Dawat-e-Islami ke Dushmano Ko Monh Torr Jawab

Dawat-e-Islami ke Dushmano Ko Monh Torr Jawab

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dawat-e-Islami ke Dushmano Ko Monh Torr Jawab, Education, Karachi.

This Page Is Reply To Jehlmi,Qadiani deobandi, ahle hadees, shia & every fitna Which are Continuously Causing Fitna Among AhleSunnat WaJamaa'at By Abusing Ulama-e-AhleSunnat & Sadaat-e-Kiraam
فتنوں کو دفن کرکے ہی دم لینگے۔ان شاء اللہ عزوجل This Page Is Reply To (Fake Sunni) Tableegi Jamaat Which Is Continuously Causing Fitna Among AhleSunnat WaJamaa'at By Abusing Ulama-e-AhleSunnat & Sadaat-e-Kiraam And Is Very Harmful For The Dignity And Alliance Of AhleSunnat WaJamaa'at.

10/04/2025

بھٹی صاحب ! کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیاء ہوتی ہے !
پر تمہیں کیا پتہ کہ یہ کیا ہوتی ہے !
Muhammad Nadir Raza Qadri

23/10/2024

الحمدللہ میں خیریت سے ہوں۔

Photos from Dawat-e-Islami ke Dushmano Ko Monh Torr Jawab's post 10/10/2024

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ:
اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل فرما رہے ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے-
(بنی اسرائیل،آیت82)

28/09/2024

ذاکر نائک احادیث کا منکر
ذاکر نائک کا کفریہ عقیدہ کہتا ہے
ہم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی نہیں مانگ سکتے ۔ نعوذ باللہ
حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مانگنے کا درس خود صحابہ کرام کو دیا ہے۔
اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگنا شرک ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز یہ مانگنے کا درس صحابہ کرام کو نہ دیتے ۔
اس سے ثابت ہوا کہ ذاکر نائک ایک گمراہ شخص ہے جو خود تو گمراہ ہے ہی اور لوگوں کو بھی گمراہ کر رہا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت ربیعہ بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مانگ کیا مانگتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)…حضرت ربیعہ بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں رات کے وقت رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں رہا کرتا اور آپ کے اِستنجاء اور وضو کے لئے پانی لاتا تھا،ایک مرتبہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مانگ کیا مانگتا ہے۔ میں نے عرض کی :میں آپ سے جنت کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں ۔
ارشاد فرمایا’’اس کے علاوہ اور کچھ؟ میں نے عرض کی :مجھے یہی کافی ہے ۔ارشاد فرمایا’’پھر زیادہ سجدے کر کے میری مدد کرو۔
( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحثّ علیہ، ص۲۵۲، الحدیث: ۲۲۶(۴۸۹))

اللہ تعالیٰ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیتا ہے اور وہ مخلوق میں تقسیم کرتے ہیں :

انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور وہ حضرات اللہ تعالیٰ کے حکم سے مخلوق میں تقسیم فرماتے ہیں اور اس تقسیم میں انہیں دینے اور نہ دینے کا مُطلَقاً اختیار ہوتا ہے۔ حدیث ِپاک میں بھی ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور میں تقسیم فرماتا ہوں ۔
( بخاری، کتاب العلم، باب من یرد اللّٰہ بہ خیراً یفقّہہ فی الدین، ۱ / ۴۲، الحدیث: ۷۱)

دو اَحادیث ِ مبارکہ مزید ملاحظہ ہوں ،ایک اوپر بیان ہوچکی ہے دوسری نیچے ہے

(2)…امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جب کوئی شخص سوال کرتا (تو اس وقت دو طرح کی صورتِ حال ہوتی) اگر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دینا منظور ہوتا تو نَعم فرماتے یعنی اچھا ،اور نہ منظور ہوتا تو خاموش رہتے ، کسی چیز کو ’’لَا‘‘یعنی ’’نہ‘‘ نہ فرماتے تھے۔ایک روز ایک اَعرابی نے حاضر ہوکر سوال کیا توحضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خاموش رہے ، پھر سوال کیا تو خاموشی اختیار فرمائی، پھر سوال کیا تو اس پر حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’سَلْ مَا شِئْتَ یَا اَعْرَابِی‘‘اے اَعرابی! جو تیرا جی چاہے ہم سے مانگ۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :یہ حال دیکھ کر (کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمادیا ہے جو دل میں آئے مانگ لے) ہمیں اس اَعرابی پر رشک آیا ،ہم نے اپنے دل میں کہا: اب یہ حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے جنت مانگے گا ،لیکن اَعرابی نے کہا تو کیا کہا کہ’’ میں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے سواری کا اونٹ مانگتا ہوں ۔ارشاد فرمایا:عطا ہوا ۔عرض کی:حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زادِ سفر مانگتا ہوں۔ ارشادفرمایا:عطاہوا۔ ہمیں اس کے ان سوالوں پر تعجب ہوا اور سیّدِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اس اَعرابی کی مانگ اوربنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کے سوال میں کتنا فرق ہے ۔ پھر حضو ر پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کا ذکر ارشاد فرمایا کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا میں اترنے کا حکم ہوا اور وہ دریا کے کنارے تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سواری کے جانوروں کے منہ پھیر دئیے کہ خود واپس پلٹ آئے ۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی: یااللہ! عَزَّوَجَلَّ، یہ کیا حال ہے ؟ارشاد ہوا:تم حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبرکے پاس ہو ان کا جسم مبارک اپنے ساتھ لے لو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قبر کا پتہ معلوم نہ تھا ،آپ نے لوگوں سے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر کے بارے میں جانتا ہو تو مجھے بتاؤ۔لوگوں نے عرض کی: ہم میں سے تو کوئی نہیں جانتا البتہ بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا ہے ،ہو سکتا ہے کہ وہ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر کے بارے میں جانتی ہو کہ وہ کہاں ہے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس کے پاس آدمی بھیجا (جب وہ آ گئی تو اس سے) فرمایا: تجھے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر معلوم ہے ؟اس نے کہا:ہاں ۔ فرمایا:تو مجھے بتادے ۔اس نے عرض کی :خدا کی قسم میں اس وقت تک نہ بتاؤں گی جب تک آپ مجھے وہ عطا نہ فرما دیں جو کچھ میں آپ سے مانگوں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: تیری عرض قبول ہے ۔بڑھیا نے عرض کی:میں آپ سے یہ مانگتی ہوں کہ جنت میں آپ کے ساتھ اس درجے میں رہوں جس درجے میں آپ ہوں گے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا: جنت مانگ لے۔ (یعنی تجھے یہی کافی ہے اتنا بڑا سوال نہ کر۔) بڑھیا نے کہا: خدا کی قسم میں نہ مانوں گی مگر یہی کہ آپ کے ساتھ رہوں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس سے یہی رد وبدل کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی:اے موسیٰ!وہ جو مانگ رہی ہے تم اسے وہی عطاکردو کہ اس میں تمہارا کچھ نقصان نہیں ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے جنت میں اپنی رفاقت عطافرمادی اوراس نے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قبر بتادی اورحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نعش مبارک کو ساتھ لے کر دریا پار کرگئے۔
(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵ / ۴۰۷، الحدیث: ۷۷۶۷، مکارم الاخلاق للخرائطی، القسم الثانی، الجزء الخامس، باب ما جاء فی السخاء والکرم والبذل من الفضل، ص۱۴۰۷، الحدیث: ۱۵۴، ملتقطاً)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی تصنیف ’’الامن والعلٰی‘‘ میں یہ حدیث ِ پاک نقل کر کے اس کے تحت سات نِکات بیان فرمائے ہیں ،ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس ارشاد’’جو جی میں آئے مانگ‘‘ میں صراحت کے ساتھ عموم موجود ہے کہ جو دل میں آئے مانگ لے ہم سب کچھ عطا فرمانے کا اختیار رکھتے ہیں ۔صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے اَعرابی کو اختیار ملنے پر رشک فرمایا،اس سے معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہاتھ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تمام خزانوں اور دنیا و آخرت کی ہر نعمت پر پہنچتا ہے یہاں تک کہ سب سے اعلیٰ نعمت یعنی جنت جسے چاہیں بخش دیں ۔اختیارِ عام ملنے کے بعد اَعرابی نے جو مانگا اس پر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا تعجب فرمانا اور بنی اسرائیل کی بڑھیاکی مثال دینااس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ جنت کا اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ مانگتا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہی اسے عطا فرما دیتے ۔بڑھیا کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے جنت میں ان کی رفاقت کا سوا ل کرنا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ سوال سن کر غضب و جلال میں نہ آنا بلکہ اس سے یہ کہنا کہ ہم سے جنت مانگ لو اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بڑھیا کی طلب کے مطابق عطا فرمانے کا حکم دینا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بڑھیا کو جنت میں اپنی رفاقت عطا فرما دینا،یہ سب شواہد اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کو بے پناہ اختیارات عطا فرماتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عطا سے مخلوق میں جنت اور اس کے درجات تک تقسیم فرماتے ہیں ،اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مخلوق کا ان سے جنت اور اس کے اعلیٰ درجات مانگنا شرک ہر گز نہیں ہے۔
(فتاوی رضویہ، رسالہ: الامن والعلی لناعتی المصطفٰی بدافع البلاء، ۳۰ / ۶۰۰-۶۰۴، ملخصاً)

28/09/2024

ذاکر نائک قرآن پاک کا منکر کہتا ہے وسیلہ حرام ہے
حالانکہ اللّٰہ تَعَالٰی فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ (پ۶،المائدة:۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو ! اللّٰه سےڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
توسّل کرنا

سوال:انبیاءِ کرام عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام و اولیاءِ عِظام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰی سے توسّل کا کیا مطلب ہے؟

جواب:ان سے توسّل کا مطلب یہ ہے کہ حاجتوں کے بَر آنے اور مطالب کے حاصل ہونےکے لئے ان محبوب ہستیوں کو اللّٰہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں وسیلہ اور واسطہ بنایاجائے کیونکہ انہیں اللّٰہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں ہماری نسبت زیادہ قُرب حاصل ہے ، اللّٰہ تَعَالٰی ان کی دعا پوری فرماتا ہے اور ان کی شفاعت قبول فرماتاہے۔

سوال:انبیاءِ کرامعَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامو اولیاءِ عِظامرَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰی سے توسّل کا کیا حکم ہے؟
جواب:دُنیاوی اور اُخروی حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے اللّٰہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں ان سے توسّل شرعاً جائز ہے۔
سوال:توسّل کرنا یعنی وسیلہ بنانے کا کیا ثبوت ہے؟
جواب: وسیلہ بنانا قرآن وسنّت اور سلف صالحین کے عمل سے ثابت ہے،چُنانچہ
آیتِ مبارکہ: اللّٰہ تَعَالٰی فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ (پ۶،المائدة:۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو! اللّٰه سےڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔
حدیثِ پاک:سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے خود ایک نابینا شخص کو ایک دعا کے ذریعے وسیلہ کی تعلیم ارشاد فرمائی، چُنانچہ ترمذی شریف میں حضرت عثمان بن حُنَیْف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے :ایک نابینا بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم میں حاضرِ خدمت ہوا اور عرض کی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ تَعَالٰی سے دعا کریں کہ وہ مجھے آنکھ والا کردے۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے دعا کروں اور اگر تو چاہے تو صبر کرکہ وہ تیرے لیے بہتر ہے۔ عرض کی کہ دعا فرمائیں، حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم نے اسے حکم دیاکہ اچھا وضو کرو، دور کعت نمازپڑھو اور یہ دعا کرو :اے اللّٰہ میں تجھ سے مانگتا ہوں اور تیری طرف محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے وسیلہ سے توجہ کرتا ہوں جو نبی رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہیں ،یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی اس حاجت میں توجہ کرتا ہوں تو اسے پوری فرمادے۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میرے بارے میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت قبول فرما [ترمذی،احادیث شتی،باب ۱۱۸، ۵ / ۳۳۶،حدیث:۳۵۸۹۔]
(راوی بیان فرماتے ہیں )کہ وہ شخص جب آپ کے فرمانے کے مطابق دعاکرکے کھڑا ہوا وہ آنکھ والا ہوگیا ۔[۔۔۔ معجم کبیر، ۹ / ۳۱، حدیث: ۸۳۱۱۔]

سوال:کیا دنیا سے رِحلت کرجانے والوں سے توسّل جائز ہے؟
جواب:علماءِ کرام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰی فرماتے ہیں کہ اللّٰہ تَعَالٰی کی محبوب ہستیوں سے توسّل جائز ہے خواہ وہ دُنیاوی زندگی میں ہوں یا بَرزخی زندگی کی طرف منتقل ہوچکے ہوں۔

سوال:اس کی کیا دلیل ہے کہ وفات کے بعد بھی کسی نبی یا ولی کو وسیلہ بنانا جائز ہے؟
جواب:اس کے ثبوت میں کئی روایات پیش کی جاسکتی ہیں،اوپر نابینا کے توسّل کرنے کے بارے میں جو حد یث بیان کی گئی ہے اس کے بارے میں حدیث کی مُستَنَد کتابوں میں ہے کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے اس دنیا سے وصالِ ظاہری فرمانے کے بعد بھی لوگوں کو اس پر عمل کی تعلیم دیا کرتے تھے۔
[۔۔۔۔مجمع الزوائد،کتاب الصلاة، باب صلاة الحاجة ، ۲ / ۵۶۵،حدیث:۳۶۶۸۔]
اسی طرح مشکوٰ ۃ بابُ الکرامات میں حضرت ابو الجوزاء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے، فرماتے ہیں کہ مدینہ کے لوگ سخت قحط میں مبتلا ہو گئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے شکایت کی انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی قبر کی طرف غور کرو اس سے ایک طاق آسمان کی طرف بنادو حتّٰی کہ قبرِانور اور آسمان کے درمیان چھت نہ رہے تو لوگوں نے ایسا کیا تو خوب برسائے گئے حتّٰی کہ چارہ اُگ گیا اور اونٹ موٹے ہوگئے حتّٰی کہ چربی سے گویا کہ پھٹ پڑے تو اس سال کا نام پھٹن کا سال رکھا گیا۔‘‘
[۔۔۔۔ دارمی،مقدمة،باب ما أكرم الله تعالى نبيه بعد موته، ۱ / ۵۶، حدیث:۹۲، مشکوة المصابیح، ۲ / ۴۰۰، حدیث:۵۹۵۰۔]

سوال:کیا توسّل کے حوالے سے آئمّہ مجتہدین کے واقعات بھی ملتے ہیں؟
جواب:جی ہاں!آئمّہ اربعہ ودیگر فقہائے کرام رَحِمَهُمُ الـلّٰـهُ تَـعَالٰیبھی بارگاہِ الٰہی میں وسیلہ پیش کرتے رہے ہیں:
امامِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عمل:امامِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے مشہور قصیدہ نعمانیہ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یوں عرض کرتے ہیں:
اَنْتَ الَّذِی لَمَّا تَوَسَّلَ بِکَ اٰدَمُ مِنْ زِلَّۃٍ فَازَ وَھُوَ اَ بَاکَا
یعنی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم ہی وہ ہیں جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام نے آپ کو وسیلہ بنایا تو وہ کامیاب ہوئے قبولیّتِ دُعا سے حالانکہ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کے والد تھے۔
امامِ شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا عمل:
امامِ شافعیرَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِبھی اللّٰہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں وسیلہ پیش کرنے کے قائل تھے ،چُنانچہ خطیب بغدادیرَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نقل فرماتے ہیں :حضرت امام شافعی رَحْمَۃُ اﷲِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت امام اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے توسّل کرتے، ان کی قبر پر حاضر ہوکر زیارت کرتے، پھر اپنی حاجت پوری ہونے کے لیے اللّٰہ تَعَالٰی کی بارگاہ میں انہیں وسیلہ بناتے۔
[۔۔۔۔ تاریخ بغداد،باب ما ذكر فی مقابر بغداد المخصوصة،۱ / ۱۳۵۔]
(بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت،حصہ دوم ،صفحہ ۹۱تا۹۴)

28/09/2024

رسول اللہﷺ کی نورانیت پر اعتراض کرنے والے
آج اپنے مولوی کو "اللہ کا نور" قرار دے رہے ہیں💔

مکمل ویڈیو سنیں
وہابیوں کے باطل عقیدے کا ثبوت اور
علامہ سید مظفر حسین شاہ صاحب کا علم و حکمت بھرا جواب👇👇

اللہ اکبر
اپنے اپنے نصیب کی بات ہے۔❤

اُف رے مُنکِر یہ بڑھا جوشِ تَعَصُّب آخر
بِھیڑ میں ہاتھ سے کمبخت کے اِیمان گیا

28/09/2024

داتا صاحب کی گھوڑی والے دم کا مسئلہ حل کرتے ہوے بہت بڑے اہل حدیث عالم دین نواب صدیق حسن خان بھوپالی لکھتے ہیں کہ:

”جس رقیہ(دم وغیرہ) کے معانی معلوم نہ ہوں، لیکن تجربہ سے نفع اسکا ثابت ہو (جیسے داتا صاحب کی گھوڑی سے)اس رقیہ(دم) کا کرنا جائز ہے جبکہ وہ جنسِ سحر(جادو کی قسم) سے نہ ہو۔“

[کتاب الدعاء والدوا، صفحہ 60، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]

بار بار غور سے پڑھ لیں اگرچہ معانی معلوم نا ہو نفع بھی ثابت ہوتو ایسا دم۔جائز یے اب تو پڑھ لو داتا صاحب کی گھوڑی وہی اندھیری رات---------😘

داتا صاحب کی گھوڑی والے الفاظ سے دم کا مسلہ تو یہی ختم ہوگیا مگر پھر بھی کچھ انجنئیرنگ کرتے ہوے معترضین کے بڑے بڑوں کے عجیب و غریب دم و تعویذ دیکھ لیں
👈ہتھیاری دم😝
وھابیہ اہل حدیث مجدد نواب بھوپالی نے پہلے عنوان لکھا
"کوئی ہتھیار اثر نہ کرے" پھر اسکے لئے نیچے دم لکھا کہ:
” ا ، ج ، ہ ، ز ، ط ، کہہ کر دشمن کے منہ پر پھینک مارنے سے دشمن کی شکست ہو جاتی ہے۔“

[کتاب الدعاء والدواء، صفحہ 78 ، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور]
کیسا لگا ہتھیاری دم ؟ 🥴

👈داتا صاحب کی گھوڑی سے ایک قدم آگے کا تعویذ
اشرف علی تھانوی دیوبندی نے ایک تعویذ میں لکھا (اُڑی رے بھیمری ساون آیا)😆
امداد المشتاق، صفحہ 116، مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاھور ]
کون کون بھیمری اُڑائیگا ؟؟؟😂

👈داتا صاحب کی گھوڑی سے تکلیف تھی وہابیوں کا اصحاب کہف کے کتے کا تعویذ بھی نکل آیا😖
اہل حدیث مولوی نواب صدیق حسن بھوپالی نے تعویذ میں اصحاب کہف کے کتے کا نام (قطمیر) لکھا
کتاب الدعاء والدواء، صفحہ 104، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور ]
کیسا لگا اصحاب کہف کے کتے کے نام کا تعویذ؟

وہابی عالم کا نام سن کر جن بھاگ گیا😂
وہابی مولوی ابن تیمیہ کا نام آسیب زدہ کے سامنے لو تو جن بھاگ جاتا ہے( واہ نام بھی مشکل کشا نکلا)
کتاب الدعاء والدواء (مترجم) صفحہ 143، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ اردو بازار لاھور

👈لڑکیاں_گھرسےبھگانےکاوھابی_منتر😡

وہابی مولوی نے ایک لڑکے کو اس کی معشوقہ بھگانے کا منتر سکھایا کہ چھت پر چڑھ کر اسکے گاؤں کی طرف منہ کرکے کہے --آجا---آجا---آجا تین دن تک کہنا ہے پھر وہ معشوقہ بھی چلی آئی 🤭
سوانح حیات مولانا غلام رسول،صفحہ 99، 100، مطبوعہ الفضل الفضل بُکڈُپو اردو بازار گوجرانوالہ ]
👈بھنگ_میں_برکت_کا_وظیفہ_تعویذ🤭

اشرف علی تھانوی نے ایک عورت کو بھنگ میں برکت کا تعویذ لکھ کر دیا جس کے الفاظ تھے
دھلی کے بھنگ پینے والو (بھنگیو) تمہارا بھنگ پینا مقدر ہو چکا ہے تم اور جگہ نہ پیا کرو اسی دوکان پر پی لیا کرو “ــ

[ ارواحِ ثلاثہ، صفحہ 45، 46، حکایت نمبر 37، مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاھور ]

امید ہے دم سمجھ میں آگیا ہوگا 🙃

نہ تم صدمےہمیں دیتےنہ ہم فریاد یُوں کرتے
نہ کُھلتےراز سَربَستہ نہ یُوں رُسوائیاں ہوتیں

( مولانا محمد اویس رضا عطاری صاحب نے اسکا تفصیلی رد لکھا ہے )
✍️سہیل احمد مدنی

28/08/2024

مبارک ثانی کیس
مرزا جہلمی کا علماء کو چیلینج
مرزے تم نے داڑھی پر ہاتھ پھیر کے علماء کو چیلینج کیا تھا فیصلہ تبدیل کرکے دکھائو۔
فیصلہ تبدیل ہوگیا ہے اب داڑھی منڈائو اپنی کذاب
از مفتی ڈاکٹر علی نواز دامت برکاتہم العالیہ

28/08/2024

خون ناپاک ہے ۔خون سے وضو ٹوٹنے کا مسئلہ
مرزا جہلمی فقہی مسائل سے بھی ناواقف
مرزا جہلمی نے حنفیوں کے بغض میں اجماعی مسئلے کا بھی انکار کردیا
مرزا جہلمی کی جہالت EXPOSED
از مفتی راشد محمود رضوی دامت برکاتہم العالیہ

28/08/2024

مرزا جہلمی نے کتاب غنیت الطالبین کے حوالے سے جو من گھڑت بات کہی ہے فقہ حنفیہ کے بارے میں اس کا منہ توڑ جواب
از مفتی راشد محمود رضوی دامت برکاتہم العالیہ

Want your school to be the top-listed School/college in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Karachi