی ہے. یہی بدلی شکل چارکول کہلاتی ہے. اس میں اب عام لکڑی سے زیادہ توانائی ہوتی ہے. سوکھی لکڑی شعلے بناتی ہے. یہ جبکہ دہکتی آگ بناتے ہیں.
انسان جب ظلم پر آمادہ ہو جائے تو یہی حرکت اپنے آس پاس کے انسانوں پر بھی آزماتا ہے. یہ دوسروں کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے. کسی کو سر اٹھانے اپنے نصیب کی زندگی جینے کی اجازت نہیں دیتا. دُنیا کو کسی کیلئے ایسا تنگ بند کوٹھڑی کا قید خانہ بنا لیتا ہے جہاں دم گھٹ رہا ہوتا ہے.
یہ کردار کسی گھر میں کسی ادارے میں کسی ملک کے حکمران تاجر طبقہ میں عام دستیاب ہیں. یہ سمجھتے ہیں ہماری طاقت کو دوام مل رہا ہے. لیکن فطرت اس بھٹی کے باہر ایسے ہی انتظار کرتی ہے جیسے چارکول بنانے والے بھٹی کا سوراخ بند ہونے کے بعد انتظار کرتے ہیں. اس بھٹی سے نکلنے والے انسان بھی پھر منفرد ہوتے ہیں.
ہمارے آس پاس بہت سے لوگ ہوتے ہیں. جو بظاہر ہم جیسے ہی ہوتے ہیں. لیکن وہ منفرد ہوتے ہیں. زمانہ ان کو ڈرا نہیں سکتا کوئی امتحان ان کو ہرا نہیں سکتا. ہم حیرت سے ان کو دیکھتے ہیں کہ یہ ہم جیسے ہوتے بھی ہم سے اتنا الگ کیوں ہیں.؟ یہ وقت کی اسی آزمائش کی بھٹی سے دہک کر نکلے ہوتے ہیں. یہ چارکول ہوتے ہیں. یہ ظالم کو رسوا کرنے والے ہوتے ہیں.
ریاض علی خٹک کاپی پسٹ پیج اڈمین
21/01/2025
سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نےمیڈیکل کی فیس کے لیے اسی کالج میں مزدوری کی، جہاں انکا داخلہ ہوا تھا۔
بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر محمد اعظم بنگلزئی نے میڈیکل کی تعلیم کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج سے حاصل کی مگر اُنھوں نے اسی کالج کی عمارتوں کی تعمیر میں بطور مزدور کام بھی کیا اور بعد میں اس سے منسلک ہسپتال میں سرجن بھی رہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ وہ دن کو کالج میں پڑھتے اور پھر شام کو زیر تعمیر عمارت جاتے جہاں ان کا روپ مزدور کا ہوتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح رات گئے تک محنت مزدوری کرنے کے بعد تھوڑا بہت آرام کرتے اور اس کے بعد پھر کلاس اور لائبریری میں ہوتے۔
اُنھوں نے بتایا کہ اس وقت ان کی دیہاڑی 30 روپے ہوتی تھی اور اس طرح تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے اچھی خاصی رقم بنتی تھی۔
مزدوری کے دوران بھی کتابیں ساتھ ہوتی تھیں‘
اُنھوں نے بتایا کہ ’چونکہ مزدوری میری مجبوری تھی اور میرا اچھا خاصا وقت مزدوری پر صرف ہوتا تھا اس لیے میری کوشش ہوتی تھی کہ مزدوری کے دوران بھی کچھ پڑھا کروں، اس لیے اپنی کتابیں بھی ساتھ لے جاتا تھا۔‘
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی نے کہا کہ ’ایک دن میں ریت اور سیمنٹ کے مکسچر سے بھری ریڑھی جب عمارت میں اوپر لے جا رہا تھا تو ریڑھی میرے ہاتھ سے گر گئی۔
’بدقسمتی سے اس وقت ٹھیکیدار بھی وہاں موجود تھا۔ ٹھیکیدار ریڑھی کو گرتے اور سیمنٹ کو ضائع ہوتے دیکھ کر غصے میں آ گیا۔‘
اُنھوں نے بتایا کہ ’ٹھیکیدار نے مجھے کہا کہ آپ کو تو کام کرنا نہیں آتا، اس لیے آپ کام چھوڑ کر چلے جائیں۔ میں نے ان کو بہت سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ دوبارہ ایسا نہیں ہو گا لیکن اُنھوں نے مجھے نکال دیا۔‘
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کے مطابق اُنھوں نے ٹھیکیدار سے کہا کہ اگر مزید کام کرنے نہیں دیتے تو بے شک مت کرنے دیں لیکن کم از کم اس روز کی دیہاڑی تو پوری ہونے دیں لیکن وہ سیمنٹ کے ضائع ہونے پر اتنا ناراض تھا کہ مجھے دیہاڑی پوری نہیں کرنے دی بلکہ آدھی مزدوری یعنی 15 روپے دے کر فارغ کیا۔‘
ڈاکٹر اعظم نے بتایا کہ بعد میں اُنھیں ریڈیو پاکستان پر خبریں پڑھنے کا موقع ملا اور ریڈیو کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی والوں نے بھی انھیں خبروں کا ترجمہ کرنے اور پڑھنے کے لیے بلا لیا، جس سے ان کے اخراجات پورے ہوتے رہے۔
جب ٹھیکیدار مریض بن کر سرجن اعظم بنگلزئی کے پاس آیا
سرجن اعظم بنگلزئی نے کہا کہ جنرل سرجری میں ایم ایس کرنے کے بعد سرجن کی حیثیت سے اُن کی تقرری بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں ہوئی۔
ایک دن میری او پی ڈی میں ڈیوٹی تھی تو میں نے دیکھا وہی ٹھیکیدار اپنے بیٹے کے ساتھ ایک پرچی لے کر میرے پاس آیا۔
’ٹھیکیدار بوڑھا ہو گیا تھا۔ میں نے اسے پہچان لیا لیکن وہ مجھے نہیں پہچانتا تھا۔ میں نے اس کا نام لیا اور اسے اپنے پاس بلایا تو وہ حیران ہوا کہ یہ شخص کس طرح مجھے جانتا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ جب ٹھیکیدار اُن کے پاس آیا تو اُنھوں نے اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا، جس پر ٹھیکیدار نے ان سے پوچھا کہ وہ اُنھیں کس طرح جانتے ہیں۔
اعظم بنگلزئی نے بتایا کہ ٹھیکیدار کو وہ بہت زیادہ تو یاد نہیں تھے لیکن جب اُنھوں نے کئی باتیں یاد کروائیں تو وہ کام سے نکالنے کی بات پر رو پڑے اور کہا کہ ’میں نے آپ کو کام سے نکال کر ظلم کیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ٹھیکیدار کو بتایا کہ آپ نے کوئی ظلم نہیں کیا کیونکہ ویسے بھی وہ میری منزل نہیں تھی بلکہ میری منزل یہ تھی جہاں آج میں پہنچا ہوں۔‘
والدہ کا آخری دیدار نہیں کر سکا‘
ڈاکٹر اعظم نے بتایا کہ جب وہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی میں پوسٹ گریجویشن کر رہے تھے تو ایک رات اُنھیں ایک خاتون کا آپریشن کرنا پڑا۔
’یہ عجیب اتفاق تھا کہ جس وقت میں وہ آپریشن کر رہا تھا تو مجھے کوئٹہ سے فون آیا اور بتایا گیا کہ کوئٹہ میں آپ کی والدہ کو ایمرجنسی میں ہسپتال میں داخل کیا گیا۔
’دوسرا عجیب اتفاق یہ تھا کہ جس خاتون کی میں آپریشن کررہا تھا وہ معدے کے زخم کی مریضہ تھی جبکہ میری والدہ بھی اسی بیماری میں مبتلا تھی۔ جب میں آپریشن کرنے کے بعد نکلا اور والدہ کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ وفات پا گئی ہیں۔‘
’اگرچہ میں فرض کی بجا آوری کے باعث اپنی والدہ کا آخری دیدار نہیں کرسکا لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس دوران میں نے ایک خاتون کی زندگی بچائی۔‘
ڈاکٹر اعظم بنگلزئی کا کہنا تھا کہ جب بھی وہ نئے بولان میڈیکل کالج، اس کے ہاسٹل اور بولان میڈیکل کمپلیکس کی عمارتوں کے سامنے سے گزرتے ہیں، تو فخر محسوس کرتے ہیں۔
’مجھے یہاں سے گزرتے ہوئے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوتی ہے کیونکہ ان عمارتوں میں میری محنت اور پسینے کی خوشبو ہے۔‘
( یہ معلومات بی،بی،سی،اردو سے اخذ کی گئی ہے۔)
پوسٹ
copied
27/11/2024
اگر آپ کو شہد کی مکھیوں کا ایسا گروہ نظر آئے، تو براہ کرم ان سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی ان پر زہر چھڑکیں۔ خوفزدہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں، یہ صرف مسافر شہد کی مکھیاں ہیں۔ 🐝
یہ مکھیاں کچھ وقت کے لیے آرام کر رہی ہیں اور دو سے تین دنوں کے اندر وہاں سے نکل جائیں گی، یہ ان کے نئے گھر کی تلاش کے لیے ماحولیاتی حالات پر منحصر ہے۔ ان کا نیا ٹھکانہ ایک ایسا مقام ہونا چاہیے جو ٹھنڈا، آرام دہ، دوستانہ اور پر سکون ہو۔
اگر آپ واقعی ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے قریب پانی کا ایک برتن رکھ سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔ شہد کی مکھیاں اہم ترین جراثیم کش حشرات میں سے ہیں اور دیگر کئی کیڑوں کی طرح، ماحولیاتی نظام کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
امید ہے کہ آپ ان کی اہمیت کو سمجھیں گے اور ان کی حفاظت کریں گے کیونکہ یہ ہمارے سیارے 🌎 کے لیے بے حد ضروری ہیں۔
Copy past
➖--»»🌹 *انتخاب* 🌹««--➖
*صاحبزادہ احـسان الرحـمٰـن مـدنـی*
14/11/2024
امام طبرانی کی کتاب میں ایک وقعہ پڑھا آنسو ہیں کہ رک نہیں رہے آپ بھی پڑھیں۔
حضرت صعصعہ بن ناجیه در رسول الله ﷺ پر کلمہ پڑھنے آئے مسلمان ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگے یا رسول الله ﷺ ایک بات پوچھنی ہے حضور ﷺ نے فرمایا پوچھو کہنے لگے یا رسول الله ﷺ دور جاہلیت میں ہم نے جو نیکیاں کی ہے اُن کا بھی اللہ ہمیں آجر عطا کرے گا کیا اسکا بھی آجر ملے گا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو بتا تو نے کیا نیکی کی تو کہنے لگے یا رسول الله ﷺ میرے دو اونٹ گم ہوگئے میں اپنے تیسرے اونٹ پر بیٹھ کر اپنے دو اونٹوں کو ڈھونڈنے نکلا میں اپنے اونٹوں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل کے اُس پار نکل گیا جہاں پرانی آبادی تھی وہاں میں نے اپنے دو اونٹوں کو پا لیا ایک بوڑھا آدمی جانوروں کی نگرانی پر بیٹھا تھا اس کو جا کر میں نے بتایا کہ یہ دو اونٹ میرے ہیں وہ کہنے لگا یہ تو چرتے چرتے یہاں آئے تھے تمہارے ہیں تو لے جاؤ انھی باتوں میں اُس نے پانی بھی منگوا لیا چند کھجوریں بھی آ گئی میں پانی پی رہا تھا کھجوریں بھی کھا رہا تھا کہ ایک بچے کے رونے کی آواز آئی تو بوڑھا پوچھنے لگا بتاؤ بیٹی آئی کہ بیٹا میں نے پوچھا بیٹی ہوئی تو کیا کرو گے کہنے لگا اگر بیٹا ہوا تو قبیلے کی شان بڑھائے گا اگر بیٹی ہوئی تو ابھی یہاں اُسے زندہ دفن کرا دوں گا اس لیئے کہ میں اپنی گردن اپنے داماد کے سامنے جھکا نہیں سکتا میں بیٹی کی پیدائش پر آنے والی مصیبت برداشت نہیں کر سکتا میں ابھی دفن کرا دوں گا حضرت صعصعہ بن ناجیہ فرمانے لگے یا رسول الله ﷺ یہ بات سن کے میرا دل نرم ہوگیا میں نے اُسے کہا پھر پتہ کرو
بیٹی ہے کہ بیٹا ہے اُس نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ بیٹی آئی ہے میں نے کہا کیا واقعی تو دفن کرے گا ! کہنے لگا ہاں میں نے کہا دفن نہ کر مجھے دے دے میں لے جاتا ہوں یا رسول الله صلى الله وہ مجھے کہنے لگا اگر میں بچی تم کو دے دوں تو تم کیا دو گے میں نے کہا تم میرے دو اونٹ رکھ لو بچی دے دو کہنے لگا نہیں دو نہیں یہ جس اونٹ پہ تو بیٹھ کے آیا ہے یہ بھی لے لیں گے حضرت صعصعہ بن ناجیہ عرض کرنے لگے ایک آدمی میرے ساتھ گھر بھیجو یہ مجھے گھر چھوڑ آئے میں یہ اونٹ اُسے واپس دے دیتا ہوں یا رسول الله ﷺ میں نے تین اونٹ دے کر ایک بچی لے لی اس بچی کو لاکے میں نے اپنی کنیز کو دیا نوکرانی اُسے دودھ پلاتی یا رسول الله ﷺ وہ بچی میرے داڑھی کے بالوں سے کھیلتی وہ میرے سینے سے لگتی حضور صل الله پھر مجھے نیکی کا چسکا لگ گیا پھر میں ڈھونڈنے لگا کہ کون کون سا قبیلہ بچیاں دفن کرتا ہے یا رسول الله ﷺ میں تین اونٹ دے کے بچی لایا کرتا یا رسول الله ﷺ میں نے 360 بچیوں کی جان بچائی ہے میری حویلی میں تین سو ساٹھ بچیاں پلتی ہیں حضور صلى الله مجھے بتائیں میرا مالک مجھے اس کا اجر دے گا ؟ کہتے ہے حضور ﷺ کا رنگ بدل گیا داڑهی مبارک پر آنسو گرنے لگے مجھے سینے سے لگایا میرا ماتھا چوم کے فرمانے لگے یہ تو تجھے اجر ہی تو ملا ہے رب نے تجھے دولت ایمان عطا کر دی ہے نبی کریم ﷺ فرمانے لگے یہ تیری دنیا کا اجر ہے اور تیرے رسول ﷺ کا وعدہ ہے قیامت کے دن
رب کریم تمہیں خزانے کھول کے دے گا
Copy past